Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
72 - 198
بالجملہ ایں کسے باجماعِ علماء فاسق و فاجر ومرتکب کبیرہ و مستحق عذاب الیم وخزی عظیم است۔ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم قومے رادید کہ ایشاں راسرنگوں آویختہ اند وکنجہائے دہاں ایشاں دریدہ کہ ازآنہا خون می ریزد فرمود ایناں چہ باشند، فرشتہ عرضد اشت کسانیکہ قبل از وقت افطار رمضان مے کنند اخرجہ ابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما عن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲتعالیٰ عنہ قال سمعت رسو ل اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم یقول بیننا انا نائم اذا تانی رجلان فاخذا بضبعی فأتیابی جبلا وعرا،وساق الحدیث الیٰ ان قال ثم انطلقا بی فاذاانا بقوم معلقین بعراقیھم مشققۃ اشد اقھم دماًقال قلت من ھٰؤلاء، قال الذین یفطرون رمضان قبل تحلۃ صومھم ۱؎ چوں پیش از وقت افطار را ایں عذاب ست اصلاًروزہ نہ داشتن را خود قیاس کن کہ چنداں باشد والعیاذباﷲ ،
بالجملہ یہ شخص باجماعِ علماء فاسق، فاجر مرتکبِ کبیرہ، عذاب الیم اور ذلّت عظیم کا مستحق ہے، نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وُہ اُلٹے لٹکے ہوئے ہیں اور ان کی باچھوں کو چیرا جارہا ہے اور اُ ن سے خون بہ رہا ہے، آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے عرض کیا: یارسول اﷲ! یہ لوگ رمضان کا روزہ قبل از وقت افطار کرلیتے تھے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ میں سویا تھا میرے پاس دو۲ آدمی آئے وُہ مجھے اٹھا کر ایک پہاڑ پر لے گئے(تفصیلاً حدیث بیان کی جس کا ایک حصہ یہ ہے) پھر مجھے آگے لے گئے تو وہاں ایک قوم الٹی لٹکی ہوئی تھی ان کی باچھوں کو چیرا جارہاتھا جن سے خُون بہہ رہا تھا، فرمایا: میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا: یہ رمضان کا روزہ وقت آنے سے پہلے ہی افطار کر لیتے تھے۔جب قبل از وقت روزہ افطار کرنے پر یہ عذاب ہے تو خود سوچئے بالکل روزہ نہ رکھنے پر کتنا عذاب ہوگا العیاذباﷲ،
 ( ۱؎ صحیح ابن خزیمہ  باب تعلیق المفطرین قبل وقت الافطار  حدیث ۱۹۸۶ المکتب الاسلامی بیروت     ۳ /۲۳۷)
نبی صلی اﷲعلیہ وسلم فرماید رسن ہائے اسلام وبنیاد ہائے دین سہ چیز ست کہ برایشاں بنائے اسلام نہادہ اند ہر کہ از آنہایکے راترک دہد کافرست بداں خونِ او حلال، یکے شہادت کلمہ توحید، دوم نماز فرض، سوم روزہ رمضان ، ودر روایتے فرمایدہر کہ از انہایکے بگزارد پس آں کافر ست بخداو نہ پذیر نداز و ہچ فرض ونہ نفل و بد رستی کہ روا باشد خون ومال او ابویعلی باسناد حسن وقال المنذ ری ایضا اسنادہ حسن عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما قال حماد بن زید ولا اعلمہ الاقد رفعہ الی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم قال عری الاسلام وقواعد الدین ثلثۃ علیہن اسس الاسلام ، من ترک منھن واحدۃ فھو بھا کافر حلال الدم، شھادۃ ان لا الٰہ الّا اﷲوالصلٰوۃ المکتوبۃ وصوم رمضان۔۱؎ وفی روایۃ من ترک منھن واحدۃ فھو باﷲکافر ولا یقبل منہ صرف ولا عدل وقد حل دمہ ومالہ وروی ھذھ سعید بن زید بن عمرو بن مالک النکری عن ابی الجوازء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ولم یشک فی رفعہ ،۲؎
نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم  نے فرمایا: اسلام اور دین کی بنیاد تین چیزیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ان میں سے اگر کسی نے ایک کو ترک کردیا تو وہ کافر ہوگا اور اس کا خُون مباح ہوگا، ان میں سے ایک(۱) کلمہ توحید کی شہادت، ودوم (۲)نمازِ فرضِ  سوم(۳) روزہ رمضان ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جو ان  میں سے کسی کو بجانہ لایا وُہ خدا کا منکر ہے، اس کاکوئی نفل و فرض قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کا خون ومال مباح ہوگا۔ اسے ابویعلیٰ نے اسناد حسن کے ساتھ ذکر کیا، منذری نے بھی اسے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے، حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں اسے نہیں جانتا مگر یہ کہ اس کی نسبت رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کے رسے اور دین کے ستون تین ہیں جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں جس نے بھی ان میں سے کسی ایک کو ترک کِیا وُہ کافر ہے اور اس کا خون مباح ہے، پہلی لا الٰہ الّااﷲ کی شہادت، دوسری نمازِ فرض، تیسری رمضان کا روزہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ جس نے ان میں سے کسی ایک کو چھوڑا وُہ اﷲکا منکر ہے،اس کا کوئی نفل و فرض قبول نہیں ، اس کا خون ومال مباح ہے۔یہ روایت سعید بن زید نے عمر وبن مالک النکری سے انھوں نے ابوالجوز اء سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے انھوں نے رسو لِ خداصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں شک نہیں کیا۔
 (۱؎ مسند ابو یعلی الموصلی   ترجمہ ۲۳۴۵ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۳ /۱۳)

(۲؎الترغیب والترھیب     من ترک الصلٰوۃ عمداًالخ     مصطفی البابی مصر    ۱ /۳۸۲ و ۲ /۱۱۰)
وھم منقول باشد آں حضرت علیّہ علیہ الصّلوٰۃ والتحیۃ کہ فرمود حق تعالیٰ در دینِ اسلام چہار چیز  را فرض کردہ است ہرکہ از انہا سہ بجا آرد اور راہیچ بکار نیا ید تا ہر ہمہ چہار را ادا ساز د، نماز و زکوٰۃ و روزہ رمضان و حجِ کعبہ الامام احمد عن زیاد بن نعیم الحضر می مرسلا قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اربع فرضھن اﷲفی الاسلام فمن جاء بثلاث لم یغنین عنہ شیأ حتی یأ تی بھن جمیعا الصلٰوۃ والزکٰوۃ وصیام رمضان وحج البیت۱؎
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے کہ حق تعالیٰ نے دین اسلام میں چار چیزوں کو فرض کیا ہے ان میں سے اگر کوئی تین بجا لاتا ہے تو وہ اس کے کسی کام نہیں آسکتے یہاں تک کہ وُہ چاروں کو بجا لائے (وُہ چاریہ ہیں)نماز، زکوٰۃ، روزہ ئرمضان، حجِ کعبہ امام احمد نے زیاد بن نعیم الحضرمی سے مرسلاً مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، چار چیزوں کو اﷲتعالیٰ نے ایمان میں فرض فرمایا ہے جوان میں سے تین بجالائے گا وہ اسے کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے حتّٰی کہ تمام کو بجا لائے، وہ نماز، زکوٰۃ، روزہ رمضان اور حج کعبہ ہے،
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل         حدیث زیاد ابن نعیم الحضرمی         المکتب الاسلامی بیروت        ۴ /۲۰۱)
ونیز مروی شد ازاں سرورعلیہ افضل الصّلٰوۃ والسلام کہ فرمود ہرکہ یک روز از رمضان بے رخصتِ شرع و بے مرض روزہ ندارد اگر ہمہ عمر خودش روزہ خواہد داشت عوض آں یک روزہ نخواہد شد فقد اخرج الترمذی واللفظ لہ وابو داؤد والنسائی و ابن ماجۃ والبیہقی وابن خزیمۃ فی صحیحہ والبخاری تعلیقا عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ ان رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم قال من افطر یوما من رمضان من غیر رخصۃ ولا مرض لم یقض عنہ صوم الدھر کلہ وان صامہ۲؎
نیز حضور سرورِ عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے کہ اگر کسی نے شریعت کی اجازت اور مرض کے بغیر روزہ رمضان نہ رکھا اگر ساری عمر روزہ رکھے تب بھی اس کا عوض نہیں ہوسکتا، ترمذی نے روایت کیا یہ الفاظ اسی کے ہیں، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی، ابن خزیمہ نے صحیح میں اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ سے تعلیقاً روایت کیا ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر رخصت اور مرض کے ایک دن رمضان کا روزہ چھوڑدیا اب اگر سارازمانہ روزہ رکھتا رہے تو اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا،
 (۲؎ صحیح بخاری             باب اذا جامع فی رمضان             قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱ /۲۵۹)

(جامع الترمذی         ابواب الصیام             امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱ /۹۰)
مسلماناں راباید کہ پس ایں کس تراویح نگزارند بدو وجہ اولا او فاسق ست ونماز پس فاسق مکروہ کما صرحت بہ المتون والشروح والفتاوٰی قاطبۃ ثانیاً غالب آنست کہ ایں کس بغایت پست ہمّت و بد شوق در امورِ دینیہ است وخواندن قرآن در تراویح ہمیں بغرضِ تحصیل امامت وتقدم وتفاخر بروجہ ریاء وسمعہ اختیار کردہ است پس باید کہ غرضش را حاصل شدن نہ دہند و چوں کسے اقتدا نہ کند، لاجرم ایں فعل حرام راگز اردو ان شاء اﷲتعالیٰ رجوع بروزہ آرد، قال تعالیٰ
ولا تعاونو اعلی الاثم والعدوان۱؎
مسلمانوں کو چاہئے کہ وُہ دو۲ وجوہ کی بنا پر ایسے شخص کو تراویح نہ پـڑھانے دیں:اوّلایہ فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ ہوتی ہے جیسا کہ اس پر متون، شروحات اور فتاوٰی کی قطعی تصریحات ہیں ثانیاًغالب گمان یہ ہے کہ یہ شخص انتہائی درجہ کا کم ہمت اور امورِ دینیہ کے معاملے میں بدذوق ہے اور وُہ تراویح میں قرآن محض حصولِ امامت کیلئے سُنارہا ہے اور ریا کاری کرتے ہُوئے تقدم وتفاخر پر عمل پیرا ہے لہذااسے اس مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں، جب کوئی اس کی اقتداء نہیں کرے گاتو ان شاء اﷲتعالیٰ وُہ اس فعلِ حرام سے رجوع کرے گا،اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر ہر گز تعاون نہ کرو۔
 (۱؎ القرآن ۵ /۲)
ایں قرآن خوانی ازاں کس گناہ عظیم ست ومقتدیان باقتدائے اعانت بر گناہ می کنند پس خود آثم باشد ہر چند سخن قدرے دراز شد اما بحمد اﷲخالی از نفع نیست یکے از جہت تحقیق مسئلہ دوم ازروئے ذکر شریف و نقل کلام لطیف حضورپُرنور غوث اعظم رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ فان عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ۲؎لاسیما ھذاالسیّد رأس الاولیاء وتاج الاقطاب وسیّدالصّلحاء رضی اﷲتعالیٰ عنہ وعنھم اجمعین، واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ایسے شخص سے قرآن پڑھوانا گناہِ عظیم ہے، اور اقتداء کی صورت میں مقتدی گناہ پر اس کی اعانت کرنے والے ہوں گے لہذا یہ بھی گنہ گار ہوں گے، ہر چند گفتگو قدرے طویل ہوگئی ہے بحمد اﷲنفع سے خالی نہیں، ایک تو تحقیق مسئلہ کی وجہ سے اور دوسرا حضورپُرنور غوثِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے کلام وذکر شریف کے نقل کرنے کی وجہ سے ، کیونکہ صالحین کے تذکرہ سے خصوصاً اس اولیاء کے سربراہ اقطاب کے تاج اور سید الصلحاء رضی اﷲتعالیٰ عنہ وعنہم اجمعین کے تذکرے پررحمت کا نزول ہوتاہے۔واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
 (۲؎ مرقات شرح مشکٰوۃ        الفصل الثانی من باب الصلٰوۃ علی الجنازۃ        مکتبہ امدادیہ ملتان         ۴ /۶۱)
Flag Counter