| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
اور اگر معلوم نہ ہو کہ سلطنت اسلام میں کیا معین تھا تو ظاہراًخراج مقاسمۃ و خراج موظف غیر مقرر امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ میں، نصف دیں اور مقرراتِ امیر المومنین میں،اُسی کا لحاظ رکھیں، غرض ہرجگہ پوری مقدار دیں جس سے زیادت جائز نہ تھی۔
لان التنقیص انما کان یثبت بنقص الامام ولم یثبت فلم یثبت فکان الاستقصار فیہ فراغ الذمۃ یقینا فکان الحوط ھذا کلہ من اول الکلام الیٰ ھنا ممااخذہ الفقیر تفقھا وارجون یکون صوابا ان شاء اﷲتعالیٰ فان اصبت فمن اﷲوحدہ وانا احمداﷲ علیہ وان اخطأت فمنی ومن الشیطان واناابرؤ الی اﷲمنہ ولا حول ولاقوۃ الّا باﷲالعلی العظیم۔
کیونکہ کمی امام کے کرنے سے ہوگی اور جب وُہ ثابت نہیں تو وظیفہ میں کمی بھی ثابت نہ ہوگی تو یہاں یقینی فراغ ذمّہ کے لیے مقرر پر اکتفاء ہوگا تو یہی احوط ہوگا، اوّل سے لے کر یہاں تک یہ گفتگو فقیر نے بطور تفقہ کی ہے اور میں امید کرتا ہُون کہ اِن شاء اﷲ یہ صواب ہوگی، اگر تو میں درست ہُوا تو اﷲوحدہ کی طرف سے ہے اور میں اس پر اﷲتعالیٰ کی حمد بجالا تاہُوں، اور اگر یہ غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے اور میں اس سے برأت کا اعلان کرتے ہُوئے اپنے اﷲکے دامن میں آتا ہُوں ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲالعلی العظیم۔(ت)
وظیفہ مقررہ فاروقیہ فی جریب سالانہ یہ ہے ہر قسم غلّے پر اُسی سے ایک صاع اور ایک درہم اور کہ طاب یعنی خربوزے تربوز کی پالیزوں، کھیرے ککڑی بینگن وامثالہا کی باڑیوں پر پانچ درہم انگور و خرما کے گھنے باغوں پر، جن کے اندر زراعت نہ ہوسکے، دس درہم ان کے ماوراء میں وہی تقدیر طاقت ہے جس کی انتہا نصف تک، پھر ان اقسام میں حیثیت زمین وقدرت کا اعتبار ہے جو زمین جس چیز کے بونے کی لیاقت رکھتی ہو اور یہ شخص اس پر قادر ہو اُس کے اعتبار سے خراج ادا کرے مثلاًانگور بو سکتا ہے تو انھیں خراج دے اگر چہ گیہوں بوئے ہوں، اور گیہوں کے قابل ہے تو اس کا خراج دے، اگر چہ جو بوئے ہوں ہرحال میں خراج سال بھر میں ایک ہی بار لیا جائے گا اگر چہ سال میں چار بار زراعت کرے یا باوصف قدرت بالکل معطل رکھ چھوڑے اور یہ جریب انگریزی گز سے کہ ان بلاد میں رائج ہے(جس کی مقدار سولہ۱۶ گرہ ہے ہرگرہ تین ۳انگل) پینتیس گز مسطح ہے یعنی ۳۵ گز طول ۳۵گز عرض، اور صاع دوسوستّر ۲۷۰تولے ہے یعنی انگریزی روپیہ سے دوسواٹھاسی۲۸۸ روپیہ بھر کہ رامپور کے سیر سے پورے تین سیر ہُوئے اور دس۱۰ درہم کے عص /۱۲ ِ ۹-۳/۵پائی یعنی دو۲ روپے پونے تیرہ آنے اور پانچواں حصّہ پیسے کا پانچ درم کے عص/۶ / ۴-۴/۵پائی ایک درم کے ۴ /۵-۱۹/۲۵پائی یعنی ۴/۲۵ کم ساڑھے چار آنے۔
فی الدرالمختار وضع عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ لکل جریب ھو ستون ذرا عافی ستین، بذراع کسری(سبع قبضات) صاعامن بر اوشعیر(والصحیح انہ مما یزرع فی تلک الارض کما فی الکافی،شرنبلالیۃ ومثلہ فی البحر) ودرھما من اجودالنقود(وزن سبعۃ کما فی الزکوٰۃ بحر) ولجریب الرطبۃ (وھی القثاء والخیار والبطیخ والباذ نجان وما جری مجراہ) خمسۃ دراھم ولجریب الکرم اوالنخل متصلۃ (قید فیھما)ضعفھاوما لیس فیہ توظیف عمر کزعفران وبستان فیھا اشجار متفرقۃ یمکن الزرع تحتہا طاقتہ وغایۃ الطاقۃ نصف الخارج لان التصنیف عین الانصاف اھ۱؎ مختصرا مزید امابین الاھلۃ من ردالمحتار ۔
درمختار میں ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہہ نے ہر جریب میں ایک صاع گندم یا جَو مقرر فرمائے اور جریب طولاً عرضاً ساٹھ ذراع کاہوتا ہے اور ہر ذراع سات مُٹھیوں کا ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے اس زمین سے جو کچھ پیدا ہورہا ہے اسی سے وظیفہ ادا کیا جائی گا جیسا کہ کافی، شرنبلالیہ میں اور اسی کی مثل بحر میں ہے اور نقود میں سے ایک درہم لازم ہوگا (جس کا وزن سات مثقال ہوجیسا کہ زکوٰۃ میں ہوتا ہے، بحر) اور سبزیات(اور وُہ کھیرے، تر، خربوزے، بینگن اور ایسی دیگر اشیاء) کی جریب میں پانچ دراہم، انگور اور خرما کے گھنے باغوں(یہ قید دونوں کے لیے ہے) میں دس درہم ہے،اور جس میں سیّدنا عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے کوئی وظیفہ مقرر نہیں فرمایا مثلاً زعفران ، اور وُہ باغ جس میں متفرق درخت ہوں اور وہاں کاشت کرنا ممکن ہو تو طاقت کے مطابق وظیفہ ہوگا اور انتہائے طاقت نصف پیداوار ہے کیونکہ نصف ادا کرنا عین انصاف ہے اھ مختصراً، ہاں قوسین کے اندر ردالمحتار سے اضافہ میری طرف سے کیا گیا ہے،
(۱؎درمختار ،باب العشر والخراج الخ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۳۴۹) (ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۸۶-۲۸۵)
وفی الدرلوزرع الاخس قادراعلی الاعلی کزعفران فعلیہ خراج الاعلیٰ وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرئ الظلمۃ۲؎
اور درمیں ہے کہ اگر کسی نے اعلیٰ پر قادر ہوتے ہوئے ادنیٰ کو کاشت کیا مثلاً زعفران، اس پر اعلیٰ کا خراج ہوگا، یہ جان تولیا جائے مگر اس پر فتوٰی نہ دیا جائے تاکہ ظالم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔
(۲؎ درمختار باب العشر والخراج الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۰)
فی ردالمحتار عن العنایۃ رد، بانہ کیف یجوز الکتمان وانھم لو اخذواکان فی موضعہ لکونہ واجبا واجیب بانا لوافتینا بذلک لادعی کل ظالم فی ارض لیس شانھا ذلک انھا قبل ھذاکانت تذرع الزعفران فیا خذخراج ذٰلک وھو ظلم وعد وان اھ ۱؎
ردالمحتار میں عنایہ کے حوالے سے یہ ردکیا گیا ہے کہ ایسی بات کا چھپانا کیسے جائز ہوسکتا ہے اور اگر ظالم لیتے ہیں تو وُہ ٹھیک کرتے ہیں کیونکہ وُہ واجب ہے، اس کا جواب یہ دیاگیا ہے کہ اگر ہم اس پر فتوٰی دیتے ہیں تو ظالم ہر زمین کے بارے میں یہ دعوٰی کرے گا کہ اس سے پہلے اس میں زعفران بویاجاتاتھا اگرچہ وُہ ایسی نہ ہوتو اس سے خراج وصول کرے گا اور یہ ظلم و زیادتی ہوگی اھ،
( ۱؎ ردالمحتار باب العشر والخراج مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۹)
واللفظ للفتح قالو الایفتی بھذالما فیہ تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذید عی کل ظالم ان ارضہ تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ وعلاجہ صعب اھ۲؎ قلت والذی یؤدی بنفسہ ولاجابی کما فی بلا دنا فلا یخشی ذلک فلذا عولت علی ماھناک وفی الھدایۃ ان غلب علی ارض الخراج الماء انقطع الماء عنھا اواصطلم الزرع آفۃ فلاخراج علیہ،وان عطلھا صاحبھا فعلیہ الخراج، ولا یتکررالخراج بتکررالخارج فی سنۃاھ ۳؎بالالتقاط، واﷲسبحانہ وتعالیٰ۔
فتح کی عبارت یہ ہے کہ فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس کے ساتھ فتوٰی نہیں دیا جائے گا کیونکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے مال پر ظالموں کو مسلط کرنا لازم آئے گا اور ہر ظالم یہ دعوٰی کرے گا کہ یہ زمین کاشتِ زعفران وغیرہ کے قابل تھی اور اس کا حل مشکل ہے اھ میں نے کہا جو شخص خود بخود ادا کرے اور وصولی کر نے والا نہ ہو ، جیساکہ ہمارے علاقے میں ہے اس میں ایسا کوئی خوف و خدشہ نہیں اس لیے یہاں اسی پر اعتماد کیا جائیگا، ہدایہ میں ہے کہ اگر خراجی زمین پر پانی کا غلبہ ہوگیا یا اس سے پانی منقطع ہوگیا کسی آفت نے فصل ختم کردی تو اس پر خراج نہ ہوگا اور اگر مالک نے زمین کو معطل رکھا_____تو اس پر خراج ہوگا۔ ایک سال میں دوبارہ پیداوار پر خراج نہ ہوگا اھ اختصاراً، واﷲتعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ اعلم(ت)
(۲؎ فتح القدیر ، باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۵ /۲۸۵) (۳؎ الہدایۃ ، باب العشر والخراج، المکتبۃ العربیۃ کراچی ،۲ /۵۷۳)
مسئلہ ۸۷ :از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ زید دریافت کرتا ہے کہ آم کی بہار میں کس صورت سے دسواں حصّہ نکال کے فروخت کرسکتا ہے جس سے فروخت خبیث نہ ہو۔
الجواب : بہار اس وقت بیچنی چاہئے جب پھل ظاہر ہوجائیں اور کسی کام کے قابل ہوں، اس سے پہلے بیع جائز نہیں اور اس وقت اُس میں عشر واجب ہوتاہے پھل اپنی حد کو پہنچ جائیں کہ اب کچّے اورنا تمام ہونے کے باعث ان کے بگڑ جانے، سُوکھ جانے، مارے جانے کا اندیشہ نہ رہے اگر چہ ابھی توڑنے کے قابل نہ ہُوئے ہوں، یہ حالت جس کی ملک میں پیدا ہوگی اُسی پر عشر ہے، بائع کے پاس پھل ایسے ہوگئے تھے اُس کے بعد بیچے تو عشر بائع پر ہے، اور جو اس حالت تک پہنچنے سے پہلے کچے بیچ ڈالے اور اس حالت پر مشتری کے پاس پہنچے تو عشر مشتری پر ہے بعینہ یہی حکم کھیتی کا ہے واﷲتعالیٰ اعلم۔