Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
54 - 198
رسالہ 

الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ہاشم (۱۳۰۷ھ)

(بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
مسئلہ ۱۲۸: مرسلہ مولوی حافظ محمد امیر اﷲصاحب مدرس اوّل عربیہ اکبریہ جمادی الاولیٰ ۱۳۰۷ھ

کیا فرمائے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بنی ہاشم کو زکوٰۃ و صدقہ واجبہ دینا بجہت سقوط خمس الخمس جائزہے یا نہیں؟کفایہ میں ہے:
قولہ ولا یدفع الیٰ بنی ہاشم وفی شرح الاثار للطحاوی رحمہ اﷲتعالیٰ عن ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ لا باس با لصدقات کلھا علی بنی ھاشم والحرمۃ فی عھد النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام للعوض وھو خمس الخمس، فلما سقط ذٰلک بموتہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم حلت لھم الصدقۃ وفی النتف یجوز الصرف الیٰ بنی ہاشم فی قولہ خلافا لھما، وفی شرح الاٰثار ،الصدقۃ المفر وضۃوالتطوع محرمۃ علی بنی ھاشم فی قولھما وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالیٰ روایتان فیھا قال الطحاوی رحمہ اﷲتعالیٰ وبالجواز ناخذ انتھی۔ ۱؎ بینواتوجروا
قولہ بنی ہاشم کو زکوٰۃ نہ دی جائے، شرح الاثار للطحاوی رحمہ اﷲتعالیٰ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے بنو ہاشم پر تمام صدقات کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ حضورعلیہ السلام کی ظاہری حیات میں خمس الخمس کی وجہ سے حرام تھے، جب آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کی وجہ سے خمس الخمس ساقط ہوگیا تو ان کے صدقات حلال ٹھہرے اور النتف میں ہےکہ امام صاحب کے نزدیک صدقات کو بنی ہاشم پر خرچ کیا جاسکتا ہے مگر صاحبین کو اس میں اختلاف ہے۔ شرح الآثار میں ہے کہ صاحبین کے قول کے مطابق فرض و نفل صدقہ بنو ہاشم پر ناجائز ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالیٰ سے اس بارے میں دو۲ روایات ہیں، امام طحاوی نے فرمایا کہ ہم جواز پر عمل کریں گے انتہی۔ بینو اتوجروا(ت)
 (۱؎ الکفایۃ مع فتح القدیر  ،باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لایجوز ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۱۱تا۲۱۳)
الجواب :اللھم لک الحمد اَلھِم الصواب
 (اے اﷲ! حمد تیرے ہی لیے ہے، اے اﷲ! درستگی عطا فرما۔ت) بنی ہاشم کو زکوٰۃ و صدقات واجبات دینا زنہار جائز نہیں، نہ انھیں لینا حلال۔ سید عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس کی تحریم میں آئیں،ا ور علتِ تحریم ان کی عزّت و کرامت ہے کہ زکوٰۃ مال کا مَیل ہے اور مثل سائر صدقاتِ واجبہ غاسل ذنوب ،تو ان کا حال مثل ماءِ مستعمل کے ہے جو گناہوں کی نجاسات اور حدث کے قاذورات دھو کر لایا اُن پاک لطیف سُتھرے لطیف اہلبیت طیب و  طہارت کی شان اس سے بس ارفع و اعلیٰ ہے کہ ایسی چیزوں سے آلودگی کریں، خود احادیثِ صحیحہ میں اس علّت کی تصریح فرمائی،
احمد ومسلم عن المطلب بن ربیعۃ عن الحارث رضی اﷲتعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان الصدقۃ لا تنبغی لاٰل محمد انما ھی اوساخ الناس،۲؎
مسند احمد اور مسلم میں ہے کہ مطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ آلِ محمد کیلئے جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں (کے مال) کی مَیل ہے۔
 (۲؎صحیح مسلم         کتاب الزکوٰۃ باب تحریم الزکوٰۃ علی رسول اﷲالخ        قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۴)
الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما انہ لا یحل لکما اھل البیت من الصدقات شئی ولا غسالۃ الا یدی،۳؎ ھذا مختصرا،
طبرانی میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اے اہلبیت! تمھارے لیے صدقات میں سے کوئی شئے حلال نہیں اور نہ ہی لوگوں کے ہاتھوں کی مَیل، یہ مختصراً ہے،
(۳؎المعجم الکبیر         مروی از عبداﷲابن عباس رضی اﷲعنہ             المکتبۃ الفیصلیہ بیروت        ۱۱ /۲۱۷)
الطحاوی عن علی کرم اﷲتعالیٰ عنہ قال قلت للعباس سل النبی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم یستعملک علی الصدقات فسألہ فقال ما کنت لا ستعملک علی غسالۃ ذنوب الناس۔۱؎
طحاوی میں حضرت علی کرم اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عباس سے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے گزارش کرو تاکہ تمھیں آپ صدقات کے لیے عامل مقرر فرمادیں تو حضرت عباس نے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: میں تجھے لوگوں کے گناہوں کی مَیل پر عامل نہیں بناسکتا۔(ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار         کتاب الزکوٰۃ         باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۵۲)
اسی طرح کلماتِ علماء میں اس تعلیل کی بکثرت تصریحیں ہیں، رہاخمس الخمس اقول وباﷲالتوفیق اس کی تقریر، تحریمِ صدقات سے ناشی تھی نہ کہ تحریمِ صدقات اس کی تقریر پر مبتنی ہو،
فان اﷲتعالیٰ لما حرم علیہم الصدقات رزقھم خمس الخمس لان اﷲتعالیٰ لما رزقھم ذٰلک حرم علیہم الصدقات حتی لولم یسھم لھم ذلک لم یحرم علیہم غسالۃ السیأت وھل من دلیل علی ذلک بل الدلیل نا طق بخلافہ وبعد تحریری ھذاالمحل وجدت بحمد اﷲنصاعن الامام المجتہد التابعی مجاہد رحمہ اﷲتعالیٰ ان تقریر خمس الخمس مبتن علی تحریم الصدقۃ فقد روی ابن ابی شیبۃ والطبرانی عن خصیف ف عن مجاہد قال کان اٰل محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم لاتحل لھم الصدقۃ فجعل لھم خمس الخمس اھ ۲؎ ۔
کیونکہ اﷲتعالیٰ نے بنو ہاشم پر صدقات حرام فرمائے تو ان کے لیے خمس الخمس کو رزق کا ذریعہ بنایا، نہ یہ کہ جب خمس الخمس انھیں عطا فرمایا تو ان پر صدقات حرام فرمادئے حتی کہ اگر ان کے لیے یہ حصّہ نہ ہوتا تو ان پر گناہوں کی مَیل حرام نہ ہوتی اور اس پر کوئی دلیل ہے؟ بلکہ اس کے خلاف دلیل ناطق ہے۔ فقیر نے جب یہ اس مقام پر لکھا تو پھر بحمداﷲ مجتہد تابعی امام مجاہد رحمہ اﷲتعالیٰ سے میں نے یہ تصریح  پائی کہ خمس الخمس کا اثبات تحریم صدقہ کی بنا پر ہے، محدّث ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے خصیف سے اور انھوں نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حلال نہ تھا لہذا ان کے لیے خمس الخمس رکھا گیااھ(ت)
ف:  ابن ابی شیبہ میں بطریق حصین عن مجاہد مروی ہے
وفی ن خصیف انظر حاشیۃ مصنف ابن ابی شیبۃ صفحہ مذکورہ بالا۔ نذیر احمد سعیدی )
 (۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ  کتاب الزکٰوۃ ،من قال لا تحل الصدقۃ علی بنی ہاشم،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی  ۳ /۲۱۵)
اور سقوط عوض سے رجوع معوض وہیں ہے جہاں زوال معوض حصول عوض پر موقوف ہو،
کما فی البیع اذا سلم المشتری الثمن وھلک المبیع فی ید البائع رجع بالثمن لان زوال الحق عن الثمن کان موقوفا علی حصول المبیع فاذالم یسلم المبیع عادالحق فی الثمن۔
جیسا کہ بیع میں ہے جب مشتری رقم سپرد کردے اور مبیع، بائع کے قبضہ میں ہلاک ہوگیاتو مشتری ثمن واپس لے سکتا ہے کیونکہ ثمن سے حق کا زوال، حصول مبیع پر موقوف تھا تو جب بائع نے مبیع سپرد نہ کیا تو حقِ ثمن لوٹ آئے گا۔(ت)
بخلاف اس کے کہ زوال معوض کسی اور علّت سے معلل ہو تو جب تک وُہ علّت باقی رہے گی زوال معوض بیشک رہے گا اگر چہ حصول عوض ہو یا عوض ہی ساقط ہوجائے۔
والالزم تخلف المعلول عن علتہ وذٰلک کالمریض سقطت عنہ فرضیۃ الوضوء لعلۃ الضر روعوض عنہا بفرض التیمم، فان سقط التیمم ایضا لعدم وجد ان الصعید الطیب مثلا لا تعود فرضیۃ الوضوء قطعا لبقاء الضرر المقتضی لسقوطھا فاذن یسقطان جمیعا کذا ھذا۔
ورنہ معلول کا علّت سے تخلّف لازم آئے گا اور یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی مریض جس سے کسی ضرر کی بناء پر فرضیتِ وضو ساقط تھی اوراس کے عوض تیمم تھا اب اگر پاک مٹّی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم بھی ساقط ہوجاتا ہے تو فرضیتِ وضو قطعاًلوٹ کر نہیں آئے گی اس ضرر کے باقی ہونے کی وجہ سے جس سے وُہ ساقط ہوتی تھی تو اب دونوں(وضواور تیمم) کا اجتماعی طور پر سقوط ہوجائیگا، اسی طرح یہاں ہے(ت)
Flag Counter