Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
70 - 198
کتابُ الصّوْم

(روزے کا بیان)
مسئلہ۱۶۰: کسی نے حرام کھاناکھا کر روزہ رکھا اور حرام چیز سے افطار کیا فرضِ صوم اُس پر سے ساقط ہُوا ہے یا نہیں؟بیّنواتوجروا
الجواب: بیشک صورتِ مستفسرہ میں فرض ساقط ہوگیا
فان الصوم انماھو الامساک من المفطرات الثلثۃ من الفجر الی اللیل
 (روزہ صبح سے لے کر شام تک تین چیزوں (کھانا، پینا اور ہمبستری) سے رک جانا ہے۔ت)سحری کھانا یا افطار کرنا روزے کی حقیقت میں داخل نہ اس کی شرائط سے،پھر اگر یہ مالِ حرام سے واقع ہوئی تو اس کا گناہ جُدا رہا مگر سقوطِ فرض میں شبہ نہیں۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۶۱:چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین در مسئلہ کہ روزہ فرض بر حافظِ قرآن بوجہے کہ تراویح می گزارد معاف ست یا نا؟بینو اتوجروا ایھا العلماء۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک حافظِ قرآن پر تراویح پڑھانے کی وجہ سے روزہ رکھنا معاف ہے یانہیں؟ اے علماء!جواب تحریر فرماکر اجر پاؤ۔(ت)
الجواب: ختمِ قرآن در تراویح از سنتے بیش نیست و فرقے کہ از سنت تا فرض ست خود ہو یداست چہ بلا وسفاہتے باشد ایں را بہرآں گز شتن وادرِ دین داو اژ گو نہ داشتن بلکہ ایں بہانہ دروغ خود بفہم در نمی آید زیر اکہ قرأتِ قرآن مانع روزہ نیست ہزارا ں  ہزار حافظان  قرآن در اقطارِعالم واکنافِ زمین از پیران وبچگان وکم طاقتان ھم بروز روزہ مے دارند وہم شب قرآن می خوانندو بدیں معنی ہیچ مضرتے بچشم ایشاں نمی رسد وچہ گونہ رسد کہ ہم روزہ صحت ست وہم قرآن شفاامااعتقادے صحیح باید تا ازیں دہائے الٰہی نفع رونماید۔ قال اﷲتعالیٰ
وننزل من القراٰن ماھو شفاء ورحمۃ للمومنین ولایزیدالظلمین الّاخساراo۱؎
تراویح میں ختمِ قرآن سنت سے بڑھ کر نہیں ،سنت اور فرض میں جو فرق ہے وُہ نہایت ہی ظاہر و باہر ہے،یہ کتنی بیوقوفی اور کم عقلی ہے کہ سنت کی خاطر فرض چھوڑدیا جائے، یہ دین  سے برگشتگی،بلکہ یہ جُھوٹا بہانہ سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ قرأت قرآن روزہ رکھنے سے مانع نہیں ہوسکتی۔پُوری دُنیا میں ہزار ہا حفّاظِ قرآن جن میں بُوڑھے، بچّے اورکمزور شامل ہیں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو قرآن سناتے ہیں اور کبھی کسی کو ایسا معاملہ نقصان دہ نہیں ہُوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ روزہ بھی صحت ہے اور قرآن سراپا شفا ہے لیکن اعتقاد کا صحیح ہونا ضروری ہے تاکہ ا ﷲتعالےٰ یہ نفع عطافرمائے۔اﷲتعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے:ہم نے قرآن نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے  خسارہ میں اضافہ ہی کرتا ہے۔
 (۱؎القرآن ۷ /۸۲)
قال صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اغزوا تغنمو او تصوموا تصحوا وسافروا  تستغنوا۔۲؎اخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط من طریق زھیربن محمدعن سھیل بن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کما فی المقاصد الحسنۃ وروایۃ ثقات کما فی ترغیب المنذری واخرجہ الامام احمد ایضا کما قال السخاوی،
حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرو غنیمت حاصل کرو، روزہ رکھو صحت حاصل کرو، بغرض تجارت سفر کرواور نفع حاصل کرکے غنی حاصل کرو۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں زہیر بن محمد سے، انھوں نے سہیل بن ابی صالح سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے جیسا کہ مقاصد حسنہ میں ہے اور یہ ثقہ لوگوں روایت ہے جیسا کہ ترغیب منذری میں ہے اور اسے امام احمد نے بھی تخریج کیا جیسا کہ سخاوی نے کہا،
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الاوسط         باب اغزوا تغمنوا الخ        دارالکتاب العربی بیروت        ۵ /۳۲۴)

(مقاصد الحسنہ         حرف السین المہملہ     حدیث ۵۴۹            دارالکتب العلمیۃ بیروت        ص ۲۳۶)
وروی قولہ صوموا تصحوا ۱؎عن ام المنومنین عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اخرجہ ابن السنی وابونعیم فی الطب النبوی کما فی الجامع الصغیر للسیوطی لکن اسنادہ ضعیف۲؎کما قال المناوی قلت ولا یضرلثبوتہ برجال ثقات مع ان الضعیف معمول بہ فی الفضائل اجماعا کما افاد النووی وغیرہ۔
اور یہ الفاظ بھی ام المومنین نے حضور نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کئے کہ روزہ رکھو اور صحت پاؤ۔ اسے ابن سنی نے اورابو نعیم نے طبِ نبوی میں روایت کیا، جیسا کہ جامع الصغیر للسیوطی میں ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے، جیسا کہ مناوی نے کہا قلت اس کا ضعیف ہونا نقصان دہ نہیں کیونکہ ثقہ لوگوں سے مروی ہے، علاوہ ازیں ضعیف پر فضائل میں عمل بالاتفاق جائز ہے جیسا کہ نووی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
 (۱؎الجامع الصغیر مع التیسیر        تحت حدیث صومواتصحوا    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ    ۲ /۹۵)

(۲؎التیسیرشرح الجامع الصغیر          تحت حدیث صوموتصحوا    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ    ۲ /۹۵)
ہیچ باور نمی آید کہ ایں کس را قرآن خواندن از روازہ باز می دارد پس نباشد مگر عذر باطل ودون ہمتی ونفس پروری والعیاذباﷲاگربالفرض ہمچنان ست کہ قرآن خواندن او را بہ حدے ناتواں می کند کہ طاقت روزہ طاق می گردد تادریں صورت ایں قرآن خواندن درحق وے نہ سنت و باعثِ ثواب باشک بلکہ حرام و موجبِ عذاب ورنگ کسیکہ تلاوت قرآن دراز کرد تاآں کہ وقتِ نماز از دست رفت ایں چنیں قرآن خواندن درآں قولِ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم داخل است کہ فرمودہ رب تالی القراٰن والقراٰن یلعنہ۳؎ ای بسا قرآن خواناں کہ قرآن ایشاں را لعنت مے کند، علماء مطلق فرمودہ اند ہر عملے کہ ضعیف واز روزہ بازدارد، روانیست فی الدرالمختار لا یجوزان ان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف۱؎
کسی طرح بھی یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ اس شخص کو قرأتِ روزہ رکھنے سے مانع ہے، یہ صرف عذر باطل، کم ہمتی اور العیاذباﷲاگر بالفرض قرآن پڑھنا اتنا کمزور کردیتا ہے کہ اسے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہتی تو اس صورت میں اس کے لیے قرآن پڑھنا نہ سنّت ہے نہ باعثِ ثواب، بلکہ حرام اور موجبِ عذاب ہے جس طرح کوئی شخص قرآن کی تلاوت اتنی طویل کرے کہ نماز کا وقت ہی فوت ہوجائے تو وہ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے تحت داخل ہوگا۔''بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان پر لعنت کرتا ہے۔'' علماء نے مطلقاًفرمایا ہے کہ جوبھی عمل روزہ رکھنے سے کمزور کرے یا مانع ہووہ جائز نہیں،درمختار میں ہے کہ ہر وُہ عمل جو انسان کو کمزور کردے وُہ جائزنہیں ہوتا۔
 ( ۳؂ المدخل لابن الحاج        بیان فضل تلاوت القرآن الخ      دار الکتاب العربی بیروت       ۱ /۸۵   )

(۱ ؎ درمختار         باب مایفسد الصوم ومالایفسد    مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۵۲  )
واگر مردے راحالتے باشد کہ چوں روزہ داردقیام درنماز نہ تواند اُو را روانیست کہ روزہ رمضان ترک دہد بلکہ روزہ دارد ونماز نشستہ گزارد فی الدرالمختار عن البز ازیۃ لو صام عجز عن القیام صام وصلی قاعد اجمعا بین العبادتین۲؎
اگرروزے کی وجہ سے کوئی شخص اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ نماز میں قیام کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے لئے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں  بلکہ وہ روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔ درمختار میں بزازیہ سے ہے اگر کسی نے روزہ رکھا اور وہ ماز میں قیام سے عاجز ہوگیا تو وہ دونوں عبادات کو جمع کرتے ہوئے روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔
 ( ۲؎ درمختار         باب مایفسد الصوم ومالایفسد    مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۵۲)
سبحان اﷲ!نزد علماء قیام نماز کہ خود فرض است بغرض مراعات روزہ ساقط گردد اینجاروزہ رمضان بہرادائے سنّتے حاشا بلکہ بہر تفاخرے بہ حصول امامتے بلکہ بہر فعلے ناجائزے گناہے حرامے عفو مے شود ان ھذا الاجھل صریح او عناد قبیح ایں عزیز راگویند کہ حق سبحانہ، وتعالٰی صومِ رمضان بر تو وہمگناں فرض عین فرمودہ است و قرآن در تراویح ختم کردن نہ فرض ست ونہ سنتِ عین،اگر بسبب تکثیر تلاوت ہنگام دور کہ اکثر حافظا ں را ازاں نا گزیر ست ضعفے  بتوراہ می    یا بدایں خود بر گردن تو نہ نہادہ اند بحافظے دیگر اقتداکن و تراویح گزار و روزہ دارھم فرض بیاب وہم بہ سنت شتاب وایں قدر نیز نمے توانی تمام قرآن در تراویح مخواں ومشنو ہمیں بست رکعت بہ نہجیکہ قادر باشی بجا آورد روزہ از دست دادہ مستحق نار جحیم و عذاب الیم مباش
سبحان اﷲ! علماء کے نزدیک روزہ کی خاطر نماز میں قیام ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ یہ قیام فرض ہے صورتِ مذکورہ میں تو سنت کی خاطر نہیں بلکہ حصول امامت پر تفاخر کے لیے روزہ رمضان ترک کیا جارہا ہے بلکہ ناجائز، حرام اور گناہ فعل کے لیے ترک ہے، اللہ تعالٰی معاف فرمائے ۔یہ تو جہالت صریح اور عناد قبیح ہے اس عزیز سے کہا جائے کہ  ا ﷲ سبحانہ وتعالٰی نے تجھ پر روزہ رمضان فرضِ عین فرمایاہے اور تراویح میں قرآن خرم کرنا نہ فرض نہ سنّتِ عین۔ اگر بسببِ کثرت تلاوت دَور کی وجہ سے جو حفّاظ کے لیے جاگزیر ہوتا ہے ایسا ضُعف لاحق ہونے کا خطرہ ہے تو یہ بوجھ اپنے اوپر  نہ لے بلکہ کسی دوسرے حافظ کی اقتداء کرے،تراویح  ادا کرے اور روزہ رکھے، فرض کو بجالائے، اور سنّت بھی حاصل کرے،اور اگر اس قدر کی بھی طاقت نہیں تو تمام قرآن تراویح میں نہ پڑھے اور نہ سُنے، جس طریقہ سے بیس تراویح ادا کرنے پر قادر ہے ادا کرے، روزہ اگر نہ تکھا تو نارِ جہنّم اور عذاب الیم کا مستحق ٹھہرے گا،
Flag Counter