ثمّ اقول (پھر میں کہتا ہُوں۔ت) یہ جواب ہی اس وقت ہے جبکہ ہمیں خمس الخمس کا بایں معنی عوض صدقات ہونا مسلّم ہوکہ اگر تحریم صدقات نہ ہوتی تقریر خمس الخمس عمل میں نہ آتی اور یہ بے شک محلِ کلام ہے نہ اس پر کوئی دلیل قائم، ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریمِ صدقہ و تقریر سہم دونوں مستقل کرامتیں ہیں کہ حق عزمجدہ نے اہلبیت کرام کو عطا فرمائیں، اور لفظ، تعویض اوّل تو کسی حدیثِ ثابت سے اس وقت فقیر کے خیال میں نہیں
وما فی کتب الفقہ عوضکم منھا بخمس الخمس فغیر معروف کما صرح المخرجون
(یہ جو کتبِ فقہ میں ہے کہ صدقہ کے عوض خمس الخمس ہے تو یہ غیر معروف ہے جیسا کہ اصحابِ تخریج نے تصریح کی ہے۔ت) اور ہوبھی تو کھلا ہوا محاورہ دائرہ سائرہ ہے کہ ایک شئی جاکر جو دوسری ملتی ہے اسے اس کا عوض کہتے ہیں اگرچہ اُن میں ایک کا حصول دوسرے کے زوال پر موقوف ہو نہ ایک کا زوال دوسرے کے حصول کو مستلزم،
کما ان من مات لہ ولد ثم ولد اٰخر احسن منہ یقال لہ نعم البدل وکما ان من طلق امرأۃ یدعو ربہ ان ابد لنی خیرا منھامع ان الوالدین و المرأتین کان یمکن ان یجتمعا والعوض والمعوض لا یجتمعان۔
جیسا کہ کسی شخص کا ایک بیٹا فوت ہوگیا ہو پھر اس سے اچھا دوسرا بیٹا پیدا ہوتو اسے نعم البدل کہا جاتا ہے ___اور جس طرح کوئی شخص عورت کو طلاق دیتا ہے اور اپنے رب سے دُعا کرتا ہے کہ مجھے اس کے بدلے بہتر بیوی عطا فرما، باوجودیکہ دونوں بیٹوں اور دونوں بیویوں کا اجتماع ممکن ہے حالانکہ عوض اور معوض دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ (ت)
تو ہمیں ہرگز مسلّم نہیں کہ یہاں معاوضت عرفیہ کے سوا معاوضت مصطلحہ مراد ہوجس کی بنا پر ایک سقوط سے دوسرے کا عود(عہ)چاہیں۔
(عہ)حاصل یہ کہ اوّلاً معاوضت مصطلحہ مراد ہونا محل کلام ہے اور اثبات، ذمہ مستدلین، ثانیاً عوضین میں مانعۃ الجمع ہونا ضرور ہے نہ منفصلہ حقیقہ کو منع خلو بھی لازم ہو اور تمام استدلال اسی پر موقوف، واﷲتعالیٰ اعلم ۱۲منہ غفرلہ(م)
لاجرم ظاہر الروایۃ میں ہمارے ائمہ ثلاثہ بالاجماع بنی ہاشم پر تحریم صدقات فرماتے ہیں کافہ متون علی الاطلاق اسی پر ماشی اور اجلّہ محققین اہل شروح و فتاوٰی وارباب تصحیح و فتوی مثل امام برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ و امام فقیہ النفس قاضیخاں و امام طاہر صاحبِ خلاصہ وامام نسفی صاحبِ کافی وغیرہم رحمہ اﷲتعالیٰ علیہم بے اشعار خلاف اس پر جازم کہ مسئلہ میں کوئی روایتِ مرجوحہ مخالفہ آنے کی بوبھی نہیں دیتے قابلِ التفات سمجھنا تو درکنار اور جن بعض نے اس کا ذکر کیا ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ مذہب کے خلاف اور ظاہر الروایۃ سے جدا ہے جس کے حاکی فقط نوح جامع ہیں،محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:
اقول : فلا علیک مما فی قول النتف المنقول فی السوال من الایھام۔
اقول(میں کہتا ہوں)النتف میں جو کچھ منقول ہے اس سے وہم نہیں ہونا چاہئے۔(ت)
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ کے خلاف ہے ہمارے ائمہ کا قول نہیں بلکہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ پر عمل ناجائز۔
امام خیر الدین رملی عالمِ فلسطین اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :
ھذا ھو المذ ہب الذی لا یعدل عنہ الی غیرہ وما سواہ روایات خارجۃ عن ظاہر الروایۃ، وما خرج عن ظاہر الروایۃ، وما خرج عن ظاہرالروایۃ فہو مرجوع عنہ لما قررہ فی الاصول من عدم امکان صدورقولین مختلفین متساویین من مجتہد والمرجوع عنہ لم یبق قولالہ کما ذکروہ وحیث علم ان القول ھو الذی تواردت علیہ المتون فھو المعتمد المعمول بہ الخ ۱؎
یہ وُہ مذہب ہے جس کے غیر کی طرف عدول جائز نہیں،اس کے علاوہ دیگر روایات ظاہرالروایۃ سے خارج ہے، اور جو ظاہر روایت سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہوتا ہے کیونکہ اصول میں مسلّمہ ہے کہ کسی مجتہد سے دو۲ مختلف مساوی اقوال صادر نہیں ہوسکتے لہذا مرجوع عنہ مجتہد کا قول نہیں رہے گا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے اور جب علم ہوجائے کہ فلاں قول متون میں برابر نقل ہورہا ہے تو وہی معتمد، اور اسی پر عمل کیا جائے گا الخ (ت)
(۱؎فتاویٰ خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۳۳)
اسی طرح بحر الرائق کی کتاب القضا میں ہے درمختار میں ہے:
المجتہد اذا رجع عن قول لا یجوز الاخذبہ۔۲؎
جب مجتہد کسی قول سے رجوع کرے تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں رہتا۔(ت)
(۲؎درمختار ، فصل فی البئر ، مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۴۱)
یوں ہی بحر کی کتاب الطہارۃ میں لکھ کر فرمایا:
کما صرح بہ فی التوشیح۳؎
(جیسا کہ توشیح میں اس پر تصریح ہے۔ت)
(۳؎ بحر الرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۳۸)