Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
49 - 198
مسئلہ ۱۰۴ : میرے عزیزوں میں ایک شخص نابینا اورقرضدار ہیں جائیداد ان کے ہے لیکن قرضدار ی سے کم ہے اور قبضہ دوسرے شخص کا ہے، اُن کو آمد بھی پُورے پُورے طور سے نہیں ملتی، زکوٰۃ کوان دینی چاہئے یا نہیں؟فقط

الجواب :ہاں بلکہ عزیزوں کو دینے میں دُونا ثواب ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۰۵: از حاجی عبدالکریم نور محمد جنرل مرچنٹ چوک ناگپور     ۹صفر المظفر۱۳۳۴ھ 

زکوٰۃ کا پیسہ طلبہ کو دے سکتے ہیں امداد کے لیے یا نہیں؟
الجواب :طلبہ کہ صاحبِ نصاب نہ ہوں انھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ اُنھیں دینا افضل ہے جبکہ وہ طلبہ علمِ دین بطور دین پڑھتے ہوں۔ واﷲ تعالیٰ  اعلم۔
مسئلہ۱۰۶: ازشہر بریلی دفتر انجمن خادم المسلمین     ۲۲شعبان ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ پیشہ ور گداگروں کو زکوٰۃ و خیرات کامال دینے سے زکوٰۃ ادا ہوتی ہے یا نہیں اور مذہبی و تمدنی نقطہ نظر سے کہاں تک یہ گر وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے اوپیشہ ورگداگروں کی ہمت افزائی نہ کرنا کہاں تک جائزہے؟
الجواب :گدائی تین قسم ہے:

ایک غنی مالدار جیسے اکثر جوگی اور سادھو بچّے، انھیں سوال کرنا حرام اور انھیں دینا حرام، اور اُن کے دئے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوسکتی، فرض سرپر باقی رہے گا۔
دوسرے وُہ کہ واقع میں قدرِ نصاب کے مالک نہیں مگر قوی و تندرست کسب پر قادر ہیں اور سوال کسی ایسی ضروریات کے لیے نہیں جوان کے کسب سے باہر ہوکوئی حرفت یا مزدوری نہیں کی جاتی مفت کا کھانا کھانے کے عادی ہیں اور اس کے لیے بھیک مانگتے پھرتے ہیں انھیں سوال کرنا حرام، اور جو کچھ انھیں اس سے ملے وہ ان کے حق میں خبیث کہ حدیث شریف میں:
لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی۔۱؎
صدقہ حلال نہیں کسی غنی کے لیے اورنہ کسی توانا و تندرست کے لیے(ت)
(۱ ؎ جامع الترمذی،ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء من لاتحل لہ الصدقۃ ،امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ،  ۱ /۸۳)
انھیں بھیک دینا منع ہے کہ معصیت پر اعانت ہے، لوگ اگر نہ دیں تو مجبور ہوں کچھ محنت مزدوری کریں۔
قال اﷲتعالیٰ ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان۔۲؎
اﷲتعالٰی کا مبارک فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو(ت)
( ۲؎القرآن ۵ /۲)
مگر ان کے دئے سے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو کہ فقیرہیں،
قال اﷲتعالیٰ انماالصدقت للفقراء۔۳؎
اﷲتعالٰی کا فرمان مبارک ہے صدقات فقراء کے لیے ہیں(ت)
 ( ۳؎ القرآن ۹ /۶۰)
تیسرے وُہ عاجز نا تواں کہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پر قدرت، یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے پر قادر نہیں، انھیں بقدرِ حاجت سوال حلال، اور اس سے جو کچھ ملے ان کے لیے طیّب، اور یہ عمدہ مصارفِ زکوٰۃ سے ہیں اور انھیں دینا باعثِ اجرِ عظیم، یہی ہیں وُہ جنھیں جھڑکنا حرام ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۰۷: از ناگوار مارواڑ    از دکان قادربخش مرسلہ محمد بخش پریزیڈنٹ انجمن مدرسہ حمیدیہ اسلامیہ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مالِ زکوٰۃ مدرسہ اسلامیہ میں دینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :مدرسہ اسلامیہ اگر صحیح اسلامیہ خاص اہلسنت کا ہو۔ نیچریوں، وہابیوں، قادیانیوں، رافضیوں، دیوبندیوں وغیرہم مرتدین کا نہ ہو تو اس میں مالِ زکوٰۃ اس شرط پر دیا جاسکتا ہے کہ مہتمم اس مال کو جُدا رکھے اور خاص تملیک فقیر کے مصارف میں صرف کرے مدرسین یا دیگر ملازمین کی تنخواہ اس سے نہیں دی جاسکتی۔ نہ مدرسہ کی تعمیر یا مرمت یا فرش وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن طلبہ کو مدرسہ سے کھانا دیاجاتاہے اُس روپے سے کھانا پکا کر اُن کو کھلایا جائے کہ یہ صورتِ اباحت ہے اور زکوٰۃ میں تملیک لازم ہاں یُوں کرسکتے ہے کہ جن طلبہ کو کھانا دیا جاتا ہے اُن کو نقد روپیہ بہ نیّت زکوٰۃ دے کر مالک کردیں پھر وُہ اپنے کھانے کیلئے واپس دیں یاجن طلبہ کا وظیفہ نہ اجرۃً بلکہ محض بطور امداد ہے اُن کے وظیفے میں دیں یا کتابیں خرید کر طلبہ اُن کا مالک کردیں۔ ہاں اگر روپیہ بہ نیّت زکوٰۃکسی مصرف زکوٰۃ  کو دے کر مالک کردیں وُہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے دے تو تنخواہ مدرسین و ملازمین وغیرہ جملہ مصارف مدرسہ میں صرف ہوسکتاہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۰۸: از حافظ ایاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پور     ۲۴ محرم ۱۳۳۲ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زکوٰۃ کے روپے سے دوچارکتب دینی مثل فتاوٰی عالمگیری و مشکٰوۃ شریف وغیرہ خرید کرکے دوسرے شخص کے پاس بطور وقف رکھ دی جائیں تاکہ عوام کو اس سے فیض پہنچے اس وجہ سے ایسی کتاب بوجہ بیش قیمت ہونے کے یہاں میسر نہیں ہے تو اس کے واسطے کیا صورت ہونی چاہئے کہ زکوٰۃ بھی ادا جائے اورکتابوں کی کاروائی بھی ہوجائے۔
الجواب : مال زکوٰۃ سے وقف ناممکن ہے کہ وقف کسی کی ملک نہیں ہوتا اور زکوٰۃ میں فقیر کی تملیک شرط ہے اس کی تدبیر یوں ہوسکتی ہے کہ کسی نیک بندہ کو جو زکوٰۃ کا مصرف ہے بہ نیت زکوٰۃ دے کر ملک کر دیا جائے اور وُہ اپنی طرف سے کتابیں خرید کر وقف کردے۔ ایک اور حیلہ بھی ممکن ہے مثلاًسوَروپے کی کتابیں وقف کرنے کے لیے خریدنی ہیں اور اس پر سو۱۰۰روپے زکوٰۃ کے آتے ہیں تومَن دو مَن گیہوں مثلاًکسی فقیر کے ہاتھ سوروپے کو بیع کرے اور اُسے سمجھا دے کہ یہ قیمت تمھیں ہم ہی دینگے جب وُہ خرید لے تو اب اسے سوَروپے بہ نیتِ زکوٰۃ دئے جائیں، جب وُہ قبضہ کرلے اب اس سے  اس آتی ہوئی قیمت میں روپے لے لیے جائیں، اگر نہ دے تو جبراًلے سکتا ہے کہ وُہ اس کا مدیون ہے، اب اس روپے سے کتابیں خرید کر وقف کردیں،
المسئلۃ منصوص علیہا فی الدرالمختار والمعتمدات الاسفار
(درمختاراور دیگر معتمد کتب میں اس مسئلہ پر نص ہے۔ت)واﷲتعالیٰ اعلم
Flag Counter