| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۸۹ :از گونڈہ بہرائچ محلہ چھاؤنی مکان مولوی مشرف علی صاحب مرسلہ سید حسین صاحب دامت برکاتہم ۱۳جمادی الاولیٰ ۱۳۰۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں لطف اﷲبہم اجمعین زکوٰۃ کن کن مصارف میں دینا جائز ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب :مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو،نہ اپنا شوہر ،نہ اپنی عورت ،اگر چہ طلاق مغلظہ دے دی ہو جب تک عدّت سے باہر نہ آئے، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے بیٹا، بیٹی، پوتاپوتی، نواسانواسی، نہ وُہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ ، دادا دادی نانا نانی، اگر چہ یہ اصلی و فروعی رشتے عیاذاًباﷲبذریعہ زنا ہوں، نہ اپنا یا ان پانچوں قسم میں کسی کا مملوک اگرچہ مکاتب ہو ، نہ کسی غنی کا غلام غیر کاتب ،نہ مرد غنی کا نابالغ بچہ ،نہ ہاشمی کا آزاد بندہ ،اور مسلمان حاجت مند کہنے سے کافر و غنی پہلے ہی خارج ہوچکے۔ یہ سولہ شخص ہیں جنھیں زکوٰۃ دینی جائز نہیں، ان کے سوا سب کو روا، مثلاًہاشمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ بعض متہورین کہ ماں کے سیدانی ہونے سے سیّد بن بیٹھے اور باوجود تفہیم اس پر اصرار کرتے ہیں بحکمِ حدیثِ صحیح مستحقِ لعنتِ الہٰی ہوتے ہیں
والعیاذباﷲتعالیٰ وقد اوضحنا ذٰلک فی فتاونا
(اﷲتعالیٰ کی پناہ اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں خوب واضح کردیا ہے۔ت)اسی طرح غیر ہاشمی کا آزاد شدہ بندہ اگر چہ خود اپنا ہی ہویا اپنے اصول و فروع و زوج و زوجہ ہاشمی کے علاوہ کسی غنی کا مکاتب یا زنِ غنیہ کا نابالغ بچہ اگر چہ یتیم ہویا اپنے بہن بھائی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں بلکہ انھیں دینے میں دُونا ثواب ہے، زکوٰۃ و صلہ رحم یا اپنی بہو یا داماد یا ماں کا شوہر یا باپ کی عورت یا اپنے زوج یا زوجہ کی اولاد کہ ان سولہ کو بھی دینا روا، جبکہ یہ سولہ،اول سولہ سے نہ ہوں ،ا زانجا کہ انھیں اُن سے مناسبت ہے جس کے باعث ممکن تھا کہ ان میں ہی عدمِ جواز کا وہم جاتا، لہذا فقیر نے انھیں بالتخصیص شمار کردیا اور نصاب مذکورپر دسترس نہ ہونا چندصورت کو شامل:ایک یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو،اسے مسکین کہتے ہیں۔
دوم: مال ہو مگر نصاب سے کم، یہ فقیر ہے۔ سوم نصاب بھی مگر حوائج اصلیہ میں مستغرق جیسے مدیون۔
چہارم : حوائج سے فارغ ہومگر اسے دسترس نہیں، جیسے ابن السبیل یعنی مسافر، جس کے پاس خرچ نہ رہاتو بقدرضرورت زکوٰۃ لے سکتا ہے اس سے زیادہ اسے لینا روا نہیں۔ یا وُہ شخص جس کا مال دوسرے پر دین مؤجل ہے اور ہنوز میعاد نہ آئی اب اسے کھانے پہننے کی تکلیف ہے تو میعادآنے تک بقدر حاجت لے سکتا ہے یا وہ جس کا مدیون غائب ہے یالے کر مکر گیا اگر چہ ثبوت رکھتا ہو کہ ان سب صورتوں میں دسترس نہیں عہ بالجملہ مدار کار حاجتمند بمعنی مذکور پر ہے تو جو نصاب مذکور پر دسترس رکھتا ہے ہر گز زکوٰۃ نہیں پاسکتا اگرچہ غازی ہو یا حاجی یا طالب علم یا مفتی مگر عاملِ زکوٰۃ جسے حاکمِ اسلام نے اربابِ اموال سے تحصیل زکوٰۃ پر مقرر کیا وہ جب تحصیل کرے بحالت غنی بھی بقدر اپنے عمل کے لے سکتا ہے ، اگر ہاشمی نہ ہو۔ پھر دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دسترخوان پر بٹھلا کر کھلادینا یا میّت کے کفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ ، پل،سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، اگر ان میں صرف کیا چاہے تو اس کی وہی حیلے ہیں جو ہمارے فتاوٰی میں مسطور ہیں،
عہ اگر دین معجل خواہ ابتداءً یا یُوں کہ اجل مقرر ہوئی تھی گزر چکی اور مدیون غنی مقرر حاضر ہے تو یہ صورت دسترس کی ہے اور یاد رکھنا چاہئے کہ قرض جسے لوگ دست گرداں کہتے ہیں شرعاًہمیشہ معجل ہوتا ہے،اگر ہزار عہدو پیمان ووثیقہ و تمسک کے ذریعہ اس میں میعاد قرار پائی ہو کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا اس سے پہلے اختیارِمطالبہ نہ ہوگا اگر مطالبہ کرے تو باطل و نا مسموع ہو وغیرہ وغیرہ ہزار شرطیں اس قسم کی کرلی ہوں تو وُہ سب باطل ہیں اور قرض دہندہ کو ہر وقت اختیارِ مطالبہ ہے،
لانہ تبرع ولا جبر علی المتبرع وقد نصّ فی الاشباہ والدروغیرہما انہ لایصح تا جیل القرض۱۲منہ غفرلہ(م)
کیونکہ یہ تبرع ہے اور تبرع میں جبر نہیں۔ اشباہ ، در اور دیگر کتب میں یہ تصریح ہے کہ ادائیگی قرض کا وقت مقرر کرنا صحیح نہیں ۱۲۱۲ منہ غفرلہ(ت)
ھذا کلہ ملخص ما استقر علیہ الامرفی تنویرالابصار والدرالمختار وردالمحتاروغیرہا من معتبرات الاسفار وقد لخصناہ بتوفیق اﷲتعالیٰ احسن تلخیص لعلہ لا یوجد من غیرناوﷲالحمد،فمن شک فی شئی من ھذا فلیراجع الاصول التی سمینااولم نسم نعم لاباس ان نورد نصوص بعض مایکاد یخفی او یستغرب،
یہ اس تمام گفتگو کا خلاصہ ہے جس پر تنویر الابصار، درمختار، ردالمحتار اور دیگر کتبِ معتبرہ میں معاملہ کو ثابت کیا ہے اور ہم نے اﷲتعالیٰ کی توفیق سے اس کی سب سے اچھی تلخیص کی ہے، شاید یہ ہمارے علاوہ کہیں نہ ملے وﷲالحمد۔ اور جس شخص کو اس بارے میں شک ہو وہ ان اصول و کتب کی طرف رجوع کرے خواہ ان کے ہم نے نام لیے ہیں یا نہیں، ان میں سے بعض ایسی نصوص کے ذکر میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے جنھیں مخفی یا نادر سمجھا گیاہے۔
ففی ردالمحتار شمل الولاد بالنکاح والسفاح فلا یدفع الی ولد ہ من الزنا الخ ۱؎وفیہ تحت قولہ او بینھما زوجیۃ ولو مباینۃ ای فی العدۃ ولو بثلاث نھر عن معراج الدرایۃ اھ ۲؎ وفیہ تحت قولہ ولوالی مملوک المزکی ولو مکاتبا وکذا مملوک من بینہ وبینہ قرابۃ ولاد او زوجیۃ لما قال فی الفتح الخ۳؎وفیہ تحت قولہ و بخلاف طفل الغنیۃ فیجوز ای ولولم یکن لہ اب بحر عن القنیۃ اھ ۴؎وفیہ وقید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کالا خوۃ والاعمام والاخوال الفقراء بل ھم اولیٰ لانہ صلۃوصدقۃویجوزدفعھا لزوجۃ ابیہ وابنہ و زوج ابنتہ، تاترخانیہ اھ ۵؎ملخصا
ردالمحتار میں ہے یہ تمام اولاد کو شامل ہے خواہ وہ نکاح کی وجہ سے ہو یا زنا کی وجہ سے، لہذا اولادِ زنا کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جائیگی الخ اور اسی میں ماتن کے قول'' یا ان کے درمیان زوجیت کا رشتہ ہو خواہ وہ مبائنہ ہو یعنی خواہ وُہ تین طلاق ہو جانے پر عدّت بسر کررہی ہو، یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ اور اسی میں ماتن کے قول''زکوٰۃ دینے والا اپنے غلام کو نہ دے خواہ وہ مکاتب ہو کے تحت ہے''اور اسی طرح اس غلام کا حکم ہے جس کے اور زکوٰۃ دینے والے کے درمیان رشتہ اولاد یا زوجیت ہو، اس دلیل کے پیش نظر جو بحر اور فتح میں ہے اور اسی میں ماتن کے قول ''بخلاف غنی عورت کے بچّے کے کہ اسے دینا جائز ہے یعنی اس کا والد نہ ہو، یہ بحر میں قنیہ سے ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اولاد کی قید اسی لیے ہے کہ باقی اقارب مثلاً بھائی بہنیں ، چچا اورخالو اگر فقراء ہوں تو انھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ یہ لوگ زکوٰۃ کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہاں صلہ رحمی اور صدقہ دو۲چیزیں جمع ہوجاتی ہیں، اپنے والد اور بیٹے کی بیوی اور اپنے داماد کو زکوٰۃ جائز ہے تاتارخانیہ اھ ملخصاً
(۱؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹) ( ۲؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹) (۳؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹) (۴؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۷۲) (۵؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹)
وفیہ من کتاب الوصایاتحت قولہ، الشرف من الام فقط غیر معتبر، یؤیدہ قول الھندیۃ عن البدائع فثبت ان الحسب والنسب یختص بالاب دون الام اھ فلا تحرم علیہ الزکوٰۃ ولا یکون کفواًللھا شمیۃ ولا ید خل فی الوقف علی الاشراف ط اھ ۱؎وفیہ وقال فی الفتح ایضا ولا یحل لہ ای لا بن السبیل ان یاخذ اکثر من حاجتہ، قلت وھذا بخلاف الفقیر فانہ یحل لہ ان یاخذ اکثر من حاجتہ وبھذا فارق ابن السبیل کما افادہ فی الذخیرۃ اھ فیہ تحت قولہ ومنہ مالو کان مالہ مؤجلا،ای اذا احتاج الی النفقۃ یجوزلہ اخذ الزکوٰۃ قدر کفایتہ الی حلول الاجل،نھر عن الخانیۃ اھ، وفیہ تحت قولہ او علی غائب ای ولوکان حالا لعدم تمکنہ من اخذہ ط اھ۲؎ وفیہ تحت قولہ او معسر او جاحد ولولہ بینۃ فی الاصح، فیجوزلہ الاخذ فی اصح الاقاویل لانہ بمنزلۃ ابن السبیل ولوموسرا معتر فالا یجوز کما فی الخانیۃ ۳؎اھ،
اور اس میں کتاب الوصایا سے ماتن کے قول''فقط ماں کی وجہ سے شرف معتبر نہیں ''کے تحت ہے کہ ہندیہ نے بدائع سے جو لکھا ہے وُہ اس کا موئد ہے تو ثابت ہوگیا کہ حسب و نسب والد کے ساتھ مختص ہے نہ کہ ماں کے ساتھ اھ پس اس پر زکوٰۃ حرام نہیں اور نہ ہی وہ ہاشمی کا کفو بنے گا اور سادات پر وقف میں شامل نہ ہوگا ۔ اور اسی میں ہے فتح میں بھی ہے کہ اس (مسافر)کے لیے ضرورت سے زائد لینا جائز نہیں۔ میں کہتا ہُوں بخلاف فقیر کے کہ اس کے لیے ضرورت سے زاید لینا جائز ہے، اسی سے فقیر اور مسافر کے درمیان فرق واضح ہوگیا ، جیساکہ اس کا بیان ذخیرہ میں ہے اھ اور اس میں ماتن کے قول ''اور ایسی ہی صورت وُہ ہے جس میں مال کے حصول کیلئے وقت مقرر ہو یعنی خرچہ کی ضرورت ہوتو وقت مقرر آنے تک بقدر کفایت زکوٰۃ لینا جائز ہے یہ نہر میں خانیہ سے ہے اور اس میں ماتن کے قول''یا وہ قرضہ کسی غائب پر ہے'' کے تحت ہے یعنی اگر چہ قرضہ حالی ہو کیونکہ اس وقت اس کے حصول پر قادر نہیں اور اسی میں ماتن کے قول''یا مقروض تنگ دست یا منکر ہو اگر چہ اصح قول کے مطابق گواہ بھی ہوں''کے تحت ہے کہ اصح قول کے مطابق ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے کیونکہ وہ مسافر کی طرح ہے اور اگر مقروض امیر اور معترف ہو تو جائز نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے اھ
(۱؎ردالمحتار باب الوصیۃ للاقارب مصطفی البابی مصر ۵ /۴۸۴) (۲؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷) ( ۳ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷)
وفیہ تحت قولہ و فی سبیل اﷲ وھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم وفسرہ فی البدائع بجیمع القرب، قال فی النھر والخلاف لفظی للاتفاق علی ان الاصناف کلھم سوی العامل یعطون بشرط الفقر اھ۱؎(ملخصاً)وفیہ تحت قولہ وبھذا التعلیل یقوی مانسب للواقعات من ان طالب العلم یجوزلہ اخذالزکوٰۃ ولوغنیا اذا فرغ نفسہ لافادۃ العلم واستفادتہ،ھذاالفرع مخالف لا طلا قھم الحرمۃ فی الغنی ولم یعتمدہ احد ط، قلت وھو کذٰلک والاوجہ تقییدہ بالفقیر۲؎ الیٰ اخرما افادہ ،علیہ رحمۃ الجواد۔ واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
اور اسی میں ماتن کے قول'' اور اﷲکی راہ میں ''سے مرادوہ غازی ہیں جن کے پاس جہاد کا خرچہ نہیں، بعض نے حاجی قرار دیا، بعض کے نزدیک طلبہ مراد ہیں۔ بدائع میں اس کلمہ کی تفسیر''تمام ثواب والے کام'' سے کی ہے ، نہرمیں ہے کہ عامل کے سوا تمام مصارف پر تب خرچ کیا جائے گا جب وہ فقیر ہوں اھ اور اسی میں ماتن کے قول، اس علت کے بیان سے واقعات کی طرف منسوب اس قول کی تقویت ہوجاتی ہے کہ طالبعلم کو زکوٰۃ لینا جائز ہے خواہ وہ غنی ہو بشرطیکہ اس نے اپنے آپ کو علم پڑھانے اور پڑھنے کے لیے مختص کررکھا ہو کہ یہ تفریع فقہاء کرام کے حرمتِ زکوٰۃ کو غنی کے لئے مطلق رکھنے کے خلاف ہے جبکہ اس پر کسی نے اعتماد نہیں کیا، ط۔ میں کہتا ہوں یہ معاملہ یونہی ہے، موزوں یہی ہے کہ طالبعلم کو فقیر ہونے سے مقید کیا جائے(ان کے افادہ کے آخر تک)ان پر اﷲتعالیٰ جواد کی رحمت ہو، واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم(ت)
(۱؎ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷) ( ۲ ؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۵)