دوم: فقر و توکّل ظاہر کرکے صدقات لینے والا اگر یہ حالت مستمر رکھنا چاہے تو اُن صدقات میں سے کچھ جمع کر رکھنا
اُسے ناجائز ہوگا کہ یہ دھوکا ہوگا اور اب جو صدقہ لے گا حرام و خبیث ہوگا، انہی دونوں باب سے ہیں وہ احادیث جن میں ایک اشرفی ترکہ چھوڑے والے کو ایک داغ فرمایا، دوپردو، تین پر تین یعنی فی اشرفی ایک داغ دیا جائیگا۔
فلا حمد والطبرانی عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ توفی رجل من اھل الصفۃ فوجد فی مئزرہ دینار فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کیۃ ثم توفی اٰخرفو جد فی مئزرہ دیناران،فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کیتان ۱؎
امام احمد اور طبرانی نے حضرت ابو امامہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اصحابِ صفہ میں سے ایک فوت ہُوئے ان کے پلّے میں ایک دینار پایا گیا تو رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے ایک داغ ہے، دوسرا فوت ہوا اس کے دامن میں دو۲دینار تھے، رسول اﷲصلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ دو۲ داغ ہیں۔
(۱؎مسند احمد بن حنبل مروی از ابو امامہ دارالفکر بیروت ۵ /۲۵۳)
ولاحمد وابن حبان عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ قال توفی رجل من اھل الصفۃ فوجد وافی شملتہ دینارین فذکرواذٰلک للنبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فقال کیتان ۲؎
امام احمد اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا اصحابِ صفہ میں سے ایک فوت ہوئے ان کے شملہ میں دو۲ دینار پائے گئے تو لوگوں نے حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا: یہ دو۲داغ ہیں۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ ابن مسعود دارالفکر بیروت ۱ /۴۵۷)
ولھما وللبخاری من سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲتعالیٰ عنہ کنت جالسا عند النبی صلی اﷲتعالیٰ عنہ وسلم فاتی بجنازۃ فقال ھل ترک من شئی قالو انعم ثلثۃ دنانیر فقال باصبعہ ثلث کیات۔۳؎مختصراً
احمد، ابن حبان اور بخاری میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے کہ میں رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہُوا تھا جنازہ لایا گیا،آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟عرض کیا : ہا ں اس نے تین دراہم چھوڑے ہیں ۔ آپ نے مبارک انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:یہ تین داغ ہیں(ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازسلمہ بن اکوع دارالفکر بیروت ۴ /۴۷)
ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کا محل وُہ نہیں ہوسکتا جو آیہ کریمہ:
جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور اﷲکی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دیجئے کہ جس دن جنہم کی آ گ میں انھیں پگھلایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوؤں اور پیٹھیوں کو داغا جائے گا(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جسے تم اپنے لیے جمع کرتے تھے اب اپنے جمع کئے ہوئے کا عذاب چکھو۔(ت)
(۱؎القرآن ۹ /۳۴ و۳۵)
و حدیثِ صحیح:
من اوکی علی ذھب اوفضۃ ولم ینفقہ فی سبیل اﷲکان جمر ایوم القیامۃ یکوی بہ۔۲؎ رواہ احمد والطبرانی واللفظ لہ کلاھما بسند صحیح عن ابی ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم۔
جس نے سونا و چاندی جمع کیا اور اسے راہِ خدا میں خرچ نہ کیا وہ رو زِ قیامت اس کے لیے آگ کا انگارہ بن جائے گا اور اس سے مالک داغا جائے گا۔ اسے امام احمد اور طبرانی (الفاظ اسی کے ہیں) نے حضرت ابو ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے(ت)
کا محمل ہے کہ جب زکوٰۃ دے دے حقوق واجبہ شرعیہ اداکردے کنز نہ رہااور سبیل اﷲ میں خرچ نہ کرنا صادق نہ آیا لہذااستحقاقِ داغ نہ رہا،
فالبیھقی فی سننہ ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما موقوفا ومرفوعا الی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کلما ادی زکوٰۃ فلیس بکنز وان کان مدفوناتحت الارض وکلما لا تؤدی زکوٰتہ فھو کنز وان کان ظاہرا۳؎
بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے موقوفاً اور مرفوعاً نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے بیان کیا، ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز نہیں کہلاتا اگر چہ وہ زمین میں مدفون ہو اور ہر مال جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو وُہ کنز ہے اگر چہ ظاہر ہو،
ولابی داؤد عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما قال لما نزلت ھذہ الاٰیۃ و الذین یکنزون الذہب والفضۃ کبُرذٰلک علی المسکین فقال عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ اناافرج عنکم فانطلق فقال یا نبی اﷲ انہ کبر علی اصحابک ھذہ الاٰیۃ فقال ان اﷲلم یفرض الزکوٰۃ الا لیطیب مابقی من اموالکم وانما فرض المواریث لتکون لمن بعد کم قال فکبر عمر رضی اﷲعنہ۔۱؎
ابو داؤد میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیہ کریمہ والذین یکنزون الذہب والفضۃ نازل ہُوئی تومسلمان پریشان ہوئے، حضرت عمر رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ نے کہا میں تمھاری یہ پریشانی دُور کرتاہُوں، حضور کی خدمت میں حاضر ہُوئے اور عرض کیا : یا نبی اﷲ!اس آیہ مبارکہ نے آپ کے اصحاب کو پریشان کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اﷲتعالیٰ نے زکوٰۃ فقط اسی لیے فرض فرمائی تاکہ تمھارا باقی مال پاک ہوجائے اور وراثت اس لیے فرض کی ہے تاکہ بعد کےلوگوں کو مال ملے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اﷲکی بڑائی بیان کی۔(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب حقوق المال آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۴)
اور یہ اس لیے کہ بیس دینار سے کم پر نہ زکوٰۃ ہے نہ کوئی صدقہ واجبہ۔ لاجرم یہاں استحقاقِ داغ انہی دو۲ وجہ سے ایک پر ہو،
قال اﷲتعالیٰ و اوفو بالعھد ان العھد کان مسؤلا۔۲؎
اﷲتعالیٰ کافرمان ہے: عہد پُورا کرو عہد کے بارے میں پُوچھا جائے گا۔(ت)
قوت القلوب اور ترغیب وغیرہ میں ہے یہ داغ اس لیے ہے کہ ذخیرہ کرنے کے ساتھ اس نے ظاہراً فقر کا اظہار کیا اور وہ صدقات میں فقراء کے ساتھ شریک ہوگیا۔(ت)
( ۳؎ الترغیب والترھیب کتاب الصدقات الترغیب فی الانفاق فی وجوہ الخیر الخ مصطفی البابی مصر ۲ /۵۸)
یہ اُسی تقدیر پر ہے کہ داغ سے مراد عیاذاً باﷲ آتشِ دوزخ میں تپاکر داغ دینا ہو، اور اگر اس سے دھبہ مراد ہویعنی اس کے جمال و نورانیت میں وہ ایسے معلوم ہوں گے جیسے چہرہ پرچیچک وغیرہ کا داغ ، اور جن موردوں کے بارے میں یہ حدیثیں آئیں وہاں بلاشُبہ یہی معنی دوم انسب و اقرب ہیں تو وہ ان دونوں قسموں سے الگ ہیں، امام حجۃ الاسلام نے احیاء میں بعد ذکرِ وجہِ اول فرمایا:
الثانی ان لایکون ذٰلک عن تلبیس، فیکون المعنی بہ النقصان عن درجتہ فی الاٰخرۃ اذلا یؤتی احد من الدنیا شیأ الانقص بقدرہ من الاٰخرۃ۱؎(ملخصا)
دوسرا یہ کہ دھوکا کی بنا پر نہ ہو، اب معنٰی یہ ہوگا کہ آخرت کے درجات میں کمی ہوجائے گی کیونکہ دنیا میں جس کو بھی کچھ دیا گیاہے اس کے عوض آخرت میں کمی ہوجائے گی(ملخصاً)(ت)
( ۱؎احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۴ /۲۷۸)
صحابہ کرام رضی ا ﷲتعالیٰ عنہم کے مقام کے یہی وجہ مناسب ہے ، جیساکہ مخفی نہیں۔(ت)
( ۲؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار دارالفکر بیروت ۹ /۵۰۵)
سوم: جسے اپنی حالت معلوم ہو کہ حاجت سے زائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نفس اُسے طغیان و عصیان پر حامل ہوتا ، یاکسی معصیت کی عادت پڑی ہے اس میں خرچ کرتا ہے تو اس پر معصیت سے بچنا فرض ہے اور جب اُس کا یہی طریقہ معین ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمدنی کو مصارفِ خیر میں صرف کر دینا لازم ہوگا،
وذٰلک لان فقد ان الاٰلۃ احد العصمتین وما تعین طریقا لواجب وجب۔
یہ اس لیے کہ ذریعہ کا مفقود ہوجانا بھی عصمت کی ایک صورت ہے اور جو شئی کسی واجب کا ذریعہ بن رہی ہو وہ بھی واجب ہوجاتی ہے۔(ت)