Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
42 - 198
پھر اس اختصاص کو اپنے ظاہر اطلاق پر رکھئے تو قطعاًغلط و باطل ہے، جو زمینیں ہم نے قہراً خواہ صلحاًفتح کیں اور ان کے اہل کو اُن پر برقرار رکھا یا قہراًفتح کرکے اور جگہ کے کافروں کو دے دیں اُن پر یقینا خراج ہے اگر چہ انھیں آب عشری مثل باران وغیرہ سے پانی دیا جاتا ہو۔ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے ائمہ کا اجماعیہ ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
نحن نقطع ان الارض التی اقر اھلھا لو کانت تسقی بعین اوبماء السماء لم تکن الاخراجیۃ لان اھلھا کفارواکفار لو انتقلت الیھم ارض عشریۃ و معلوم ان العشریۃ قد تسقی بعین او بماء الساء لاتبقی علی العشریۃ بل تصیر خراجیۃ فی قول ابی احنیفۃ وابی یوسف خلافالمحمد فکیف یبتدأ الکافر بتوظیف العشرثم کونھا عشریۃ عند محمد اذا انتقلت الیہ کذلک امافی الابتداء فھو ایضا یمنعہ۔۱؎
ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ جس زمین پر اس کےا ہل برقرار رہے اگر چہ وہ چشمہ یا آسمانی پانی سے سیراب ہوتی ہو تو وُہ خراجی ہی ہوگی کیونکہ اس کے مالک کافر ہیں اور کافر کی طرف اگرچہ عشری زمین منتقل ہو اور یہ بات معلوم ہوکہ اگر عشری زمین کو چشمہ یا آسمانی پانی سے سیرب کیا جاتا ہے تو وہ عشری نہ رہے گی بلکہ وُہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے قول کے مطابق خراجی ہوجائے گی، ہاں امام محمد کا اس میں اختلاف ہے، تو اب کافر پر ابتدائی طور پو عشر کیسے مقرر کیا جاسکتا ہے، پھر امام محمد کے نزدیک جب عشری زمین کسی کافر کی طرف منتقل ہوگی تو وہ عشر ہی رہے لیکن ابتداءً  وُہ بھی کافر پر عشر سے منع کرتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر       باب العشر والخراج    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵ /۲۸۰)
بحرالرائق میں ہے:
وقد اطال المحقق فی فتح القدیر فی تقریرہ ثم قال والحاصل ان التی فتحت عنوۃ ان اقر الکفار علیہا لا یوظف علیہم الاالخراج ولوسقیت بماء المطر وان قسمت بین المسلمین لا یوظف الاالعشر  وان سقیت بماء الانھار۔۲؎
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بڑی طویل گفتگو کرکے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ جو زمینیں بطور غلبہ حاصل ہوں اگر کفار کو ہی ان پر قابض رکھا تو اب ان پر خراج ہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ بارش سے سیراب ہوتی ہوں، اور اگر وُہ زمینیں مسلمانوں میں تقسیم کردی گئیں تو ان پر عشرہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ نہر ی پانی سے سیراب کی جاتی ہوں۔ (ت)
 (۲؂بحرالرائق   ،   باب العشر والخراج،  ایچ سعید کمپنی کراچی  ،  ۵ /۵۰۱)
امام محقق زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا:
ھذا التفصیل فی حق المسلم اما الکافر فیجب علیہ الخراج من ای ماء سقی لان الکافر لا یبتدأبالعشرفلا یأتی فیہ التفصیل فی حالۃ الابتداء اجماعا۔ ۱؎
یہ تفصیل حقِ مسلم میں ہے،رہا کافر کا معاملہ تو اس پر خراج ہوگا خواہ جو پانی بھی سیراب کرے کیونکہ کافر پر ابتداءً عشر نہیں ہوتا لہذا ابتداءً اس میں بالاتفاق تفریق و تفصیل نہیں ہوگی۔ (ت)
 (۱؎تبیین الحقائق         باب العشر والخراج الخ             مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر         ۳ /۲۷۲)
اسی طرح بحرالرائق و مجمع الانہر میں اس سے نقل کیا اور مقرر  رکھا، ولہذا علامہ حلبی نے متن متین ملتقی الابحر میں اُن زمینوں کو خراجی ہونے کا مسئلہ مطلق رکھا
ارض السواد خراجیۃ
 (سواد کی زمین خراجی ہے۔ت)کے بعد فرمایا:
وکذا کل مافتح عنوۃ واقر اھلھا علیہ اوصولحو اسوی مکّۃ۔۲؎
اسی طرح ماسوائے مکّہ کے وُہ زمین جو بطور غلبہ فتح ہُوئی اور اس کے باشندوں کو وہاں قابض رکھایا ان سے صلح کرلی گئی۔(ت)
(۲؎ ملتقی الابحر        باب العشر والخراج الخ           مؤسسۃ الرسالۃ بیروت             ۱ /۲۷۰)
اور اصلاًخلاف کا ذکر نہ کیا حالانکہ  انہیں التزام ہے کہ جس مسئلہ میں ائمہ ثلٰثہ مذہب سے کسی کا خلاف ہو ضرور نقل کریں گے۔
قال فی خطبتہ وصرحت بذکرالخلاف بین ائمتنا الخ۳؎
علامہ حلبی نے خطبہ کتاب میں فرمایا ہمارے ائمہ کے درمیان اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگا تو میں اس کی تصریح کروں گا۔ (ت)
 (۳؎ ملتقی الابحر             خطبۃ الکتاب (مقدمۃالمؤلف)        مؤسسۃ الرسالۃ بیروت         ۱ /۱۰)
اسی طرح متن جلیل کنز میں مطلق فرمایا:
فتح عنوۃ و اقر اھلہ علیہ اوفتح صلحا خراجیۃ۔ ۴؎
وُہ زمین جوبطور غلبہ حاصل ہُوئی اور وہاں کے قابضین کو بر قرار رکھایا بطور صلح فتح ہُوئی تو وہ خراجی ہوگی۔(ت)
 (۴؎ کنز الدقائق          باب ا لعشر والخراج و الجزیۃ             ایچ ایم سعید کراچی             ص ۱۹۱)
اور خلاف کی طرف با وصف التزام رمز ایما نہ کیا یُونہی جو زمین ذمی نے احیا کی بالاتفاق خراجی ہے اگر چہ پانی   عشری  دیا ہو، فتح القدیر و تبیین الحقائق و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
لو احیا ھا ذمّی کانت خراجیۃ سواء سقیت عند محمد بماء السما ونحوہ او لا وسواء کانت عند ابی یوسف من حیز ارض الخراج اوالعشر اھ ۱؎
اگر کسی ذمی نے زمین کو آباد کیا تو وُہ خراجی ہوگی خواہ آسمانی پانی وغیرہ سے سیراب ہو یا نہ ہواور امام ابو یوسف کے نزدیک خواہ خراجی کے قریب ہو یا عشری کے قریب اھ
 (۱؎ فتح القدیر  باب العشر و الخراج    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۵ /۲۸۱)
فظہر ضعف ما انتحاہ فی العنایۃ تبعا للنھا یۃ رکونا الیٰ ظاہر نقل فی الھدایۃ علی خلاف نقل فی الغایۃ کما بینہ المحقق فی الفتح واﷲ ولی الھدایۃ والفتح۔
   اس سے اس کا ضعف ظاہر ہوگیا جو عنایہ میں نہایہ کی اتباع کرتے ہُوئے میلان کیا ہے ہدایہ میں نقل ظاہر کی طرف اور وُہ نقل غایۃکے خلاف ہے جیسا کہ محقق نے فتح میں کیا، اور اﷲتعالیٰ ہی ہدایت اور فتح کا مالک ہے۔ (ت) لاجرم خود عنایہ میں تصریح فرمائی مسئلہ اعتبار آب مطلق نہیں، ہدایہ میں فرمایاتھا:
اذا کانت لمسلم دار خطۃ فجعلھابستانا فعلیہ العشر معناہ اذا سقاھا بماء العشر واما اذا کانت تسقی بماء الخراج ففیھا الخراج لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدور مع الماء۔۲؎
جب بطور قبضہ کسی مسلمان کی خالی زمین پر گھر بنایا پھر اسے اس نے باغ بنادیا تو اس پر عشر ہوگا، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وُہ عشری پانی سے سیراب ہوتا ہو اور جب وہ خراجی پانی سے سیراب ہوتو اس میں خراج ہوگا کیونکہ ایسی صورتوں میں عشر و خراج کا معاملہ پانی کے ساتھ ہے۔ (ت)
 (۲؎ الہدایۃ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ،لمکتبۃ العربیۃ کراچی  ۱ /۱۸۴)
اس پر عنایہ میں لکھا ہے:
معنی قولہ '' فی مثل ھذا'' الارض التی لم یتقرر امرہ علی عشر او خراج وھو احتراز عما اذا کان لمسلم ارض تسقی بماء العشر وقد اشتراھا ذمی فان ماء ھا عشری وفیہ الخراج۔ ۳؎
ماتن کے قول''فی مثل ھذا'' سے مرادوہ زمین ہے جس کا معاملہ عشر و خراجی کے اعتبار سے مستحکم نہ ہوا ہو، اس سے اس صورت سے احتراز ہوگیا جب کسی مسلمان کی ایسی زمین تھی جو عشری پانی سے سیراب ہوتی تھی اور اسے ذمی نے خرید لیا تو اب اس کا پا نی عشری ہے لیکن اس میں خراج ہے۔(ت)
 (۳؎العنایۃ مع فتح القدیر    باب زکوٰۃ الزروع والثمار   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۲ /۱۹۷)
Flag Counter