Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
57 - 198
اب اس کلام امام کے محاوی ظاہرہ و مطاوی باہرہ پر نظر کیجئے:

اول  :شروع سخن سے دلائل تحلیل کارد۔

دوم  :دلائل تحریم کی تکثیر میں کد ۔

سوم : اُن کا آغاز یُوں کہ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے تحریم میں متواتر حدیثیں آئیں ۔
چہارم : ختم یُوں کہ ہمارے علم میں ان حدیثوں کا کوئی ناسخ یا عارض نہیں سواان چیزوں کے جو اہل تحلیل نے ذکر کیں اور وُہ اصلاً اُن کی مؤید نہیں۔

پنجم  ؛حدیثاً وفقہاً ثابت فرمانا کہ نہ صرف زکوٰۃ یا دیگر واجبات بلکہ مطلقاً تمام صدقات بنی ہاشم پر حرام ہیں یہاں تک کہ نافلہ بھی، اور یہی مذہب ائمہ ثلاثہ کا ہے۔ 

ششم : صاف صاف حصر فرما دینا کہ اسباب میں یہی مقتضائے نظر فقہی ہے، اب روایت خلاف کے لیے کہاں گنجائش رکھی، حدیثیں بے ناسخ و معارض متواتر نظر فقہی اسی میں منحصر، پھر اختیار خلاف کس دلیل سے صادر۔ یہ چھ قرینے تو سباق میں ہیں اب سیاق کی طرف چلئے کہ دلائل دیکھئے۔
ہفتم :روایت کے اختلاف اور اپنے اختیار کو ذکر کرکے بایرادفائے تعقیب سوال قائم فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی مجھ سے پُوچھے بھلا بنی ہاشم کے غلامان آزاد شدہ کے لیے اخذ زکوٰۃ ممنوع جانتے ہو، سبحان اﷲاگر اس بہ ناخذ( اسی پر ہمارا عمل ہے۔ت) کے معنی یہی تھے کہ امام طحاوی نے خود بنی ہاشم کو زکوٰۃ حلال مانی تو اب اس سوال کا کون ساموقع اورکیا محل تھا، موالی تو اس فرعیت کی بناء پر داخل ہوئے تھے کہ مولی القوم منھم (کسی قوم کا غلام اُنہی میں سے ہوتاہے۔ت)جب اصول کے لیے جواز ٹھہرا فروع کی نسبت کیا پوچھتا رہا۔
ہشتم : اس سوال کا جواب سُنئے کہ میں فرماؤں گا ہاں یعنی میرے نزدیک موالی بنی ہاشم کو اخذِ زکوٰۃ ممنوع ہے کہ حدیث ابو رافع اسی پر ناطق اور ارشاد امام ابی یوسف موافق اور بقیہ ائمہ سے خلاف نامعلوم، سُبحان اﷲکہاں بنی ہاشم کے لیے زکوٰۃ جائز ماننا اور کہاں اُن کے غلاموں پر حرام جاننا۔
نہم : پھر حدیث ابو رافع تو یونہی تھی کہ:
ان اٰل محمد لا یحل لھم الصدقۃ وان مولی القوم من انفسھم۔۱؎
آلِ محمد (صلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام اُنھی میں سے ہوتا ہے(ت)کیا معنی کہ حدیث کا فرعی حکم اس وجہ سے کہ حدیث وارد ہے اخذ فرمائیں اور اسی حدیث کا اصلی حکم جس پر اس کے ساتھ اور احادیث متواترہ بھی ناطق ترک کرجائیں فافہم ولاتعجل۔
 (۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الزکوٰۃ         باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی       ۱ /۳۵۱)
دہم : جو بنی ہاشم کے لیے جوازمانے اور موالی پر حرام جانے، حدیث ابورافع ہرگز اس کے لیے حجت نہیں بلکہ صاف اس پر منقلب ہے کہ اُس میں مولائے قوم کو حکم قوم میں فرماتے ہیں جب حکم قوم جواز ہے حکم مولیٰ بھی لاجرم جواز ہوگا ورنہ موالی بالذات مستحق تحریم نہیں تو برتقدیر اختیار جواز امام طحاوی کا یہ استدلال بالمخالف ٹھہرتا ہے۔

یازدہم : طرفہ یہ کہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف نے مولیٰ پر زکوٰۃ ناروامانی اور ہمیں اپنے باقی ائمہ سے اسکا خلاف معلوم نہیں، خلاف تو بنابنایا پیشِ نظر ہے کہ جس روایت میں خود بنی ہاشم کو زکوٰۃ روا ہوئی، مولیٰ کے لیے بدرجہ اولیٰ ہوئی، تو لاجرم وہ اس روایت کو نظر سے ساقط اور ناقابلِ اعتداد جانتے ہیں، جب تو علم خلاف کی نفی فرماتے ہیں۔
دوازدہم  :اس کے بعد دوسرا سوال قائم کرتے ہیں کہ بھلا تمھارے نزدیک بنی ہاشم کا تحصیلِ زکوٰۃ پر متعین ہو کر اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے یا نہیں۔ سبحان اﷲ! جب حقیقت زکوٰۃ انھیں جائز کرچکے تو شبہ زکوٰۃ میں کلام کا کیا موقع رہا، اگر امام طحاوی کی وہی مراد ہوتی تو میں ان دونوں سوالوں کی مثال اس سے بہتر نہیں جانتا کہ عالم شافعی المذہب کہے میرے نزدیک بنت الفجور سے نکاح حلال ہے زید پُوچھے بھلا اس کی دختر رضاعی بھی حلال جانتے ہویا نہیں، یا وہ کہے میرے نزدیک زنا موجب حرمت مصاہرت نہیں، زید پوچھے بھلا بے نکاح مس میں کیاکہتے ہو۔ 

یہ چھ دلائل جلائل سیاق میں تھے، اب نفس عبارت پر نظر کیجئے کہ ا س کی شہادت سب سے اتم واکمل و قاطع جدل ہے۔ امام طحاوی نے بنی ہاشم پر مطلق صدقات کی حرمت ثابت کرکے فرمایا: یہ امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف و امام محمد کا مذہب یعنی ان سے ظاہر الروایۃ ہے کہ قول نہیں کہتے مگر ظاہر الروایۃ کو، پھر امام سے اختلاف روایت ذکر کیا اور اول بلفظ روی عنہ کہ صریح ضعفِ روایت پر دلیل ہے وہ روایتِ شاذہ بلا سند ذکر کی پھر بسند متصل نقل کیا کہ امام کا قول مثل قول امام ابو یوسف ہے اور اس پر فرمایا فبھذا ناخذ۔اب دیکھ لیجئے کہ امامِ طحاوی نے امام ابو یوسف کا کیا مذہب بیان فرمایا تھا جس پر حوالہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس سند کے ساتھ امام سے اسی مذہب ابو یوسف کے مطابق پہنچا، آخر وُہ نہ تھا مگر اطلاق تحریم ،تو قطعاً اسی کو بھذا نا خذ فرمارہے ہیں،یہ تو یقیناً معلوم کہ اوپر امام ابو یوسف کا کوئی قول نہ گزرا مگرتحریم، اور یہ بھی نہایت واضح و جلی کہ حوالہ نہیں کرتے ، مگر امر مذکور پر لاجرم ماننا ہوگاکہ اختلافِ روایت بتا کر پہلے لفظ روی عنہ روایت ابوعصمہ روایت کی پھر وحدثنی (مجھے بیان کیا۔ت) سے مذہب تحریم کہ اصول اسی طریق محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ (امام محمد نے امام ابو یوسف سے انھوں نے امام ابو حنیفہ رحمہم اﷲتعالیٰ سے روایت کیا ۔ت)سے مروی رنگ اسناد دیا اور اسی کو بھذا ناخذ ( اسی پر عمل ہے۔ت) سے مذیل کیا، اب سارابیان  اوّل سے آخر تک منتظم و ملتئم ہوگیا اور تمام اعتراضات و استغربات دفعۃً دفع ہوگئے
و اخذ الکلام بعضہ بحجربعض
 (ورنہ یہ تو بعض کلام کو لینا اور بعض کو چھوڑنا ہے۔ت)تامل کیجئے تو کلامِ امام کا یہ وہ یقینی محمل ہے جس کے سوا دوسرا محتمل نہیں اور ہنوز اس کے مؤیدات نفس کلام و دیگر وجوہ سے بکثرت باقی ہیں مثلاً:
سیزدہم :آشنائے کلامِ محدثین جانتا ہے کہ وہ جس قول کو مسنداًلاتے ہیں یا تو سند لکھ کر اُسے بیان فرماتے ہیں وھو الاکثر (اکثر کا طریقہ یہی ہے۔ت) یا قول بیان کرکے سند یُوں ذکر کرتے ہیں کہ
حدثنی بذلک فلان عن فلان یا حدثنی فلان عن فلان مثلہ
 (مجھے فلاں سے فلاں نے بیان کیا فلاں نے فلاں سے اسی کی مثل بیان کیا۔ت) تاکہ اسناد مسند سے مرتبط ہوجائے نہ یُوں کہ بالکل تغایر وانقطاع رہے کہ
روی عن ابی حنیفۃ کذاوحدثنی فلان عن ابی حنیفۃ
 (امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے اور مجھے فلاں نے امام ابو حنیفہ سے فلاں کی مثل قول کیا ہے ۔ت)
چہادہم :اگر ایسا ہی مانئے تو ضرور ہے کہ قولِ ابی یوسف بھی جواز ہو حالانکہ قولِ ابی یوسف قطعاً تحریم ہے بلکہ قول درکنار شاید اُن سے کوئی روایت شاذہ بھی مثل روایت نوح نہیں۔

پانزدہم خود امام طحاوی چند سطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ قول ابی یوسف موالی پر بھی تحریم ہے نہ کہ خود اصول کے لیے جواز۔ 

شانزدہم اور چند سطر بعد فرمایا قول ابی یوسف میں ہاشمی کو شبہ زکوٰۃ روا نہیں یعنی اپنے عمل کی اُجرت مالِ زکوٰۃ سے لینا،پھر اجازت حقیقت چہ معنیٰ، تو لاجرم قول ابی یوسف وہی تحریم ہے اور اس سند کا متن اسی پر محول ، اور وہی بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ت)سے مذیل۔
ہفد ہم  :  اوپر سُن چکے کہ روایتِ جواز روایت نوح ابن ابی مریم ابو عصمہ مروزی تلمیذ امام ابو حنیفہ و امام ابی لیلیٰ و کلبی ہے اور امام طحاوی اپنی روایت اپنی روایتِ مختارہ کو بطریق سلسلۃ الذہب محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ (امام  محمد  نے امام ابو یوسف سے اور انھوں نے ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے۔ت) روایت فرماتے ہیں اگر وہی روایت اس طریق سے مروی ہوتی روی ابو یوسف عن ابی حنیفۃ (امام ابو یوسف نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا۔ت)کہا جاتا ،نہ روی ابوعصمۃ (شیخ ابو عصمہ نے روایت کیا۔ت)کہ مہر عالم افروز کو چھوڑکر چراغ کی طرف نہیں جاتے نہ ہرگز فقہاء کا داب کہ امام کی وُہ روایتیں جو بطریق صاحبین مروی ہیں کسی اور کے نام سے منسوب کیاکریں خصوصاً وُہ صاحب بھی ایسے کہ جن کی نسبت کلامِ ائمہ معلوم ہے، نہیں نہیں بلکہ بیشک یہ روایت جسے بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ت) فرمایا، انہی روایاتِ اصول سے ہے جواس طریقہ انیقہ صاحبین سے آتی ہیں۔ یہ مجموع اٹھارہ باتیں تو اس نفس عبارت میں ہیں جن کے بعد ان شاء اﷲتعالیٰ وضوحِ حقیقۃ الامر میں اصلاً مجالِ کلام نہیں اس کے سوا بعض دلائل قاہرہ وباہرہ اسی شرح معانی الآثار کے دوسرے مقام سے سُنیے جس سے یہ بھی ثابت ہُوا کہ امام طحاوی اُس روایت مردودہ کے اصل مبنی یعنی بنی ہاشم کے لیے خمس الخمس عوض صدقات ہونے ہی کا بہ نہایت شدومد انکارِ بلیغ فرماتے ہیں کتاب وجوہ الفیئ وخمس المغانم میں ایک قول فرمایاکہ بعض کے نزدیک آیہ کریمہ میں ذوی القربیٰ سے صرف بنی ہاشم مراد ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے جبکہ ان پر صدقہ حرام کیا یہ خمس کا حصہ اس کا عوض دیا، پھر اس کا رَد فرماتے ہیں کہ:
ان قولھم ھذا عندنا فاسد لان رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم لما حرمت الصدقۃعلی بنی ہاشم قد حرمھا علی موالیھم کتحریمہ ایاھا علیہم وتواترت عنہ الاٰثار بذٰلک۔۱؎
علماء کا قول ہے کہ یہ ہمارے نزدیک فاسد ہے کیونکہ رسول اﷲصلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم نے جب صدقہ بنو ہاشم پر حرام فرمایا تو آ پ نے ان کے غلاموں پر بھی اسی طرح حرام فرمایا جس طرح بنو ہاشم پر حرام ہے اور اس پر آپ سے متو اتر آثار ہیں۔(ت)
 ( ۱؎ شرح معانی الآثار         کتاب وجوہ الفیئ الخ             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۲ /۱۸۴)
پھر احادیث ابن عباس وابو رافع و ہرمزیاکیسان رضی اﷲتعالیٰ عنہم ذکر کر کے فرمایا:
فلما کانت الصدقۃ المحرمۃ علیٰ بنی ھاشم قددخل فیھم موالیھم ولم یدخل موالیھم معھم فی سھم ذوی القربی باتفاق المسلمین ثبت بذٰلک فساد قول من قال انما جعلت لذی القربیٰ فی اٰیۃ الفیئ وفی اٰیۃ خمس الغنیمۃ بدلا مما حرم علیہم الصدقۃ۔۲؎
صدقہ کی حرمت میں بنوہاشم کے ساتھ ان کے غلام بھی شامل تو ہیں مگر ذوی القربیٰ کے حصّہ میں بالاتفاق بنو ہاشم کے ساتھ شامل نہیں اس سے ان لوگوں کے قول کا فساد واضح ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ایک آیت فیئ اور آیت خمسِ غنیمت میں جو کچھ حضور کے رشتہ داروں کے لیے مقرر کیا گیا یہ اس صدقہ کے عوض ہے جو اُن پر حرام کردیا گیا ہے (ت)
 (۲؎ شرح معانی الآثار         کتاب وجوہ الفیئ الخ             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۲ /۱۸۴)
پھر دوسری دلیل نظری سے اس عوض ہونے کا فساد ثابت کرکے فرمایا:
فدل ذٰلک ان سھم ذوی القربیٰ لم یجعل لمن لہ خلفا من الصدقۃ التی حرمت علیہ۔۱؎
یہ اس پر دال ہے کہ ذوی القربیٰ کا حصہ جن لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ ان پر حرام کردہ صدقہ کا عوض نہیں۔(ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار  ،کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم،ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی،۲ /۱۸۴)
پھر تصریح کی کہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہے اور اسے احادیثِ متعددہ سے ثابت فرما کر ارشاد کیا:
افلا یری ان الصدقۃ التی تحل لسائر الفقراء من غیر بنی ھاشم من جہۃ الفقر لاتحل لبنی ھاشم من حیث تحل لغیرھم فکذٰلک الفیئ الغنیمۃ لوکان مایعطون منھا علی جہۃ الفقر اذا لماحل لھم۔۲؎
کیا وہ یہ ملا حظہ نہیں کرتے کہ بنو ہاشم کے علاوہ فقر کی وجہ سے تمام فقراء کے لیے صدقہ حلال ہے ، لیکن بنوہاشم پر اس علت کی بنا پر حلال نہیں جس کی بنا پر اوروں کے لیے حلال ہے تو اسی طرح فیئ اور غنیمت، اگر یہ فقر کی وجہ سے انھیں عطا کئے جائیں تو یہ بھی ان کے لیے حلال نہ ہونگے۔ (ت)
 (۲؎ شرح معانی الآثار         کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲ /۱۹۴)
Flag Counter