Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
60 - 198
مسئلہ ۱۳۸: ۲۸ جمادی الاول ۱۳۲۵ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر کا نصاب برابر ہے یا کچھ فرق ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب :مقدار نصاب سب کے لیے ہے کچھ فرق نہیں، ہاں زکوٰۃ میں مال نامی ہونا شرط ہے کہ سونا چاندی،چرائی پر چھوٹے جانور ،تجارت کا مال ہے وبس، اور سال گزرنا شرط ہے، صدقہ فطر و قربانی میں یہ کچھ درکار نہیں کما فی جمیع الکتب (جیسا کہ سب کتابوں میں ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: از شہر بریلی محلہ ملوکپور    مرسلہ جناب سیّد محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور رمضان المبارک ۱۳۲۹ھ :صدقہ فطر کی مقدار فی کس کیا ہے؟
الجواب  :تین سوا کاون روپے بھر جَو،یا اُس کے آدھے گیہوں کہ بریلی کی تول سے پونے دوسیر ایک اٹھنی بھر ہُوئی۔
واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم احکم۔
مسئلہ ۱۴۰: از کمریٹ روٹی گودام چھاؤنی لکھنؤ         مرسلہ مولوی سید باسط احمد ۷شوال المکرم ۱۳۳۶ھ

(۱) وزن فطرہ بحساب سیر لکھنؤکتنا دینا چاہئے؟نصف صاع بوزن سیر لکھنؤ کتنا ہوتا ہے؟(۲)گز شرعی بہ حساب گز نمبر مروجہ لکھنؤ کس قدر ہے؟
الجواب :(۱)گیہوں کا صاع دوسوستر۲۷۰ تولے ہے کہ انگریزی روپے سے دوسواٹھاسی ۲۸۸ روپے بھر ہوئے۔ نصف صاع کے ایک سوچوالیس ۱۴۴ روپے بھر گیہوں۔ لکھنؤکا سیر اسی ۸۰ روپے بھر کا ہے تو اس سے دوسیر ہوئے ، سیر کا ۱/۵ یعنی پونے دوسیر سے چار روپے بھر اوپر، لیکن زیادہ احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئے جائیں جَو کے صاع میں گیہوں تین سوا کاون ۳۵۱ روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے آٹھ آنے بھر ہوا، لکھنؤ کا سوا دوسیر اٹھنی بھر کم۔(۲) نمبری گز کہ تین فٹ کا ہے، ہر فٹ بارہ ۱۲ انچ ،گز  شرعی جسے ذراع کر باس کہتے ہیں، اس کا نصف یعنی آٹھ گرہ کے برابر ہے کہ وہ چوبیس انگل ہے اور ہرگرہ تین انگل۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۴۲تا۱۴۳: از موضع خورد مئو ڈاکخانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی         مرسلہ سید صفدر علی صاحب۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ  :کیا فرماتے ہیں علمائے دین امورِ ذیل میں: (۱) زید کی بیوی ہندہ جو مالکِ نصاب نہیں ہے مع اپنے ایک خوردسال بچّے کے اپنے باپ بکر کے یہاں یعنی میکے میں عیدالفطر کو قیام رکھتی ہے تو اُس کا اور اس کے لڑکے کا صدقہ کس کو دینا چاہئے، آیا زید کو جو ہندہ کا شوہر ہے یا بکر کو جو ہندہ کا باپ ہے۔ (۲) اگر کوئی مہمان یہاں ۲۷یا ۲۸ رمضان شریف سے مقیم ہے یا قبل طلوعِ فجر عیدالفطر آیا تو کیا ان مہمانوں کا صدقہ شرعاًمیزبان کو ادا کرنا چاہئے یا مہمان اپنا صدقہ خود اد ا کریں؟
الجواب:(۱)خورد سال بچّے کا صدقہ فطر اُس کے باپ پر ہے، اور عورت کا نہ باپ پر نہ شوہرپر، صاحبِ نصاب ہوتی تو اس کا صدقہ اسی پر ہوتا ہے۔(۲) مہمان کا صدقہ میربان پرنہیں، وہ اگر صاحبِ نصاب ہیں اپنا صدقہ آپ دیں۔ وھو تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴: ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱۳۳۴۴ھ  :فطرہ رمضان کے نصف صاع آٹے کے عوض میں اگر نصف چاول دے دے تو کیا حکم ہے؟بینو اتوجروا۔

الجواب :چاول کی قیمت کے اعتبار سے دئے جائیں گے خواہ وزن میں نصف صاع ہوں یا زیادہ یا کم یعنی نصف صاع گندم کی قیمت میں جتنے چاول آئیں اتنے دئے جائیں گے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۴۵: (جلد میں سوال نہیں)
الجواب :صاع چارمُد ہے اور مد دو۲ر طل، اور ر طل بیس استار، اور استار ساڑھے چار مثقال ، اور مثقال ساڑھے چار ماشے، اور تولہ بارہ ۱۲ ماشے ، اور انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے ، تو صاع دوسو ستّر۲۷۰ تولے، اور روپیوں سے دوسواٹھاسی ۲۸۸ روپے بھر،تو اسی۸۰ روپے کے سیر سے ۳ سیر ۹ چھٹانک اور ۳/۵ چھٹانک ، یا یُوں کہئے کہ ساڑھے تین سیر ڈیڑھ چھٹانک اور ۱/۱۰ چھٹانک۔ اس حساب میں کوئی شک نہیں، اسی تول کے گیہوں دئے جاتے تھے ۔
لما فی الفتح یعتبر نصف صاع من برمن حیث الوزن عند ابی حنیفۃ۔۱؎
کیونکہ فتح میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے ہاں وزن کے اعتبار سے نصف صاع گندم کا اعتبار ہے(ت)
 ( ۱؎ فتح القدیر ، فصل فی مقدار الواجب وقتہ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،  ۲ /۲۲۹)
رمضان المبارک ۲۷ ؁ سے علامہ شامی کی یہ احتیاط زیادہ پسند آئی کہ صاع لیا جائے جَو کا، اوراس کے وزن کے گیہوں دئے جائیں، ظاہر ہے کہ جو ہلکا ہے جتنے برتن میں دوسوستّر ۲۷۰تولے جَو آئیں گے جب وہ گیہوںسے بھر اجائے گا تول میں زیادہ چڑھیں گے، اس میں فقیروں کا نفع زیادہ ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
  علی ھذا الاحوط تقدیرہ بالشعیر ولھذانقل بعض المحشین عن حاشیۃ الزیلعی للسید محمد امین میر غنی، ان الذی علیہ مشائخنا بالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوایفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ولعل ذٰلک لیحتاطوافی الخروج عن الواجب بیقین لما فی مبسوط السرخسی من ان الاخذ بالاحتیاط فی باب العبادات واجب اھ فاذاقدربذٰلک یسع ثمائیۃ ارطال من العدس ومن الحنطۃ ویزید علیھا البتۃ بخلاف العکس فلذاکان تقدیر الصاع بالشعیر احوط اھ الخ ۱؎
اس بنا پر احتیاط اسی میں ہے کہ ااس کا تقرر جَوسے ہو، اسی لیے بعض محشین نے حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا، حرم مکی کے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ نے اسی پر اعتماد کیا اور وہ اسی پر فتوٰی دیا کرتے تھے کہ آٹھ رطل جَو کا اعتبار ہوگا، اور شاید انھوں نے یہ اس لیے کیا تاکہ واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے اور اس لیے بھی کہ مبسوط سرخسی میں ہے کہ عبادات کے معاملے میں احتیاط پر عمل واجب ہوتا ہے اھ جب صاع کا تقرر یُوں ہواتو اب مسور اور گندم کے آٹھ رطل کی گنجائش بھی ہوگی اوریہ اس سے بہر صورت بڑھ جائیں گے بخلاف عکس کے۔ اسی لیے صاع کا تقرر جَو کے ساتھ کرنا احوط ہے اھ الخ(ت)
 (۱؎ ردالمحتار ، باب صدقۃ الفطر ،مصطفی البابی مـصر، ۲ /۸۴)
اس بناپر بنظرِ احتیاط وزیادتِ نفعِ فقراء نے ۲۷ماہ مبارک ۱۳۲۷ھ کو ایک سوچوالیس روپیہ بھر جَو وزن کئے کہ نصف صاع ہُوئے اور انھیں ایک پیالے میں بھرا حُسنِ اتفاق کہ تام چینی کا ایک بڑا کاسہ گویا اسی پیمانہ کا ناپ کر بنایا گیا تھا وُہ جَو اس میں پوری سطح مستوی تک آگئے من دون تکویم ولا تقعیر(بغیر ابھار اور گہرائی کے۔ت)تو وہی کاسہ نصف صاع شعیری ہُوا، پھر میں نے اُسی کاسہ میں گیہوں بھر کر تولے توبریلی کے سیر سے (۔۔۔۰۱) ثار اور ایک اٹھنی بھر ہُوئے یعنی ایک سو پھچتّر روپے آٹھ آنہ بھر، تویہ وزنِ گندم ہوا، اور اس کا دوچند ۳۵۱ روپیہ بھر وزن جَو۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
Flag Counter