Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
63 - 198
صدقات نفل کا بیان
مسئلہ ۱۵۳ : از سرکار مارہرہ مطہرہ از درگاہ مسکین پناہ مسئولہ حضرت سیّد شاہ حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم ۱۰شعبان ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب بغرض ثواب ا پنے جائز روپے سے ماہواری یا سالانہ کھانا پکواکر فاتحہ حضور  پُر نور سرورِ عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں اور کھانا مساکین و غیر مساکین کو کھلا دیتے ہیں یا تقسیم کردیتے ہیں ایک طالبعلم حنفی قادری سنّی سیّد کہ جس کی تعلیم دینی بوجہ نہ استطاعت ہونے کے اُس کے ولی کے غیرمکمل رہی جاتی ہو اور علومِ دینی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اُس طالب علم آلِ مصطفیٰ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے بد عقیدہ ہوجانے کا اندیشہ ہواس صورت میں اگر وہ روپیہ کو جو فاتحہ میں صرف کیا جاتا ہے اگر اس طالب علم کے تعلیم دینی میں بہ نیتِ ثواب فاتحہ حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم صرف کردیا جائے تو بدل اُس فاتحہ سالانہ یا ماہواری کا ہوکر باعثِ خوشنودی سردارِ دو عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ہوگا یا نہیں اور ثواب میں کمی تو نہ ہوگی؟
الجواب :یہ اُس کا نعم البدل ہوگا اور ثواب میں کمی کیا معنی، اُس سے ستّر گُنا ثواب کی زیادہ اُمید ہے بطور مذکور کھانا پکاکر کھلانے یا بانٹنے میں ایک کے دس ہیں ۔
قال اﷲتعالیٰ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثلھا۔۱؎
اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے جو نیکی بجالاتا ہے اس کے لئے اس کی دس مثل ہیں۔(ت)اور طالبِ علمِ دین کی اعانت میں کم سے کم ایک کے سات سو۔
( ۱؎القرآن ۶ /۱۶۱)
قال اﷲتعالیٰ مثل الذی ینفقون اموالھم فی سبیل اﷲکمثل حبّۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ واﷲیضعف لمن یشاء ط واﷲ واسع علیم۔۱؎
اﷲتعالیٰ کا فرمان عالی ہے:انکی کہاوت جو اپنے مال اﷲکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اگائیں سات بالیاں، ہر بالی میں سودانے، اور اﷲاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے،اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن ۲ /۲۶۱)
درمختار میں ہے :
فی سبیل اﷲھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم خصوصا۔۲؎
فی سبیل اﷲسے مراد وُہ غازی ہیں جن کے پاس خرچہ و اسلحہ نہ ہو، بعض نے کہا حاجی،اور بعض نے کہا اس سے خصوصاً طلبہ علم مراد ہیں(ت)
 ( ۲؎ درمختار         باب المصرف         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۰)
جبکہ اس میں حفظِ ہدایت ہو، صحیح حدیث ہے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان یھدی اﷲبک رجلا خیر لک مما طلعت علیک شمس و غربت۔۳؎ واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تیری وجہ سے کسی ایک کا ہدایت پاجانا ہر اس شئی سے بہتر ہے جس پر طلوعِ آفتاب ہو۔(ت)
واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
 (۳؎الجامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث ۷۲۱۹    دارالمعرفۃبیروت        ۵ /۲۵۹)

(اتحاف السادۃ المتقین         بیان ترک الطاعات خوفاًمن الریاء     دارالفکر بیروت    ۸ /۳۲۰)
مسئلہ۱۵۴ : از رامپور چاہ شو    مرسلہ مولوی عبدالصمد صاحب     ۱۸محرم ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ جو لوگ تندرست و توانگر کھاتے پیتے ہیں انھوں نے اپنا پیشہ گدائی اور فقیری اور محتاجگی کا مقرر کیا ہے اور دربدر شہر بہ شہر  بھیک مانگتے سوال کرتے پھرتے ہیں اور ہرگز محنت مزدو ری نہیں کرتے اگر چہ مالدار آسودہ حال ہیں ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا اور سوال کرنا حلال ہے یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو دینا بھی بوجہ اعانت علی الحرمۃ، حرام اور ممنوع ہے یا نہیں، جبکہ مسجد میں سوال اور اس عطا کو کتبِ فقہ میں حرام و مکروہ فرمایا گیا ہے۔چنانچہ درمختار میں مرقوم ہے:
ویحرم فیہ السوال ویکرہ الاعطاء۴ ؎
 (مسجد میں مانگنا حرام اور دینا مکروہ ہے۔ت)
بینوابالکتاب وتوجروابیوم الحساب
 (کتاب سے بیان کرو اور یومِ حساب اجر پاؤ۔ت)
 (۴؎درمختار         باب مایفسد الصّلٰوۃ الخ         مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۹۳)
الجواب:جو اپنی ضروریات شرعیہ کے لائق مال رکھتا ہے یا اس کے کسب پر قادر ہے اُسے سوال حرام ہے اور جو اس مال سے آگاہ ہو اُسے دینا حرام، اور لینے اور دینے والا دونوں گنہگار و مبتلائے آثام۔ صحاح میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فر ماتے ہیں:
لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سوی۔۱؎ رواہ الائمۃ احمد والدارمی والاربعۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
  صدقہ حلال نہیں ہے کسی غنی کے لیے، نہ کسی تندرست کے لیے( اسے امام احمد، دارمی اور چاروں ائمہ نے حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)
 ( ۱؎سنن الدارمی نمبر۱۵ باب من تحل لہ الصدقۃ     نشر السنۃ ملتان    ۱ /۳۲۵)

(جامع الترمذی     ابواب الزکوٰۃ      امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱ /۸۳)
نیز صحاح میں ہے رسول اﷲصلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سأل الناس ولہ مایغنیہ جاء یوم القیامۃ ومسئلتہ فی وجہہ خموش۔۲؎ رواہ الدارمی والا ربعۃ عن ابن مسعودرضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
جولوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس وہ شئے ہو جو اُسے بے نیاز کرتی ہو روزِ قیامت اس حال پر آئیگا کہ اُس کا وہ سوال اس کے چہرہ پر خراش و زخم ہو ( اسے دارمی اور چاروں ائمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ جامع سنن الدارمی نمبر۱۵ باب من تحل لہ الصدقۃ    نشرالسنۃ ملتان    ۱ /۳۲۵)

(جامع الترمذی     ابواب الزکوٰۃ      امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ا /۸۲)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:
من سأل الناس اموالھم تکثر افانما یسأل جمرجھنم فلیستقل منہ او یستکثر۔۳؎ رواہ احمد ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
جو اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے اُن کے مال کا سوال کرتا ہے وہ جہنّم کی آ گ کا ٹکڑا مانگتا ہے، اب چاہے تھوڑی لے یا بہت۔(اسے امام احمد، مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۳؎مسند احمد بن حنبل     مروی از ابو ہریرہ رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت    ۲ /۲۳۱)

(صحیح مسلم         کتاب الزکوٰۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۳۳)

(سنن ابن ماجہ         باب من سأ ل عن ظہر غنی     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص ۱۳۳)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:
من سأل من غیر فقر فانما یا کل الجمر۔۱؎ رواہ احمد وابن خزیمۃ وایضافی المختارۃ عن حبشی بن جنادۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ بسند صحیح۔
جو بے حاجت وضرورتِ شرعیہ سوال کرے وہ جہنم کی آگ کھاتا ہے (اسے امام احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور المختارہ میں حضرت حبشی بن جنادہ رضی اﷲعنہ سے صحیح سندکے ساتھ مروی ہے ۔ت)
 ( ۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث حبشی بن جنادۃ السلولی رضی اﷲعنہ         دارالفکر بیروت         ۴ /۱۶۵ ,صحیح ابن خزیمہ نمبر۴۱۲ باب التغلیظ فی مسئلۃ الغنی من الصدقۃ حدیث ۲۴۴۶ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۱۰۰)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
لایحل ان یسئل من لہ قوت یومہ بالفعل او بالقوۃ کالصحیح المکتسب ویا ثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم اھ۔۲؎
جس شخص کے پاس عملاً ایک دن کی روزی موجود ہو یا وہ روزی کمانے کی صحیح طاقت رکھتا ہو (یعنی وہ تندرست و توانا ہوتو) اس کے لیے روزی کا سوال جائز نہیں، اس کے حال سے آگاہ شخص اگر اسے کچھ دے گا تو وہ گنہ گار ہوگا کیونکہ وہ حرام پر اس کی مدد کررہا ہے اھ(ت)
 ( ۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار         باب المصرف         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۲)
وتمام الکلام فی ھذاالمقام مع دفع الاوھام فی فتاوٰنا وقد ذکر ناشیأ منہ فیما علقنا علی ردالمحتار واﷲتعالیٰ یقول جل مجدہ ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان، واﷲتعالیٰ اعلم۔
اور اس پر ایسی تفصیلی گفتگو جس سے تمام اوہام کا رد ہوجائے ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے اور اس میں کچھ ردالمحتار کے حاشیہ میں بھی ذکر کی ہے اور اﷲتعالیٰ سبحانہ کا مبارک فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
Flag Counter