Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
44 - 198
بالجملہ جہاں تک نظر کی جاتی ہے یہاں کی اُن زمینوں سے جن کا خراجی ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہولیا بلاوجہ شرعی وجوب خراج کا اُٹھ جانا ثابت نہیں ہوتا اور کیونکر ثابت ہو حالانکہ خراج کے لیے سبب وجوب ارض نامیہ ہے اور وہ حاصل تو وجوب بھی حاصل، ہدایہ مسئلہ عدم اجتماع عشرو خراج میں فرمایا:
سبب الحقین واحد وھوالارض النامیۃ الا انہ یعتبر فی العشر تحقیقا وفی الخراج تقدیر ا و لھذا یضافان الی الارض۔۱؎
دونوں حقوق عشر و خراج کا سبب ایک ہے اور وُہ ارض نامی ہے، ہاں عشر میں اس کانامی ہونا عملاً اور خراج میں بالفرض ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کی نسبت زمین کی طرف ہوتی ہے(ت)
 (۱؎ الھدایۃ ، باب العشر والخراج الخ، المکتبۃ العربیۃ کراچی، ۲ /۵۷۳)
فتح القدیر میں ہے:
قال الشافعی یجمع بینھما لان سبب العشر الارض النامیۃ بالخارج تحقیقا وسبب الخراج الارض النامیۃ بہ تقدیرا وقد تحقق سبب کل منھما ولا منا فاۃ بین الحقین فیجبان ولنا ان تعدد الحکم واتحادہ بتعدد السبب واتحادہ وسبب کل من الخراج والعشر، الارض النامیۃ ولھذا یضافان الیھا فیقال خراج الارض وعشر الارض والاضافۃ دلیل السببیۃ وکون الارض مع النماء التقدیری غیرالارض مع التحقیقی مخالفۃ اعتباریۃ لاحقیقۃ فالارض النامیۃ ھی السبب واذا اتحد السبب اتحد الحکم اھ۲؎ ملتقطا
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو جمع کیا جاسکتا ہے کہ عشر کا سبب ارض نامی سے عملاً پیداوار اور خراج کا سبب ارض نامی سے پیداوار کا امکان ہے اور یہاں دونوں کا سبب متحقق ہے اور دونوں کے حقوق میں منافات بھی نہیں لہذا دونوں واجب ہوں گے، ہماری دلیل یہ ہے کہ حکم کا متعدد اور واحد ہونا سبب کے متعدد اور واحد ہونے پر موقوف ہے، خراج و عشر کاسبب ارض نامی ہے اسی لیے زمین کی طرف ان کی نسبت کرتے  ہوئے کہا جاتا ہے، زمین کا خراج، زمین کا عشر  اور کسی کی طرف اضافت اس کے سبب ہونے پر دلیل ہے۔ زمین کا ا مکانی نمو پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا ایسی زمین کا غیر ہونا جو واقعۃً نمو پر مشتمل ہے ، یہ اعتباری طور پر ہے، یہاں حقیقۃً مخالفت نہیں تو ارض نامی ہی سبب قرار پائے گی، تو جب سبب ایک ہے تو حکم بھی ایک ہی ہوگا اھ اختصاراً(ت)
 (۲؎ فتح القدیر ، باب العشر والخراج الخ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۸۷-۲۸۶)
ہنوز بعض وجوہ اور ذہن فقیر میں ہیں کہ بخوفِ اطالت ترک کیں
وفیما ذکر نا کفایۃ واﷲ ولی الھدایۃ
 (ہم نے جو ذکر کیا یہ کافی ہے اﷲتعالیٰ ہی ہدایت کا مالک ہے۔ت)کسے دیں، اس کا جواب، بیان سابق سے واضح ہولیا کہ اس کے بہت مصارف مثل مساجد و مدارس و طلبہ و علماء یہاں موجود ہیں ان پر صرف کریں اور اگربالفرض لشکر ہی اُس کا مصرف ہوتااور عساکر اسلامیۃ سے کسی تک پہنچانے پر قدرت نہ ملتی جب بھی سقوط کے کوئی معنی نہ تھے، خراج ذمہ مکلف پر واجب ہوتا ہے، عنایہ میں ہے:
الخراج فی ذمۃ المالک والعشر فی الخارج۔۱؎
خراج، مالک کے ذمّہ ہے اور عشر پیداوار پر ہوتاہے۔ (ت)
 ( ۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر ،  باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ،۵ /۲۸۶)
فتح میں ہے:
العشر فی الخارج والخراج فی الذمۃ۔۲؎
عشر،پیداوار پر ہے اور خراج مالک کے ذمہ ہوتا ہے۔(ت)
 (۲؎فتح القدیر      باب العشر والخراج   ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۶)
اور وُہ ایک حق ثابت معروف مثل ملک و دین ہے
حتی لایحل لصاحب ارض خراجیۃ اکل غلتھا قبل اداء خراجھا ۳؎کما فی التنویر ای فی خراج المقاسمۃ فکانہ کان مالا مشترکا، وللامام حبس الخارج للخراج۴؎ کمافی الدر،ای فی الخراج الموظف وقد قال فی الھدایۃ الرھن والکفالۃ جائزان فی الخراج لانہ دین مطالب بہ ممکن الاستیفاء فیمکن ترتیب موجب العقد علیہ فیھما۔۵؎
حتی کہ خراجی زمین کے مالک کے لیے خراج کی ادائیگی سے پہلے اس کا غلّہ کھانا حلال نہیں، جیسا کہ تنویر یعنی خراج مقاسمہ میں ہے، گویا یہ مال مشترک ہے اور حاکم کو خراج لینے کے لیے پیداوار کا روک لینا جائز ہے جیسا کہ دُر میں ہے یعنی خراج موظف میں ہے، ہدایہ میں ہے رہن اور کفالۃ خراج میں دونوں جائز ہیں کیونکہ یہ ایسادین ہے جس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور اس کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے لہذا تقاضائے عقد کاان دونوں پر مرتب ہونا ممکن ہوگا۔ (ت)
(۳؎تنویرالابصار متن درمختار، باب العشر،  مطبع مجتبائی دہلی،۱/۱۳۹)

(۴؎درمختار   ،  باب العشر ، مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۱۳۹)   

 (۵؎ الھدایۃ   ، کتاب الکفالۃ ،    مطبع یوسفی لکھنؤ   ،   ۳ /۱۱۶)
اور ذمہ دین سے مشغول ہو تو بے ادا یا ابراصرف اس بنا پرکہ مستحق نہ رہا ساقط نہ ہوگا بلکہ اُس کے ورثہ کو دیں گے وُہ بھی نہ رہیں تو فقراء کو دے کر براءت ذمہ کریں گے خراج میں اصالۃ حق فقراء نہ ہونا ضرورۃً انھیں دئے جانے منافی نہیں کما فی سائرالدیون(جیسا کہ تمام دیون میں ہے۔ت)کیا دیں خراج دوقسم ہے: خراج مقاسمہ یعنی  بٹائی کہ پیداوار کا نصف یا ثلث یا ربع یا خمس مقرر ہو اور خراج موظف کہ ایک مقدارمعین ذمے پر لازم کردی جائے خواہ روپیہ، مثلاً سالانہ روپے بیگھہ جیسے امیر المومنین عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے غلّے کی ہر جریب پر ایک صاع غلّہ اور ایک درہم مقرر فرمایا، ظاہر یہ ہے کہ بلاد کا خراج موظف ہی تھا، بیت المال میں روپیہ ہی لیا جاتا نہ کہ غلّہ، میوہ، ترکاری وغیرہ ۔ بلکہ مدتوں سے عامہ بلادمیں سلاطین کا یہی داب معلوم ہوتا ہے، ہدایہ میں فرمایا:
وفی دیارنا وظفوامن الدراہم فی الاراضی کلھا وترک کذلک لان التقدیر یجب ان یکون بقدر الطاقۃ من ای شئی کان۔ 

۱
ہمارے علاقہ میں تمام زمینوں پر دراہم کا تقرر کیا جاتا ہے، اور ترکوں کے ہاں بھی یہی ہے کیونکہ بقدرِ طاقت مقدار مقرر کرنا ضروری ہے چاہے وہ جنس سے ہی ہو۔ (ت)
 ( ۱؎ الہدایہ  باب العشر والخراج   المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۵۷۲)
تو ظاہراًیہاں کا خراج موظف ہی سمجھنا چاہئے مگر جس زمین کی نسبت ثابت ہو کہ زمان سلطنت اسلام سقی اﷲتعالٰی عہدہا میں اُس پر خراج مقاسمہ تھا، خراج موظف بالاتفاق مالک زمین پر ہے اور خراج مقاسمہ صاحبین کے نزدیک مزارع پر امام کے نزدیک زمیندار پر کما فی الدر والشامیۃ(جیساکہ در اور شامیہ میں ہے۔ت) کتنا دیں،اگر مقدار معلوم ہو کہ زمانہ اسلام میں، سقی اﷲتعالیٰ عہدہا کیا مقرر تھا، جب تو ظاہر ہے کہ اُسی قدر دیں دو۲شرط سے، اوّلاً :خراج موظف میں جہاں جہاں مقدار مقرر فرمودہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعا لیٰ عنہ منقول ہے وہاں اس پر زیادت نہ ہو کہ مذہب صحیح میں اس پر اضافہ کسی سلطان کو نہیں پہنچتا، زائد ہوتو زیادت نہ دی ں اور جہاں کوئی مقدار امیرالمومنین سے منقول نہیں وہاں اور خراج مقاسمہ میں نصف سے زیادت نہ ہو کہ خلافِ انصاف ہے زائد ہو تو نصف ہی دیں۔ ثانیاً اُتنے کی ادا اس زمین سے اب بھی ممکن ہو ورنہ بلحاظِ طاقت دیں۔
فی التنویر التصنیف عین الانصاف فلا یزاد علیہ اھ ۲؎
تنویرمیں ہے نصف دینا عین انصاف ہے لہذااس پر اضافہ نہ کیا جائے اھ
(۲؎ تنویر الابصار متن درمختار ، باب العشر والخراج  ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۳۴۹)
فی ردالمحتار لا یزاد علیہ فیہ ولافی خراج المقاسمۃ ولا فی الموظف اھ۱؎ فی الدرالمختار ولا فی الموظف علی مقدار ماوظفہ عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ اھ۲؎ فی التنویرو ینقص مما وظف ان لم تطلق اھ ۳؎ فی ردالمحتار قال فی النھر لا یزید علی النصف وینبغی ان لا ینقص عن الخمس قالہ الحدادی اھ ۴؎ وکان عدم التنقیص عن الخمس غیر منقول فذکرہ الحدادی بحثالکن قال الخیر الرملی، یجب ان یحمل علی مااذا کانت تطیق فلو کانت قلیلۃ الربع کثیرۃ المؤن ینقص اذ یجب ان یتفاوت الواجب لتفاوت المؤنۃ کما فی ارض العشر اھ۵؎ مختصرات۔
ردالمحتار میں ہے اس میں اضافہ نہ کیا جائے اور نہ ہی خراج مقاسمہ اور خراج موظف میں اھ درمختار میں ہے اور نہ ہی خراج موظف میں اس مقدار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جو سید نا عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے مقررہ میں کمی کی جاسکتی ہے اھ تنویر میں ہے اگر طاقت نہ ہو تو مقررہ میں کمی کا جاسکتی ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ نہر میں ہے کہ نصف سے زیادہ نہیں کیا جاسکتا ، حدادی نے کہا مناسب ہے خمس سے کم نہ کیا جائے اھ اور خمس سے کم نہ کرنا منقول نہیں تو حدادی نے اسے بطور بحث ذکر کیا ہے۔ لیکن خیر رملی نے کہا ہے کہ اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب وہ زمین طاقت رکھتی ہو،اور اگر رقبہ کم ہو مگر اخراجات اس کے زیادہ ہوں تو پھر کم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اخراجات کے تفاوت کی وجہ سے واجب میں تفاوت ضروری ہوتا ہے جیسا کہ عشری زمین میں ہے اھ مختصراً(ت)
 (۱؎ردالمحتار     باب العشر الخراج الخ    مصطفی البابی مصر   ۳/۳۸۶)

 (۲؎ دُرمختار        باب العشر الخراج الخ   مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۴۹)

 (۳؎ تنویر الابصار متن درمختار ، باب العشر الخراج الخ، مطبع مجتبائی دہلی      ۱ /۳۴۹)

 (۴؎ردالمحتار    باب العشر الخراج الخ    مصطفی البابی مصر   ۳/۳۸۶ ) 

 (۵؎؎ردالمحتار     باب العشر الخراج الخ     مصطفی البابی مصر    ۳ /۳۸۷)
Flag Counter