Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
46 - 198
جانوروں کی زکوٰۃ
مسئلہ ۸۸: ۱۹محرم الحرام ۱۳۲۲ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جانورانِ حسب ذیل پرجوکہ بغرض کاشتکاری ہیں اور تجارت کی غرض سے نہیں ہیں اور سال میں زیادہ حصّہ جنگل میں چرتے ہیں اُن پر زکوٰۃ دینی چاہئے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
تفصیل : بیل ۱۸، گائے ۲۱،بچہ گائے ۲سال کے ۱۳، بچہ اندر ایک سال ۳، بھینس ۲، بھینس زائد از دوسال ۲، بچہ بھینس کم از ایک سال۲، بھینسے۶۔ کل۶۷راس۔
الجواب : اونٹ، گائے، بھینس ،بکری، بھیڑنر خواہ مادہ خواہ دونوں مختلط، جبکہ قدرنصاب(۱) ہوں(کہ اونٹ میں پانچ، گائے بھینس میں تیس، بھیڑ بکری میں چالیس ہے)اور بونے(۲) ،جوتنے،لادنے، کھانے کے لیے نہ رکھے گئے ہوں بلکہ تمام حاجاتِ اصلیہ سے فارغ صرف دُودھ یا نسل یا قیمت بڑھنے کے لے پالے جاتے یا شوقیہ پرورش و فربہی کے واسطے ہوں اور سال کا اکثر حصہ جنگل میں چُھوٹے ہُوئے چرنے پر اکتفا کرتے ہوں اور اُن پر سال پُورا گزرے اور تمامی سال کے وقت وہ سب جانور ایک نوع کے یعنی سب اونٹ یا سب گائے بھینس یا سب بھیڑ بکری ایک سال سے کم کے نہ ہوں بلکہ اُن میں کوئی ایک سال کامل کا بھی ہو اگر چہ ایک ہی ہو تو ان پانچوں باتوں کے اجتماع سے ان کی زکوٰۃ دینی فرض ہوگی ورنہ نہیں۔ زکوٰۃ میں گائے بھینس ایک ہی نوع ہیں اور ان کا حساب زکوٰۃ یہ ہے کہ تیس ۳۰ سے کم پر کچھ نہیں، تیس ۳۰ پر ایک بچّہ دو۲ سال کامل کا، پھر اُنسٹھ تک یہی واجب رہے گا، ساٹھ پر کہ دوتیس کا مجموعہ ہے، انہتّر تک دو۲بچّے ایک سالہ، ستّر پر کہ ایک تیس اور ایک چالیس کا مجموعہ ہے۔ اُناسی تک ایک بچہ یک سالہ ایک دوسالہ، اسّی پر کہ دوچالیس ہے نواسی تک دوبچےدو سا لہ ،نوے پر کہ تین تیس ہیں ننا نوے تک  تین بچے  یک سالہ،سو پر کہ دو تیس اور ایک چالیس ہے ایک سو نو تک دو بچے یک سالہ  ایک دوسالہ، ایک سودس پر کہ ایک تیس دوچالیس ہے ایک سوانیس پر ایک بچّہ یک سالہ ایک سو بیس پر کہ چاہے چار تیس سمجھ لو چاہے تین چالیس ایک سو انتیس تک چاہے چار بچے یک سالہ دے چاہے تین بچے دوسالہ۔ اسی قیاس پر ہر تیس پر ایک بچہ یکسالہ، اور ہر چالیس پر ایک بچہ دوسولہ لازم آتا جائے گا اور دہائیوں کے بیچ میں جو اکائیاں نو تک آتی جائینگی سب معاف ہوں گی، اور گائے بھینس مخلوط ہوں تو جو گنتی میں زیادہ ہواُسی کا بچّہ یک سالہ یا دوسالہ لیں گے، اور برابر ہوں تواُن میں جو قسم اعلیٰ ہے اس کا ادنیٰ لیا جائے گا یا ادنیٰ کا اعلیٰ۔ یونہی بھیڑ بکری مخلوط ہونے میں، مثلاًایک شخص کے پاس پندرہ پندرہ گائے بھینسیں ہیں جن میں ایک ایک سال کے متعددبچّے دونوں قسم کے ہیں، کوئی زیادہ فربہ کوئی ہلکا کوئی متوسط، تو جہاں گائے کا بچّہ زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہو تو اُن یک سالہ بچّوں میں سب سے ہلکا یا بھینس کے یک سالہ بچّوں میں سب سے فربہ لیا جائے گا، اور جہاں بھینس کا بچّہ بیش قیمت ہوتو اس کے یک سالہ بچّوں میں سب سے ہلکا یا گائے کے یک سالہ بچوں میں سب سے فربہ دیا جائے گا۔
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
 (السائمۃ المکتفیۃ بالرعی اکثر العام لقصد الدروالنسل)والسمن،فی البدائع لواسامھا لللحم فلا زکوٰۃ کما لواسام للحمل والرکوب، ولوللتجارۃ ففیھا زکوٰۃ التجارۃ (فلوعلفھا نصفہ لا تکون سائمۃ)فلا زکوٰۃ للشک فی الموجب۱؎
سائمہ وہ چوپایہ ہے جو سال کا اکثر حصہ باہرچر کر گزارا کرے، اگر ایسا جانور کسی نے دُدوھ، نسل اور گھی کے لیے رکھا ہو، بدائع میں ہے کہ اگر گوشت کے لیے ہو تو زکوٰۃ نہیں، جیسا کہ اگر کسی نے بوجھ لادنے یا سواری کے لیے رکھا تو زکوٰۃ نہیں، اگر تجارت کیلئے ہے تو اس میں زکوٰۃ ہوگی (اگرنصف سال چارہ ڈالا تو وہ جانور سائمہ نہ ہوگا) اس میں زکوٰۃ نہ ہوگی کیونکہ موجب میں شک ہے
(۱؎ درمختار      باب السائمہ    مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۳۱)
(نصاب البقر والجاموس)(ثلثون سائمۃوفیھا تبیع ذوسنۃ) کاملۃ(اوتبیعۃ)انثاہ(وفی اربعین مسن ذو سنتین اومسنۃ)ولاشئی فیما زاد(الی ستین ففیھا ضعف مافی ثلثین)وعلیہ الفتوی(ثم فی کل ثلثین تبیع وفی کل اربعین مسنۃالااذا تداخلا کمائۃوعشرین فیخیربین اربع اتبعۃ وثلاث مسنات وھکذا ۲؎
 (گائے)بھینس (کانصاب)تیس ہے ان میں (تبیع)ایک کامل سال کا واجب ہوگا)(یا تبیعہ) اسکی مونث(اورچالیس میں ایک مسن دوسال یا ایک مسنہ) اس پر اضافہ میں کوئی شئی نہیں ، (ساٹھ تک پھر ساٹھ پر تیس میں جو کچھ تھا اس کا دو گنا لازم ہے اور اس پر فتوٰ ی ہے )پھر ہر تیس پر ایک تبیع اور ہر چالیس پر ایک مسنہ ہوگا مگر اس صورت میں جب تداخل ہوجائے مثلاً تعداد ایک سوبیس ہوگی تواب اختیار ہے چار تبیع دے دے یا تین مسنے، اسی طرح آگے معاملہ ہے
(۲؎ درمختار ،باب زکوٰۃ البقر ، مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۳۲)
 (ولاشئی فی عوامل وحمل)بفتحتین ولد الشاۃ (وفصیل)ولدالنّاقۃ(وعجوّل)بوزن سنّورولد البقرۃ وصورتہ ان یموت کل الکبار ویتم الحول علی اولا دھاالصغار (الاتبعاً لکبیر ولو واحدا(و)لافی(عفووھو مابین النصب فی کل الاموال اھ۱؎ملخصاملتقطا۔
 (محنت و مشقت لینے والےجانوروں، بکری کے بچّوں، اونٹنی کے بچوں اور گائے کے بچّوں میں زکوٰۃ نہیں۔ اسکی صورت یہ ہے کہ بڑے جانور مرجاتے ہیں اور سال ان کے چھوٹے بچوں پرمکمل ہوتا ہے(تو اب زکوٰۃ نہیں) مگر اس صُورت میں کہ بڑے موجود ہوں توان کی اتباع میں زکوٰۃ ہوگی اگر چہ بڑا ایک ہو اور عفو میں زکوٰۃ نہیں، اور یہ تمام اموال میں نصابوں کے درمیانی حصہ کو کہا جاتا ہے ملخصاً۔(ت)
 ( ۱؎درمختار       باب زکوٰۃ الغنم        مطبع مجتبائی دہلی            ۱ /۱۳۳)
ردالمحتار میں ہے:
الجاموس ھو نوع من البقر کما فی المغرب فھو مثل البقرفی الزکوٰۃ والاضحیۃ والربا ویکمل بہ نصاب البقروتوخذ الزکوٰۃ من اغلبھا وعند الاستواء یوخذ علی الادنی وادنی الاعلیٰ ،نھر،وعلی ھذا الحکم البخت والعراب والضان والمعز، ابن ملک۔۲؎
بھینس، گائے کی ایک نوع ہے جیسا کہ مغرب میں ہے لہذا یہ زکوٰۃ، قربانی اور ربا میں گائے کے حکم میں ہوگی، اس سے گائے کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے اگر گائیں غالب ہوں تو زکوٰۃ لی جائے گی اور اگر برابر ہوں تو اُن میں جو قسم اعلیٰ ہے اس کا ادنی لیا جائیگا یا ادنی کا اعلیٰ، نہر ۔ اور اسی کے حکم میں بختی اور عربی اونٹ، بھیڑ اور بکری وغیرہ ہوتے ہیں، ابن الملک۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار             باب زکوٰۃ البقر        مصطفی البابی مصر            ۲ /۱۹)
اسی میں ہے:
النصاب اذا کان ضأنا یوخذ الواجب من الضان ولو معز افمن المعز ولومنھمافمن الغالب ولو سواء فمن ایھما شاء جوہرۃ ای فیعطی ادنی الاعلیٰ اوعلی الادنی کما قد مناہ۔۳؎
نصاب اگر بھیڑ کا ہے تو بھیڑ ہی وصول کی جائے، اور اگر نصاب بکری کا ہے تو بکری ہی لی جائےگی، اور اگر دونوں سے نصاب ہے تو پھر غالب کا اعتبار ہوگا، اوردونوں برابر ہوں تو جس سے چاہولے لو، جوہرہ۔یعنی اعلیٰ سے ادنیٰ یا ادنیٰ سے اعلیٰ لیا جائیگا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے(ت)
 ( ۳؎ ردالمحتار،باب زکوٰۃ الغنم،مصطفی البابی مصر،۲/۲۰)
عالمگیریہ میں ہے :
ادنی السن الذی یتعلق بہ وجوب الزکوٰۃ فی الابل بنت مخاض،وفی البقر تبیع،وفی الغنم ھو الثنی کذافی شرح الطحاوی اھ۱؎ملتقطا
کم از کم وُہ عمر جس کے ساتھ اونٹوں میںزکوٰۃ متعلق ہوتی ہے بنت مخاض ہے، گائے میں تبیع ، اور بھیڑ بکریوں میں ثنی، جیسا کہ شرح الطحاوی میں ہے اھ اختصاراً(ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی ہندیۃ ، الباب الثانی فی صدقۃ السوائم فصل ثانی،نورانی کتب خانہ پشاور ،۱ /۷۸-۱۷۷)
درمختار میں ہے:
بنت مخاض ھی التی طعنت فی السنۃ الثانیۃ، وتبیع ذوسنۃ کاملۃ، والثنیٰ من الضان والمعز ھو ماتمت لہ سنۃ اھ۲؎بالالتقاط۔
بنت مخاض،جو عمر کے دوسرے سال میں داخل ہو۔ تبیع، ایک سال کی عمر۔ اور بھیڑ وبکری میں ثنی وُہ ہوتا ہے جس پر سال مکمل ہوجائے اھ اختصاراً(ت)
 ( ۲؎درمختار             باب نصاب الابل وزکوٰۃ البقر وزکوٰۃ الغنم            مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۳۱تا۱۳۳)
ہندیہ میں ہے :
السوائم تجب الزکوٰۃفی ذکورھا واناثھا ومختلطھما والسائمۃ ھی التی تسام فی البراری لقصد الدروالنسل والزیادۃ فی الثمن والسمن کذا فی محیط السرخسی۔۳؎
سائمہ چوپایوں مذکر و مؤنث اوران دونوں کے اختلاط پر زکوٰۃ ہے۔اور سائمہ وہ چوپائے ہوتے ہیں جو جنگل میں چریں اور ان سے مقصد دودھ، نسل، ثمن میں اضافہ اور گھی کا حصول ہو۔ محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔(ت)
 ( ۳؎فتاوٰی ہندیۃ         الباب الثانی فی صدقۃالسوائم             نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۱۷۶)
جب یہ قواعد معلوم ہولئے حکم مسئلہ مسئولہ واضح ہوگیا۔ اٹھارہ بیل اور دوبھینسے کہ کاشتکاری کے لے ہیں اُن پر کچھ نہیں، اور ایک سال سے کم کے بچّے اگر چہ خود محلِ وجوب نہیں مگریک سالہ کے ساتھ مل کر ان پر بھی وجوب ہوتا ہے تو سب جانور سینتالیس ۴۷ہُوئے جن پر ایک بچّہ دوسال کامل کی عمر کا واجب ہے اور ازانجا کہ ان میں زیادہ گائے ہیں تویہ دوسالہ گائے کا ہی بچہ دیا جائے گا بچھڑا ہو خواہ بچھیا، اور ازاں جاکہ ان میں زیادہ مادہ ہیں سینتالیس میں اکیس گائے ہیں اور دو بھینسیں پوری، دو جھوٹیاں۔ توافضل یہ ہے کہ دوبرس کامل کی بچھیا زکوٰۃ میں دے،
فی الھندیۃ عن التتار خانیۃ عن العتابیۃ الافضل فی البقر ان یؤدی من الذکر التبیع ومن الاثنی التبیعۃ۔۱؎واﷲسبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔
ہندیہ میں تتارخانیہ سے عتابیہ سے ہے گائے میں افضل یہ ہے کہ مذکر میں تبیع اور مؤنث میں تبیعہ دیا جائے۔ واﷲسبحانہ، وتعالیٰ اعلم(ت)
 ( ۱؎فتاوٰی ہندیہ   الفصل الثالث فی زکوٰۃ البقر نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۱۷۸)
Flag Counter