Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
51 - 198
مسئلہ ۱۱۱ : مسئولہ ناصر الدین صاحب پیلی بھیتی از آگرہ محلہ نئی بستی، گلی بدھو بیگ، مکان حافظ سعید الدین سوداگر لٹھا ۱۶جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰ھ  :کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنگ اٹلی و شہنشاہِ روم کے واسطے اہل اسلام نے اکثر چندہ جمع کیا ہے، اگر زیور کی زکوٰۃ کا روپیہ جنگ مذکور کے واسطے شہنشاہِ روم کو بھیجا جائے تو یہ روپیہ دینا جائز ہوگا یا نا جائز؟بینواتوجروا
الجواب : زکوٰۃ جہاد کے اُن مصارف میں جن میں فقیر کو تملیک نہ ہو جیسے گولے بارود کی خریداری یا فوج کی باربرداری یا فوجی افسروں کی تنخواہ یا فوجی دواخانہ کی دواؤں میں دینا جائز نہیں، نہ اس سے زکوٰۃ ادا ہو۔ عالمگیری میں ہے:
لایجوز ان یبنی با لزکاۃ المسجد وکذا الحج والجہاد وکل مالا تملیک فیہ کذا فی التبیین۔۳؎
زکوٰۃ سے مسجد بنانا جائز نہیں، اسی طرح حج اور جہاد، بلکہ وُہ مقام جہاں تملیک نہ ہو۔ تبیین میں یہی ہے۔ (ت)
 (۳؎فتاوٰی ہندیۃ     الباب السابع فی المصارف        نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۱۸۸)
ہاں فقیر مجاہدوں کو دی جائے یا شہیدوں کے فقیر پس ماندوں کویا ان مجاہدوں کو جو سفر کرکے آئے گھر پر اموال رکھتے ہیں یہاں مصارف کے لیے کچھ پاس نہیں ان کو دینا جائز ہے اول فی سبیل اﷲ ہے،ثانی فقراء اور  ثالث ابن السبیل، اور یہ سب مصارف زکوٰۃ ہیں۔درمختار میں ہے:
مصرف الزکوٰۃ فقیر و فی سبیل اﷲوھو منقطع الغزاۃ وابن السبیل وھوکل من لہ مال لامعہ۔۱؎(ملخصاً)
زکوٰۃ فقراء خرچ کی جائے اور اﷲتعالیٰ کی راہ میں، اور اس سے مراد محتاج غازی اور مسافر، اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کا مال تو ہو مگر اس کے پاس نہ ہو۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار ،باب المصرف،مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۰)
یا یہ ہوکہ یہاں کسی معتمد فقیر کو دے کر مالک کرکے قبضہ دے دیں وُہ اپنی طرف سے اس چندہ میں دے دے، اب کوئی شرط نہیں ہر مصرف میں صرف ہوسکتی ہے، اور زکوٰۃ دہندہ اور فقیر د ونوں کو ثواب ملے گا۔ درمختار میں ہے:
حیلۃ التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد۔۲؎
تکفین کے لیے حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ فقیر کو دی جائے فقیر کفن بنوادے، تو اب ثواب دونوں کے لیے ہوگا، اسی طرح تعمیر مسجد میں حیلہ کی صورت ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  ، کتاب الزکوٰۃ         مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۱۳۰)
پھر صورت اولیٰ میں کہ خود زکوٰۃ ہی ان جائز مصارف کے لیے وہاں بھیجے، اگر ابھی اس کی زکوٰۃ کا سال تمام نہ ہُوا تھا پیشگی دیتا ہے جب تو دوسرے شہر کو بھیجنا مطلقاًجائز ہے اور اگر سال تمام کے بعد بھیجے جب بھی اس صورت میں حکم جواز ہے کہ مجاہدوں کی اعانت میں اسلام کا زیادہ نفع ہے۔ درمختار میں ہے:
کرہ نقلھا الّا الٰی قرابۃ او احوج او اصلح او اورع او انفع للمسلمین، اوکانت معجلۃ قبل تمام الحول فلا یکرہ خلاصۃ۔۳؎
 (ملخصاً)زکوٰۃ کو دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ، ہاں اس صورت میں مکروہ نہیں جب دوسری جگہ کوئی رشتہ دار، زیادہ محتاج ، نیک، صاحبِ تقویٰ یا مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہو یا سال سے پہلے جلدی زکوٰۃ دینا چاہتا ہو، خلاصہ(ت)مگر اطمینان ضرور ہو کہ ٹھکانے پر پہنچے بیچ میں خُوردبُرد نہ ہوجائے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
 (۳؎درمختار،  باب المصرف، مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۴۲-۱۴۱)
مسئلہ۱۱۲ : از دہرہ دوں     محلہ دھامان مسئولہ مختار حسین قادری         ۲شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ موجودہ حالتِ زار جو مظلومین  تُرک کی ہے مثلاًسمرنا، اناطولیہ وغیرہ میں جو یونانیوں کی دست درازیوں کے شکار ہورہے ہیں ان کی امداد زکوٰۃ کے مال سے کی جائے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟اگر ہوگی روپیہ بھیجنے اور دینے کی کیا صورت ہونی چاہئے، موجودہ طریق جو سیٹھ چھوٹانی بمبئ والا کررہا ہے کہ امداد مظلومین ترکوں کی جس میں وُہ زکوٰۃ کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے اپنے اختیار سے زکوٰۃ اور دیگر چندہ لے کر جتنی جہاں ضرورت ہوتی ہے مثلاًبیماروں کی مدد، لُٹے ہُوئے گھروں کی امداد وغیرہ اپنی رائے کے موافق صرف کرتا ہے،تو جو لوگ اس میں زکوٰۃ دیتے ہیں اداہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب :اس طریقہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی، یہ لوگ بطور خود چندہ کرتے ہیں اور زکوٰۃ وغیر زکوٰۃ بلکہ مسلم وغیر مسلم سب کے چندے غلط کرلیتے وُہ روپیہ فوراًہلاک ہوجاتا ہے اور قابل ادا زکوٰۃ نہیں رہتا،
فان الخلط استھلاک
 (کیونکہ خلط ملط کرنا ہلاک کرنا ہوتاہے۔ت)فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
رجلان دفع کل منھما زکوٰۃ مالہ الی رجل لیؤدی عنہ فخلط مالھما ثم تصدق ضمن الوکیل مال الدافعین وکانت الصدقۃ عنہ کذا فی فتاوٰی قاضی خاں۔۱؎
دو۲ اشخاص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ایک شخص کو دی تاکہ وُہ ان کی طرف سے ادا کرے اس نے دونوں کے مال کو ملا دیا پھر زکوٰۃ ادا کی تو وکیل ان کے مال کا ضامن ہوگا اور صدقہ وکیل کی طرف سے ہوگا ، فتاوٰی قاضی خاں(ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی ہندیہ،  الباب الثالث فی زکوٰۃ الذہب الخ ،نورانی کتب خانہ پشاور،۱ /۱۸۳)
درمختار میں ہے:
لو خلط زکوٰۃ مؤکلیہ ضمن وکان متبرعا الا اذا وکلہ الفقراء ۔ ۲؎
اگر اپنے مؤکلین کی زکوٰۃ میں خلط ملط کردیا تو وہ وکیل ضامن ہوگا اور متبرع ہوگا مگر اس صورت میں کہ جب اسے فقراء نے اپنا وکیل بنایا ہو۔ (ت)
 (۲؎ درمختار، کتاب الزکوٰۃ ، مطبع مجتائی دہلی، ۱ /۱۳۰)
اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ دینے والے خالص مسلمان اپنی اپنی زکوٰۃ ایک معتمد متدین کے پاس جمع کریں اور وُہ روپیہ ملالینے کی اجازت دیں اور اُس میں کوئی پیسہ غیر زکوٰۃ کا خلط نہ کیا جائے نہ کسی وہابی یا رافضی یا نیچری یا قادیانی یا حدِ کفر تک پہنچے ہُوئے گاندھوی کی زکوٰۃ اس میں شامل ہو کہ ان لوگوں کی زکوٰۃ شرعاً زکوٰۃ نہیں، یہ خالص زکٰوۃشرعی کا جمع کیا ہو ا مال کہ مالکوں سے اذن سے خلط کیا گیا اُن فقراء مظلومین کو پہنچایا جائے ۔ ردالمحتار میں زیرِ عبارت مذکورہ درمختارہے
قولہ ضمن وکان متبرعا، لانہ ملکہ بالخلط وصارمؤدیا مال نفسہ قال فی التتارخانیۃ الااذا وجد الاذن أو اجازا المالکان اھ ویتصل بھذاالعالم اذا سئل للفقراء شیأ و خلط یضمن قلت و مقتضاہ لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الاذن حینئذ دلالۃ۔۱؎ واﷲ سبحانہ  و تعالیٰ۔
ان کا قول ہے وکیل ضامن ہوگا اور اس کی ادائیگی بطور تبرع ہوگی کیونکہ خلط ملط کرنے سے وہ مالک ہوجاتا ہے اور اب وہ اپنے مال کو ادا کرنے والا ہوگا۔ تتارخانیہ میں ہے کہ مگر اس صورت میں جب اجازت ہو یا مالک اسے جائز کردیں اھ اس کے ساتھ وہ صورت بھی ملحق ہے جب کسی عالم نے فقراء کے لیے کچھ مانگا اور خلط ملط کردیا تو وُہ ضامن ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضایہ ہے اگر عرفاًایسا کیا جاتا ہوتو اب ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس وقت دلالۃًاجازت موجود ہے۔ واﷲ سبحانہ  وتعالیٰ اعلم(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار ، کتاب الزکوٰۃ   ،مصطفی البابی مصر   ،۲ /۱۲)
مسئلہ ۱۱۳ : مسئولہ امیر حسن بنگالی طالب علم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۲۸ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ

مالدار کے لیے صدقہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب : صدقہ واجبہ مالدار کو لینا حرام اور دینا حرام، اور اس کے دئے ادا نہ ہوگا، اور نافلہ مانگ کر مالدار کو لینا حرام اور بے مانگے مناسب نہیں جبکہ دینے والا مالدار جان کردے اور اگر وہ محتاج سمجھ کردے تو لینا حرام،اور اگر لینے کے لیے اپنے آپ کو محتاج ظاہر کیا تو دوہراحرام، ہاں وہ صدقاتِ نافلہ کہ عام خلائق کے لیے ہوتے ہیں اور ان کے لینے میں کوئی ذلّت نہیں وُہ غنی کو بھی جائز ہیں جیسے حوض کو پانی، سقایہ کا پانی، نیاز کی شیرینی، سرائے کا مکان، پل پر سے گزرے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۱۴ : ازبریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد    مرسلہ الطاف علی خاں         مورخہ ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مدرسہ دینیہ میں زکوٰۃ و صدقہ مدرسین کو دینا جائز ہے یا نہیں، تنخواہ میں دینا و طلباء کو جو کہ یتیم ہیں ان کی تعلیم کے اخراجات کے واسطے دینا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب :تنخواہِ مدرسین میں نہیں دے سکتے، ہاں طلبہ کو تملیک کرسکتے ہیں اگر چہ یتیم نہ ہوں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
Flag Counter