Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
68 - 198
سیزدہم: وہ جس کی عیال میں صورت چہارم کی طرح بے صبرا ہو اور بے شک بہت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کےلحاظ سے تو اس پر دوہرا وجوب ہوگا کہ قدر حاجت جمع رکھے ،
قال اﷲقوا انفسکم واھلیکم نارا۔۳؂
اﷲتعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
 ( ۳؎القرآن    ۶۶/ ۶)
چہاردہم: ہاں جس کی سب عیال صابر و متوکل ہوں اسے روا ہوگا کہ سب راہِ خدا میں خرچ کردے۔سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بار صدقہ کا حکم فرمایا، امیرالمومنین عمر رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مَیں خوش ہُوا کہ اگرصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ پر سبقت لے جاؤں گا تو اس بار میرے پاس مال بہت ہے اور ان کے پاس کم۔ فاروق اپنے تمام مال کا نصف حاضر لائے۔ ارشاد ہُوا: عیال کے لیے کیا چھوڑا؟عرض کی: اتنا ہی۔ صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ تمام و کمال اتنا اپنا سارا مال حاضر لائے، ارشاد ہُوا: عیال کے لیے کیا چھوڑا ؟عرض کی: اﷲورسول جل وعلا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔حضور اقدس نے فرمایا(عہ۱) :
  بینکما مابین کلتیكما
 (تم دونوں کے مرتبوں میں وُہ فرق ہے جو تمھاری ان باتوں میں ہے) اگرصاحب (عہ۲)جائیداد ہے اور اسکی آمدنی خرچ سے زائد ہے تو اس کی آمدنی سے بقدر خرچ رکھ کر باقی کا تصدق مطلقاً افضل ہے، اگر دخل ماہانہ ہے تو ایک مہینہ کا خرچ رکھ کر،اور سالانہ تو ایک سال کا، اس سے زائد کا جمع رکھنا حرص و حُب دنیا سے ناشئی ہوتا ہے ، اور حُبِ دنیا خطا کی جڑ ہے۔
 (عہ۱) یہاں تک یہ جواب دستیاب ہوا (اس سے آگے عربی جملہ اور اسکا ترجمہ''جواہرالبیان فی سرارالارکان''ص۱۰۶میں اسی حدیث کے تحت ملا ہے )(عہ۲) یہاں سے سوال مذکور کایہ مختصر جواب ہے ۱۲
صحیحین میں امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کان ینفق علیٰ اھلہ نفقۃ سنتھم من ھذاالمال ثم یاخذ مابقی فیجعلہ مجعل مال اﷲ۔۱؎
رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اسی مال سے اپنے اہل پر سال بھر خرچ کرتے  پھر بقیہ کو اﷲکے راہ میں خرچ کردیتے۔(ت)
 (۱؎صحیح البخاری  کتاب النفقات ۲ /۸۰۶ وکتاب الفرائض۲/۹۹۶وکتاب الاعتصام ۲ /۱۰۸۶قدیمی کتب خانہ کراچی )

(صحیح مسل،  باب حکم الفئی، قدیمی کتب خانہ کراچی، ۲ /۸۹ و۹۱)
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدنیا دار من لادارلہ ولھا یجمع من لاعقل لہ۔۲؎ رواہ الامام احمد والبیہقی فی الشعب عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہا بسند صحیح۔
دنیا بے گھروں کا گھر ہے اور اُس کے لیے احمق ہی جمع کر ےگا۔(اسے امام احمد، بیہقی نے شعب الایمان میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے بسندِصحیح روایت کیا ہے۔ت)
 (۲؎مسند احمد بن حنبل     مروی از عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا    دارالفکر بیروت،۶ /۷۱)
احیاء العلوم شریف میں ہے:
ما وراء السنۃ لایدخرلہ الابحکم ضعف القلب فھو غیرواثق بتدبیرالحق فان اسباب الدخل تتکرربتکرر السنین۳؎ملخصاً
سال سے زائد رزق جمع نہ کیا جائے مگر اس صورت میں دل ضعیف ہو اور تدبیر حق کے ساتھ واثق نہ ہو کیونکہ اسبابِ جمع مختلف سالوں کی وجہ سے مختلف ہونگے (ت)
 (۳؎ احیاء العلوم     کتاب التوحید والتوکل    بیان احوال المتوکلین مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۲ /۲۷۷ )
اور اگر جائداد نہیں رکھتا عیال کے لیے اتنا پس انداز کرنا کہ اگر یہ مرجائے تو وہ اس بقیہ سے منتفع ہوں اور انھیں بھیک مانگنی نہ پڑے افضل ہے۔رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انک ان تذر ورثتک اغنیاء خیرمن ان تذرھم عالۃ یتکففون الناس فی ایدیھم ۔۱؎رواہ الشیخان عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالیٰ عنہ ۔
تیراورثاء کو غنی چھوڑنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ محتاجی میں لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎صحیح البخاری کتاب النفقات     باب فضل النفقہ علی الاہل        قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲ /۸۰۶)

(صحیح مسلم             کتاب الوصیۃ        قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲ /۳۹)
اور اس کی مقدار جو اُن کے لیے چھوڑنا مناسب ہے ہمارے امام رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے چار ہزار درہم مروی ہے یعنی ہر ایک کو اتنا حصّہ پہنچے ،اور امام ابوبکر فضل سے دس ہزار درہم، اور اگر ان کے حصّے مختلف ہیں تو لحاظ اس کا کیا جائیگا جس کا حصّہ سب سے کم ہے، اور اس سے زیادہ پھر ہوس ہے، درمختار میں ہے:
ندبت(ای الوصیۃ) باقل منہ (ای من الثلث) ولو عندغنی ورثتہ او استغنا ھم بحصتھم، کماندب ترکہا بلا غنی واستغناء۲؎(ملخصاً)
جب ورثاء غنی یا اپنے حصّہ کے سبب مستغنی ہوں تو تیسرے حصہ وراثت سے کم میں وصیّت کرنا مستحب ہوتا ہے جیسا کہ ورثاغنی و مستغنی نہ ہوں توترکِ وصیّت مستحب ہے(ملخصاً)۔(ت)
 (۲؎ درمختار             کتاب العاقل         مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۱۸)
ردالمحتار میں ہے:
استغنائھم بحصتھم بان یرث کل منھم اربعۃ الاف درھم علی ماروی عن الامام اویرث عشرۃ الاف درھم علی ماروی عن الفضلی قہستانی عن الظہیریۃواقتصرالاتقانی علی الاول۔۳؎
ورثاء کا ا پنے حصہ کے ساتھ مستغنی ہونا یہ ہے کہ ان میں سے ہرایک چار ہزار درہم کا وارث بنے، جیسا کہ امام صاحب سے مروی ہے۔ یا دس ہزار ، جیساکہ فضلی قہستانی نے ظہیریہ سے نقل کیا ہے۔ اتقانی نے پہلے قول پر ہی اکتفاء کیا ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار              کتاب العاقل     مصطفی البابی مصر        ۵ /۴۶۱)
چار ہزاردرہم کے انگریزی روپے سے گیارہ سوبیس ہوئے اور دس ہزار کے دوہزار آٹھ سو۔ ہاں اگر عیال خود غنی ہوں تو پس اندازنہ کرنا ہی افضل،یُونہی اگر فاسق ہوں کہ مال معصیت میں خرچ کریں گے تو اُن کے لیے کچھ نہ چھوڑنا ہی بہتر۔فتاوٰی خلاصہ و لسان العلوم و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
لوکان ولدہ فاسقاواردان یصرف مالہ الیٰ وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذاخیرمن ترکہ۔۱؎ واﷲتعالیٰ اعلم۔
وراثت سے محروم کرکے مال کو اچھے کاموں پر خرچ کردوں تو یہ وراثت چھوڑنے سے بہترہے(ت) واﷲتعالیٰ اعلم
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،نورانی کتب خانہ پشاور ،۴ /۳۹۱)
مسئلہ ۱۵۷: از جبلپور ضلع پیلی بھیت     مرسلہ محمد حسین احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر    ۶ربیع الآخر ۱۳۳۱ھ

مخزن علوم حقانی وربانی ادام اﷲفیوضہم،تسلیم بعد تعظیم میری اہلیہ عرصہ سے ہر سال حضرت غوث الاعظم کی گیارھویں میں سوامن بریانی پکواکر نیاز دلاتی ہے اور مساکین کو تقسیم کی جاتی ہے کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ رقم امسال شہداء ویتامیٰ عساکر عثمانیہ کی امداد کے لیے بھیجی جائے اور گیارہویں شریف معمولاًقدرے شیرینی یا طعام پر دلادی جائے؟ زیادہ نیاز
الجواب:اگر دونوں باتیں نہ ہوں تو یہی بہتر ہے کہ قدرے نیاز دے کر وُہ تمام قیمت امداد مجاہدین میں بھیج دی جائے اور اس کا ثواب بھی نذرِرُوح اقدس حضرت سیّدنا غوثِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو کیا جائے۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۵۸:     از بلتہرابازار ضلع بلیا مرسلہ شیخ واجد علی محمد سلطان سوداگرِچرم۱۶شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شخص مالدار ہے اور سالانہ مد زکوٰۃ میں ہزاروں روپیہ نکال کر مستحقین میں تقسیم کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رقمِ زکوٰۃ سے زید حقیت زمینداری خرید کر اُس کے خالص منافع کو مستقل طور پر مستحقین اور طالبِ علم دینیات کو دے سکتا ہے، کیا اس کے جواز کی کوئی صورت ہے، چونکہ زید اپنے کاروبارِ تجارت کو بہ مقابلہ حقیت زمینداری کے مستحکم نہیں خیال کرتا وُہ چاہتا ہے کہ اس صورت میں ہمیشہ وُہ زکوٰۃ سے مستحقین میں اس کا نفاذ رکھے۔
الجواب: زکوٰۃ تملیکِ فقیر ہے، نہ جائداد خرید نے سے ادا ہوسکتی ہے نہ جائداد فقراء پر وقف کردینے سے ہاں اگر وُہ روپیہ کسی فقیر مصرفِ زکوٰۃ کو باجازتِ شرعی دے کر بہ نیتِ زکوٰۃ مالک کردے تو اُس فقیر کی اجازت سے اس کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کرے تو یہ صورت بہت مستحسن ہے اور اُس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مثلاً دس ہزار روپیہ زکوٰۃ کے دینے ہیں اور چاہتا ہے کہ ان کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کرے توکسی فقیر مصرف زکوٰۃ کے ہاتھ مثلاً سو پچاس روپیہ کا مال  دس ہزار روپیہ کو بیچے اور وہ قبول کرلے تو دس ہزار روپیہ اس کو بہ نیتِ زکوٰۃ اور اُس قیمت کے مطالبہ میں واپس لے کر اُن کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کردے، یُوں وقف بھی ہوجائیگا اور زکوٰۃ بھی ادا ہوجائیگی اور فقیر کو بھی سو پچاس روپیہ کا مال مل جائے گا اور وُہ بعد ادائے زکوٰۃ دس ہزار روپیہ واپس دینا نہ چاہئے یہ جبراًلے سکتا ہے کہ اس کا اتنا اس پر آتاہے۔ دُرمختار میں ہے:
ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ۔۱؎واﷲتعالیٰ اعلم
اگر مدیون نہیں دیتا تو اسے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق کے حصول پر قدرت پاتا ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 ( ۱؎ درمختار    کتاب الزکوٰۃ   مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۱۳۰)
Flag Counter