Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
52 - 198
مسئلہ ۱۱۵: از میرٹھ سٹی ضلع جودھ پور        مسئولہ فخرالدین شاہ         ۱۹ذی القعدہ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ یتیموں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟بچہ اپنی قرابت کا ہے اُس کا وارث کوئی نہیں۔ بینواتوجروا
الجواب : یتیم بچّہ خصوصاً جبکہ اپنا قرابت دار ہو زکوٰۃ دینا بہت افضل ہے جبکہ وہ نہ مالدار نہ سید وغیرہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنی اولاد یا اولاد کی اولاد ہو۔ ہاں بھائی بھانجا ہو تو وہ بشرائط مذکورہ سب سے زیادہ مستحق ہے واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۱۶: از شہر محلہ مملوک پور         مرسلہ جناب سید محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور ۳۰رمضان المبارک ۱۳۲۹ھ زرِ زکوٰۃ میں سے اگر یتیموں مساکین کو کھلایا جائے یا کپڑا بنایا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:کپڑا بنا کر ان کو دے کر مالک کردینا، کھانا پکا کر اُن کے گھر کو بھیج کر قبضہ میں دے کر مالک کر دینا تو حالت موجود پر یہ سِلا ہو کپڑا اور پکاہوا کھانا بازار کے بھاؤ سے جتنے کا ہے اُس قدر زکوٰۃ میں مجرا ہوگا ، سلائی پکوائی وغیرہ مجرا نہ ملے گی اور اگر اپنے یہاں پکا کر دسترخوان پر بٹھلا کر کھلادیا جس طرح دعوتوں میں ہوتا ہے تو وہ زکوٰۃ نہیں ہوسکتا
لانھا تملیک وھذہ اباحۃ
 (کیونکہ زکوٰۃ میں مالک بنانا ہوتا ہے اور اس صورت میں ملکیت نہیں بلکہ اباحت ہے۔ت)  واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۱۷تا۱۱۸ : ۲۳ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ :(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مکان واسطے یتیموں کے خریدا جائے اس کی بیع میں زکوٰۃ کا روپیہ دینا درست ہے یا نہیں ، اور وہ مکان نام یتیم خانہ کے ہو۔

(۲)کہ مضحومہ جو واقعہ جسولی میں کٹگھر والوں سے ہوا ہے اس کے صرف میں زکوٰۃ کا روپیہ دیا جائے یا نہیں کیونکہ وہ مذہبی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
الجواب :یتیم خانہ کی خریداری میں روپیہ لگادینے سے زکوٰۃ ہرگز ادا نہ ہوگی
لانہ ان کان وقفا والزکوٰۃ تملیک فلا یجتمعان
 (کیونکہ یتیم خانہ اگر وقف ہے اور زکوٰۃ میں تملیک ہوتی ہے لہٰذا ان دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔ت)نہ کسی غنی کو صرف مقدمہ کے لیے دینے سے ادا ہوسکے اگر چہ وہ مقدمہ مذہبی دینی ہو
فان الغنی لیس بمصرف
 (کیونکہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے۔ت)نہ کسی فقیر نہ مسکین کے دینی خواہ دنیوی مقدمہ میں وکیلوں ،مختاروں کو دینے یا اور خرچوں میں اٹھانے سے اداممکن،جب فقیر کو دے کر اُس کے قبضے کے بعد اُس سے لے کر صرف نہ کیا جائے
فان الصدقۃ لا تحصل الا بتملیک مصرفھا ولا تتم الابقبضۃ
 (کیونکہ صدقہ تب ادا ہوگا جب کسی مصرف کو مالک بنایا جائے گا اور تملیک کا اتمام قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ت) پس اگر اس قسم کے معاملات میں اٹھانا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص شرعاً مصرفِ زکوٰۃ ہے اسے بہ نیتِ زکوٰۃ دے کر اُس کا قبضہ کرادیں پھر وُہ اپنی طرف سے اپنے آپ خواہ اُسے دے کر خریداری یتیم خانہ خواہ کسی دینی مقدمہ امورِ خیر میں لگا دے۔ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
فی جمیع ابواب البر کعمارۃ المساجد وبناء القناطیر،الحیلۃ ان یتصدق بمقدار زکوٰۃ علی فقیر ثم یا مرہ بالصرف الیٰ ھذہ الوجوہ فیکون للمتصدق ثواب الصدقۃ وللفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ۱؎ (ملخصاً) واﷲتعالیٰ اعلم۔
تمام امور خیر مثلاً تعمیر مساجد اور پُلوں کی تعمیر وغیرہ  میں حیلہ یہ ہے کہ مقدارِ زکوٰۃ فقیر پر صدقہ کی جائے پھر اسے ان امور پرخرچ کرنے کے لیے کہاجائے تو اب صدقہ کرنے والے  کے لیے صدقہ کا ثواب اور فقیر کے لیے مسجد اور پُل کی تعمیر کا ثواب ہوگا(ملخصاً)واﷲتعالیٰ اعلم (ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ، کتاب الحیل ،الفصل الثالث فی مسائل الزکوٰۃ  ، نورانی کتب خانہ پشاور      ۶ /۳۹۲ )
  مسئلہ ۱۱۹ :  ۲۲شوال ۱۳۱۴ھ : 

سوالِ اوّل بعد سلام کے عرض ہے میرے پاس سوا اس کے جو شوہر کے پاس سے صرف کے لیے آتا ہے اور کوئی آمد نہیں، اور وُہ اتنی ہے کہ گزر بھی مشکل ہوتی ہے عرض ہے کہ ایسی صورت بتائیے کہ جس میں زکوٰۃ بھی ادا ہو اور خرچ کی بھی دقت نہ ہو، یہ بڑی بی کہتی ہیں کہ آپ کے یہاں مجھ کو کچھ روپیہ دئے اور پھر وہ دوآنہ میں مول لئے یا جو خرچ مجھ کو شوہر کے پاس سے ملتا ہے اُس میں سے زکوٰۃ ادا کرکے بچوں کے صرف کی جائے تو کچھ بُرائی تو نہیں؟ یا جو روپیہ والد کے ترکہ کا ملا تھا وہ میرا بچوں کے صرف میں ہوگیا وہ ہوسکتا ہے کہ میں زکوٰۃ میں مجرا کرلوں اس واسطے کہ آپ فرماتے ہیں بچوں کا صَرف باپ کے ذمّہ ہے۔
الجواب  : 

 زیور خود مال ہے اُس میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے، شوہر سے جو کچھ خرچ بچوں کے لیے ملتا ہے اُس میں سے زکوٰۃ دینے کا ہرگزاختیار نہیں تمہارے خرچ کو جو کچھ دیتے ہیں اُس میں سے زکوٰۃ دے سکتی ہو، اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے بچّوں کے صَرف میں نہیں کی جاسکتی، اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، ماں کا جو کچھ بچّوں کے صَرف میں اُٹھ گیا زکوٰۃ میں مجرا نہیں ہوسکتا اگر چہ بچوں کا خرچ باپ پر ہے ماں پر نہیں، وہ طریقہ کہ زکوٰۃ کا مال  بہ نیت زکوٰۃ کسی محتاج کو دے کر مالک کردیا جائے پھر اس کی رضا مندی سے تھوڑے داموں کو اس سے خرید لیں، یہ حیلہ بضرورت صرف ایسی جگہ ہوکہ مثلاً کسی سیّد صاحب کو حاجت ہے مالِ زکوٰۃ انھیں دے نہیں سکتے اور اپنے پاس زرِ زکوٰۃ سے زیادہ دینے کی وسعت نہیں تو اس طرح زکوٰۃ ادا کرکے برضا مندی مول لے کر سید صاحب نذر کردیا جائے یا مسجد کی تعمیر یا میّت کے کفن میں لگا دیا جائے کہ یہ سب نیتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں ، خرید کر اپنے یا اپنے بچّوں کے صرف میں لانے کی غرض سے یہ حیلہ نہیں کہ اس میں راہِ خدا میں مال خرچ کرکے، پھر جانا پایا جائیگا والعیاذباﷲتعالیٰ، آسان طریقہ جو یہاں ہوسکے یہ ہے کہ آدمی جن کی اولاد میں خودہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی یاجو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی اور شوہر و زوجہ ان رشتوں کے سوا اپنی جو عزیز قریب حاجتمند مصرفِ زکوٰۃ ہیں اپنے مال کی زکوٰۃ انھیں دے جیسے بہن بھائی، بھتیجا بھتیجی،ماموں ،خالہ ،چچا ،پھوپھی کہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے اور نفس پر بار بھی کم ہو گا کہ اپنے سگے بہن بھائی یا بھتیجے  بھانجے کا دیا ہوا آدمی اپنے کام میں ہی اٹھنا جانتا ہے پھر یہ بھی کچھ ضرورنہیں کہ انھیں زکوٰۃ جتا ہی کر دے بلکہ دل میں زکوٰۃ کی نیت ہوانھیں عیدی وغیرہا یا شادیوں کی رسوم خواہ کسی بات کا نام کرکے مالک کردے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی، پھر اگر مثلاً اپنے بہن بھائی کو دیا اور اُنھوں نے اُس کے بچوں پر خرچ کی تنگی دیکھ کر اپنی خوشی سے اس کے بچوں پر ہبہ کر دیا تو زکٰوۃ میں کچھ خلل نہ آئے گا نہ مقصود شریعت کے خلاف ہو گا اور  دونوں مطلب یعنی ادائے زکوٰۃ اور بچّوں کے خرچ کی وسعت حاصل ہوجائیں گے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۲۰ :  از موضع مکہ جبی والا علاقہ جاگل تھانہ پر ہپو ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲخاں     مرسلہ مولوی محمد شیر صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۱۴ھ  : 

اپنی دختریا حقیقی ہمشیرہ کو زکوٰۃ یا زمین کا عشر دینا جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب :بہن کو جائز ہے جبکہ مصرفِ زکوٰۃ ہو اور بیٹی کو جائز نہیں،
فی الدرالمختار مصرف الزکوٰۃ والعشر فقیر الخ وفیہ لا یصرف الی من بینھما ولاد الخ۔۱؎ واﷲتعالیٰ اعلم ۔
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ و عشر کا مصرف فقیر ہے الخ اور اسی میں ہے کہ زکوٰۃ و عشر ایسے لوگوں پر صرف نہ کی جائے جن سے اپنی ولادت کا تعلق ہوالخ واﷲتعالیٰ اعلم۔(ت)
 (۱؎درمختار، باب المصرف ،مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ /۴۱-۱۴۰)
مسئلہ ۱۲۱ :مرسلہ محمود حسن صاحب شاگرد رشیداحمد گنگوہی صاحب     ۲۰صفر۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس بارہ میں کہ میری زکوٰۃ کا روپیہ اپنے والدکو کسی حیلہ سے دے سکتی ہُوں یا نہیں، کیونکہ والدایسی غربت میں ہیں کہ باہر نکلنے بیٹھنے میں شرم آتی ہے اور وہ ایک آبر ودار آدمی ہیں اور نہ کوئی ایسا آدمی ہے کہ میں اس آدمی کو دے دُوں وُہ اپنی طرف سے بھی والد کو دے اس صورت میں کسی حیلہ سے اپنے والد کو زکوٰۃکا پیسہ دے سکتی ہُوں یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : باپ کو زکوٰۃ دینا کسی طرح جائز نہیں، نہ اُس کی دی زکوٰۃ ادا ہو سکے۔ یہ بات اگر واقعی ہے کہ باپ ایسا ہی حاجتمند ہے اور سائلہ میں یہ طاقت نہیں کہ زکوٰۃ بھی دے اور باپ کی بھی خدمت کرے اور ایسا اطمینان کا شخص کوئی نہیں پاتی کہ اسے زکوٰۃ دے اور وُہ اپنی طرف سے اُس کے باپ کودیں تو اس کا یہ طریقہ ممکن ہے کہ مثلاً دس روپیہ زکوٰۃ کے دینے ہیں اور چاہتی ہے کہ یہ روپیہ اُس کے باپ کو پہنچے تو کسی فقیر مصرف زکوٰۃ کے ہاتھ مثلاًدس سیر یا پانسیر گیہوں دس روپیہ کو بیچے اور اسے سمجھا دے کہ زر ثمن ادا کرنے کی تمھیں دقت نہ ہوگی ہم زکوٰۃ دیں گے اسی سے ادا کردینا، جب وُہ بیع قبول کرے گیہوں اس کو دے دے اب اُس کے دس درہم بابت ثمن گندم اُس پر قرض ہوگئے اُس کے بعد اسے دس روپیہ زکوٰۃ میں دے کر قبضہ کرادے زکوٰۃ ادا ہوگئی پھر گیہوں کی قیمت میں روپے واپس لے وہ یوں نہ دے تو جبراً لے سکتی ہے کہ وہ اس کا مدیون ہے اب یہ روپیہ اپنے باپ کو دے دے۔
درمختار میں ہے:
حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکٰوتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدیّدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی ۔۱؎
حیلہ جوازیہ ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوٰۃ دی جائے پھر قرض کے عوض اس سے وہ رقم واپس لے لی جائے اگر مقروض نہ مانے تو اس سے چھین لی جائے کیونکہ یہ اپنے مال کے حصول پر قدرت کی صورت ہے،اگر اس میں بھی رکاوٹ بنے تو معاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے۔(ت)
 (۱؎ درمختار ،کتا ب الزکوٰۃ ، مطبع مجتبائی دہلی، ۱ /۱۳۰)
مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ محتاج باپ کا نفقہ اُس کی سب غنی اولاد پر لازم ہے، بیٹا بیٹی سب پر برابر، تو اگر تنہا یہی اس کی اولاد ہے تو اس پر اس کا کل خرچ کھانے پہننے رہنے کے مکان کا لازم ہے، اور اگر اور بھی ہیں تو حصّہ رسد ،اور زکوٰۃ بھی اﷲعزوجل کا غنی پر فرض ہے حیلہ کرکے دو۲واجبوں میں ایک کو ساقط نہ کرے، اﷲعزّوجل دلوں کی نیت جانتا ہے، ہاں حقیقۃً قدرت نہ ہو تو حیلہ مذکورہ عمدہ وسیلہ ہے جس سے دونوں واجب ادا ہوسکیں۔
واﷲیعلم المفسد من المصلح۱؎
 (اﷲتعالیٰ خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
 (۱؎القرآن  ۲ /۲۲۰)
Flag Counter