| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
اے برادر! روزہ فرضِ عین ست و فرض عین بر فرضِ کفایہ مقدم وختمِ قرآن در تراویح سنّتِ کفایہ است وسنت کفایہ از سنت عین مؤخرایں چہ ستم بے خردی باشک کہ سنتِ کتایہ بر فرضِ عین مقدم دارند، من العلماء من وسع فی ترک الختم لکسل القوم قائلاان من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل۱؎ کما فی الدرمختار عن الزاھدی عن الو بری والکرمانی وفیہ عن الاختیار الافضل فی زماننا قدر مالا یثقل علیہم قال اقرہ الصنف یعنی الغزی وغیرہ وعن المجتبیٰ عن الامام لوقرأ ثلاثا قصارا او اٰیۃ طویلۃ فی الفرض فقد احسن ولم یسیئ قال الزاھدی فما ظنک بالتراویح۲؎
اے میرے بھائی! روزہ فرض عین ہے اور فرضِ عین فرضِ کفایہ پر مقدم ہوتا ہے، اور ختمِ قرآن تراویح میں سنتِ کفایہ ہے اور سنت کفایہ سنتِ عین سے مؤخر ہوتی ہے ، یہ کیا ظلم ہے کہ سنتِ کفایہ کو فرض عین پر مقدم کردیا گیا ہے، بعض علماء نے قوم میں سُستی و کاہلی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ختمِ قرآن کو ترک کردینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے روا رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وُہ جاہل ہے جیسا کہ درمختار میں زاہدی سے اور وہاں وبری اور کرمانی کے حوالے سے ہے اور اسی میں الاختیارسے ہے کہ ہمارے زمانے میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ نبے، اور کہا کہ اسے ہی مصنّف الغزی وغیرہ نے ثابت رکھا ہے، المجتبےٰ میں امام صاحب سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرائض میں تین آیات چھوٹی یا بڑی پڑھیں تو اس نے بہت اچھا کیا اور وہ گنہگار نہیں۔ زاہدی کہتے ہیں کہ پھر تراویح کے معاملہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟
(۱؎درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۹۹) (۲؎ درمختار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۸)
قلت : فانظر الیٰ جھل ھذاالذی یترک صوم رمضان لشئی یرخص فی ترکہ لمثل ھذا روزے امیرالمنومنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سلیمان بن ابی حثمہ را درجماعت صبح نہ دید مادر ش را پر سید عرض داد اوہمہ شب نماز گزاردہ است صبح دم خوابش بر د و حضور جماعت نتوانست امیرالمومنین فرمود مرا د رجماعت صبح حاضر شدن محبوب ترست از شب زندہ داشتن مالک فی المؤطاعن شھاب عن ابی بکر بن سلیمان بن ابی حثمۃ عن عمر الخطاب فقدَ سلیمان بن ابی حثمۃ فی صلٰوۃ الصبح وان عمر بن الخطاب غد ا الی السوق وسکن سلیمان بین السوق والمسجد فمر علی الشفاء ام سلیمان فقال لھالم ارسلیمان فی صلٰوۃ الصبح فقالت انہ بات یصلی فغلبتہ عیناہ فقال عمر لان اشھد صلٰوۃ الصبح فی الجماعۃ احب الی ان اقوم لیلۃ اھ۱؎ورواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن عبدالرحمٰن عن عمر ولفظہ لان اصلیھما فی جماعۃ احب الی من احیی مابینھما ۲؎ یعنی الصبح والعشاء
میں کہتاہُوں اس جاہل کو دیکھو جو رمضان کا روزہ ایسے عمل کی خاطر ترک کر رہاہے جس کا ترک روزے کی خاطر کیا جاسکتا تھا۔ ایک دن امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے حضرت سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی جماعت میں نہ دیکھا آپ نے ان کی والدہ سے وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کیاوہ تمام رات نماز پڑھتے رہے صبح کے وقت انھیں نیند آگئی جس کی وجہ سے وُہ جماعت میں شریک نہ ہوسکے، امیرالمومنین نے فرمایا: میرے نزدیک صبح کی نماز میں شریک ہونا تمام رات کی عبادت سے کہیں افضل ہے۔ مؤطا میں امام مالک نے شہاب سے انھوں نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انھوں نے حضرت عمر بن خطاب سے بیان کیا کہ انہوں نے سلیمان بن ابی حثمہ کو نمازِ صبح میں غائب پایا، دوسرے دن حضرت عمر بازار کی طرف تشریف لے گئے سلیمان مسجد اور بازار کی درمیانی جگہ پر رہائش پذیر تھے، آپ سلیمان کی والدہ حضرت شفا کے پاس سے گزرے فرمایا: میں نے سلیمان کو نمازِ صبح میں نہیں دیکھا وُہ کہنے لگیں: وہ ساری رات نماز پڑھتا رہا صبح اس پر نیند کا غلبہ ہوگیا۔آپ نے فرمایا: نمازِ صبح کیلئے حاضر ہونا مجھے تمام رات قیام سے زیادہ محبوب ہے۔ اسے ابوبکر ابن ابی شیبہ نے عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا، اور اس کے الفاظ یہ ہیں:'' مجھے جماعت کے ساتھ دونوں نمازیں ادا کرنا ان دونوں(عشاء اور صبح)کے درمیان قیام سے محبوب ہے۔
(۱؎موطا امام مالک باب ماجاء فی العتمۃ والصبح میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۱۵) ۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ فی التخلف فی العشاء والفجر الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۳۳)
حضورپُرنور سیّد غوث الثقلین پیر دستگیر محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اﷲتعالیٰ عنہ در کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف مقالہ در ترتیب عبادات فرمودآنجابر ہمچوجاہلے کہ درحفظ سنّت و نفل فرائض راز دست می دہد اقامت قیامت کُبرٰی نمود، فقیر غفر اﷲتعالیٰ برخے ازاں سخن کریم مع ترجمہ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ نقل کنم باشد کہ جاہلاں را از خوابِ غفلت بیدار ساز واﷲالھادی مے فرماید رضی اﷲتعالیٰ عنہ ینبغی للمؤمن ان یشتغل اولا بالفرائض مے باید وسرزد مر مسلمان راکہ کار بندو نخست بہ چیزہائے کہ فرض و واجب گردانیدہ است حق تعالیٰ از عبادت کہ ترک آنہا آثم ومعاقب می گردد فاذا فرغ منھا اشتغل بالسنن چوں بہ پر دا زد از فرائض مشغول گددبسنتہائے راتب راکہ معین ومؤکدہ شدہ است ہمراہ فرائض و ترک آں سبب اسائت وعتاب ست ثم یشتغل بالنوافل والفضائل پسترمشغول گردد بعبادت ہائے نافلہ کہ زیادت ست برآں و فضیلت دارد وفعل آنہا ثواب ست وبترک آں اثمی واساءتے نے فمالم یفرغ من الفرائض فاشتغال بالسنن حمق ورعونۃ پس مادام کہ نہ پرداز دازفرائض وتمام نہ کند آنہاراپس مشغول شدن بسنتہا نشان جہل و بے خردی وسبک عقلی ست چہ ترک انچہ لازم و ضروری ست واہمتمام بہ انچہ نہ ضروری ست از قاعدہ عقل وخرد دورست چہ دفع ضرر اہم است بر عاقل از جلب نفع بلکہ بہ حقیقت نفع دریں صورت منتفی ست بایں قیاس کردن نوافل باترک فرائض نیز نا مقبول وباطل ست چنانچہ مے فرمایند فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض پس اگر مشغول گردد بسنتہا ونفلہا پیش از اتیانِ فرائض لم تقبل منہ واھین در پذیر فتہ نہ شود از وبلکہ خوار کردہ شود وگفتہ اند کہ اتیانِ نوافل باترک فرائض بداں ماند کہ یکے ہدیہ برد کسے کہ دام وے دارد ودام ندہد ایں ہرگز قبول نیفتد ونیز گفتہ اند کہ ہرکہ نوافل نزد وے اہم از فرائض باشد وے مخدوع وممکورست و نیز گفتہ اند ہلاک مردم دو چیز ست اشتغال نافل باتضییع فرائض و عمل جوارح بے مواطات قلب،
حضور پُر نور سیّد نا غوث الثقلین پیر دستگیر محی الدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اﷲتعالیٰ عنہ اپنی مبارک کتاب فتوح الغیب شریف کے ترتیب عبادات کے مقالہ میں فرماتے ہیں اور ایسے جاہل پر جو سنّت و نفل کی وجہ سے فرائض ترک کردیتا ہے قیامتِ کبرٰی برپا فرماتے ہیں،فقیر(اﷲتعالیٰ اسے بخش دے) اس مبارک گفتگو سے کچھ حصّہ مع ترجمہ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ نقل کرتا ہے تاکہ جاہل لوگ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اﷲتعالیٰ ہی ہدایت عطا فرمانے والا ہے، حضور غوثِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''مومن کو چاہئے کہ وُہ پہلے فرائض بجالائے'' مسلمانوں کو چاہئے کہ وُہ پہلے ان عبادات کو بجالائے جو اﷲتعالیٰ نے ان پر فرض وواجب کی ہیں جن کے ترک سے وہ گنہگار اور قابلِ گرفت بن جاتے ہیں "جب ان فرائض سے فراغت ہوجائے تو پھر سُنن میں مشغول ہو" جب مسلمان ان فرائض سے فارغ ہوجائے تو پھر ان سُنن میں مشغول ہوجو فرائض کے ہمراہ معین مؤکد ہیں جن کا ترک اساءت اور عتاب کا سبب ہے''پھر نوافل و فضائل میں مشغول ہو'' پھر ان نفلی عبادات میں مشغول ہوجو ان فرائض و سُنن سے زائد ہیں اور فضیلت رکھتے ہیں، ان کا بجالانا ثواب ،لیکن ان کا ترک گناہ نہیں ''جب تک فرائض سے فراغت نہ ہو سُنن میں مشغول ہونا بیوقوفی اور ر عونت ہے)توجب تک فرائض مکمل نہ ہوجائیں سنتوں میں مشغول ہونا جہالت اور بے عقلی ہے کیونکہ ایسی چیز کا ترک کرنا جو لازم و ضروری تھی اور ایسی چیز کاا ہتمام جو ضروری نہیں تھی عقل و خرد کے قاعدے سے دُور ہے کیونکہ عاقل کے لیے منافع کے حصول سے ضرر کا دُور کرنا اہم وواجب ہوتا ہے بلکہ حقیقۃً اس صورت میں نفع ہے ہی نہیں۔ اسی پر قیاس نوافل ادا کرنا اور فرائض ترک کردینا بھی نامقبول و باطل ہے جیساکہ فرمایا ''پس اگر سنن و نوافل میں فرائض سے پہلے مشغول ہوگیا'' یعنی اگر فرض کی ادائیگی سے پہلے ہی سُنن و نوافل میں مصروف ہوگیا تو''وہ مقبول نہ ہوں گے بلکہ ذلت ورسوائی ہوگی۔'' علماء فرماتے ہیں کہ نوافل کا بجالانا اور فرائض کو ترک کر دینا ایسے ہی جیسے کوئی اپنے قرض خواہ کو ہدیہ دے دے مگر اس کا قرض ادا نہ کرےتو یہ ہد یہ ہر گز مقبول نہ ہو گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ جس کے نزدیک نوافل فرائض کی نسبت اہم ہوں وہ دھوکا وفریب زدہ ہے۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ دو۲ چیزیں لوگوں کو ہلاک کردینے والی ہیں نفلی عبادات میں مشغول ہوکر فرائض کو ضائع کردینا اور قلب کی موافقت کے بغیر ظاہری اعضاء کا عمل کرنا،
فمثلہ کمثل رجل یدعوہ الملک الیٰ خدمتہ پس حال وقصہ غریب آں کسے کہ ترک مے کند فرائض راباتیان سنن ونوافل ہمچو حال مردے ست کہ مے خواند او را بادشاہ بخدمت خود، کنایت ست از اتیانِ فرائض کہ پروردگار تعالیٰ کہ حامل و با دشاہ علی الاطلاق ست بداں خواندہ وامر کردہ است فلا یأتی الیہ پس نمی آید آں مرد بسوئے بادشاہ ویقف بخدمۃ الامیر الذی ھو غلام الملک وخادمہ می ایستد در چاکری یکے از امرائے بادشاہ کہ غلام بادشاہ و چاکر اوست و تحت یدہ وولایتہ وزیرِ دست قدرت وتصرف اوست ایں مثال اتیان سنن ونوافل ست کہ برطریقہ رسولِ خدا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کہ بندہ وامیر وزیرِ خاص درگاہِ اوست وباستحسان واستحباب علماء کہ بندگان و غلامان اویند عمل کردن ست اگر چہ ہمہ بحکم حضرت پروردگار تعالیٰ وتشریع اوست، ولیکن فرائض را بہ جہت الزام وایجاب نسبت بجناب ایزدی کنند و سُنن و نوافل را کہ نہ دراں مرتبہ اند بخدمتِ رسول و اصحاب و اتباع اوصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم وعلیہم اجمعین عن علی بن ابی طالب روایت ست، از امیر المومنین علی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ قال قال رسول اﷲگفت گفت پیغمبرِ خدا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ان مثل مصلی النوافل بدرستیکہ قصہ وحال گزارندہ نفلہا وعلیہ فریضۃ وحال آنکہ بر ذمّہ او فرضی ست کہ نہ گزاردہ است آں را کمثل حبلی حملت ہمچو قصہ و حال زنے بار داست کہ تمام شدہ است مدت حمل او فلمادنی نفاسھا اسقطت پس ہر گاہ نزدیک شد وقت زائیدن وے افگند بچہ رانا تمام از شکم ووجہ تشبیہ رنج دیدن و مشقت کشیدن ست بے فائدہ زیراکہ چوں قبول نیفتادنوافل بجہت عدم ادائے فرائض حاصل شد مرآں مصلّے رارنج و مشقت بے فائدہ چنانچہ حاصل شد آں زنِ حاملہ را کہ مدت مدید گزشت و مشقت کشید و فائدہ کہ حصول ولد ست بر آں مراتب نہ گشت فلا ھی ذات حمل پس آں زن نہ خداوند حمل ست باعتبار انتقائے مقصود کہ ولد ست ولا ھی ذات ولاد نہ خداوند ولادست بجہت اسقاطِ حمل وکذلک المصلی لا یقبل اﷲلہ نافلۃ حتی یؤدی الفریضۃ وہمچنیں مصلّی مذکور درنمی پذیر دخدائے تعالیٰ مراد رانمازِ نفل را تا آنکہ بجا آرد فرض را پس نہ فرض باشد اوراو نہ نفل و مثالِ دیگر مصلی نفل را بے ادائے فرائض مثل تاجر است کہ سود می خواہد بے سرمایہ چنانچہ می فرمایند ومثل المصلی کمثل التاجر وحال مصلّی مذکور حال سوداگر ست کہ لایحصل لہ ربحہ حاصل نمی شودمر اور اسود درسودا حتی یا خذا راس مالہ تا آنکہ بگیر د سرمایہ خودرافکذٰلک المصلی بالنوافل لایقبل لہ نافلۃ حتی یؤدی الفریضۃ ہمچنیں حال مشغول شوندہ بہ نوافل پذیر فتہ نمی شود مراور انفل کہ بمنزلہ سوداوست تا آنکہ ادا کند فرض را کہ بمشابہ سرمایہ است اھ۱؎ مع اختصار فی کلمات الشرح۔
'' اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے بادشاہ اپنی خدمت میں بلائے'' یعنی اس شخص کا حال جو فرائض ترک کر کے سنن و نوافل بجا لائے اس کا حال اس شخص کی طرح ہے جسے بادشاہ اپنی خدمت میں طلب کرے، اس سے مراد وہ فرائض ہیں جن کا حکم اﷲتعالیٰ نے دیا ہے جو علی الاطلاق حاکم و بادشاہ ہے اور وہ اس اعلیٰ طریقے پر بلاتاہے'' پس وہ اس کی طرف نہیں آتا'' یعنی وہ آدمی بادشاہ کی طرف نہیں آتا ''اور وُہ بادشاہ کے ایسے امیر کے پا س کھڑا رہے جیسے اس کا غلام اور خادم ہو) یعنی وُہ ایسے چاکر کے پاس کھڑا رہتا ہے جو بادشاہ کا غلام ہے'' اور اس کے قبضہ وولایت میں ہے'' وہ اس کے تصرف اور قدرت کے تحت ہے، یہ ان سنن و نوافل کی مثال ہے جو رسول اﷲصلی تعالیٰ علیہ وسلم (جو بارگاہ خداوندی میں امیر اور خصوصی وزیر ہیں) کے طریقہ پر یا علماء کے استحباب پر (جو اﷲتعالیٰ کے غلام اور بندے ہیں) کے طریقہ پر عمل پیرا ہوتا ہے اگر چہ تمام پروردگار کے حکم سے ہی لیکن فرائض کی نسبت الزام وایجاب کی وجہ سے اﷲتعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے اور وہ سنن و نوافل جن کا درجہ یہ نہیں ان کی نسبت رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب و اتباع کی طرف کر دی جاتی ہے۔حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نوافل ادا کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو نوافل ادا کرتا ہے حالانکہ اس پر فرائض ہیں'' حالانکہ اس کے ذمّہ ایسے فرائض ہیں جنھیں اس نے ادا نہیں کیا''اس حاملہ خاتون کی طرح ہے'' جس کی مدتِ حمل مکمل ہوگئی''جب ولادت کا وقت آیا تو اس نے بچّے کو گرادیا) یعنی ناتمام بچّے کو اس نے جننے کے وقت گرادیا۔ وجہ تشبیہ بے فائدہ تکلیف و مشقّت اٹھانا ہے کیونکہ جب وُہ نوافل عدمِ ادائیگیِ فرائض مقبول ہی نہیں تو وہ نمازی بے فائدہ مشقّت اٹھا رہا ہے جیسے کہ حاملہ خاتون نے کتنی طویل مدّت تکلیف اٹھائی مگر اس پر فائدہ بصورتِ اولاد مرتّب نہ ہوا'' پس اب یہ حاملہ نہیں ہے'' کیونکہ مقصود فوت ہوگیا''نہ ہی یہ صاحبِ اولاد ہے'' کیونکہ حمل ساقط ہوگیا ''اسی طرح وہ نمازی جب تک فرائض ادا نہیں کرے گا اﷲتعالیٰ اس کے نوافل قبول نہیں فرمائےگا'' تو جب تک نمازی فرائض بجا نہیں لاتا نہ اس کے نوافل ہوں گے نہ فرائض۔ بے ادا فرائض کے نوافل ادا کرنے والے نمازی کی دوسری مثال یُوں ہے جیسے کوئی تاجر بغیر سرمایہ کے نفع حاصل کرنا چاہے، لہذا فرمایا ''نمازی کی مثال تاجر کی طرح ہے'' یعنی مذکور مصلّی کا حال سوداگر کی طرح ہے''اسے تجارت میں نفع حاصل نہیں ہوتا'' یعنی اسے سوداگری میں اس وقت تک نفع نہیں ہوسکتا''یہاں تک کہ وُہ اپنا سرمایہ حاصل کرے'' جب تک وُہ سرمایہ نہیں لگائے گا اسے نفع کیسے ہوگا''اسی طرح معاملہ ہے نوافل ادا کرنے والے نمازی کا، اس کے نفل ادائیگی فرائض کے بغیر مقبول نہیں ہوسکتے'' کیونکہ نفل بمنزلہ نفع کے اور فرض بمنزلہ سرمایہ کے ہیں اھ کلماتِ شرح میں کچھ اختصار کیا گیا ہے۔
(۱؎فتوح الغیب مع شرح فارسی مقالہ ۴۸ منشی نولکشور لکھنؤ ص۲۷۳ تا۲۷۵)