مسئلہ۱۲۲ :مرسلہ مولوی نیاز محمد خاں بدایونی وارد حال مانو گاچہ ملک پیراک ۲ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
فطرہ کا پیسہ کون کون سے کام میں صرف ہوسکتا ہے اور کس کس شخص کو دیا جاسکتا ہے؟
الجواب :فطرہ کے مصارف بعینہٖ مصارف ِزکوٰۃ ہیں، واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۲۳: از بریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد مرسلہ جناب الطاف علی صاحب ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو باوجود بیوہ اور یتیم ہونے کے کچھ نہ دے اور وہ تکالیف اٹھاتی ہوں اس حالت میں اگر زید صاحبِ نصاب ہو اور زکوٰۃ صدقہ ادا کرے تو وہ قبول ہوگا یا نہیں؟اور زید کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب : زید کی ماں اگر کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی تو اس کا نفقہ زید پر فرض ہے یُوں ہی یتیم بہن کہ جس کی شادی نہ ہوئی ہو،نہ اس کے پاس کچھ مال ہو، ان کو نہ دینے سے اس پر گناہِ عظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا:
کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔۲؎
آ دمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وُہ ایسے لوگوں کو محروم رکھے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہو۔(ت)رہی زکوٰۃ، وہ ماں کو نہیں دے سکتابہن کو دے اور ماں کی خدمت اپنے پاس سے کرے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
(۲؎ سنن ابی داؤد ،کتاب الزکوٰۃ،باب فی صلۃ الرحم ،آفتاب عالم پریس لاہور ،۱ /۲۳۸)
( مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲبن عمرو دارالفکر بیروت ۲ /۱۶۰،۱۹۴،۱۹۵)
مسئلہ ۱۲۴: ازکاٹھیاواڑ مولوی سیف اﷲصاحب پیش امام حبت پور ۲۷ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
زکوٰۃ کاروپیہ کوئی مسلمان قبضہ کرکے جوخود بھی مستحقِ زکوٰۃ ہوتوسیعِ مسجد میں صرف کرے تو جائز ہے یا کس صورت سے؟بینواتوجروا
الجواب :زکوٰۃ دہندہ نے اگر زرِ زکوٰۃ مصرف زکوٰۃ کو دے کر اس کی تملیک کردی تواب اُسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوٰۃ اس کی تملیک سے ادا ہوگئی، یُوں ہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہو میری زکوٰۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیتِ زکوٰۃ لے لیا، اس کے بعد مسجد میں لگادیا تو یہ بھی صحیح وجائز ہے، یونہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ نکال کر رکھا تو فقیر نے بے اس کی اجازت کے لے لیا اور مالک نے بعداطلاع اس کا لینا جائز کردیا اور اس کے بعد فقیر نے مسجد میں صَرف کیا تو یہ بھی صحیح ہے،اور اگر فقیر نے بطور خود قبضہ کرلیا اور مالک نے اُسے جائز نہ کیا یا بعد اس کے کہ یہ مسجد میں لگا چُکا،جائز کیا، تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ یونہی اگر مالک نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیک نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵ :ازمقام ترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمد داؤد صاحب یکم جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
فی زمانہ سیّدوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، فاقوں تک بعض کی نوبت پہنچی ہے، ایسی صورت میں زکوٰۃ لینا یا بغیر اس عذر کے بھی زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :سیّدکو زکوٰۃ لینا دینا حرام ہے اور اسے دئے زکوٰہ ادا نہیں ہوتی، اور فاقوں پر نوبت اگر اس بنا پر ہو کہ نوکری یا مزدوری پر قدرت ہے اور نہیں کرنا چاہتا تو یہ فاقہ بھی عذر نہیں ہوسکتا کہ یہ اپنے ہاتھ کا ہے کیوں نہیں کسبِ حلال کرتا، اور اگر واقعی کسب پر قادرنہیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کی اعانت کریں، اور اگر لوگ بے پروائی کریں اور اُسے کوئی ذریعہ رزق کا سوا زکوٰۃ لینے کے نہ ہو تو بقدر ضرورت لے اور قدر ضرورت میں صرف کرے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۲۶:از مرزا پور سول لائن بنگلہ مولوی محب اﷲصاحب ڈپٹی کلکٹر مرسلہ محمد عبدالقادر صاحب بدایونی ۱۲جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ
زید نے بکر کو صدقہ دیا،بکر کو علم ہے کہ صدقہ ہے، ایسی صورت میں بکراُس مال کو سیّد کو دے سکتا ہے یا نہیں،اور وُہ مال بکر کی ملکیت ہے یا زید کی، جبکہ زید بکر کو دے چکا۔
الجواب:جب زید نے بکر کو مال صدقہ میں دیا اور بکر قابض ہوگیا اور وہ محل صدقہ تھا یا نہ تھا اور زید جانتا تھا کہ بکر محلِ صدقہ نہیں غنی جان کر صدقہ دیا تو دونوں صورتوں میں بکر مالک ہوگیا،
فقد نص العلماء کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الصدقۃ علی الغنی لھا اجروان کان دون اجرالصدقۃ علی الفقیر۔۱؎
ردالمحتار وغیرہ میں علماء سے تصریح ہے کہ غنی پر صدقہ کا بھی اجر ہے مگر اس اجر سے یہ اجر کم ہوگا جو فقیر پر صدقہ سے حاصل ہوتا ہے۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷)
اور جب وہ مالک ہوگیا اور اپنی طرف سے سیّد کو نذر کرے نہ بطور صدقہ زکوٰۃ بلکہ بطور ہدیہ و ہبہ تو سیّد کو اس کا لینا جائز ہے اگر چہ بکر کو زکوٰۃ ہی دی گئی ہو،
قال علیہ الصلو ۃ والسلا م لکِ صدقۃ ولنا ھدیۃ۔ ۲واللہ تعالٰی اعلم
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :تمھارے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اباحۃ الہدیۃ للنبی صلے اﷲعلیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۵)
ف: صحیح مسلم میں الفاظ یُوں ہیں:
ھو لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۔ نذیر احمد سعیدی)
مسئلہ ۱۲۷: مسئولہ محمد عمر جوان المعروف بہ قادری سکنہ موضع باسنی پر گنہ ناگوار مارواڑ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
الحمد ﷲرب العٰلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علیٰ سید نا محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین، امّا بعد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع مارواڑ تحت حکومت ناگوار میں ایک قصبہ ہے معروف بہ باسنی جہاں تخمیناًنوصد گھر مسلمانوں کے ہیں اور بفضلہ سب صغیر و کبیر برنا وپیر صوم صلٰوۃ کے اس حد تک پابند ہیں کہ سفروحضر، صحت سقم، رنج وراحت غرضکہ ہر ۤحالت میں نماز گزاراورپابندِصلٰوۃ ہیں۔ قصبہ بھر میں شاذونادر کوئی ایسا بدبخت ہوگا جو نماز نہ پڑھتا ہو، اما بوجہ نہ ہونے علم کے احکامِ شرعیہ و مسائلِ ضروریہ سے محض نابلد ہیں، جہالت کی اس قدر گرم بازاری ہے کہ آبا واجداد کی رسوم کو کافی ووافی سمجھ کر مسائل شرعیہ سے(نہ بوجہ تعصب کے بلکہ بباعث نہ ہونے علم کے)یک لخت گریز ہے حق و باطل میں امتیاز ہونہیں سکتا لیکن باوجود اس بات کے بھی اگرحُسنِ اتفاق سے کوئی عالم آجائے تو اس کے وعظ میں بیٹھ کر تحصیل فیضان کرتے ہیں، افعالِ بد پر متنبّہ ہونے کے بعد تو بہ استغفار بھی کرتے ہیں اور کسی مسائل گو کی بات پر چنداں چُون و چرابھی نہیں کرتے مگر چونکہ قصبہ نرا کا نرا ہی علم سے معرّا ہے، کوئی وجود ایسا نہیں جو اس کی اصلاح ودرستی کرسکے، آخر قصبہ کے چند سربرآوردہ و دُور اندیش اصحاب نے سوچا اگر قصبہ میں ایک اسلامی مدرسہ کھول دیا جائے جس کے ذریعہ ایسے وجود و نفوس علمائے اسلام کہ قصبہ میں آر ہیں جو علاوہ وعظ گوئی کے مدرسہ میں علمِ تجوید و تفسیر وحدیث و فقہ و اصول ومعانی کا طلبہ کو درس بھی دیتے رہیں تو البتّہ قصبہ کی اصلاح حسبِ دلخواہ ممکن ہے،آخر انھیں حضرات مذکور الصدر کی سعی بلیغ سے مدرسہ کی عمارت تیار ہو کر سلسلہ تعلیم بھی شروع کر دیا گیا اور گاؤ ں کی اصلاح بھی رو بہ ترقی ہے اور امید ہے کہ مدرسہ اگر قائم رہ گیا پوری درستی ہوجائیگی مگر چونکہ اتنے بڑے قصبہ کے طلباء صغار وکبار جو تخمیناًپانسو ہیں ان کی تعلیم کے لیے کم از کم دس مدرسین درکار ہیں، اوریہ انتظام بھی کرلیا گیا کہ جمیع طلباء داخل مدرسہ کرکے مدرسین بھی مقرر کرلیے مگر مصارف مدرسہ رقومِ زکوٰۃ سے متعلق ہیں، اب ہمیں تشویش ہے کہ زکوٰۃ کس حیلہ سے مصارفِ مدرسہ میں مثل مشاہرات مدرسین فرش و فروش و تیل و چراغ ونیز مثل ا س کے ضروریاتِ مدرسہ میں خرچ ہوسکتے ہیں،آیا اس پر کوئی مفلس آدمی امین مقرر ہو کہ جس کے پاس سے حساب وغیرہ نہ لیا جائے یا اور حیلہ ہوسکتا ہے یا امین کے مزید شرائط ہوں غرضکہ مذہب حنفیہ میں کوئی ایسا پہلو نکل آئے کہ جس سے مصارف مدرسہ میں جائز ہونے کا کوئی حیلہ نکل آیا جب تو مدرسہ کی بقا کی امید قصبہ کی اصلاح کی صورت ہے ورنہ بدون ان رقوم کے اہلِ قصبہ میں اتنی و سعت نہیں کہ سوا زکوٰۃ کے اخراجاتِ مدرسہ کو اٹھاسکیں کیونکہ صاحبِ نصاب تو چند ہی ہوں گے باقی سب مسکین،اور اپنا نان و نفقہ قوتِ ضروری پیدا کرکے کھانے والے ہیں لیکن مسکین و متمول سب بالاتفاق مدرسہ میں امداد دہی کے لیے حاضر ہیں کسی کو اختلاف نہیں، جواب مدلل بدلائل قاطعہ و براہینِ ساطعہ مطابق مذہب حنفیہ مع صفحاتِ کتب ارقام ہو۔ بینواتوجروا
الجواب : زکوٰۃ کا رکن تملیک فقیر ہے جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہوکیسا ہی کارحسن ہو جیسے تعمیر مسجد یا تکفینِ میّت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہوسکتی۔ مدرسہ علمِ دین میں دینا چاہیں تو اس کے تین۳ حیلے ہیں:ایک یہ متولیِ مدرسہ کو مالِ زکوٰۃ دے اور اُسے مطلع کردے کہ یہ مال زکوٰۃ کا ہے۔ اسے خاص مصارفِ زکوٰۃ میں صرف کرنا، متولی اس مال کو جُدارکھے اور مال میں نہ ملائے اور اس سے غریب طلبہ کے کپڑے بنائے، کتابیں خرید کردے یا اُن کے وظیفہ میں دے جو محض بنظرِ امداد ہو، نہ کسی کام کی اُجرت۔
دوسرے یہ کہ زکوٰۃ دینے والا کسی فقیر مصرفِ زکوٰۃ کو بہ نیتِ زکوٰۃ دے اور وُہ فقیر اپنی طرف سے کُل یا بعض مدرسہ کی نذر کردے۔ تیسرے یہ کہ مثلاً سَو روپے زکوٰۃ کے دینے ہیں اور چاہتا ہے کہ مدرسہ علمِ دین کی ان سے مدد کرے تو مثلاً سیر گیہوں کسی محتاج مصرفِ زکوٰۃ کے ہاتھ سَو روپے کو بیچے اور اسے مطلع کردے کہ یہ قیمت اداکرنے کو تمھیں ہم ہی دیں گے تم پر اس کا بار نہ پڑے گا، وُہ قبول کرلے اس کے بعد سوروپیہ بہ نیتِ زکوٰۃ اس کو دے کر قابض کردے اس کے بعد اپنے گیہوں کی قیمت میں وُہ روپے اس سے لے لے، اگر وُہ نہ دینا چاہے تو یہ خود اس سے لے سکتا ہے کہ یہ اس کا عین حق ہے، اب یہ روپے مدرسہ میں دے، ان پچھلی دونوںصورتوں میں یہ روپیہ تنخواہ مدرسین وغیرہ ہر کارِ مدرسہ میں صرف ہوسکتاہے
والمسئلۃ فی الدروغیرہ من الاسفار الغر
( اس مسئلہ کی تفصیل در اور دیگر معتبر کتب میں ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم