دیکھو کیسی صاف تصریح ہے کہ خراج آب خراجی کے ساتھ خاص نہیں، اور تحقیق یہ ہے کہ اب بھی اطلاق صحیح نہیں، مسئلہ احیائے ذمی وغیرہا کے متعلق تصریحات ابھی گزریں،ہاں امام مذہب رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے نزدیک اعتبار آب صرف اس صورت میں ہے جہاں مسلمان پر ابتداءً وظیفہ مقرر کرنا ہو جیسے اس نے اپنے گھر کو باغیچہ بنالیا یا مردہ زمین احیاء کی، محقق علی الاطلاق نے یُوں شرح فرمائی:
قولہ الوظیفۃ فی مثلہ فیما ھوابتداء توظیف علی المسلم من ھذاومن الارض التی احیاھا،لا کل مالم یتقرر امرہ فی وظیفۃ کمافی النھایۃ بان الذمی لو جعل دار خطتہ بستانا اواحیا ارضا اورضخت لہ لشہودہ القتال کان فیھا الخراج وان سقاھا بماء العشر عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالیٰ۔ ۱؎
ماتن کا قول'' الوظیفۃ فی مثلہ''یعنی اس زمین کا جس کا ابتداءً مسلمان پر وظیفہ مقرر کرنا ہے اور جسے اس نے آباد کیا ہو' نہ کہ ہر وُہ زمین جس کا وظیفہ مستحکم نہ ہواہو جیسا کہ نہایہ میں ہے کیونکہ اگر ذمی نے قبضہ شدہ گھر کوباغ بنالیا یا زمین کو آباد کیا یا اسے جہاد میں شرکت کی وجہ سے بطور عطیہ ملی تو اس میں خراج ہوگا اگرچہ اسے اس نے ماء عشری سے سیراب کیا ہو امام اعظم رحمہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۸)
خود ہدایہ میں فرمایا:
ان جعلھا (ای المجوسی دارہ) بستانا فعلیہ الخراج وان سقاھا بماء العشر لتعذر ایجاب العشر اذفیہ معنی القربۃ فتعین الخراج وھو عقوبۃ تلیق بحالہ اھ ۲؎
اگر (کسی مجوسی نے اپنے دار کو) باغ بنادیا تو اس پر خراج ہے اگر چہ اسے عشری پانی سے سیراب کیا ہو کیونکہ یہاں وجوب ِ عشر متعذر ہے اس لیے کہ عشر میں عبادت کا پہلو ہے لہذا خراج متعین ہوگا جو بطور عقوبت مجوسی کے حلا کے مناسب ہے
اقول: وبہ ظہر سقوط مافی العنایۃ علی ھذا القول من الھدایۃ ما نصّہ لقائل ان یقول اما ان یکون الاعتبار للماء اولحال من توضع علیہ الوظیفۃ فان کان الاول وجب علیہ العشر وان کان الثانی ناقض ھذا قولہ (لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدورمع الماء)(وجب علی المسلم العشر اذا سقی ارضہ بماء الخراج )اھ ۱؎
اقول: اس سے عنایہ کے اس اعتراض کا ساقط ہونا ظاہر ہوگیا جو ہدایہ کے قول پر، ان الفاظ میں کیا کہ معترض کہ سکتا ہے کہ یہاں اعتبار پانی کا یا اس شخص کا ہے جس پر عشرو خراج لازم کرنا ہے، اگر پانی کا اعتبار ہے تو مجوسی پر عشر لازم آئے گا اور اگرشخص مکلّف کا اعتبار ہوتو اس کا اس قول سے تضاد لازم آئیگا کہ ''ایسی صورت میں وظیفہ کے تعیّن کے لیے پانی کا اعتبار کیا جاتا ہے'' اور مسلمان پر عشر لازم ہوتا ہے جب وہ اپنی زمین کو خراجی پانی سے سیراب کرتا ہو'' اھ۔
(۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۲ /۱۹۸)
وجہ السقوط ان الکلام ھٰھنا فی الذمی و مامر من دوران المؤنۃ مع الماء انما کان فیما فیہ ابتداء التوظیف علی المسلم فلا مساغ للتناقض اصلا ولا حاجۃ الیٰ تجشم الجواب بما قال ان الاعتبار للماء ولکن قبول المحل شرط وجوب الحکم والکافر لیس بمحل لایجاب العشر علیہ لکونہ عبادۃالخ۲؎
وجہ سقوط یہ ہے کہ یہاں گفتگو ذمی میں ہورہی ہے، اور جو گزرا ہے کہ تعین وظیفہ میں پانی کا اعتبار ہے، وہ اس صورت میں ہے جب ابتداء کسی مسلمان پر وظیفہ کا تعین کرنا ہو تو یہاں تناقض کا ثبوت ہی نہیں ہوا لہذا یہ کہہ کر جواب میں تکلّف کی ضرورت نہیں، کہ اعتبار تو پانی کا ہی ہوتا ہے مگر وجوبِ حکم کے لیے محل کا قبول کرنا شرط ہے اور کافر ایجابِ عشر کا محل نہیں کیونکہ عشر ادا کرنا عبادت ہے الخ
(۲؎ العنایۃ مع فتح القدیر ،باب زکوٰۃ الزروع والثمار ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر،۲ /۱۹۸)
وکیف ماکان فمقصودنا حاصل وھو بطلان تخصیص الخراج بالماء الخراج اما مطلقا واما فیما لم یتقرر امرھا علی وظیفۃ نعم ھو صحیح عند صاحب المذہب فیما فیہ بدء التوظیف علی مسلم فقط۔
بہر حال ہمارا مقصد حاصل ہے وہ یہ کہ خراج پانی کے ساتھ خراج کو مخصوص کرنے کا بطلان ہے،یا تو ہر حال میں یا اس صورت میں جب زمین پر کسی وظیفہ کا تقرر نہ ہواہو، ہاں یہ صاحبِ مذہب کے نزدیک اس وقت فقط صحیح ہے جب کسی مسلمان پر ابتداءً وظیفہ کاتقرر کرنا ہو۔(ت)
پھر مفتیٰ بہ یہ ہے کہ یہاں بھی پانی کا اعتبار نہیں بلکہ قرب دیکھیں گے اگر زمین خراجی سے نزدیک ہے خراج ہوگا اگر چہ آب عشری دیا ہو،اور عشری سے توعشر اگرچہ پانی خراج کا ہو۔ تنویر میں ہے:
لو احیاہ مسلم اعتبر قربہ۔۳؎
اگر کسی مسلمان نے زمین کو آباد کیا تو وہاں اس کے قریب زمین کا اعتبار کیا جائیگا۔(ت)
ھذا عند ابی یوسف واعتبر محمد الماء فان احیاھا بماء الخراج فخراجیۃ والا فعشریۃ بحر وبالاول یفتی، درمنتقی۔۱؎
یہ امام ابویوسف کے نزدیک ہے، امام محمد نے پانی کا اعتبار کیا ہے، اگر مسلمان نے زمین، خراجی پانی سے آباد کی ہے تو وُہ خراجی ہوگی ورنہ عشری، بحر۔ فتوٰی پہلے قول پر ہے،درمنتقی۔ (ت)
(۱ ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۴)
اُسی میں ہے:
وھو مامشی علیہ المصنف اولا کالکنز وغیرہ وقد مہ فی متن "الملتقی" فافاد بتر جیحہ علی قول محمد وقال ح وھو المختار کما فی الحموی علی الکنز عن شرح قراحصاری وعلیہ المتون۔۲؎
یہی وُہ ہے جس پر پہلے مصنّف چلے مثلاً کنز وغیرہ۔ اور ملتقی کے متن میں اسے مقدم کیا ہے۔ یہ اس بات کو مفید ہے کہ انہوں نے اسے امام محمد کے قول پر ترجیح دی ہے اور ح نے کہا کہ یہی مختار ہے جیسا کہ حموی علی الکنز میں شرح قراحصاری کے حوالے سے ہے، اور متون اسی پر ہیں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۴)
معہذا اگر تخصیص مان بھی لیجئے تو لشکر اسلام کا ید قبضہ پانی پر وارد ہونا ابتداءً اس کی خرجیتکا مفید ہوطکا ، بقاءً بھی خراجیت، بقاءً ید پذیر پر موقوف رہنے کی کیا دلیل ہے ، اور پُر ظاہر کہ ہمارا کلام بقاء میں ہے :
الا تری ان الخراج یجب عقوبۃ الا الکفر ثم لا یحتاج فی بقائہ حتی لو اسلموا لم یسقط الخراج عن اراضیھم کما نصوا علیہ قاطبۃ
( آپ جانتے ہیں کہ خراج کفر کی سزاکے طور پر واجب ہوتا ہے پھر اپنی بقاء میں اس کا محتاج نہیں حتٰی کہ اگر کافر مسلمان ہوگئے تو ان کی زمینوں سے خراج ساقط نہ ہو گا جیسا کہ اس پر فقہاء نے قطعی تصریح کی ہے۔ ت)