| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ۹۰: از شہر بہرائچ محلہ ناظر پورہ مسؤلہ حکیم محمد عبدالوکیل صاحب کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے مسجد یا کنواں مسجد سے متعلق طاہر پانی کے لیے تیار کیا اور بوجہ کمی سرمایہ کے بالآخر قرضدار ہوگیا لہذا اس صورت میں مالِ زکوٰۃ دینا جائز ہے کیونکہ قرضدار کو اس کے قرضہ ادا کرنے کے لیے مالِ زکوٰۃ لینا شرعاًجائز ہے کیونکہ منجملہ مصارف مال زکوٰۃ کے قرضہ بھی ایک مصرف ہے۔ بینو اتوجروا
الجواب : جس پر اتنا دین ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کا مالک نہ رہے گا اور وہ ہاشمی نہ ہو، نہ یہ زکوٰۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو، نہ باہم زوج و زوجہ ہوں، اسے زکوٰۃ دینا بیشک جائز بلکہ فقیر کو دینے سے افضل، ہر فقیر کو چھپن روپے دفعۃًنہ دینا چاہئیں،اور مدیون پر چھپن ہزار دین ہو تو زکوٰۃ کے چھپن ہزار ایک ساتھ دے سکتے ہیں
قال اﷲتعالیٰ والغارمین ۱؎
(اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے اور مقروض لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کو جائے۔ ت)
(۱؎القرآن ۹ /۶۰)
دُر مختار میں ہے:
ومدیون لا یملک نصابا فاضلا عن دینہ وفی الظہیریۃ الدفع للمدیون اولی منہ للفقیر۔۲؎
مقروض وہ شخص ہوتا ہے جو قرض سے فاضل نصاب کا مالک نہ ہو، ظہیریہ میں ہے: مدیون کو زکوٰۃ دینا فقیر سے اولیٰ ہے(ت)
( ۲؎ درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۰)
ردالمحتار میں ہے:
ونقل ط عن الحموی انہ یشترط ان لا یکون ھاشمیا۔۳؎واﷲتعالیٰ اعلم۔
اورطحطاوی نے حموی سے نقل کیا کہ شرط یہ ہے کہ مدیون ہاشمی نہ ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
( ۳؎ردالمحتار، باب المصرف ،مصطفی البابی مصر ،۲ /۶۷)
مسئلہ ۹۱تا ۱۰۲: مسئولہ رشید احمد متعلم مدرسہ اہلسنت والجماعت ۷محرم الحرام ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ کسی شخص نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالی وُہ روپیہ ان شخصوں کودینا چاہئے یا نہیں؟ (۱)یہ کہ اگر چچا چچی و چچا زاد بھائی وبہنوں کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۲)یہ کہ ماموں و ممانی و نانا و نانی اور ماموں زاد بھائی اور بہنوں کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۳)یہ کہ پھوپھا و پھوپھی اور ان کی اولاد کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۴)یہ کہ اگر اپنی ہمشیرہ ہے اور اس کی شادی کردی اور اس کا خاوند کم توجہ کرتا ہے تو اس کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے یا نہیں؟
(۵)یہ کہ بھانجی بھانجے کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۶)یہ کہ اگر زکوٰتی روپے سے لحاف میں رُوئی ڈلواکر غریبوں کو تقسیم کردیں تو جائز ہے یا نہیں؟ (۷)یہ کہ اگر طالب علم کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۸)یہ کہ اگر بہنوئی کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں ؟ (۹)یہ کہ اگر چہ معلوم ہو کہ یہ شخص غریب معلوم ہوتا ہے اورپوشیدہ اس کے پاس چاہے کچھ ہو اس کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۱۰)یہ کہ ان روپوں میں سے فقیروں کو جومانگتے پھرتے ہیں دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۱۱) علاوہ اس کے وُہ بات کہ جس میں روپیہ زکوٰتی صرف کیا جائے وہ برائے مہربانی تحریر کردیجئے گا۔ (۱۲)یہ کہ اگر مولود شریف میں یا نیاز دعا میں صرف کیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب : (۱) ہاں جائز ہے جبکہ مصرف ہو۔ (۲) نانا نانی کو ناجائز باقی چاروں کو جائز۔ (۳) ان سب کو دے سکتے ہیں جبکہ نہ غنی ہوں نہ غنی باپ کے بچّے نہ ہاشمی۔ (۴) جائز ہے جبکہ محتاج ہو۔ (۵) ان کو بھی بشرائط مذکورہ جائزہے۔ (۶) ہاں رُوئی کی قیمت زکوٰۃ میں لگا سکتا ہے جبکہ بہ نیت زکوٰۃ دے مگر بھرائی کی اُجرت زکوٰۃ میں شمار نہ ہوگی۔ (۷) جائز ہے جبکہ غنی ہاشمی نہ ہو۔ (۸) بشرطِ مذکورہ جائز ہے۔ (۹) جبکہ اُسے اُس کا اندرونی حال معلوم نہیں تو ظاہر محتاجی پر عمل کرکے زکوٰۃ دے سکتا ہے۔ (۱۰) جائز ہے مگر جو ان سے تندرست جو بھیک مانگنے کا پیشہ کرلیتے ہیں جیسے جوگی سادھوبچے ان کو دینا جائز نہیں ۔ (۱۱) محتاج فقیر جونہ ہاشمی ہونہ غنی باپ کا نابالغ بچّہ، نہ اپنی اولاد جیسے بیٹابیٹی، پاتا پوتی ، نواسانواسی، نہ یہ کہ اس کی اولاد جیسے ماں باپ، دادا دادی، نانانانی، نہ اپنی زوجہ، نہ عورت کا اپنا شوہر، ایسے محتاج جو ان سب کے سوا ہو بہ نیت زکوٰۃ دے کر مالک کردینے سے زکوٰۃ ادا ہوتی ہے وبس۔ (۱۲) مجلس میلاد پاک میں حصّہ عام تقسیم ہوتاہے غنی فقیر مصرف غیر مصرف کی تخصیص نہیں ہوتی،یونہی نیاز کی تقسیم میں تو اس سے زکوٰۃ ادانہیں ہوسکتی، ہاں جو حصّے خاص فقراء مصرف زکوٰۃ کو دے اُس کا شمار ا ن کو دینے میں زکوٰۃ کی نیت کرے تو وہ زکوٰۃ میں محسوب ہوسکتے ہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۰۳: از مراد آباد مسئولہ امیر حسن صاحب رضوی ۹محرم الحرام ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ صدقہ فطر کس قدر دینا چاہئے اور کس کو دینا چاہئے اور کس وقت ادا کرے اور کس طرف سے؟بینو اتوجروا
الجواب :صدقہ فطر سو روپے کے سیر سے پونے دو سیر اٹھنی بھر اوپر دیاجائے اور اس کے مصرف وہی لوگ ہیں جو مصرف زکوٰۃ ہیں اور اس کے دینے کا وقت واسع ہے ، عیدالفطر سے پہلے بھی دے سکتا ہے اور بعد بھی، مگربعد کو تاخیر نہ چاہئے بلکہ اولیٰ یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے نکال دے کہ حدیث میں ہے: صاحبِ نصاب کے روزے معلق رہتے ہیں جب تک یہ صدقہ ادا نہ کرے گا۔ اپنی طرف سے اور اپنے بچوں کی طرف سے دینا واجب ہے اور باندی غلام کی طرف سے بھی جو اس کی ملک ہیں، بی بی یا نا بالغ بچوں کی طرف سے دینا واجب نہیں اگر وہ صاحبِ نصاب ہیں، آپ دیں یا اُن کی اجازت سے یہ دے، بلا اجازت ان کی طرف سے ادا نہ ہوگا۔ واﷲتعالیٰ اعلم