Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
67 - 198
یازدہم: حاجت سے زیادہ کا مصارفِ خیر میں صرف کردینا اور جمع نہ رکھنا صورتِ سوم میں تو واجب تھا باقی جملہ صُوَر میں ضرور مطلوب،اور جوڑ کررکھنا اس کے حق ناپسند ومعیوب کہ منفرد کو اس کا جوڑنا طولِ امل یا حُبِ دنیا ہی سے ناشئی ہوگا اورطولِ امل غرور ہے ، اور دُنیا اشر الشرور۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل وعدّنفسک من اصحاب القبور اذااصبحت فلا تحدّث نفسک با لمساء واذاامسیت فلا تحدث نفسک بالصباح۔۲؎رواہ الترمذی والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما وھو فی صحیح البخاری برفع اولہ ووقف اٰخرہ۔
دنیا میں یُوں رہ گویا تُو مسافر بلکہ راہ چلتا ہے اور اپنے آپ کو قبر میں سمجھ کر صبح کرے تو دل میں یہ خیال نہ لاکہ شام ہوگی،اور شام ہوتو یہ نہ سمجھ کہ صبح ہوگی۔ (اسے ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے۔ صحیح البخاری میں اس کا اول حصّہ مرفوعاً اور آخری موقوفاً مروی ہے۔ت)
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الزہد         باب ماجاء فی قصر الامل    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۲ /۵۷)
ایک حدیث میں رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
یاایھاالناس اماتستحیون
اے لوگو!کیا تمھیں شرم نہیں آتی ؟حاضرین نے عرض کی: یارسول اﷲکس بات سے۔ فرمایا:
تجمعون مالا تاکلون وتبنون مالا تعمرون وتاملون مالا تدرکون الاتستحیون ذٰلک۔۱؎ رواہ الطبرانی عن ام الولید بنت عمر الفاروق رضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
جمع کرتے ہو جونہ کھاؤ  گےاور عمارت بناتے ہوتو جس میں نہ رہو گے اور وہ آرزُوئیں باندھتے ہو جن تک نہ پہنچو گے اس سے شرماتے نہیں۔ (اسے طبرانی نے حضرت ام الولید دختر حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر        مروی از ام الولید بنت عمر بن خطاب    حدیث ۴۲۱  المکتبۃ الفیصلیہ بیروت         ۲۵ /۱۷۲)
ایک حدیث میں ہے اسامہ بن زید رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے ایک مہینے کے وعدے پر ایک کنیز سَو دینار کو خریدی، رسول اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
الاتعجبون من اسامۃ یشتری الی شھر، ان اسامۃ طویل الامل، والذی نفسی بیدہ ماطرفت عیناہ الاظننت ان شفریّ لا یلتقیان حتی یقبض اﷲ روحی ولارفعت قد حا الی فی فظننت انی واضعہ حتی اقبض ولا لقمت لقمۃ الاظننت انی لاسیغھاحتی اعض بھا من الموت، والذی نفسی بیدہ ان ما توعدون لات وماانتم بمعجزین۔۲؎ رواہ ابن ابی الدنیا فی قصر الامل وابو نعیم فی الحلیۃ والاصبہانی فی الترغیب والبیھقی عن ابی سعیدن الخدری رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
کیا اسامہ سے تعجب نہیں کرتے جس نے ایک مہینے کے وعدے پر(کنیز) خریدی،بیشک اسامہ کی امید لمبی ہے قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں توجب آنکھ کھولتا ہُوں یہ گمان ہوتا ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے موت آجائیگی، اور جب پیالہ منہ تک لے جاتا ہُوں کبھی یہ گمان نہیں کرتا کہ اس کے رکھنے تک زندہ رہوں گا، اور جب کوئی لقمہ لیتا ہُوں گمان ہوتاہے کہ اسے حلق سے اتارنے نہ پاؤں گا کہ موت اسے گلے میں روک دے گی، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک جس بات کا تمھیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے تم تھکانہ سکو گے۔ اسے ابن ابی الدنیا نے باب فی قصر الامل میں، ابونعیم نے حلیہ میں، اصبہانی نے ترغیب میں اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۲؎ حلیۃ الاولیاء     ابوبکر ابی مریم الغسانی نمبر ۳۳۴     دارالکتاب العربی بیروت         ۶ /۹۱)

(الترغیب والترہیب     کتاب التوبہ والزہد         مصطفی البابی مصر        ۴ /۲۴۲)
عبد اﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو دیوار پر کہگل اور ٹٹی درست کرتے دیکھا، فرمایا: اے عبد اﷲ!کیا ہے ؟عرض کی درست کرتا ہُوں۔فرمایا:
الامرا سرع من ذٰلک۔۱؎ رواہ ابو داؤد و الترمذی ف وحسنہ وصححہ وابن ماجۃ وابن حبان عنہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
معاملہ اس سے قریب تر ہے(اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کرکے حسن اور صحیح کہا۔ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎جامع الترمذی ابواب الزہد         باب ماجاء فی قصر الامل         امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی         ۲ /۵۷)

(سنن ابن ماجہ             ابواب الزہد            ایچ ایم سعید کمپنی کراچی             ص ۳۱۷)
ف: جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حدیث کے الفاظ یُوں ہیں: ما اری الامر الااعجل من ذٰلک۔ نذیر احمد)
ایک بار حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے گردن مبارک پر دستِ اقدس رکھ کر فرمایا:
ھذا ابن اٰدم وھذااجلہ یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے۔ پھر دستِ انور پھیلا کر فرمایا:وثم املہ وثم املہ۔۲؎ رواہ الترمذی وابن حبان وبنحوہ النسائی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
اور وہ اتنی دور اُس کی امید ہے اُتنی دور اس کی امید۔ (اسے ترمذی، ابن حبان اور اسی کی مثل نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ جامع الترمذی         ابواب الزہد    باب ماجاء فی قصر الامل        امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی         ۲ /۵۷)
ایک حدیث میں ہے:
الدنیا دارمن لادارلہ ولھا یجمع من لا عقل لہ۔۳؎ رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان عن ام المومنین وھذا عن ابن مسعود من قولہ رضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
دُنیا بے گھر وں کا گھر ہے اور اس کے لیے وُہ جمع کرتا ہے جو بے عقل ہے۔(اسے امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں اُم المومنین سے روایت کیا ہے اور اسے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔ت)
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل         مروی از عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا     دارالفکر بیروت             ۶ /۷۱)
ایک حدیث میں فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم :
من کنز دنیا، یرید حیاۃ باقیۃ فان الحیاۃ بیداﷲالاوانی لااکنزدینارا

ولا درھما ولا اخبأ رزقا لغد۔۱؎ رواہ ابو الشیخ فی الثواب عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما۔
جو دنیا جوڑ کر رکھے بقائے زندگی چاہتا ہو تو زندگی تو اﷲکے ہاتھ میں ہے، سُن لو میں نہ اشرفی جوڑکر رکھتا ہُوں نہ روپیہ، نہ کل کے لے کھانا اٹھاکر رکھوں۔ (اسے ابو الشیخ نے الثواب میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیاہے۔ت)
 ( ۱؎ الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی کتاب الثواب کتاب التوبہ والزہد   مصطفی البابی مصر    ۴ /۱۸۹)
یہ سب منفرد کا بیان رہا عیالدار،ظاہر ہے کہ وُہ اپنے نفس کے حق میں منفرد ہے، تو خوداپنی ذات کے لیے اُسے اُنھیں احکام کا لحاظ چاہئے اور عیال کی نظر سے اس کی صورتیں اور ہیں ان کابیان کریں۔
دوازدہم : عیال کی کفالت شرع نے اس پر فرض کی، وہ ان کو توکل و تبتل و صبر علی الفاقہ پر مجبور نہیں کرسکتا، اپنی جان کو جتنا چاہے کُسے مگر ان کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔رسول اﷲصلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۲؎ رواہ الامام احمد وابوداؤد والنسائی والحاکم والبیہقی بسند صحیح عن عبداﷲبن عمرو رضی اﷲتعالیٰ عنہما و عزاہ فی المقاصد المسلم۔
آدمی کو گناہ کافی ہے کہ جس کا قُوت اس کے ذمہ ہے اُسے ضائع چھوڑے۔(اسے امام احمد، ابوداؤد، نسائی ،اور بیہقی نے حضرت عبداﷲبن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے بسندِ حسن روایت کیاہے۔ مقاصد میں اس کی نسبت مسلم کی طرف ہے۔(ت)
 ( ۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الزکوٰۃ         باب فی صلۃ الرحم     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۳۸)

(مسند احمد بن حنبل     مروی از عبد اﷲبن عمر و         دارا لفکر بیروت            ۲ /۱۶۰، ۱۹۴، ۱۹۵)
حجۃ الاسلام فرماتے ہیں قدس سرہ،:
لایجوز تکلیف العیال الصبر علی الجوع فلا یمکنہ فی حقہم ولا توکل المکتسب فاما ترک العیال توکل فی حقھم او القعود عن الاھتمام بامرھم توکلا فھٰذا حرام وقد یفضی الی ھلا کھم ویکون ھومواخذابھم۔۳؎(ملخصا)
عیال کو بُھوک پر قائم رکھنا جائز نہیں اس ان کے حق میں ایسا ممکن نہیں اور اسی طرح کمانے والے کو توکل کرلینا بھی جائز نہیں، عیال کے حق میں توکل کرتے ہُوئے انھیں چھوڑ دینا یاتوکل کرتے ہُوئے ان کے اخراجات کا اہتمام نہ کرتے ہُوئے بیٹھ جانا حرام ہے اور اگر یہ ان کی ہلاکت کا سبب بن گیا تو یہ شخص پکڑا جائے گا۔(ت)
 (۳؎ احیاء العلوم         کتاب التوحید والتوکل         مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ        ۲ /۲۷۲)
حضور پُر نور سیّد المتوکّلین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے نفس کریم کے لیے کل کا کھانا بچا رکھنا پسند نہ فرماتے۔ ایک بار خادمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے پرند کا گوشت کہ آج تناول تو فرمایا تھا بچا ہُوا دوسرے دن حاضر کیا، فرمایا:
الم انھک ان ترفعی شیآ لغد، فان اﷲیأتی برزق غدا۔۱؎رواہ ابویعلی بسند صحیح والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
کیا ہم نے منع نہ فرمایا کہ کل کے لیے کچھ اٹھا کرنہ رکھنا کل کی روزی اﷲکل دے گا۔(اسے ابو یعلیٰ نے سند صحیح کے ساتھ اور بیہقی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۱ ؎ مسند ابی یعلیٰ         از مسند انس بن مالک     حدیث ۴۲۰۸    مؤسسۃ علوم القرآن بیروت     ۴ /۱۹۲)

(شعب ایمان         باب التوکل والتسلیم     حدیث ۱۳۴۸    دارالکتب العلمیہ بیروت        ۲ /۱۱۹)
اور اپنی عیال کے لیے مال سال بھر کا قُوت جمع فرمادیتے۔ صحیحین میں امیر المومنین فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
کان صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ینفق منہ (ای مما افاء اﷲعلی رسولہ من اموال بنی النضیر) علی نفقۃ سنۃ ثم یجعل مابقی منہ مجعل مال اﷲ عزوجل۔۲؎
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے اس(مال فَئے جو اﷲنے بنونضیر کے اموال سے حضور کو عطا کیا تھا) سے سال بھر خرچ کرتے پھر باقی کو جمع کرکے بیت المال میں دے دیتے۔(ت)
 (۲؂صحیح البخاری  کتاب النفقات ۲ /۸۰۶    وکتاب الفرائض۲ /۹۹۶  وکتاب الاعتصام۲ /۱۰۸۶   قدیمی کتب خانہ کراچی)

(صحیح مسلم         باب حکم الفئی        قدیمی کتب خانہ کراچی                ۲ /۸۹ و۹۱)
Flag Counter