مسئلہ ۱۶۲: ازمیرٹھ کمبوہ دروازہ مکان داروغہ یاد الٰہی صاحب مرسلہ مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۰۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نابالغ لڑکا کہ نوافل میں قرآن شریف پڑھتا ہے اگربوجہ کثرت ضعف ومحنت دَور، روزہ افطار کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب :نابالغ پر تو قلمِ شرع جاری ہی نہیں وُہ اگر بے عذر بھی افطار کرے اُسے گنہ گار نہ کہیں گے۔
لقولہ عہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثۃ الی قولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم وعن الصبی حتی یحتلم۔۱؎
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیاہے۔ ان میں آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچّے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا۔(ت)
( ا؎ المستد رک للحاکم، رفع القلم عن الثلاث، دارالفکر یروت، ۱ /۲۵۸)
( عہ رواہ احمد وابو داؤد والحاکم عن امیر المومنین عمر و علی کالنسائی وابن ماجۃ عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اﷲتعالیٰ عنھم ۱۲منہ غفرلہ(م)
اسے امام احمد، ابوداؤداور حاکم نے امیرالمومنین حضرت عمر اور حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ، اور نسائی وابن ماجہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کیا ۱۲منہ غفرلہ،(ت)
مگر بیان کرنا اس کا ہے کہ بچّہ جیسے آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے ولی پر لازم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے،اور جب اُسے گیاروہواں شروع ہوتو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلٰوۃ پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر نہ کرے۔ حدیثِ صحیح میں ہے کہ حضورپُرنور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مروا اولاد کم بالصلوٰۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر۔۲؎
جب بچّے سات سال کے ہوجائیں تو ا نھیں نماز کو کہو اور دس سال کے ہوجائیں توانھیں ترکِ نماز پر سزا دو۔(ت)
(۲؎سنن ابی داؤد ، باب متی یؤمرالغلام الخ ،آفتاب عالم پریس لاہور ،۱ /۷۱)
تنویرالابصارمیں ہے:
وجب ضرب ابن عشر علیھا۔۳؎
ترکِ نماز پر دس سال کے بچّے کو سزادینا واجب ہے(ت)
(۳؎ تنویر الابصار مع درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۸)
ردالمحتار میں ہے:
ظاہر الحدیث ان الامر لابن سبع واجب کالضرب والظاہر ایضاان الوجوب بالمعنی المصطلح علیہ لا بمعنی الافتراض لان الحدیث ظنی فافھم۔۱؎
ظاہر حدیث میں ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز کا کہنا اسی طرح واجب ہے، جیسے دس سال کے بچے کو سزا دینا واجب ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ یہاں وجوب سے اصطلاحی وجوب مراد ہے نہ کہ بمعنی فرض، کیونکہ حدیث ظنی ہے۔پس غور کیجئے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصّلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۳۵)
درمختار میں ہے:
والصوم کالصّلٰوۃ علی الصحیح۲؎
(صحیح قول کے مطابق روزہ کا حکم نماز ہی کی طرح ہے۔ت)
(۲؎دُرمختار کتاب الصّلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۸)
عالمگیری میں ہے:
قال الرازی یؤمر الصبی اذااطاقہ۳؎
(امام رازی نے فرمایا: جب بچہ توانا ہوجائے تو اسے(نماز و روزہ کا)حکم دیاجائے۔ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ المتفرقات من باب الاعتکاف نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۱۴)
اُسی میں ہے:
ھذا اذالم یضرالصوم ببدنہ فان اضرلایؤمربہ۔۴؎
یہ اس وقت ہے جب روزہ جسمانی تکلیف کا سبب نہ بن رہا ہو،اگر بن رہا ہو تو پھراسے نہ کہاجائے(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ المتفرقات من باب الاعتکاف نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۱۴)
اور پُر ظاہر کہ یہ احکام حدیث و فقہ میں مطلق وعام، تو ولی نابالغ ہفت سال یا اس سے بڑے کہ اُسی وقت ترکِ صوم کی اجازت دے سکتا ہے جبکہ فی نفسہٖ روزہ اُسے ضرر پہنچائے ورنہ بلا عذر شرعی اگر روزہ چُھڑائے گا یا چھوڑنے پر سکوت کرے گا گنہ گار ہوگا کہ اس پر امر یا ضرب شرعاً لازم اور تارک واجب، بزہ کار وآثم ،اور دَورِ کلام اﷲکی محنت عذر و افطار نہیں۔ اوّلاً اکثر ہوتا ہے کہ بچّے بہت جوان قوی تندرست لوگ ایسے امور میں کم ہمتی کو بے قدرتی سمجھ لیتے حالانکہ کمرِ ہمّت چست باندھیں تو کھل جائے کہ عجز سمجھنا صرف وسوسہ تھا، اور واقعہ میں عجز ہوبھی یعنی روزہ رکھ کر کلام اﷲشریف پر محنتِ شاقہ نہیں ہوسکتی تو راہ یہ ہے کہ روزہ رکھوائیں اور قرآن مجید کا جتنا شغل بے کلفت ہوسکے لیں، اور جس قدر کی طاقت نہ دیکھیں بعد رمضان دورِ آئندہ پر ملتوی رکھیں کہ شرعاً صیام کے لیے ایّام معین ہیں جن کے فوت سے ادافوت ہوگی اور دور کے لیے کوئی دن مقرر نہیں ہمیشہ وہر وقت کرسکتے ہیں فرض کیجئے اگر مرد نوجوان تندرست مقیم کی یہی حالت ہوتی ہے کہ روزے کے ساتھ محنت دَور نہ کرسکتا تو کیا شرع اسے اجازت دیتی کہ دور کے لیے روزہ ترک کرے، حاشا و کلّا، بلکہ لازم فرماتی کہ روزہ رکھ اور دَور دَور دیگر پر موقوف رکھ، تو معلوم ہوا اسی میں
خیر ہے ، اور اس کے عکس میں شر، اور ولی کو چاہئے بچّے کو ہر خیر کاحکم دے اور ہرشر سے باز رکھے۔ محشیانِ دُر ساداتنا حلبی وطحطاوی و شامی رحمہم اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
مرادہ من ھذین النقلین بیان ان الصبی ینبغی ان یومر لجمیع المأمورات وینھی عن جمیع المنھیات۔۱؎
ان دونوں تصریحات کامقصد یہ ہے کہ ولی پر لازم ہے کہ وُہ بچّے کو تمام اوامر کو بجالانے اور تمام منہیات سے باز رہنے کا کہے۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الصّلٰوۃ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۵۹)
علّامہ طحطاوی نے فرمایا:
فلا خصوصیۃ للصلٰوۃ والصوم والخمر کما یرشدالیہ التعلیل اھ ۲؎ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی انہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
اس میں نماز، روزہ اور شراب ہی مخصوص نہیں جیسا کہ علت کا بیان اسے واضح کررہا ہے اھ۔ یہ مجھ پر واضح ہوا ہے علمِ حق میرے رب کے پاس ہے، انہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم(ت)
( ۲؎ حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دارالمعرفہ بیروت ۱ /۱۷۰)
مسئلہ ۱۶۳: از کمپ معرفت حکیم سیّد نورالحسن صاحب دہلوی ۴شوال ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین بیچ اس مسئلہ کے جوکہ بوجہ اختلاف ہونے رؤیت ہلال کے ۳۰تاریخ رمضان المبارک کو روزہ افطار کیا گیا اور بعد معلوم ہوجانے خبر تکذیب رؤیت کے روزہ قائم نہیں کیا گیا اور اکل وشرب برابر رکھا، اب اس روزے کے واسطے کفارہ لازم ہے یا قضا ونیز جن صاحبوں نے بعد خبر پانے تکذیب رویت کے پھر اپنے صوم کوکلی غرارہ سے دہن کو پاک کرکے قائم کرلیا ہے اُن کو کیا امر لازم ہے آیا کفارہ یا قضا؟
الجواب:جنہوں نے اکل و شرب قائم رکھا حالانکہ کذب پر مطلع ہوچکے تھے وُہ گنہ گار ہُوئے لیکن کفارہ ان پر بھی نہیں، جنہوں نے فوراً کلی غرارہ کرلیاوُہ ثواب پائیں گے اور ایک روزہ اُس کے عوض کا وُہ بھی رکھیں۔واﷲتعالیٰ اعلم