Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
61 - 198
مسئلہ ۱۴۶: از ریاست کشمیر ضلع میرپور ڈاک خانہ نوشہرہ موضع پھڈہ     مرسلہ مولوی محمد عبداﷲصاحب ۴ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درمختار میں صاع۱۰۴۰درہم لکھا ہے اور اکثر کتب میں من ۱۸۰ مثقال کا ہے
وبقول معروف کل عشرۃ دراھم سبعۃمثاقیل
 (معروف قول کے مطابق ہردس دراہم کا وزن سات مثقال ہونا چاہئے۔ ت) ایک من ۱۸۲مثقال کا ہوتا ہے تو صاع میں آٹھ مثقال زیادہ آئے، اور ایسے ہی شیخ دہلوی نے شرح سفر السعادۃ و شرح مشکوٰۃ میں وزن صاع لکھا ہے قاعدہ مذکور سے پورا موافق نہیں آتا ہے،یہ تحقیق و تدقیق فرما کر جلد عنایت کیجئے۔
الجواب:صاع چارمن چالیس استار اور استار ساڑھے چار مثقال ساڑھے چار ماشے اور ماشہ آٹھ رتی، اور رتی آٹھ چاول، اور بارہ ماشے کا ایک تولہ، تو صاع دوسوستّر تولے ہے اور انگریزی روپیہ رائج سے کہ روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے، صاع دوسو اٹھاسی روپیہ بھر، اور من ایک سواسّی مثقال یعنی سڑسٹھ تولے چھ ماشے، یعنی بہتّر روپیہ بھر۔ یہ وزن محقق ہے جس میں اصلا شبہ نہیں، غرر الافکارشرح دررالبحار میں ہے:
الصاع اربعۃ امداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالاستار اربعون والاستار بالمثاقیل اربعۃ ونصف اھ ۱؎مختصرا۔
صاع چار مُد کا ہوتا ہے، اور مد دو رطل کا، رطل نصف من کا، من چالیس استار کا، اور استار ساڑھے چار مثقال کا ہوتا ہے اھ اختصاراً(ت)
 ( ۱؎ردالمحتار ،بحوالہ شرح دررالبحار، باب صدقۃ الفطر ،مصطفی البابی مصر ، ۲ /۸۳)
کشف الغطاء میں ہے:
بدانکہ معتبرنزد ماعراقی وآن ہشت رطل ست ورطل بست استار واستار چار و نیم مثقال و مثقال بست قیراط یک حبہ وچہار خمس حبہ وحبہ کہ آنرا بفارسی سُرخ گویند ہشتم حصّہ ماشہ است پس مثقال چہار و نیم ماشہ باشد۔ ۲؎
واضح رہے کہ ہمارے نزدیک معتبر عراقی(صاع) ہے اور وُہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے،ایک رطل بیس۲۰ استار اور استار ساڑھے چار مثقال، مثقال بیس۲۰قیراط ایک حبہ اور چہارخمس حبہ ہے۔ حبہ جسے فارسی میں ''سُرخ'' کہتے ہیں ماشہ کا آٹھواں حصّہ ہوتا ہے، پس مثقال ساڑھے چار ماشہ ہوا۔(ت)
 ( ۲؎کشف الغطاء     فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان ازاعمال خیر برائے میّت         مطبع احمدی، دہلی        ص ۶۸)
حضرت شیخ محقق دہلوی قدس سرہ القوی کا بیان اصلاً اس سے مخالف نہیں، مثقالوں کا یہی حساب رکھا ہے کہ سات سوبیس۷۲۰ مثقال کا صاع اکبری وجہانگیری سیروں سے اس کا اندازہ بتایا ہے، اکبری سیر تیس۳۰ استار کا تھا اور صاع ایک سوساٹھ استار، تو صاع ۱۶۰÷۳۰= ۵-۱/۳ سیر اکبری ہوا، اور سیر جہانگیری۳۶ استار، تو صاع ۱۶۰÷۳۰=۴-۹/۴ سیر جہانگیری ہوا۔ شرح صراطِ مستقیم فصل زکوٰۃ فطر میں فرماتے ہیں :
صاع عراقی ہشت رطل وصاع حجازی پنج رطل وثلث رطل وواجب نزد شافعی صاع حجازی ست ونزد ما نصف صاع عراقی وآن دومن ست و من چہار استار و استار چہارونیم مثقال ۔ پس من صد و ہشتادمثقال بود کذا قال شارح الوقایۃ وازکتب دیگر نیز ہمچنیں معلوم می گردد وچوں ایں حساب را بوزن دیارخود کار فرمائیم نصف صاع بوزن اکبر شاہی کہ سیرے سی سیرشاہی بود دو ونیم سیری می شود وپنج سیر شاہی، وبوزن حال جہانگیر شاہی ابد اﷲ ملکہ وسلطنۃ کہ سیرے سی وشش سیر شاہی بود دو سیر یک پاؤمی شود بیک سیر شاہی کم،بایں حساب کہ صاع ہفت صد وبست مثقال ست ازانکہ صاع چہارمن ست ومن چہل استار واستار چہار و نیم مثقال ، پس ہر من صد و ہشتاد مثقال ست لازم آید کہ نصف صاع ہشتاد شیر شاہی باشد وہشتاد سیر شاہی دو ونیم سیر و سیر و پنج سیر شاہی بود بوزن قدیم و دوسیرو یک سیر شاہی کم بوزن حال۔واﷲتعالیٰ اعلم اھ۱؎
عراقی صاع آٹھ رطل اور حجازی پانچ رطل اور ثلث رطل ہے۔ امام شافعی کے نزدیک صاع حجازی واجب ہے اور ہمارے نزدیک صاع عراقی ، جو دومن کا ہوتاہے، اور من چار استار، اور استار ساڑھے چارمثقال ہے، لہذا من ایک سواسّی مثقال ہوا جیسا کہ شارح وقایہ نے کہا، اور دوسری کتب سے بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے، جب ہم اس کا حساب اپنے شہروں کے وزن کے اعتبار سے کرتے ہیں تو نصف صاع اکبری سیروں کے مطابق ۲-۱/۲ سیر ۵استار ہوگا اور جہانگیری(اﷲتعالیٰ اس کے ملک و سلطنت کی حفاظت کرے) سیروں کے مطابق ۲-۱/۴سیر اور ایک استار کم بن جاتا ہے یہ اس حساب سے کہ صاع ۷۲۰ مثقال ہو اور اگرصاع ۴من، اور من ۴۰ استار اور استار ۴-۱/۴ مثقال ہو تو ہر من ۱۸۰ مثقال ہوگا، جب استار۴-۱/۲مثقال ہے تولازم آیا کہ نصف صاع ،۸۰ استار ، اور ۸۰استار۲-۱/۲ سیر اور ۵استار قدیم وزن ہُوا، اور ۴-۱/۲سیر ایک استار کم موجودہ وزن ہوا۔ واﷲتعالےٰ اعلم اھ (ت)
( ۱؎ شرح سفر السعادۃ، فصل در زکوٰۃ فطر، مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر ،ص ۸۷-۲۸۶)
سیر شاہی اورپیسہ اور استار ایک ہی وزن ہے یعنی ساڑھے چارمثقال کہ سوا بیس ماشے ہُوئے، اور وزن قدیم سے مراد اکبری اور حال سے جہانگیری۔ صدر باب طہارت میں بھی یہی حساب افادہ فرمایا ہے۔اتنا ہے کہ وہاں مُدعراقی و مُد حجازی دونوں کا سیروں سے اندازہ کیا اور بعض جگہ تہائی پیسہ کی کسر کو کہ ڈیڑھ ماشہ ہوئی مساہلۃًترک فرمادیا ہے
حیث قال صاع چہار مُدست و مُد بقولے دورطل ست
 ( یہاں انھوں نے کہا کہ صاع چار مُد ہے اور مُد دو رطل کا ہوتا ہے۔ت)(یہ قول ہمارے ائمہ کا ہے کہ صاع کو آٹھ رطل لیتے ہیں)
ودلالت ظاہر احادیث ہم برین است چہ دربعض احادیث وضو بمد واقع شدہ ودربعضے بد ورطل وتطبیق دراں است کہ مصداق ہر دو یکے باشد بقولے مد رطل و ثلث رطل عراقی ست۔ (یہ قول شافعیہ ہے کہ صاع ۵-۱/۳رطل÷۴=۱۱/۳رطل)
ظاہر احادیث کی دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ بعض احادیث وضو میں ہے کہ اس کے لیے ایک مُد کافی ہے ،اور بعض احادیث میں دو رطل کا تذکرہ ہے، ان میں تطبیق یوں ہے کہ دونوں کا مصداق ایک ہی ہے۔ ایک قول کے مطابق رطل اور ثلث عراقی ہے(ت)(یہ قول شافعیہ ہے کہ صاع ۵-۱/۳رطل ÷۴=۱-۱/۳رطل)
ورطل بست استار چہار ونیم مثقال کہ وزن یک پیسہ است وایں حساب ابہامے دارد وما آنرا بوزن ایں دیارفرودآریم تا واضح گردد بدانکہ مد بقول اول(حنفی) یک من شرعی ست ومن شرعی چہل استار وآں بو زن جہانگیر شاہی ابد اﷲفی مراضیہ ملکہ وسلطنتہ کہ سیرے سی و شش پیسہ است یک سیر و چہار پیسہ پس صاع (یعنی عراقی) کہ چہارمدست پنج سیر و ثلث سیر اکبری باشد و بوزن جہانگیری چہارسیر ونیم سیر دوپیسہ کم ومد بقول ثانی (شافعی )یک سیر اکبری سہ پیسہ و چیزے کم (یعنی ۳-۱/۳ پیسہ کم ۲۶-۲/۳پیسہ ہوا)وسہ ربع سیر جہانگیری چیزے کم(یعنی ثلث پیسہ کم کہ جہانگیری تین پاؤ۲۷پیسہ ہے) وصاع (یعنی حجازی)بوزن اکبری سہ ونیم سیر و دو  پیسہ (یعنی تہائی پیسہ کم کہ ساڑھے تین سیر اکبری اور دو  پیسے کے ۱۰۷پیسے ہوئے اور صاع حجازی ۱۰۶-۲/۳پیسہ) وبوزن جہانگیری سہ سیر یک پیسہ کم ۱؎(بلکہ ۱-۱/۳پیسہ کم )کہ تین سیر جہانگیری ۱۰۸ پیسہ ہے)  انتہی مزیداًمابین الھلالین منی۔
اور رطل بیس ۲۰استار اور استار ۴-۱/۲مثقال جو کہ ایک پیسہ کا وزن ہے، اس حساب سے بناتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ مُد پہلے (حنفی) قول پر ایک من ہے ،اور شرعی من چالیس ۴۰ استار ہے، یہ اکبری وزن ہے جس میں سیر ،تیس۳۰ پیسہ برابر ہے تو مُد ایک سیر اور سیر کا ثلث ہُوا۔ جہانگیر بادشاہ اﷲتعالیٰ اس کے ملک و سلطنت کو ہمیشہ پسندیدہ فرمائے، کہ اس کا سیر چھتیس ۳۶پیسہ ، تومُد ایک سیر اور چار پیسہ برابرہوا،پس صاع عراقی جو چار مُد ہے پانچ سیر اور ایک سیرکاثلث ،اکبری حساب سے ہُوا۔ اور جہانگیری حساب سے چار سیر اور دوپیسہ کم آدھ سیر ہُوا۔ اور دوسرے قول (شافعی) کے مطابق مُد، ایک اکبری سیر اور تین پیسہ سے قدرے کم، یعنی ۳-۱/۳پیسہ کم ۲۶-۲/۳ پیسہ ہوا۔ اور جہانگیری حساب سے تین پاؤ سے کم یعنی پیسے کا تہائی حصّہ کم جو کہ تین پاؤ ۲۷پیسہ ہے۔ اور صاع حجازی، اکبری حساب سے ۳-۱/۲سیر ایک پیسہ کم (بلکہ ۱-۱/۳پیسہ کم ) تین سیرجہانگیری ۱۰۸پیسہ ہے) عبارت ختم ہوئی اور قوسین میں اضافہ میری طرف سے ہے۔(ت)
 (۱؎شرح سفر السعادۃ،فصل درطہارت الخ، مکتبہ نو ریہ رضویہ سکھر،ص ۳۰)
البتہ اشعۃ اللمعات مطبع مصطفائی محمد حسین خاں باب الغسل میں سیر جہانگیری سے صاع عراقی کا حساب ظاہراً خطا سے کاتب سے غلط ہوگیا ہے
حیث قال صاع بوزن اکبر شاہی کہ سیرے سی سیر شاہی بود پنج سیر ودہ سیر شاہی مے شود
 (اکبر شاہی کے حساب سے کہ ایک سیر تیس استارکا ہے، صاع ۵سیر ہُوا اور دس۱۰استار ہے۔ت) ( یہ صحیح ہے اور حساب اول کے مطابق کہ دس۱۰ سیر شاہی ثلث پیسہ اکبری ہے کما لا یخفی جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
وبوزن حال جہانگیری ابد اﷲملکہ وسلطنتہ کہ سیرے سی وشش سیر شاہی ست چہار  سیر و یک پاؤ می شود بیک سیر شاہی کم۔۱؎
اور جہانگیری حساب سے جس میں ایک سیر ۳۶ استار کا ہے، عراقی صاع چار سیر ایک پاؤ اور ایک سیر کم ہے۔(ت)(یہ غلط ہے کہ صاع۱۶۰ پیسہ ہے اور سوا چار سیر جہانگیری ایک پیسہ کم کے ۱۵۲ ہی پیسے ہُوئے آٹھ پیسے کافرق ہے صحیح وہی ہے جواوپر گزرا کہ ساڑھے چار سیر جہانگیری ہے دوپیسے کم)
 ( ۱؎ اشعۃ اللمعات باب الغسل فصل ثانی         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۳۳)
Flag Counter