Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
56 - 198
اب نہ رہا مگر امام اجل سیدی ابوجعفر طحاوی رحمۃاللہ علیہ کا بہ ناخذ (ہمارا اس پر عمل ہے)فرمانا اقول : وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہُوں اور توفیق اﷲتعالٰی سے ہے ۔ت)اگر مان بھی لیا جائے کہ امام طحاوی اسی روایتِ شاذہ کو اختیار فرماتے ہیں تاہم معلوم ہے کہ اُن کے لیے بعض اختیارات مفردہ ہیں کہ بترک مذہب ان پر عمل کے کوئی معنیٰ  نہیں ان کی جلالتِ شان بیشک مسلّم مگر عظمت قاہر ہ اصل مذہب چیزے دیگر ست، پھر اطباقِ احادیث پھر اتفاق متون پھر احقاق جماہیرائمہ ترجیح و فتیا ایسی شئی نہیں جس کا پلّہ اختیارمفرد امام طحاوی کے باعث گر سکے آخر ائمہ کرام نے ان کا بہ ناخذ(ہمارا اسی پر عمل ہے۔ت) فرمانا دیکھا ، پھر کیا باعث کہ اصلاً اُدھر التفات نہ فرمایا، غرض خادم فقہ جانتا ہے کہ ایسی روایت مرجوحہ مجروحہ جو نہ روایۃ معتمد نہ درایۃ مؤید، صرف ایک اختیار کی بنا پر جسے جمیع متون وسائر مرجحین نے مقبول نہ رکھا ہر گز صالح تعویل نہیں ہوسکتی، یہ سب اس تقدیرپر ہے کہ امام طحاوی کا روایتِ جواز کو اختیار فرمانا تسلیم کرلیں ورنہ فقیر غفراﷲتعالیٰ لہ کے نزدیک اگرکلام امام طحاوی کی طرف بنظرِ غائر عطف عنان ہوتو اِن شاء اﷲتعالیٰ سپیدہ صبح کی طرح ظاہر وعیاں ہوکہ وہ قطعاً ظاہر الروایۃ ہی کو بہ ناخذ (اسی پر ہمارا عمل ہے۔ت)فرمارہے ہیں اگر چہ یہ وُہ نئی بات ہے جسے سُن کر بہت علمائے زمانہ سخت تعجب فرمائیں گے کہ کفایہ و شرح نقایہ قہستانی و مراقی الفلاح وغمزالعیون و درمنتقی ومجمع الانہر وحاشیہ طحطاوی وعقود دریہ وغیرہا متعدد کتابوں میں امام طحاوی کی طرف اختیار جواز کی نسبت مصرح، مگر کیا کیجئے کہ اتباع نظر خواہی نخواہی فقیر کو ایضاح حقیقۃ الامر پر مجبور کرتاہے
فاستمع لما یتلی علیک
 ( کی جانے والی گفتگو کو اچھی طرح ملاحظہ کیجئے۔ت)امام اجل طحاوی نے اپنی کتاب مستطاب شرح معانی الآثار کی کتاب الزکوٰۃ میں پہلا باب لاصدقہ علی بنی ہاشم وضع فرمایااور اس میں ایک حدیث نقل کرکے ارشاد کیا کچھ لوگ اس کی بناء پر بنی ہاشم کے لیے صدقہ جائز رکھتے ہیں پھر اُن کے تمسک کا جواب شافی دیا پھر حدیثِ فدک سے اُن کا استناد ذکر کرکے اُس کا بھی جواب کافی تحریر کیا پھر فرمایا:
قد جاءت ھذہ الاثار عن رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم متواترۃ بتحریم الصدقۃ علیٰ بنی ھاشم۔۱؎
ان آثار کے بعد رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر طور پر احادیث سے ثابت ہے کہ بنو ہاشم پر صدقہ حرام ہے۔(ت)
 ( ۱؎ شرح معانی الآثار   کتاب الزکوٰۃ     باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ /۳۴۹)
پھر احادیث امام حسن مجتبیٰ وعبداﷲبن عباس وعبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث و سلمان فارسی وابو رافع وہرمزیا کسیان ورشیدبن مالک وابی لیلیٰ وبریدہ اسلمی وانس بن مالک ودوحدیث ابی ہریرہ ودوحدیث معٰویہ بن حیدہ قشیری رضوان اﷲتعالیٰ علیہم اجمعین چودہ حدیثیں حضورپُر نور سیّدعالم صلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم سے باسانید کثیرروایت کرکے فرمایا:
فھذہ الاثار کلھا قد جاءت بتحریم الصدقۃ علی بنی ہاشم لانعلم شیأ نسخھا ولا عارضھا الاماقدذکرناہ فی ھذاالباب ممالیس فیہ دلیل علیٰ مخالفتھا۔۲؎
یہ تمام آثار بنو ہاشم پر صدقہ کی حرمت پر شاہد ہیں، ہمیں ان کے منسوخ ہونے یا انکے مقابل روایات کا علم نہیں مگر جو کچھ ہم نے اس باب میں ذکر کیا ہے وُہ کوئی ایسی دلیل نہیں جو ان آثار کی مخالفت پر ہو۔(ت)
 (۲؎ شرح معانی الآثار ،کتاب الزکوٰۃ ،باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ /۳۵۲)
پھر حدیثاًو فقہاً اس مذہب کو مدلّل کیا کہ زکوٰۃ تو زکوٰۃ صدقہ نافلہ بھی بنی ہاشم پر حرام ہے اُن کے فقراء بعینہ حکمِ اغنیاء رکھتے ہیں، جو غنی کے لیے جائز ہے انھیں بھی مباح ہے اور جو غنی کو حلال نہیں اُنھیں بھی روا نہیں، پھر فرمایا:
ھذا ھو النظر فی ھذاالباب وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمہم اﷲتعالیٰ۔۳؎
اس باب میں یہی دلیل ہے اور یہی امام ابو حنیفہ، امام ابویوسف اورامام محمد رحمہم اﷲتعالیٰ کا قول ہے(ت)
 (۳؎ شرح معانی الآثار  ،کتاب الزکوٰۃ ،باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ /۳۵۲)
اس کے بعد اس روایت کا یوں ذکر فرمایا کہ:
قد اختلف  عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالیٰ فی ذٰلک فروی انہ قال لا باس بالصدقات کلھا علیٰ بن ھاشم وذھب فی ذٰلک عندنا الی ان الصدقات انما کانت حرمت علیہم من اجل ماجعل لھم فی ا لخمس من سھم ذوی القربیٰ فلما انقطع ذلک عنہم ورجع الیٰ غیرہم بموت رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم حل لھم بذٰلک ما قد کان محرما علیہم من اجل ماقد کان احل لھم وقد حدثنی سلیمان بن شعیب عن ابیہ عن محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ فی ذٰلک مثل قول ابی یوسف فبھٰذا ناخذ۔۱؎
امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالےٰ سے مختلف روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ بنو ہاشم پر تمام صدقات خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس میں ہمارے ہاں دلیل یہ ہے کہ صدقات بنی ہاشم پر حرام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خمس کے ذوی القربیٰ کے حصہ میں سے پانچوں حصہ ان کا ہوتا تھا، رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ان کا  وہ حصہ  منقطع  ہو کر غیر کی طرف چلا گیا تو اب ان کے لیےوُہ حلال ہوجائے گا جو ان پر حرام ہُواتھا اس وجہ سے کہ ان پر خمس حلال تھا، مجھے حدیث بیان کی سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے انھوں نے محمد سے انھوں نے ابویوسف سے انھوں نے امام ابوحنیفہ سے اس سلسلہ میں ابو یوسف کے قول کے مطابق نقل کیا ہے پس اس کے ساتھ ہی ہمارا عمل ہے۔(ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار ،کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی بنی ہاشم ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،۱ /۳۵۲)
پھر فرمایا:
فان قال قائل افتکرھھا علی موالیھم قلت نعم لحدیث ابی رافع ن الذی قد ذکرنا ہ فی ھذا الباب وقد قال ذٰلک ابویوسف رحمہ اﷲتعالیٰ فی کتاب الاملاء وما علمت احدا من اصحابنا خالفہ فی ذلک۔۲؎
اگر کوئی سوال اٹھائے کہ بنو ہاشم کے والی کے لیے مکروہ ہے تو میں کہوں گا ہاں اس حدیث کی وجہ سے جو ابورافع سے مروی ہے اور ہم نے اس باب میں اسے ذکر کردیا ہے، اور یہی بات امام ابو یوسف رحمہ اﷲتعالیٰ نے کتاب الاملاء میں کہی ہے اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے اس کی مخالفت کی ہو۔(ت)
 (۲؎ شرح معانی الآثار     کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی بنی ہاشم         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱ /۳۵۲)
پھر فرمایا:
فان قال قائل افتکرہ للھاشمی ان یعمل علی الصدقۃ قلت لا وقد کان ابویوسف یکرہ اذا کانت جعالتھم منھا وخالف ابا یوسف اٰخرون فقالوالاباس ان یجتعل منھا الھاشمی لانہ انما یجتعل علی عملہ وذٰلک قد یحل للاغنیاء فلا یحرم علی بنی ھاشم الذین یحرم علیہم الصدقۃ وقد روی عن رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فیما تصدق علیٰ بریرۃ انہ اکل منہ(ثم اسند الطحاوی فی ذٰلک احادیث عن امھات المؤمنین عائشۃ وجویریۃ وام سلمۃ وعن ابن عباس وام عطیۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہم ثم قال) فلما کان ماتصدق بہ علی بریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنھا جائزاللنبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اکلہ لانہ انما ملکہ بالھدیۃ جاز ایضاللھاشمی ان یجتعل من الصدقۃ لانہ انما یملکہ بعملہ لا بالصدقۃ فھذاھو النظروھواصح مما ذھب الیہ ابو یوسف رحمہ اﷲتعالیٰ فی ذلک اھ ۱؎ملخصاً۔
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ہاشمی کے لیے صدقات کیلئے عامل بننا مکروہ ہے تومیں کہوں گا کہ نہیں، امام ابویوسف ان کی تنخواہ کوصدقات میں مکروہ کہتے ہیں، لیکن دوسرے لوگوں نے امام ابویوسف کی مخالفت کرتے ہُوئے کہا کہ ہاشمی کو اس میں تنخواہ ووظیفہ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ اس کے عمل و محنت پر دیا جارہا ہے اور یہ تو اغنیاء کے لیے بھی جائز ہے تو اب ان بنوہاشم پر یہ کیسے حرام ہوسکتا ہے جن پرصدقہ حرام تھا، رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے صدقہ بریرہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے اس سے تناول فرمایا(پھر اس کے بعد امام طحاوی نے سند کے ساتھ امہات المومنین حضرت عائشہ، حضرت جویریہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ابن عباس اور حضرت ام عطیہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے احادیث ذکر کیں، پھر کہا)حضرت بریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا پر کئے گئے صدقہ کا تناول کرنا رسالتمآب صلی اﷲعلیہ وسلم کے لیے جائز تھا کیونکہ آپ بطور ہدیہ اس کے مالک قرار پائے تو اب ہاشمی کے لیے بھی صدقہ بطور وظیفہ جائز ہوگا، کیونکہ وہ عمل کی وجہ سے اس کا مالک بن رہا ہے نہ کہ صدقہ کی بنا پر۔ بس یہ اس میں نظر ہے اور یہی مختار ہے اور یہ اس معاملہ میں اقوال ابویوسف رحمہ اﷲتعالیٰ میں سے اصح ہے اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎شرح معانی الآثار     کتاب الزکوٰۃ         باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱ /۵۳-۳۵۲)
Flag Counter