اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے۔ ائمہ کرام کفار حربی سے سلوک کو کیوں منع کرتے ہیں، ان کے کیا دلایل ہیں اور احادیث کے کیا جواب؟کتاب السنیۃ الانیقہ میں ہے:
لا تکون براشرعا ولذالم یجزالتطوع الیہ فلم یقع قربۃ۔۳؎
یہ شرعاًنیکی نہیں ہوگی اسی وجہ سے ایسے کافر پر نفلی صدقہ جائز نہیں اور نہ وہ قربت بنے گا۔(ت)
میں امر بتصدق ہے اور تصدق قربت جہاں قربت نہ ہو صدقِ تصدق محال ہے اوربہ تصریح ائمہ اہل حرب کو کُچھ دینا اصلاًقربت نہیں تو وہاں صدق تصدق نا ممکن اور قطعاًحاصلِ حدیث یہ کہ جن کو دینا قربت ہے وُہ کسی دین کے ہوں ان پر تصدق کرویہ ضرور صحیح ہے اور صرف اہلِ ذمّہ کو شامل نصرانی ہوں خواہ یہودی خواہ مجوسی خواہ وثنی، کسی دین کے ہوں،اگر وُہ قول لیں کہ غنی کو دینا صدقہ نہیں ہوسکتا تو مسلمان غنی بھی اس عموم اہل الادیان کلہا میں نہیں آسکا کہ وہ محلِ صدقہ ہی نہیں اور کلام تصدق میں ہے، یہی جواب اس حدیث سے ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے، ورنہ صحیح مسلم شریف کی صحیح حدیث میں فرمایا کہ جو وزغ کو ایک ضرب مارے سَو نیکیاں پائے۔ ۴
(۴؎ صحیح مسلم کتاب قتل الحیات باب استحباب قتل الوزغ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۶)
دوسری حدیث میں ہے: جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے گویا ایک مشرک حلال الدم کو قتل کیا۔۵؎
رواہ الامام احمد عن عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ
(اسے امام احمد نے حضرت عبد اﷲبن مسعود سےروایت کیا ہے۔ت)
(۵؎ مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اﷲبن مسعود دارالفکر بیروت ۱ /۳۹۵)
تیسری حدیث میں ہے:
اقتلواالحیات کلھن فمن خاف ثأر ھن فلیس منا۱؎۔ رواہ ابوداؤد والنسائی و الطبرانی فی الکبیر عن جریر بن عبداﷲو عن عثمان بن ابی العاص رضی اﷲتعالیٰ عنھم۔
سب سانپوں کو قتل کرو، جو ان کے بدلہ لینے سے ڈرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ (اسے ابوداؤد، نسائی اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت جریر بن عبداﷲرضی اﷲتعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کیا ہے۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات،آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۵۶)
ایک حدیث میں ہے:
من قتل حیۃ اوعقر با فکا نما قتل کافرا۔۲؎ رواہ الخطیب عن ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
جس نے سانپ یا بچّھو ماراگویا ایک کافر مارا(اسے خطیب نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۔(ت)
(جہاں کہیں ملیں پکڑ ے جائیں اور گن گن کر قتل کئے جائیں۔ت)
( ۴؎ القرآن ۳۳ /۶۱)
اور فرمایا:
واغلظ علیھم۵؎
(ان پر سختی کرو۔ت)
(۵؎ القرآن ۹ /۷۳ )
اور فرمایا:
ولیجد وافیکم غلظۃ۶؎
(وہ پائیں تمھارے اندر سختی ۔ت)
( ۶؎ القرآن ۹ /۱۲۳)
تو وہ اصلاً محلِ احسان نہیں۔ ابتدائے اسلام میں غیر محارب و محارب کفار میں فرق فرمایا تھا اُن سے نیک سلوک اور برابری کا برتاؤ جائز تھااور اِن سے منع،اور اسی کو ان سے دوستی رکھنے سے تعبیر فرمایا تھاورنہ دوستی تو کسی کافر سے کبھی حلال نہ تھی۔
قال اﷲتعالیٰ لا ینھٰکم اﷲعن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اﷲ
یحب المقسطینoانما ینھٰکم اﷲعن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظٰھرواعلیٰ اخراجکم اَنْ تولّوھم ج ومن یتولّھم فاولٰئِک ھم الظّٰلمونo۱؎
اﷲتعالیٰ کا ارشادِگرامی ہے:اﷲتمھیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سےانصاف کابرتاؤ برتو۔ بیشک انصاف والے ،اﷲکو محبوب ہیں اﷲتمھیں انہی سے منع کرتا ہے جوتم سے دین میں لڑے یا تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا یا تمھارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کریں تو وہی ستمگار ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن ۶۰ /۸ و۹)
معالم شریف وغیرہ میں ہے:
ثم ذکرالذین نھا ھم عن صلتھم فقال انما ینھٰکم اﷲ۲؎الاٰیۃ
پھر ا ﷲتعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن سے احسان سے منع فرمایا:
انما ینھٰکم اﷲ۔(ت)
(۲؎ تفسیر معالم التنزیل مع الخازن زیر آیت لاینھٰکم اﷲالخ مصطفی البابی مصر ۷ /۷۷)
خازن میں ہے:
ثم ذکر اﷲالذی نھی عن صلتھم وبرھم فقال تعالیٰ انما ینھٰکم اﷲ۔۳؎
پھر ان لوگوں کا ذکر کیا جن سے نیکی واحسان منع ہے تو فرمایا
انما ینھکم اﷲ۔(ت)
(۳؎ تفسیر الخازن، زیر آیت لاینھٰکم اﷲالخ ،مصطفی البابی مصر ۷ /۷۷)
تو معلوم ہُوا کہ ان کے ساتھ نیک سلوک موالات ہے اور ان سے موالات مطلقاً کثیر آیات میں حرام فرمائی۔ اسی سُورہ کریمہ کے آخر میں ہے:
یٰایھا الذین امنو لاتتولّوا قوما غضب اﷲعلیہم۔۴؎
اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اﷲکا غضب ہے۔(ت)
(۴القرآن ۶۰ /۱۳)
لاجرم کبیر میں ہے:
قال قتادۃ نسختھا اٰیۃ القتال۵؎
(حضرت قتادہ نے فرمایا اس آیت کو آیتِ قتال نے منسوخ کردیاہے۔ت)تو اب کسی کافرحربی سے برّوصلہ جائز نہ رہا اگر چہ اس نے بالفعل محاربہ نہ کیا ہو۔واﷲتعالیٰ اعلم