مسئلہ ۱۵۵: مرسلہ مظفر علی ساکن قصبہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی محلہ سید باڑہ۱۶ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰ھ
میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور فاتحہ اولیاء اﷲ کی شیرینی کھانا اور شربت محرّم کا پینا درست ہے یا نہیں اور ان کا حرام جاننے والا اور مثل زکوٰۃ کے مال کے، بجز مساکین اور سب کے واسطے، حرام قطعی بتانے والا حنفی مقلد ہے یا نہیں ؟ اور ایسا شخص حنفی مقلد اشخاص میں قابلِ امامت ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب :اشیاء مذکورہ سے کوئی چیز نہ زکوٰۃ ہے نہ صدقہ واجبہ، اس کا کھاناغنی، فقیر، سیّد وغیرہ سب کو بالاتفاق حلال ہے، اُسے سوائے مساکین اوروں پر حرام بتانے والا،اﷲعزوجل پر افتراء کرتا ہے اور سخت عذاب شدید کا مستحق ہے، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ولا تقولوالما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفترواعلی اﷲالکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لا یفلحون متاع قلیل ولھم عذاب الیم۔ ۱؎
اور نہ کہو اپنی زبانی جھوٹ بناوٹوں سے کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام کہ اﷲپر جھوٹ باندھو بیشک جو اﷲ پر جُھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا میں تھوڑا سا کھاپہن لیں پھر آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(۱؎ القرآن ۱۶ /۱۱۶ و ۱۱۷)
فتاوٰی عتابیہ پھر نہایہ شرح ہدایہ پھر سعدی آفندی علی العنایہ میں ہے:
ہر نفلی صدقہ بالاتفاق ہاشمی کے لیے جائز ہے اور اسی طرح نفلی صدقہ غنی کے لیے بھی جائز ہے۔ (ت)
( ۲؎ حاشیۃ سعدی آفندی علی العنایہ مع فتح القدیر باب یجوز دفع الصدقۃ الیہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۱۱)
درمختار میں ہے:
جازت التطوعات من الصدقات و غلۃ الاوقاف لھم۔۳؎
نفلی صدقات اور غلہ اوقاف ان (اغنیاء) کے لیے جائز ہے ۔(ت)
( ۳؎ درمختار باب لمصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۱)
ذخیرہ پھر ردالمحتار میں ہے:
ان فی التصدیق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر۔۴؎
غنی پر صدقہ کی صورت میں وہ قربت ہوتی ہے جو فقیر پر صدقہ سے کم ہے۔(ت)
( ۴؎ ردالمحتار ،کتاب الوقف، داراحیاء التراث العربی بیروت، ۳ /۳۵۷)
معہذاان اشیاء میں تصدق کی نیّت نہیں ہوتی بلکہ عام حاضرین پر ہدیہ تقسیم اور ہدیہ یقینامطلقا سب کے لیے جائز
اور زمانہ رسالت سے علی العموم بلا تخصیص مساکین رائج ہے، ایسا شخص کہ صراحۃً اﷲ و رسول پر افتراء کرتا ہے اور حلالِ خدا کو حرام بتاتا ہے، اگر جاہل بے علم ہے اور اپنے قولِ باطل پر مُصِر ہے تو دو۲ وجہ سے فاسق ہے:
اولا حلال کو حرام کرنا، دوسرے بے علم فتویٰ دینا، حلال حرام میں زبان کھولنا۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔۱ رواہ البخاری واحمد ومسلم والتر مذی و ابن ماجۃ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما ۔
بے علم کہ شرعی حکم لگا بیٹھے تو آ پ بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ( اسے امام بخاری ،احمد ،مسلم،ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کیا ہے ۔ت)
( ۱؎صحیح البخاری ، کتاب العلم،باب کیف یقبض العلم ،قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱ /۲۰)
من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء و الارض۔۲؎ رواہ ابن عساکر عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
جو بغیر علم کے کوئی حکمِ شرعی بتائے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں(اسے ابن عساکر نے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲتعالےٰ وجہہ سے روایت کیا۔ت)
( ۲؎کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ،عن علی کرم اﷲوجہہ حدیث ۲۹۰۱۸،مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،۱۰ /۱۹۳)
اور فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے :
کما فی الحجۃ والغنیۃ والتبیین والطحطاوی علی المراقی وغیرھا وقد حققنا فی النھی الاکید۔
جیسا کہ حجہ، غنیہ، تبیین اور طحطاوی علی المراقی وغیرہ میں ہے اور ہم نے اپنے رسالہ ''النہی الاکید'' میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔(ت)
اور اگر ذی علم ہے تو اُس کا حکم اور سخت تر ہے کہ وہ دانستہ اﷲ عزو جل پر افتراء کرتا ہے اور اﷲ عزو جل فرماتاہے:
انما یفتر الکذب الذین لایؤمنون۔۳؎
جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
(۳؎ القرآن ۱۶ /۱۰۵)
اور اس کے غیر مقلد ہونے میں شک نہیں وُہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی کہ کسی مذہب میں ہدیہ تقسیم اغنیاء پرحرام نہیں، ہاں وہ شیطان کا مقلد ہے، جس نے صحابہ کرام کے زمانہ سے اس وقت تک تمام مسلمانوں کو مرتکب حرام واکل حرام، بنانے کا ناپاک وسوسہ اُس کے بے باک دل میں ڈالا،اور غیر مقلد کے پیچھے نماز حرام، بلکہ محض باطل ہے
کما حققناہ فی کتابنا المذکور
(جیسا ہم نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) فتح القدیر میں ہے:
مسئلہ ۱۵۶ : ازکلکتہ کولھوٹولہ ۔اسٹریٹ نمبر ۶۵ مرسلہ حاجی محمد لعل خاں صاحب ،۰ربیع الاول۱۳۳۱ھ
قبلہ وکعبہ حضرت مولائی مرشدی مدظلہ العالی تمنائے قدم بوسی کے بعد مؤد بانہ گزارش ہے کہ ایک شخص اہل و عیال رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بلا افراط وتفریط اپنے بال بچّوں پر خرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئند ہ کو اہل وعیال کے واسطے کچھ نہیں رکھتا ،دوسری اپنی آمدنی سے بچوں پر ایک حصہ خرچ کرکے دوسرا حصہ خیرات کرتا اور تیسرا حصّہ آئندہ انکی ضرورتوں میں کام آنے کی غرض سے رکھ چھوڑنے کو اچھا جانتا ہے،ان دونوں میں افضل کون ہے؟بینو اتوجروا
الجواب:حُسنِ نیّت سے دونوں صورتیں محمود ہیں، اور باختلافِ احوال ہر ایک افضل ، کبھی واجب، ولہذا اس بارہ میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سلف صالح کا عمل بھی مختلف رہا۔
اقول:وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالیٰ سے ہے۔ت)اس میں قول موجز و جامع اِن شاء اﷲتعالیٰ یہ ہے کہ آدمی دو قسم ہیں منفرد کہ تنہا ہو اور معیل کہ عیال رکھتا ہو، سوال اگر چہ معیل سے متعلق ہے مگر ہر معیل اپنے حق نفس میں منفرد اور اس پر اپنے نفس کے لحاظ سے وہی احکام ہیں جو منفرد پر ہیں،لہذا دونوں کے احکام سے بحث درکار۔
اوّل:وُہ اہلِ انقطاع و تبتل الی اﷲاصحابِ تجرید وتفرید جنھوں نے اپنے رب سے کچھ نہ رکھنے کا عہد باندھا ان پر اپنے عہد کے سبب ترک ادخارلازم ہوتا ہے اگر بچارکھیں تو نقضِ عہد ہے اور بعد عہد پھر جمع کرنا ضرور ضعفِ یقین سے ناشئی یا اُس کا موہم ہوگا، ایسے اگر کچھ بھی ذخیرہ کریں مستحقِ عقاب ہوں،حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ
علیہ وسلم نے بلال رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے پاس کچھ خُرمے جمع دیکھے، فرمایا : یہ کیا ہے؟ عرض کی:شئی ادخرتہ لغدمیں نے آئندہ کے لیے جمع کر رکھے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے:اعد ذٰلک لا ضیافک حضور کے مہمانوں کے خیال سے انھیں رکھا ہے۔ فرمایا:
اما تخشی ان یکون لک دخان فی نار جھنم انفق یا بلال ولا تخشی من ذوی العرش اقلا لا۔۱؎ رواہ البزار بسند حسن و الطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود و ابو یعلی والطبرانی فی الکبیر والاوسط بسند حسن والبیہقی فی شعب الایمان واللفظ الاول لہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہما۔
کیا ڈرتا نہیں کہ تیرے آتش دوزخ کا دُھواں ہو، اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کرو۔ اسے بزار نے سند حسن سے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن مسعود رضی اﷲعنہ سے، ابویعلیٰ اور طبرانی نے المعجم الکبیر اور اوسط میں سند حسن سے، اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے پہلے الفاظ اسی کے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہیں۔(ت)
( ۱؎ شعب الایمان باب فی الزکوٰۃ حدیث ۳۳۳۸ دارلکتب العلمیہ بیروت ،۳ /۲۰۹
(المعجم الکبیر،روی از بلال رضی اﷲتعالیٰ عنہ حدیث ۱۰۲۰،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ،۱ /۳۴۰)
(جمع الزوائد ،بحوالہ البزار باب فی الانفاق والامساکِ دارالکتاب العربی بیروت،۱۰ /۲۴۱)
ایک بار انہی بلال رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے فرمایا:'' اے بلال! فقیر مرنا اور غنی ہو کرنہ مرنا''۔ عرض کی:اس کی کیا سبیل ہے؟ فرمایا: جو ملے نہ چھپانا اور جو مانگا جائے منع نہ کرنا(ظاہر ہےکہ جب نہ مال چھپانا ہونہ کسی کا سوال رَد کیا جائے تو سائلین کسی وقت بھی کچھ پاس نہ چھوڑیں گے) عرض کی: ایسا کیونکر کروں؟ فرمایا:
یا تو یونہی کر نا ہوگا یا آگ۔ (اﷲتعالیٰ کے دامنِ رحمت میں پناہ لیتا ہُوں۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں، ابو شیخ نے الثواب میں اور حاکم نے المستدرک میں حضرت بلال رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)