مسئلہ ۱۶۴ :از گلگٹ چھاؤنی جو نال مرسلہ سردارامیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۲ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟خاص کرکے لڑائی کے موقع پر جاناہے۔بینواتوجروا
الجواب:جو اپنے گھر سے تین منزل کامل یا زیادہ کی راہ کا ارادہ کرکے چلے خواہ کسی نیت اچھی یا بُری سے جانا ہو، وُہ
جب تک مکان کو پلٹ کرنہ آئے یا بیچ میں کہیں ٹھہرنے کی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت نہ کرلے مسافر ہے، ایسے شخص کو جس دن کی صبح صادق مسافرت کے حال میں آئے اُس دن کا روزہ ناغہ کرنا اور پھر کبھی اس کی قضا رکھ لینا جائز ہے،پھر اگر روزہ اسے نقصان نہ کرے نہ اُس کے رفیق کو اُس کے روزہ سے ایذا ہو جب تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے ورنہ قضا کرنا بہتر ہے ،
فی الدرالمختار،لمسافر سفر اشرعیا ولو بمعصیۃ الفطر، ویندب الصوم ان لم یضرہ فان شق علیہ او علی ر فیقہ فالفطر افضل لمو افقۃ الجماعۃ،یجب علی مقیم اتمام صوم یوم من رمضان سافر فی ذٰلک الیوم اھ۱؎ملتقطاً
درمختار میں ہے وُہ مسافر جس کا سفر شرعی(مقدار کے برابر) ہو خواہ گناہ کی خاطر ہو روزہ چھوڑ سکتا ہے اور اگر اسے روزہ تکلیف نہ دے تو روزہ رکھنا مستحب ہے، اور اگر روزہ مشکل ہو یا اس کے ساتھی پر مشکل ہو تو پھر جماعت کی موافقت میں افطار افضل ہے۔ مقیم پر اس روزہ رمضان کا اتمام لازم ہے جس دن اس نے سفر شروع کیا اھ مختصراً(ت)
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصوم فصل فی العوارض مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲تا۱۵۴)
یُونہی غازی اگر یقینا جانے کہ اب دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے اور روزہ رکھوں گا تو ضعف کا اندیشہ ہے تووُہ بھی ناغہ کرے اگرچہ سفر میں نہ ہو۔
فی ردالمحتار عن النھر عن الخلاصۃ الغازی اذا اکان یعلم یقیناً انہ یقاتل العدو فی رمضان ویخاف الضعف ان لم یفطر افطر۔۲؎
ردالمحتار میں نہر سے خلاصہ سے ہے کہ غازی کو جب یقین ہو کہ رمضان میں دشمن سے مقابلہ ہوگا اور اگر روزہ رکھا تو کمزور ہوجائے گا تو روزہ نہ رکھے(ت)
( ۲؎ ردالمحتار ،باب مایفسد الصوم فصل فی العوارض،مصطفی البابی مصر، ۲ /۱۲۶)
مگر یہ اجازت بلا سفر صرف اُسی کو مل سکتی ہے جو حمایت یا اعانتِ دینِ اسلام میں لڑتا ہو،باقی ملکی لڑائیاں یا معاذاﷲکفر کی حمایت یا کافر کی طرف ہو کر اگرچہ دوسرے کافر ہی سے لڑنا،یہ سب گناہ ہیں۔ گناہ پر طاقت کے لیے روزہ قضا کرنے کی اجازت ممکن نہیں۔
فی مستامن فتح القدیر، فرع نفیس فی المبسوط لوغار قوم من اھل الحرب علی اھل الدارالتی فیھم المسلم المستامن لایحل لہ قتال ھٰؤلاء الکفار الاان خاف علیٰ نفسہ لان القتال لما کان تعریضا لنفسہ علی الھلاک لایحل الا لذٰلک اولا علاء کلمۃ اﷲتعالیٰ وھو اذالم یخف علی نفسہ لیس قتالہ لہٰؤلاء الااعلاء لکفر۔۱؎
فتح القدیر کے باب المستامن میں ہے کہ مبسوط میں نہایت نفیس جزئیہ ہے کہ اگر اہلِ حرب میں سے کچھ لوگوں نے کسی ایسے علاقے پر حملہ کردیا جس میں کسی مسلمان نے پناہ لے رکھی تھی تواس مسلمان کے لیے ان کفار کے ساتھ لڑائی کرنا جائز نہ ہوگا، البتہ اس صورت میں جب اسے اپنی جان کا خوف ہو، کیونکہ قتال میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب اپنی جان کا خوف ہو یا کلمۃاﷲتعالیٰ کی سربلندی کے لیے ہو، اور جب اسے اپنے نفس کا خوف نہیں تواب اس کا قتال سوائے کفر کی بلندی کے کُچھ نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب المستامن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۶۷)
ہاں جب یہ لوگ سفر میں ہوں تو بوجہ سفراجازت ہوگی اگر چہ وُہ سفر جانب سقرہو۔
کما قدمنا عن الدرالمختار والخلاف فیہ معروف بیننا وبین الشافعی رضی اﷲتعالیٰ عن الجمیع۔واﷲتعالیٰ اعلم۔
جیسا کہ ہم نے دُرمختار کے حوالے سے پیچھے بیان کیا ہے او راس میں ہمارے اور امام شافعی (اﷲتعالیٰ ان تمام سے راضی ہو )کے درمیان مشہوراختلاف ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۵: عرفان علی صاحب رضوی بیسل پوری ملازم کچہری کلکٹر پیلی بھیت ۱۶شعبان ۱۳۳۳ھ
ماہ رمضان شریف کبھی موسمِ گرما میں ہوتا ہے کبھی موسمِ سرما ، کبھی موسمِ بہار میں کبھی برسات میں۔ فرض کیجئے کہ ایک مرتبہ ماہِ رمضان گرمیوں میں ہو تو دوسرے سال بھی گرمیوں میں ہونا چاہئے کیونکہ وہی موسم دوبارہ سال بھر بعد آتا ہے، شمسی مہینے کے حساب سے کبھی رمضان موسمِ گرما میں ہوتا ہے اور کبھی موسمِ سرما میں، اس کی وجہ کیا ہے؟ چونکہ حضور علمِ ہیأت میں یدِ طُولیٰ رکھتے ہیں پس سوائے حضور کے کسی اور سے اس کاحل ہونا غیر ممکن ۔بینواتوجروا
الجواب :موسموں کی تبدیلی خالق عزوجل نے گردشِ آفتاب پر رکھی ہے مثلاً تحویلِ برج حمل سے ختمِ جوز ا تک فصل ربیع ہے، پھر تحویل سرطان سے ختمِ سنبلہ تک گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختمِ قوس تک خریف، پھر تحویل جدی سے ختمِ حوت تک جاڑا، یہ آفتاب کا ایک دَور ہے کہ تقریباً ۳۶۵ دن اور پونے چھ گھنٹے میں کہ پاؤ دن کے قریب ہُوا پُورا ہوتاہے۔ اور عربی شرعی مہینے قمری ہیں کہ ہلال سے شروع اور ۳۰یا ۲۹ دن میں ختم ہوتے ہیں۔ یہ بارہ ۱۲مہینے یعنی قمری سال ۳۵۴یا ۳۵۵ دن کا ہوتا ہے تو شمسی سال سے دس گیارہ دن چھوٹا ہے، سمجھنے کے لیے کسرات چھوڑ کر شمسی سال ۳۶۵ قمری ۳۵۵ میں رکھے کہ دس دن کا فرق ہوا، اب فرض کیجئے کہ کسی سال یکم رمضان شریف یکم جنوری کو ہُوئی تو آئندہ سال ۲۲دسمبر کو یکم رمضان ہوگی کہ قمری ۱۲ مہینے ۳۵۵ دن میں ختم ہوجائیں گے اور شمسی سال پورا ہونے کو ابھی دس دن اور درکار ہیں،پھر تیسرے سال یکم رمضان ۱۲دسمبر کو ہوگی، چوتھے سال یکم دسمبر کو ہوگی، تین برس میں ایک مہینہ بدل گیا، پہلے یکم جنوری کو تھی اب یکم دسمبر کوہُوئی، یونہی ہر تین برس میں ایک مہینہ بدلے گا اور رمضان المبارک ہر شمسی مہینہ میں دورہ فرمائے گا، بعینہٖ یہی حالت ہندی مہینوں کی ہوگی، اگروہ لوند نہ لیتے، انھوں نے سال رکھا شمسی اور مہینے لیے قمری، توہر برس دس دن گھٹ گھٹ کر تین سال بعد ایک مہینہ گھٹ گیا، لہذا ہر تین سال پر وہ ایک مہینہ مکرر کرلیتے ہیں تاکہ شمسی سال سے مطابقت رہے، ورنہ کبھی جیٹھ جاڑوں میں آتا اور پوس گرمیوں میں،بلکہ نصارٰی جنہوں نے سال وماہ سب شمسی لیے اگر یہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر فروری ۲۹ کا نہ کرتے تو اُن کو بھی یہی صورت پیش آتی کہ کبھی جُون کا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں، یوں کہ سال ۳۶۵دن کا لیا اور آفتاب کا دَورہ ابھی چند گھنٹے بعد پُورا ہوگا کہ جس کی مقدار تقریباً چھ۶گھنٹے، تو پہلے سال شمسی سال دورہ یافتہ سے ۶گھنٹے پہلے ختم ہوا، دوسرے سال ۱۲گھنٹے پہلے، تیسرے سال ۱۸ گھنٹے پہلے، چوتھے سال تقریباً ۲۴گھنٹے، اور ۲۴گھنٹے کا ایک دن رات ہوتا ہے لہذا ہر چوتھے سال ایک دن بڑھا دیا کہ دورہ آفتاب سے مطابقت رہے، لیکن دورہ آفتاب پُورے چھ گھنٹے زائد نہ تھا بلکہ چوتھے تقریباً پونے چھ گھنٹے، توچوتھے سال پورے ۲۴گھنٹے کا فرق نہ پڑا تھا بلکہ تقریباً ۲۳ گھنٹے کا اور بڑھالیا ایک ایک کہ ۲۴ گھنٹے ہے،تو یوں ہر سال میں شمسی سال دورہ آفتاب سے کچھ کم ایک گھنٹہ بڑھے گا، سَوبرس بعد تقریباً ایک دن، لہذا صدی بعد گھٹا کر پھر فروری ۲۸دن کا کر لیا، اسی طرح اور دقیق کسرات کا حساب ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۶۶: از رائے پورسی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنر محکمہ بندوبست ۲۴ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ شعبان کی ۲۹ کو اگر چاند نظر نہ آئے تو ۳۰ کو علاوہ قاضی و مفتی کے عوام کو روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز ہے تو کس نیت سے؟
الجواب : اگر ۲۹کی شام کو مطلع صاف ہو اور چاند نظر نہ آئے تو ۳۰ کو قاضی مفتی کوئی بھی روزہ نہ رکھے اور اگر مطلع پرابر وغبار ہوتو مفتی کو چاہئے کہ عوام کو ضحوہ کبرٰی یعنی نصف النہار شرعی تک انتظار کا حکم دے کہ جب تک کچھ نہ کھائیں پئیں،نہ روزے کی نیّت کریں، بلا نیّتِ روزہ مثل روزہ ر ہیں، اس بیچ میں اگر ثبوت شرعی سے رویت ثابت ہوجائے تو سب روزے کی نیت کرلیں روزہ رمضان ہوجائے گا، اور اگر یہ وقت گزر جائے کہیں سے ثبوت نہ آئے تو مفتی عوام کو حکم دے کہ کھائیں پئیں،ہاں جو شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو، اور اگر اس تاریخ وُہ دن آکر پڑے مثلاً ایک شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور یہ دن پیر کا ہو تو وُہ اپنے اسی نفلی روزے کی نیت کر سکتا ہے شک کی وجہ سے رمضان کے روزے کی نیت کرے گا یا یہ کہ چاند ہو گیا تو آج رمضان کا روزہ رکھتا ہوں ورنہ نفل،تو گنہ گار ہوگا۔ حدیث میں ہے:
من صام یوم الشک عصی اباالقاسم۱؎صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم۔ واﷲتعالیٰ اعلم
جس نے یومِ شک کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابو القاسم محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ سائل دریافت کرتا ہے کہ بروز پیر روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں کیونکہ اگر ابر رہا تو چاند کا ثبوت ہوناغیر ممکن ہے اور اگر مطلع صاف ہوا تو دیکھ کر چاند روزہ ہوگا، اس غرض سے دریافت کیا گیا ہے بغیر چاند دیکھنے کے روزہ ناجائز ہوگا، حضور تحریر فرمادیجئے تاکہ دیہات میں خبر کردی جائے، جیسا بھی تحریر ہوگا ویسا کیا جائے گا۔
الجواب:اگر چاند ہوجائے یا شرعی شہادت گزر جائے تو کل کا روزہ ہے ورنہ دوپہر تک کچھ کھائیں پئیں نہیں اس خیال سے کہ شاید چاند ثابت ہوجائے، پھر اگر ثابت ہوجائے تو روزہ کی نیت کرلیں ورنہ کھانا کھالیں اور جب تک رویت یا ثبوتِ رویت نہ ہوجائے رمضان کی نیت سے کل کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۶۸: مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگر یا سادات
ان پانچ روزوں میں جو روزہ رکھنا منع ہے یعنی ایک خاص عیدالفطر اور عید الاضحٰی کے، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ بینواتوجروا
الجواب: یہ دن اﷲعزوجل کی طرف سے بندوں کی دعوت کے ہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم