مسئلہ۱۴۷تا۱۴۹: از یہان پورہ مکہر اسٹیٹ مسئولہ مرتضٰی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس آفس ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں عید الفطر کے خطبہ میں فطرہ فی کس ایک سیر ساڑھے گیارہ آنے بھر مبلغ ایک سو پانچ روپیہ بھر کے حساب سے دینا بتایا، کیا یہ صحیح ہے؟ (۲)صاع کتنے سیر کا، سیرکتنے روپیہ بھر، روپیہ کتنے ماشے کا، اور کون روپیہ شرع سے، اس میں کیا حکم ہے؟ (۳)خطبہ علمی میں نصف صاع یعنی دوسیر جس کا وزن بریلی کے سیر سے ایک سیر نو چھٹانک سے کچھ بتایا کیا یہ صحیح ہے؟ رائج الوقت سیر سے فطرہ فی کس کتنادینا چاہئے؟
الجواب :(۱)خالد کا یہ قول محض غلط ہے گیہوں صدقۃ الفطر ایک سوچوالیس ما للعہ للعہ روپیہ بھر ہے اور زیادہ احتیاط اٹھنی اوپر ایک سو پچھتّر ما ؎ ہعہ روپے بھر،
کما بیّناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے۔ت) ایک سو پانچ روپے ساڑھے گیارہ آنے بھر سے کسی طرح صدقہ ادانہیں ہو سکتا۔
(۲)سیر مختلف ہوتے ہیں، صاع کا حساب ہر جگہ کے سیر سے بدلے گا، صاع اس انگریزی روپیہ رائج الوقت سے دو سو اٹھاسی روپے بھر ہے، اور تولوں سے دوسو ستّرتولے۔ یہ روپیہ سواگیارہ ماشہ بھرہے۔
(۳)گیہوں کا فطرہ انگریزی روپے سے ایک سوچوالیس روپے بھر ہے جو بریلی کے سیر سے کہ سو۱۰۰ روپیہ بھر کا ہے چھٹانک کم ڈیڑھ سیر ہوا سیر کا پانچواں حصّہ کم۔ حساب صحیح و منقح یہ ہے، زیادہ احتیاط وہ ہے جو اوپر گزری کہ گیہوں بریلی کے سیر سے پونے دوسیر دیں اٹھنی بھر اوپر، اور اسی۸۰ کے سیر سے تین چھٹانک دوسیر دس اٹھنی بھر اوپر۔ واﷲتعالیٰ اعلم
سوال کسے جائز ہے کسے ناجائز
مسئلہ ۱۵۰: از مولوی محمد اسمٰعیل محمود آبادی ۷ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
اس ملک میں رواج ہے کہ بعد نماز قبل فاتحہ اخیرہ کے ایک شخص اُٹھ کر مسافروں مسکینوں کے واسطے مسجد کے اندر مقتدیوں میں چندہ کرتاہے، بعد ہوجانے کے فاتحہ پڑھی جاتی ہے بعدہ جو کچھ رقم بذریعہ چندہ جمع ہوتی ہے اس کو مسافروں اور مسکینوں میں تقسیم کردیتے ہیں، آیا یہ امر اس طرح مسجد کے اندر جائز ہے؟
الجواب :جائز ہے جبکہ وُہ چندہ کرنے والا خود اسمیں سے نہ لیتا ہو، بلکہ مسجد میں مسکین کے لیے اس طرح چندہ کرنا خود سنّت سے ثابت ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۵۱ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ جو صحیح و سالم جو ان تندرست ہیں مگر بوجہ آرام طلبی کے طلبِ معاش کی محنت سے جی چُرا کر سوال کو کہ بظاہر آسان ہے پیشہ اپنا مقرر کیا ہے، چنانچہ بعض نے تو چند کتابیں فارسی اردو وغیرہ کی دیکھ کر وعظ گوئی اختیار کی ہے اور دوسرے وطنوں میں جاکر اسی کے ذریعہ سے سوال کرتے ہیں اور بعض مشائخین کی شکل بنا کر کماتے ہیں اور بعضے مسافربن کر مسجدوں میں ٹھہرتے ہیں اور اقسام اقسام کی حاجتیں ظاہر کرکے سوال کرتے ہیں اور بہ سبب کثرت اور رواج اس قسم کے لوگوں کی جو کوئی محتاج سچی حالت والا مسکین اور مسافر مصیبت زدہ ہوتا ہے، اس کی تصدیق اور شناخت بھی کم ہوتی ہے، علاوہ سوال کرنے کے یہ بھی ہوتا ہے کہ جس شہر یا محلہ میں پہنچے ہیں وہاں کے باشندوں سے وہاں کے لوگوں کا حال معلوم کرکے جس کسی کو اہلِ شہر یا محلہ سے ذی و جاہت معلوم کرتے ہیں اس کو جاگھیرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے تم اپنے محلہ یا شہر سے آگاہ کرادو بعض لوگ ان کی باتوں میں آکر ان کی طرف سے لوگوں سے مانگ مانگ کر ان کے واسطے کچھ فراہم کرادیتے ہیں، ایسا شخص جو ایسے لوگوں کے واسطے کوشش کرکے کچھ دلوادے تو بمقتضائے اس حدیث شریف کے
الدال علی الخیرکفاعلہ۱؎
( بھلائی پر رہنمائی کرنے والاا سے بجالانے والے کی طرح ہوتا ہے۔ت) ثواب پائےگا اور یہ فعل اس کا موجب اجر ہوگایا بحکم
(گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ت)کے سوال حرام کے معاونت کا مرتکب ہوگا اور ایسے لوگوں کو دینے والا بھی ثواب پائے گا یا نہیں یا گنہگار ہوگا۔بینواتوجروا
( ۲؎ القرآن ۵ /۲)
الجواب :بے ضرورتِ شرعی سوال کرنا حرام ہے، اور جن لوگوں نے باوجود قدرت کسب بلاضرورت سوال کرنا اپنا پیشہ کرلیا ہے وہ جو کچھ اس سے جمع کرتے ہیں سب ناپاک و خبیث ہے اور ان کا یہ حال جان کر اُن کے سوال پر کچھ دینا داخل ثواب نہیں بلکہ ناجائز وگناہ، اور گناہ میں مدد کرنا ہے۔ اور جب انھیں دینا نا جائز تو دلانے والا بھی دال علی الخیر نہیں بلکہ دال علی الشر ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل فقیر غفراﷲتعالیٰ نے اپنے مجموعہ فتاوٰی میں ذکر کی، لیکن اگر بے سوال کوئی کچھ دے جیسے لوگ علماء و مشائخ کی خدمت کرتے ہیں تو اس کے لے لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ نیت نیک ہوتو دینے اور لینے والے دونوں داخلِ ثواب ہیں خصوصاً جبکہ لینے والا حاجت رکھتا ہو، سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲعنہ کو کچھ عطا بھیجی اُنھوں نے واپس حاضر کی کہ حضور نے ہمیں حکم دیا تھا کہ کسی سے کچھ نہ لینے میں بھلائی ہے، فرما یا یہ بحالتِ سوال ہے اور جوبے سوال آئے وُہ تو ایک رزق ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نے تجھے بھیجا، امیر المومنین نے عرض کی واﷲ اب کسی سے کچھ سوال نہ کروں گا اور بے سوال جو چیز آئے گی لے لُوں گا،۳؎
(۳صیحح البخاری باب من اعطا ہ اللہ شیئا من غیر مسئلۃ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹ )
(صحیح مسلم باب جواز الاخذ بغیر سوال الخ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۴)
(مسند احمد بن حنبل مروی از عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۱ /۴۰،۷۱
(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب البیوع والاقضیہ حدیث ۲۰۱۶ ادارہ علوم القرآن والعلوم الاسلامیہ ۶ /۵۵۲)
رواہ مالک فی الموطا اصل الحدیث عند الشیخین من حدیث ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما وفی الباب عن ام المومنین الصدیقۃ عند احمد و البیھقی وعن واصل بن الخطاب عند ابی یعلی وعن خالد بن عدی الجھنی عند احمد وابی یعلی والطبرانی وابن حبان والحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ عند الامام احمد وعن عائذ بن عمر رضی اﷲتعالی عنھم عنداحمد والطبرانی والبیھقی وھذا کلھا احادیث قویۃ باسانید جیاد۔
اسے موطا میں امام مالک نے روایت کیا ہے اور اصل حدیث بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے، اور اس بارے میں امام احمد اور بیہقی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے، ابویعلی نے حضرت واصل بن خطاب سے، امام احمد، ابویعلی، طبرانی، ابن حبان اور حاکم نے ۤحضرت خالد بن عدی الجہنی سے، امام احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے، امام احمد، طبرانی اور بیہقی نے حضرت عائذ بن عمر رضی اﷲتعالےٰ عنہم سے روایت کیا ہے، اور یہ تمام احادیث جیّد اسناد کی وجہ سے قوی ہیں۔(ت)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماالمعطی من سعۃ بافضل من الاٰخذ اذا کان محتاجا۔۱؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما وشاہدہ عندہ فی الاوسط کابن حبان فی الضعفاء من حدیث انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔واﷲتعالیٰ اعلم۔
تونگری سے دینے والا کچھ لینے والے سے افضل نہیں جبکہ وہ حاجت رکھتا ہو(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما سے روایت کیا اور اوسط میں ان کے ہاں اس کا شاہد بھی ہے جیسا کہ ابن حبان نے الضعفاء میں حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کی ہے۔ت)واﷲتعالیٰ اعلم۔
(۱؎المعجم الکبیر مروی از عبداﷲبن عمر رضی اﷲعنہما المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ /۴۲۳)
مسئلہ۱۵۲: از پکھریرا محلہ نورالحلیم شاہ شریف آباد رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ۳شعبان ۱۳۳۶ھ
زید مالدارچھ سات ہزار روپے یا کچھ کم و بیش کی زمین رکھتا ہے اور اس کو پانچ چھ سو روپیہ قرض ہے آیا وُہ زمین بیچ کر ادا کرے یا بھیک مانگ کر، شرعاًاس کو اس غرض سے بھیک مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :اگر اس کا ذریعہ رزق اس زمین کے سوا کچھ نہیں، نہ وُہ کسی کسب پر قادر ہے نہ اس زمین کا کوئی حصہ جدا کرکے باقی لائق کفایت بچے یا کوئی حصہ لینے پر راضی نہ ہو، غرض یہ کہ سوائے سوال جمیع اسباب بند ہوں تو بحکم ضرورت بقدرِضرورت سوال حلال،ورنہ حرام ،
فان الضرورۃ تبیع المحظو رات وما کان لضر ورۃ تقدرھا۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے اور ضرورت کے پیش نظر اتنی ہی مقدار جائز ہوگی(ت)واﷲتعالیٰ اعلم