Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
66 - 198
چہارم: جو ایسا بے صبرا ہوکہ اُسے فاقہ پہنچے تو معاذاﷲ رب عزوجل کی شکایت کرنے لگے اگر چہ صرف دل میں، نہ زبان سے، یا طرق ناجائز مثل سرقہ یا بھیک وغیرہ کا مرتکب ہو، اس پر لازم ہے کہ حاجت کے قدر جمع رکھے، اگر پیشہ ور ہے کہ روزکاروزکھاتا ہے، تو ایک دن کا،اور ملازم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا مکانوں دکانوں کے کرایہ پر بسر ہے کہ مہینہ پیچھے آتا ہے، تو ایک مہینہ کا، اور زمیندار ہے کہ فصل یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینہ یا سال بھر کا،
فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح
 (مصالح کے حصول سے مفاسد کا ختم کرنا اہم ہوتا ہے ۔ت) اور اصل ذریعہ معاش مثلاً آلاتِ حرفت یا دکان مکان دیہات بقدر کفایت کا باقی رکھنا تو مطلقاً اس پر لازم ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فر ماتے ہیں:
من رزق فی شئی فلیلزمہ۔۳؎رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ بسند حسن۔
جوشئی کسی کا ذیعہ رزق ہو وُہ اسے لازم پکڑے امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بسندِ حسن بیان کیا ہے۔(ت)
 ( ۳؎شعب الایمان     باب التوکل والتسلیم        حدیث ۱۲۴۱    دارالکتب العلمیہ بیروت ، ۲ /۸۹)
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:
مامن عبد یبیع تالداً (عہ) الاسلط اﷲعلیہ تالفا۔۱؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمران بن حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔
جو بندہ قدیم جائداد کو بیچ دے اﷲتعالیٰ اس پر تلف کرنے والا مسلط کردیتا ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عمر ان بن حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے اور تمام صحابہ سے منقول ہے،(ت)  عہ :المال القدیم ۔ 'تالد'قدیم مال کو کہتے ہیں
 ( ۱؎ المعجم الکبیر  ،مروی از عمران بن حصین ، حدیث ۵۵۵،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ۱۸ /۲۲۲)
تیسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:
من باع عقر دار من غیر ضرورۃ سلط اﷲعلیٰ ثمنھا تالفایتلفہ۔۲؎ رواہ فی الاوسط عن معقل بن یسار رضی اﷲتعالیٰ عنہ العقر بالفتح الاصل۔
جس نے بغیر ضرورت اصل دار کو بیچا اﷲتعالیٰ اس کے ثمنوں پر کسی تلف کرنیوالے کو مسلط کر دیتا ہے۔اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت معقل بن یسار رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ لفظ عقر بالفتح ہے اس کے معنی اصل کے ہیں (ت)
 ( ۲؎الجامع الصغیر مع فتح القدیر     بحوالہ طبرانی اوسط    حدیث ۸۵۵۳  دار المعرفہ بیروت ۶/ ۹۳ )
پنجم: جو عالمِ دین مفتیِ شرع یا مدافع بدع ہو اور بیت المال سے رزق نہیں پاتا، جیسا یہاں ہے،اور وہاں اس کا غیر ان مناصب دینیہ پر قیام نہ کرسکے کہ افتایا دفع بدعات میں اپنے اوقات کا صرف کرنا اس پر فرض عین ہو اور وُہ مال و جائداد رکھتا ہے جس کے باعث اسے غنا اور ان فرائضِ دینیہ کے لیے فارغ البالی ہے کہ اگر خرچ کر دے محتاجِ کسب ہو اور ان امور میں خلل پڑے، اس پر بھی اصل ذریعہ کا ابقا اور آمدنی کا بقدر مذکور جمع رکھنا واجب ہے
فان مقدمۃ الفریضۃ فریضۃ
(کسی فریضہ کا مقدمہ فرض ہوتاہے۔ت) ایسے عالم کو جہاد کے لیے جانے کی اجازت نہیں کسبِ مال میں وقت صرف کرنے کی کیونکر اجازت ہوسکتی ہے،
تنویرو درمختار میں ہے:
عالم لیس فی البلدۃ افقہ منہ فلیس لہ الغزو۔۳؎
کسی شہر میں فقیہ ہو اور وہاں اس سے بڑھ کر دین جاننے والا نہ ہوتو ایسا شخص جہاد پر نہیں جاسکتا ہے۔(ت)
 ( ۳؎ درمختار ، کتاب الجہاد،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۳۳۹)
ششم : اگر وہاں اور بھی عالم یہ کام کرسکتے ہوں تو ابقاء وجمع مذکور اگر چہ واجب نہیں مگر اہم و موکدبیشک ہے کہ علمِ دین حمایتِ دین کے لیے فراغ بال، کسبِ مال میں اشتغال سے لاکھوں درجے افضل ہے معہذا ایک سے دو اور دوسے چار بھلے ہوتے ہیں،ایک کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے اسے صواب کی طرف پھیر دیں گے، ایک کو مرض وغیرہ کے باعث کچھ عذر پیش آئے تو جب اور موجود ہیں کام بند نہ رہے گا لہذا تعدد علمائے دین کی طرف ضرور حاجت ہے۔

ہفتم عالم نہیں مگر طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے اور کسب میں اشتغال اُس سے مانع ہوگا تو اس پر بھی اُسی طرح ابقاء و جمع مسطور آکد واہم ہے۔
ہشتم: تین صورتوں میں جمع منع ہُوئی، دو۲میں واجب ، دو۲ میں مؤکد۔ جو ان آٹھ سے خارج ہو، وہ اپنی حالت پر نظر کرے اگر جمع نہ رکھنے میں اس کا قلب پریشان ہو تو جہ بعبادت و ذکرِ الہٰی میں خلل پڑے تو بمعنی مذکور بقدرِ حاجت جمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اسی قسم کے ہیں ع  پراگندہ روزی پرا گندہ دل (روزی پراگندہ ہوتو دل بھی پراگندہ ہوتاہے۔ت)؎
شب چو عقد نماز بر بندم چہ خورد بامداد فرزندم
 (رات کو نماز میں دل کیا لگے جب یہ پریشانی ہوکہ صبح بچّے کیا کھائیں گے۔ت)
عین العلم میں ہے:
یترک المضطرب طریق المتوکل بالادخار لان الغرض صلاح القلب۔۱؎
مضطرب ذخیرہ کے ذریعے متوکل کا طریق ترک کردے کیونکہ مقصد اصلاحِ قلب ہے(ت)
 ( ۱؎عین العلم ،الباب العشرون فی التوحید والتوکل الخ،مطبع اسلامیہ لاہور    ص۳۳۸)
احیاء العلوم میں ہے:
بل لوامسک ضیعۃ یکون دخلھا وافیا بقدر کفایتہ وکان لا یتضرع قلبہ الابہ فذلک لہ اولیٰ۔۲؎
بلکہ اگر قدر کفایت کو پُورا کرنیوالی جائیداد کو محفوط کرے جبکہ(عبادت میں ) تضرع اسی سے حاصل رہتا ہے تویہ بہتر ہے۔(ت)
 ( ۲؎ احیاء العلوم ،الباب العشرون فی التوحید والتوکل الخ   مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۴ /۲۷۷)
یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کو توجہ بخدا کا قصد ہے ورنہ منہمکین فی الدنیا تو کسی وقت بھی متوجہ نہیں ہوتے ،غنی

ہوں تو بھول جائیں
اللھم انّا نعوذبک من غنی یطغی ومن فقر ینسی
 (اے اﷲ!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس غنا سے جو تیرا باغی بنادے اور اس فقر سے جو تجھے بُھلا دے۔ت)
نہم: اگر جمع رکھنے میں اس کا دل متفرق اور مال کے حفظ یا اس کی طرف میلان سے متعلق ہوتو رکھنا ہی افضل ہے کہ اصل مقصود ذکرِ الہیٰ کے لیے فراغ بال ہے جو اُس میں مخل ہو وہی ضم ہے ان ہی دونوں مقاموں کی طرف حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اُس دُعا میں اشارہ فرمایا جواپنی اُمّت کو تعلیم فرمائی کہ:
اللھم ما رزقتنی مما احب فا جعلہ قوۃ لی فیما تحب اللھم وما زویت عنی مما احب فا جعلہ فراغا لی فیما تحب۔۱؎ رواہ الترمذی عن عبداﷲ بن یزید رضی اﷲتعالیٰ عنہ وحسنہ۔
اے اﷲ ! تُو نے جو مجھے میرا پسندیدہ رزق دیا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے قوت کا ذریعہ بنادے، اور 

وُہ پسندیدہ رزق جو تُو نے مجھ سے روک رکھا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے ذریعہ فراغت بنادے۔ اسے امام ترمذی نے حضرت عبداﷲبن یزید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرکے حسن قرار دیا ہے۔(ت)
 ( ۱؎ جامع الترمذی         ابواب الدعوات         امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی         ۲ /۱۸۷)
امام حجۃ الاسلام بعد عبارتِ مذکورہ فرماتے ہیں:
المقصود اصلاح القلب لیتجرد لذکراﷲ، ورب شخص یشغلہ وجود المال ورب شخص یشغلہ عدمہ، والمحذورما یشغل عن اﷲعزوجل، والافالدنیا فی عینھا غیر محذورۃ لاوجودھا ولاعدمھا۔۲؎
مقصود تو دل کی اصلاح ہے تاکہ وہ ذکرِ الٰہی کے لیے خالی ہوجائے اور بہت سے لوگوں کو مال کا ہونا اﷲتعالیٰ سے غافل کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو مال کا نہ ہونا غافل کردیتا ہے، اور منع تو وُہ ہے جو اﷲ عزوجل سے غافل کردے ورنہ فی نفسہٖ دنیا کا وجود و عدم ممنوع نہیں۔ (ت)
 ( ۲؎ احیاء العلوم     کتاب التوحید والتوکل،احوال المتوکلین الخ مکتبہ و مبطبعۃ المشہدالحسینی قاہرہ        ۴ /۲۷۷)
دہم: اصحاب نفوس مطمئنہ ہوں،نہ عدم مال سے اُن کا دل پریشان نہ وجودِ مال سے ان کی نظر، وہ مختار ہیں۔ حق سبحانہ اپنے نبی سیّدنا سلیمان علیہ السلام سے فرماتا ہے:
ھذا عطآؤنافا منن اوامسک بغیر حساب۔۳؎
یہ ہماری عطا ہے اب تُو چاہے تو احسان کریا روک رکھ، تجھ پر کچھ حساب نہیں۔(ت)
 ( ۳؎القرآن ۳۸ /۳۹)
اور کچھ نہ کہنا کہ عباداﷲکا فائدہ ہے۔ احیاء کتاب الزکوٰۃ وظیفہ سادسہ مزکی میں ہے:
المال کلہ ﷲ عزوجل وبذل جمیعہ ھو الاحب عنداﷲ سبحٰنہ وانما لم یأمر بہ عبدہ لانہ یشق علیہ بسبب بخلہ
کما قال عزوجل ''فیحفکم تبخلوا''۔۱؎
تمام مال اﷲ عزوجل کے لیے ہے اور تمام کا تمام خرچ کردینا اﷲ سبحٰانہ  کے ہاں پسندیدہ عمل ہے باقی تمام کو خرچ کردینے کا اﷲ تعالیٰ نے اس لیے حکم نہیں دیا کہ بندے پر بخل کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا جیسا کہ باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم سے زیادہ طلب کرے تو تم بخل کرو گے۔(ت)
 (۱؎احیاء العلوم     کتاب اسرار الزکوٰۃ ، بیان دقائق الآداب الباطنہ الخ مکتبہ ومطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/۲۱۸،    القرآن ۴۷/۳۷)
Flag Counter