وﷲالحمد ھٰکذا اینبغی التحقیق اﷲ سبحانہ ولی التوفیق
(اﷲتعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد وثناء اور تحقیق کے لیے ہی مناسب ہے اﷲسبحانہ وتعالیٰ ہی توفیق کا مالک ہے۔ت) رہا کہ امام طحاوی ضمن کلام میں اُس روایت کی ایک توجیہ ذکر فرماگئے کہ ہمارے خیال میں اس روایت کی بنا پر امام کی نظر اس طرف گئی، حاشایہ اصلاً اس کے اختیار سے علاقہ نہیں رکھتا، علماء کا داب ہے کہ اقوال مختلفہ میں ہر ایک کی دلیل ذکر فرماتے ہیں ہدایہ و کافی وغیرہما اس رنگ کی کتابیں اسی انداز پر ہیں، پھر مختار وہی ہے جو مختار ہے اور قول کو صرف ابویوسف کی طرف نسبت کرنا کچھ مستغرب نہیں کہ امام سے تواختلاف روایت کا بیان ہی ہے اور صاحبین میں اعظم واقدم ابو یوسف ہیں، معہذا مذہب تو سب کا اوپر لکھ ہی چکے، یہاں فقط بتادینا تھا بالجملہ کلام امام طحاوی بہ اعلیٰ ندامنادی،کہ وہ ہرگز اس روایت ضعیفہ کی ترجیح و تصحیح کے پاس بھی نہیں بلکہ قطعاًتحریم پر جازم، اور اس میں بھی یہاں تک جازم کہ تحریم نافلہ پر بھی حاکم،
کما ھو المرجح عند المحقق علی الاطلاق والبعض الاٰخرین من الحذاق
(جیسا کہ محقق علی الاطلاق او ربعض دیگر اکابرین کے نزدیک راجح ہے۔ت)غالباً ابتدا، میں بمتقضائے
یابی اﷲالعصمۃ الالکلامہ وکلام رسولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم
(عصمت صرف کلام اﷲاور کلامِ رسول صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو ہی حاصل ہے۔ت) بعض علمائے ناقلین کی نظر نے لغزش فرمائی اور بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ت) کی مشارالیہ وُہ روایت ضعیفہ خیال میں آئی پھر علمائے مابعد ، نقل درنقل فرماتے چلے آئے نقد یا مراجعت کا اتفاق نہ ہُوا ورنہ حاش ﷲان کی جلیل شانیں اس سے بس ارفع ہیں کہ بامعاون و تدبر شرح آثار پر نظر فرماتے اور اس کی عبارت کے یہ معنی ٹھہراتے،
علامہ زین نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
قدیقع کثیر ا ان مولفایذکر شیأ خطا فی کتابہ فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تلک العبارۃ من غیر تغییر فیکثرالناقلون لھاواصلھا الواحد مخطی الخ۱؎
بہت دفعہ ایسا ہوجاتا ہے کہ ایک مصنف اپنی کتاب میں خطا کرتا ہے توبعد کے مشائخ اسے بغیر کسی تبدیلی کے نقل کردیتے ہیں، ناقلین کثیر ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل خطا کرنے والا ایک ہی تھاالخ(ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب البیوع باب التفرقات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۸۵)
مشتغل علم اگر چہ میری اس طویل تقریر کو بالکل گوش نا آشنا پائے گا مگر امید کرتاہُوں کہ ان شاء اﷲتعالیٰ اس مقام کی تنقیحِ جمیل و تنقیدِجلیل برکات علماء سے اس بے بضاعت کا حصہ تھا ع
وللارض من کاس الکرام نصیب
(زمین کے لیے بھی سخیوں کے دسترخوان سے حصّہ ہوتاہے)
فتبصر وتشکر و الحمد ﷲالاکبر، وانما اطلنا الکلام فی ھذاالمقام لما بلغنا عن بعض علماء العصر من اجلۃ رامفور من اباحۃ الزکوٰۃ لحضرات الاشراف اغترارا بتلک الروایۃ وذاک الاختیار، وماالعصمۃ الاباﷲالعزیز الغفار۔
غور کر، شکرکر،حمد اﷲکے لیے جو سب سے بڑا ہے۔ ہم نے اس مقام پر خوب طویل گفتگو اس لیے کی ہے کہ بعض معاصرین علمائے رامپور نے اس روایت کی بنا پر غلط فہمی کاشکار سادات کرام کے لیے زکوٰۃ کو مباح قرار دیا ہے، عصمت اﷲ غالب غفار کے لیے ہی ہے(ت)
غرض میں جزم کرتا ہُوں کہ بے شک بنی ہاشم پر زکوٰۃ حرام ہے اور بیشک اسی پر افتاء واجب اور بیشک اس سے عدول ناجائز ، اور بے شک وہ روایت روایۃً مرجوح اور درایۃً مجروح اور بیشک امام طحاوی اس کے خلاف پر قاطع، اور بے شک اُن کی تصحیح جانب ظاہر الروایۃ راجع،
والی اﷲالرجعی والیہ مناب
(اﷲ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی ماوٰی وملجا ہے ۔ت )
واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۲۹: مرسلہ مولوی حافظ محمد امیر اﷲصاحب ۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوٰۃ احوج کو دینا اولیٰ ہے خصوصاً جو احوج اپنا قریب ہو یہ حکم مطلق ہے مثلاً بنی ہاشم اپنے اقارب احو جین کو زکوٰۃ دیں یا یہ مخصوص ہیں بوجہ حدیث:
یا بنی ھاشم حرم اﷲتعالیٰ علیکم غسالۃ الناس واوساخھم الخ۔۱؎
اے بنی ہاشم ! اﷲتعالےٰ نے تم پر لوگوں کا بچاہوا اور ان کی مَیل حرام کردی ہے الخ(ت) کے ۔بینواتوجروا۔
( ۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الزکوٰۃ المکتبۃ الاسلامیہ صاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۲ /۴۰۳)
الجواب : بیشک زکوٰۃ اور سب صدقات اپنے عزیزوں قریبوں کو دینا افضل اور دو چنداجرکاباعث ہے، زینب ثقفیہ زوجہ عبداﷲبن مسعود اور ایک بی بی انصاریہ رضی اﷲتعالےٰ عنہم درِاقدس پر حاضر ہوئیں اور حضرت بلال رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی زبانی عرض کرابھیجا کہ ہم اپنے صدقات اپنے اقارب کودیں، حضورپُر نور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
لھما اجران اجرالقرابۃ واجرالصدقۃ۔۲؎ رواہ احمد والشیخان من زینب رضی اﷲتعالیٰ عنھا۔
ان کے لیے دو۲ثواب ہوں گے ایک ثواب قرابت اور دوسرا تصدق کا(اسے امام احمد،بخاری اور مسلم نے حضرت زینب رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ت)
( ۲؎ صحیح مسلم ، کتاب الزکوٰۃ فصل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:
الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلیٰ ذی الرحم ثنتان،صدقۃ وصلۃ۔۳؎اخرجہ النسائی والترمذی وحسنہ وابن خزیمۃ و ابن حبان فی صحیحھما والحاکم وقال صحیح الاسناد۔
مسکین کو دینا اکہر اصدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا دوہرا، ایک تصدق اور ایک صلہ رحم(اسے نسائی اور ترمذی نے بیان کیا اور اسے حسن کہا۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں اور حاکم نے روایت کیا اور کہا اس کی سند صحیح ہے۔ت)
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی الصدقۃ علیٰ ذی القرابۃ امین کپنی دہلی ۱ /۸۳)
بلکہ حدیث میں ہے حضور اقدس صلے اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یا امّۃ محمد والذی بعثنی بالحق لا یقبل اﷲصدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفھاالی غیرہم والذی نفسی بیدہ لا ینظر اﷲالیہ یوم القیامۃ۔۱؎اخرجہ الطبرانی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
اے امت محمد (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اﷲتعالیٰ اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اُس کے سلوک کی حاجت رکھیں اور وہ انھیں چھوڑ کر اوروں پر تصدّق کرے، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اﷲتعالیٰ روزِ قیامت اُس پر نظر نہ فرمائے گا۔(اسے طبرانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط ، باب الصدقۃ علی الاقارب الخ دارالکتاب العربی بیروت ، ۳ /۱۱۷)
مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ وُہ صدقہ اس کے قریبوں کو جائز ہو، زکوٰۃ کے لیے شریعتِ مطہرہ نے مصارف معین فرمادئے ہیں اور جن جن کو دینا جائزہے صاف بتادئے، اس کے رشتہ داروں میں وُہ لوگ جنھیں دینے سے ممانعت ہے ہرگز استحقاق نہیں رکھتے ، نہ اُن کے دئے زکوٰۃ ادا ہو جیسے اپنے غنی بھائی یا فقیر بیٹے کو دینا، یونہی اپنا قریب ہاشمی کہ شریعت مطہرہ نے بنی ہاشم کو صراحۃً مستثنیٰ فرمالیا ہے اور بیشک نصوص مطلق ہیں۔
الشیخان واللفظ لمسلم عن ابی ھریرہ ف رضی اﷲتعالیٰ عنہ قا ل قال رسول اﷲصلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم انا لا تحل لنا الصدقۃ ۲؎احمد و ابوداؤد و الترمذی وصححہ والنسائی والحاکم وقال علی شرط الشیخین واقروہ الشیخان ،
اور الفاظِ مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔ مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے صحیح کہا۔ نسائی، حاکم نے کہا یہ شیخین کے شرائط پر ہے۔ محدثین نے اسے ثابت رکھا۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۴ )
ف: صحیح مسلم میں مذکورہ حوالہ میں''عن ابی ھریرۃ'' کی جگہ''عن شعبہ لھذا الاسناد'' ہے۔ )
وابن خزیمۃ وابن حبان والطحاوی عن ابی رافع مولیٰ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم من رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ان الصدقۃ لا تحل لنا۳؎
ابن خزیمہ، ابن حبان اور طحاوی نے حضرت ابو رافع(جورسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں) نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں۔
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی کراہیۃ الصدقۃ للنبی الخ امین کمپنی دہلی ۱ /۴۳)
احمد وابن حبان بسند صحیح عن الحسن بن علی رضی اﷲتعالیٰ عنھما عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انااٰل محمد لا تحل لنا الصدقۃ، ۱؎
مسند احمد اور ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اﷲتعالےٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از حسن بن علی رضی اﷲ عنہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۰)
احمد عن ام کلثوم رضی اﷲتعالیٰ عنھا ومسلم عن مھران مولٰی رسول اﷲصلیٰ اﷲ علیہ وسلم عن رسول اﷲصلیٰ اﷲ علیہ وسلم مثلہ وھو عندالطحاوی عن ام کلثوم ان مولی لنا یقال لہ ھرمز او کیسان۲؎الحدیث
مسند احمد میں حضرت ام کلثوم رضی اﷲتعالیٰ عنہا اور مسلم میں حضرت مہران(رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے انھوں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، امام طحاوی کے نزدیک یہ حضرت ام کلثوم رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے آزاد شدہ غلام تھے جنھیں ہرمزیاکیسان کہا جاتاہے الحدیث،
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۴)
الطبرانی عن ابن عباس یرفعہ الی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم انہ لا یحل لکما اھل البیت من الصدقات شئی، ۳؎ احمد و ابوداؤد والنسائی والحاکم وصححہ۔
طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول ا ﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اہل بیت! تمھارے لیے صدقات میں سے کوئی شئی حلال نہیں۔ مسنداحمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے اسے صحیح کہا۔
(۳؎ المعجم الکبیر حدیث ۱۱۵۴۳ مروی از عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲعنہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ۱۱ /۲۱۷)
والطحاوی عن بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم لا یحل لاٰل محمد منھا شئی۔۴؎الیٰ غیر ذٰلک من العمومات والاطلاقات التی لا تکاد تحصی لکثر تھا۔
طحاوی نے حضرت بہز بن حکیم انھوں نے اپنے دادا سے انھوں نے رسالتمآب صلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آلِ محمد کے لیے صدقات میں سے کوئی شئی حلال نہیں۔ اور ان کے علاوہ دیگر عمومی اور اطلاق دلائل جن کا احصا کثرت کی وجہ سے دشوار ہے۔(ت)
( ۴؎مسند احمد بن حنبل ،دیث بہزبن حکیم الخ دارالفکر بیروت ،۵ /۲و۴)
تو بیشک حکم احادیث ہاشمیوں پر مطلق زکوٰۃ کی تحریم ہے خواہ ہاشمی کی ہو یا غیر ہاشمی کی، اور یہی مذہب امام کا ہے اور یہی اُن سے ظاہر الروایۃ اور اسی پر متون، تویہی معتمد ہے،
درمختار میں ہے ظاہر مذہب یہی ہے کہ سادات کو صدقہ دینا ہر حال میں منع ہے، امام عینی کا قول کہ ہاشمیاپنی زکوٰۃ ہاشمی کو دے سکتا ہے، اسے درست قرار دینا جائز نہیں،نہر اھ واﷲسبحانہ وتعالیٰ اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۱)
مسئلہ ۱۳۰: ازشہر بریلی مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی شب ۱۸ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوٰۃ کا روپیہ کافر، مشرک ، وہابی، رافضی، قادیانی وغیرہ کو دینا جائز ہے یا نہیں ؟بینو اتوجروا۔
الجواب:ان کو دینا حرام ہے اور ان کودئے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، واﷲتعالےٰ اعلم
مسئلہ۱۳۱: ازپنڈ ول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالصاً ﷲ ولوجہ اﷲ جو چیز دی جائے اس کا کھانا امیر و غنی کو کیسا ہے؟
الجواب :صدقہ واجبہ جیسے زکوٰۃ و صدقہ فطر غنی پر حرام ہے اور صدقہ نافلہ جیسے حوض یا سقایہ کا پانی یا مسافر خانے کا مکان غنی کو بھی جائز ہے، مگر میّت کی طرف سے جو صدقہ ہوتا ہے غنی نہ لے،نہ غنی کودیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۳۲: از راندیر یہ ضلع سورت ڈاکخانہ خاص مسئولہ جناب مولٰنا مولوی فقیر غلام محی الدین صاحب ۲۷رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل سمرنافنڈ میں صاحب زکوٰۃ سے زکوٰۃ اور جن پر قربانی واجب ہے اُن سے قربانی کی قیمت طلب کررہے ہیں اور اس کے لیے گجراتی بڑے لمبے چوڑے اشتہار چھپے ہیں کیا صاحبِ زکوٰۃ اور جن پر قربانی واجب ہے اُن کی قربانی سمرنافنڈ میں دینے سے ہوجائے گی؟بینو اتوجروا۔
الجواب :جس پر قربانی واجب ہے اُسے حرام ہے کہ قربانی نہ کرے اور اس کی قیمت کسی فنڈمیں دے دے اس سے ہرگز قربانی ادا نہ ہوگی واجب کا تارک ہوگا اور عذاب کا مستحق، اور ایسے چندوں میں دینے سے کہ لوگ بطور خود کرتے ہیں اور سب کے چندے زکوٰۃ وغیر زکوٰۃ کے بلکہ مرتدین نا اہل زکوٰۃ مثل وہابیہ وغیر ہم کے سب خلط کرلیتے ہیں
زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی، ہاں اعانتِ مسلمین کی نیّت پرثواب پائے گا مگر فرضِ زکوٰۃ سر پر باقی رہے گا وھوتعالیٰ اعلم۔