Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
50 - 198
مسئلہ ۱۰۹تا ۱۱۰ : حاجی عیسٰی صاحب کاٹھیاوار     ۲۲ رمضان شریف ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:(۱)ایک مسجد میں بلحاظ مصلیان بہت کم گنجائش ہے یا بایں وجہ کہ ہر وقت کی نمازمیں کش مکش کا سامنا ہوتا ہے لہذاایسی حالت میں اگر کوئی صاحب زکوٰۃ اپنی زر زکوٰۃ کو کسی غریب مسلمان شخص کی ملکیت قائم کرکے اس مکان کو جو مسجد سے ملاہوا ہے خرید کرکے شاملِ مسجد کردے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟مکرر آنکہ مسجد مذکور کے قُرب و جوار کے مسلمانوں میں اس قدر استطاعت نہیں کہ جو چندہ فراہم کرکے مکان مذکورکو خرید سکیں ۔(۲)ایسی کتاب دینی جو اگر طبع کی جائے تمام مسلمانانِ عالم میں مفید ثابت ہوسکتی ہے اگر کوئی شخص زرِ زکوٰۃ سے چندہ فراہم کرکے کتاب مذکور بغرض رفاہِ عام چھپوائے تو ان چندہ  دہندہ گان اصحاب کا زرِ زکوٰۃ ادا ہوگا یانہیں؟
الجواب :(۱)جبکہ اس نے فقیر مصرف زکوٰۃ کو بہ نیّت زکوٰۃ دے کر مالک کر دیا زکوٰۃ ادا ہوگئی اب وہ فقیر مسجد میں لگا دے دونوں کے لیے اجرِ عظیم ہوگا، درمختار میں ہے:
وحیلۃ التکفین بھا التصدّق علی فقیر ثم ھو یکفن، الثواب لھما وکذافی تعمیرالمسجد۔۱؎
کفن بنانے کے لیے یہ حیلہ ہے کہ صدقہ فقیر کو دیا جائے پھر وُہ فقیر کفن بنا دے تو ثواب دونوں کے لئے ہوگا،اسی طرح تعمیرِ مسجد میں حیلہ کیا جاسکتاہے۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار   کتاب الزکوٰۃ ،مطبع مجتبائی دہلی، ۱ /۱۳۰)
بحرالرائق میں زیر قول متن
لا الی بناء مسجد و تکفین میّت وقضاء دینہ وشراء قن یعتق
 (زکوٰۃ سے تعمیر مسجد ، میّت کے لیے کفن اور اس کا اداء قرض اور ایسے غلام کا خریدنا جائز نہیں جسے آزاد کردیا گیا ہو۔ت)فرمایا:
والحیلۃ فی الجواز فی ھذہ الاربعۃ ان یتصدق بمقدار زکوٰتہ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذٰلک الصرف فی ھذہ الوجوہ فیکون لصاحب المال ثواب الزکوٰۃ و للفقیر ثواب ھذہ الصرف کذافی المحیط۔۲؎
ان چاروں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ آدمی زکوٰۃ فقیر کو دے پھر اسے کہے کہ ان چاروں پر خرچ کرے، صاحبِ مال کیلئے زکوٰۃ کا ثواب اور فقیر کے لیے خرچ کا ثواب ہوگا۔ کذافی المحیط(ت)
 ( ۲؎ بحرالرائق        باب المصرف        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲ /۲۴۳)
 (۲)جائز ہے اور اس میں چندہ دہندوں کے لیے اجرِ عظیم اور ثواب جاری ہے، جب تک وہ کتاب باقی رہے گی اور نسلاًبعد نسلٍ جن جن مسلمانوں کو فائدہ دے گی ہمیشہ ان کا اجر ایک چندہ دہندے کو اُس کی حیات میں اور اُس کی قبر میں پہنچتا رہے گا۔ رسول اﷲصلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مات الانسان انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ او عمل ینتفع بھا اوولد صالح ید عولہ۔۱؎رواہ البخاری فی ادب المفرداو مسلم فی الصحیح وابوداؤد و الترمذی عن النسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین صورتوں میں جاری رہتا ہے:ایک،اس نےصدقہ جاریہ کیا تھا، دوسرا اس کا ایسا عمل جواب بھی نافع ہے یا اس کی نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے اسے امام بخاری نے ادب المفردمیں، مسلم نے صحیح میں، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 ( ۱؎صحیح مسلم   باب ما یلحق الانسان الثواب بعد وفاتہ،قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲ /۴۱)

(الادب المفرد         باب ۱۹برالوالدین بعد موتہما    حدیث۳۸        مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ     ص ۲۱)
مگر اولاًفقیر کو بہ نیت زکوٰۃ دے کر مالک کر دینا ضرور ہے پھر وُہ فقیر طبع کتاب میں خود دے دے یا اس سے دلوادے، جیسا کہ درمختار و بحرالرائق کی عبارت سے گزرا، یا جو جو طریقے ائمہ نے کتبِ فقہ میں لکھے ہیں بجالائے۔ درمختار میں ہے:
حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوٰتہ ثم یأۤخذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدّیدہ واخذ ھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی۔ ۲؎
حیلہ جوازیُوں ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوٰۃ دی جائے پھر اس سے اپنے قرض میں واپس لی جائے اور اگر مقروض نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق پر قدرت کا معاملہ ہے، اگر اس پر بھی نہ دے تو قاضی کی طرف معاملہ لے جایا جائے(ت)
 ( ۲؎ درمختار         کتاب الزکوٰۃ، مبطع مجتبائی دہلی ۱ /۱۳۰)
اور سب سے آسان یہ ہے کہ ایک دیندار شخص کے پاس سب زکوٰۃ دہندہ اپناچندہ جمع کریں اور اس سے کہہ دیں کہ زرِ زکوٰۃ ہے طریقہ شرعیہ پر بعد تملیکِ فقیر طبع میں ہمارے ثواب کے لئے صرف کر،وہ ایسا ہی کرے ، سب زکوٰتیں بھی ادا ہوجائیں گی اور وُہ دینی ضروری نافع کام بھی ہوجائیگا اور یہ اموال کا ملانا کہ باذن مالکانہ ہے کہ چندہ کا یہی طریقہ معروفہ معہودہ ہے کچھ مانع نہ ہوگا۔ درمختارمیں ہے:
لوخلط زکوٰۃ موکلیہ ضمن وکان متبر عا الا اذا وکلہ الفقراء۔۳؎
اگر اپنے موکلین کی زکوٰۃ خلط کردی تو وکیل ضامن ہوگا اور وُہ تبرع کرنے والا ہوگا مگر اس صورت میں جب فقراء نے اسے اپنا وکیل قرار دے دیاہو۔(ت)
 ( ۳؎ درمختار         کتاب الزکوٰۃ                 مبطع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۳۰)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی التتارخانیۃ اذا وجد الاذن أو اجازالمالکان اھ۔۱؎
تاتار خانیہ میں ہے کہ کسی اذن کی وجہ سے ہو یا مؤکل اسے جائز کردیں اھ(ت)
 (۱؎ردالمحتار        کتاب الزکوٰۃ         مصطفی البابی مصر        ۲ /۱۲)
اسی میں ہے:
ثم قال التتارخانیۃ اووجدت دلالۃ الاذن بالخلط کما جرت العادۃ الخ۔ ۲؎واﷲتعالیٰ اعلم۔
پھر تاتارخانیہ میں کہا کہ یا دلالۃً اختلاط کی اجازت ہو جیسے کہ عادت معروفہ ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الزکوٰۃ    مصطفی البابی مصر        ۲ /۱۲)
Flag Counter