Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
59 - 198
صدقہ فطر کا بیان
مسئلہ ۱۳۳: از نینی تال         مرسلہ شیخ عنایت حسین صاحب         ۲۵رمضان المبارک۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ واقعہ کان پور میں مسلمانوں سے دربارہ مسجد پولیس سے فساد ہوگیا، پولیس نے اُنھیں نشانہ بندوق بنالیا، اب ان کے غریب بچّے یتیم ہوگئے اور نادار مسلمان زخمی ہوکر گرفتار کر لیے گئے، اب ان کی رہائی اور  پرورش حفاظت جا ن وعزّت کے لیے روپے کی ضرورت ہے، مسلمان چاہتے ہیں کہ صدقہ فطر رمضان المبارک اس کا رِخیر کے متعلق دے دیا جائے عندالشرع دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب :صدقہ فطر میں مسلمان فقیر کو دے کر مالک کر دینا شرط ہے، تو اگر غرباء کو دے کر مالک کردیں تو جائز ہے یا فقیر کو دیں اوروُہ اپنی طرف سے مقدمہ میں لگانے کو دے دیں تو جائز ہے، ورنہ مقدمے اٹھانے یا وکیلوں کو دینے سے صدقہ ادا نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے:
صدقۃ الفطر کالزکوٰۃ فی المصارف وفی کل حال۔ ۱؎
صدقہ فطر مصارف اور تمام احوال میں زکوٰہ کی طرح ہے۔(ت)
 ( ۱؎درمختار         باب صدقۃ الفطر        مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۴۵)
ردالمختار میں ہے :
من اشتراط النیۃ واشتراط التملیلک فلا تکفی الاباحۃ کمافی البدائع۔۲؎
یعنی نیت اور تملیک دونوں شرائط ہیں تو محض اباحت کفایت نہ کرے گی کما فی البدائع۔(ت)واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
 ( ۲؎ ردالمحتار  ، باب صدقۃ الفطر، مصطفی البابی مصر، ۲ /۸۶)
مسئلہ۱۳۴تا۱۳۵: از راولپنڈی لال کرتی     مرسلہ دین محمد صاحب فروش    ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۳۳ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:(۱)صدقہ فطر لینا امام مسجد کو جائز ہے یانہیں ؟(۲) مُردوں کے مال یعنی صدقہ وغیرہ لینا بالامذکور کو جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ امام مسجد صاحبِ زکوٰۃ و صاحبِ مال ہو، دیگر امام مسجد کو ہر جمعرات کو برائے تیل کے نقد و تیل منگانااور اپنے ذاتی مصرف میں لانا جائز ہے یانہیں؟قربانیوں کی کھالیں وغیرہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :صاحبِ نصاب کو اگرچہ امام مسجد ہو ،کوئی صدقہ واجبہ مثل زکوٰۃ یا صدقات عیدالفطر یا کفارات جائز نہیں حرام ہے، اور  اس کے دئے وُہ زکوٰۃ و صدقہ ادانہ ہوں گے۔ قربانی کی کھال اگرلوگ اپنی خوشی سے دیں لے سکتا ہے مانگ کر اپنا حق قرار دے کر لینا جائز نہیں۔ اموات کی طرف سے جو نفل صدقہ دیا جاتا ہے اگر دینے دینے والے نے اسے فقیر سمجھ کردیا اور اس نے اپنا صاحبِ نصاب ہونا چھپایا تو یہ بھی حرام ہے ورنہ مکروہ و ناپسند۔ تیل وغیرہ کے لیے نقد منگا کر جو بچے اپنے صَرف میں کرنا بھی حرام ہے مگر اس صورت میں کہ دینے والے اس بات سے آگاہ اور اس پر راضی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں۔
بقولہ تعالیٰ عن تراض منکم۱؎
 ( اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے تمھاری رضا مندی سے ہو۔ت)واﷲتعالیٰ اعلم
(القرآن ۴ /۲۹)
مسئلہ ۱۳۶: از دیوبند ضلع سہارنپور مسجد جامع         مرسلہ مولوی اظہرالدین بنگالی     ۹ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ 

السّلامُ علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس ملک میں چاول کثرت سے پیدا ہوں اور وہاں کے باشندوں کی غذا چاول ہی ہو اور گندم مطلقاً پیدانہ ہومگر دوسرے ملکوں سے کچھ آتا ہے لیکن وُہ بھی ہرجگہ نہیں ملتا ہے بلکہ شہر و قصبہ میں ملتا ہے اور اس کو کوئی غذا کھاتا بھی نہیں بلکہ دوامی اتفاقاً استعمال میں لاتے ہیں اور جَو بھی بہت قلت طور پر پیدا ہو مثلاً چار پانسو یا ہزار دوہزار بیگھہ میں سے کسی ایک آدھ بیگھہ میں بولیا اور اس کو ستّو بنا کر برس چھ ماہ میں کبھی ناشتہ کے طور پر کھالیتے ہیں اور خرما ناپیدا ہے اور نہ کہیں ملتا ہے، بس ایسے ملک کے باشندوں پر صدقہ فطر نصف صاع گندم کی قیمت میں جس قدر چاول آئے وُہ واجب ہوگا یا ایک صاع چاول واجب ہوگا
بینو ابالدلیل جزاکم اﷲالجلیل
 (دلیل کے ساتھ بیان کیجئے اﷲتعالیٰ آپ کو جزادے۔ت)
الجواب :شرع مطہر نے یہ صدقہ صرف چار چیزوں سے مقرر فرمایا ہے:گیہوں، جَو، خرما، زبیب۔ ان کے سوا پانچویں کوئی چیز چاول ہو یا دھان یا کپڑا وہ اُنھی میں ایک کی قیمت کے اعتبار سے جائز ہے ورنہ نہیں،گیہوں سے نیم صاع واجب ہے یعنی ایک سو پینتیس تولے کہ انگریزی روپیہ سے ایک سوچوالیس روپیہ بھر  ہُوا، اور اسی۸۰ روپیہ کے سیر سے پونے دوسیر اور پون چھٹانک اور بیسواں حصّہ چھٹانک کا،اور جَوسے اس کا دونا گیہوں یا جَو کا وہاں کم پیدا ہونا یا غذا میں مستعمل نہ ہونا یا دیہات میں نہ ملنا چاول کو بے لحاظ قیمت صرف صاع یا نیم صاع دے دینے کے قابل نہیں کرسکتا، بلکہ واجب ہے کہ اپنے ضلع میں گیہوں نیم صاع یا جَو، ایک صاع کی جو قیمت ہو اُس قدر دام  یا اُتنے دام کے چاول یا اورچیز ادا کردیں۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
انما تجب من اربعۃ اشیاء من الحنطۃ و الشعیر والتمر والزبیب وماسواہ من الحبوب لا یجوز الابالقیمۃ اھ۱؎بالالتقاط
چار اشیاء میں واجب ہے: گندم،جَو، کھجوراور زبیب۔ ان کے ماسوا میں قیمت کے علاوہ جائز نہیں اھ اختصاراً(ت)،
 ( ۱؎فتاوٰی ہندیۃ         الباب الثامن فی صدقۃ الفطر         نورانی کتب خانہ پشاور ،۱ /۹۲-۱۹۱)
منسک متوسط میں ہے:
ھذہ اربعۃ انواع لاخامس لھا واما غیرھا من انواع الحبوب فلا یجوز الاباعتبار القیمۃ کالارز والذرۃ والماش والعدس والحمص وغیر ذٰلک۔۲؎
یہ چار انواع ہیں ان کی پانچویں نہیں ان کے علاوہ دانوں میں قیمت کے علاوہ کسی کا اعتبار نہیں مثلاً چاول، باجرہ، مسور اور چنے وغیرہ۔(ت)
 (۲؎ منسک متوسط     متن مسلک متقسط مع ارشاد الساری فصل فی الجزاء اللبس والتغطیۃ دارالکتاب العربی بیروت ص۲۶۴)
درمختار میں ہے:
مالم ینص علیہ کذرۃ وخبز  یعتبر فیہ القیمۃ۔۳؎ واﷲتعالیٰ اعلم۔
  جس پر نص نہیں مثلاً باجرہ اور روٹی، ان میں قیمت کا اعتبار ہوگا۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۷: ۷ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ

چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیانِ  شرع متین اندریں مسئلہ کہ اگر درخانہ کسے مثلاً دہ کس موجود باشند بعض از ان غلام و پسر صغیرو بعض زوجہ خود و  پسر کبیر  پس صدقہ فطر ہفت کس یا ہشت کس ادا کردہ شود و صدقہ دو آدمی یاسہ آدمی از غلام و پسر صغیر باشد یا غیر آں دادہ نہ شود پس صدقہ کسانے کہ ادا کردہ شد شرعاً صحیح ودرست خواہد شد یانہ؟بیّنوا بالکتاب توجروایوم الحساب۔
علمائے دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے گھر میں دس۱۰ افراد ہوں بعض ان میں سے غلام، بعض چھوٹے بچّے، بعض کے ساتھ بیوی اور بڑے بچّے ہوں تو صدقہ فطر سات افراد کا ہوگا یا آٹھ کا،دو آدمیوں یا تین غلام اور چھوٹے بچّوں کا صدقہ نہ دیاہو، جن اشخاص کا صدقہ دیا ہے وہ شرعاً درست ہوگا یانہیں؟

کتاب سے جواب دے کر روزِ حساب اجر پاؤ۔(ت)
الجواب: ہر چہ مؤدی از اطفال صغار خود ادا کردادا شد کہ وجوب ہم بروست نہ بر اطفال وانچہ از زوجہ و اولاد کبارعاقلین داداگر باذن ایشاں بود نیز از ایشاں ادا شد ورنہ نے فی ردالمحتار عن البحرلوادی زکوٰۃ غیرہ بغیر امرہ فبلغہ فاجازلم یجز لانھا وجدت نفاذاعلی المتصدق لانھا ملکہ ولم یصرنائبا عن غیرہ فنفذت علیہ ولو تصدق عنہ بامرہ جاز۱؎(ملخصاً)واﷲ تعالیٰ سبحٰنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
چھوٹے بچّوں کی طرف سے جواد اکیا وُہ ادا ہوجائے گا کیونکہ وہ واجب ہی والد پر تھا۔ اور جو بیوی اور بڑی اولاد کی طرف سے ادا کیا اگر ان کا اذن تھا تو بھی ادا ہوجائیگا اور اگر اذن نہ تھا تو صدقہ ادانہ ہوگا۔ ردالمحتار میں بحر سے ہے: اگر کسی نے دوسرے کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ ادا کردی پھر دوسرے تک خبر پہنچی اور اس نے اسے جائزبھی رکھا تب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کیونکہ اس کا نفاذ صدقہ کرنے والے پر ہے،کیونکہ وُہ زکوٰۃ اس کی ملکیت ہے اور غیر سے نائب بن نہیں سکتا کہ اس کی اجازت کا نفاذ ہو، ہاں اگر اجازت سے زکوٰۃ ادا کی ہو تو پھر جائز ہوگا(ملخصاً)
واﷲتعالیٰ سبحانہ اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار         کتاب الزکوٰۃ         مصطفی البابی مصر         ۲ /۱۲)
Flag Counter