خود امام مذہب سید نا ابو یوسف رضی اﷲتعالیٰ عنہ کتاب الخراج میں خلیفہ ہارون رشید سے ارشاد فرماتے ہیں:
وسألت من ای وجہ تجری علی القضاۃ و العمال الارزاق فاجعل (اعزاﷲامیرالمؤمنین بطاعتہ)ما یجری علی القضاۃ والولاۃ من بیت مال المسلمین من جبایۃ الارض اومن خراج الارض والجزیۃ لانھم فی عمل المسلمین فیجری علیھم من بیت مالھم ویجری علی والی کل مدینۃ وقا ضیھا بقدر مایحتمل، وکل رجل تصیرہ فی عمل المسلمین فاجر علیہ من بیت مالھم ولا تجر علی الولاۃ والقضاۃ من مال الصدقۃ شیأ الا والی الصدقۃ فانہ یجری علیہ منھا کما قال اﷲتبارک وتعالیٰ والعاملین علیھا۔۱؎
اے امیرالمومنین!تُو نے یہ پُوچھا ہے کہ قضاۃ اور عمال کے وظائف کا معاملہ کیسے کیاجائے تو(اﷲتعالےٰ امیرالمومنین کو رعایا کی فرمانبرداری کے ذریعے عزت بخشے) قضاۃ اور عمال کو مسلمانوں کے بیت المال یعنی زمین کی ضمان، خراج اور جزیہ س وظائف دئے جائیں کیونکہ وُہ مسلمانوں کے کام میں مصروف ہوتے ہیں، پس ان پر بیت المال سے خرچ کرواورہر شہر کے والی اور قاضی کے لیے اتنا وظیفہ جاری کرو جتنا وُہ کام کرتے ہیں، اور جو شخص مسلمانوں کے کام میں مقرر کرو اس پر بیت المال سے خرچ کرو، والیوں اور قاضیوں پر مال صدقہ سے خرچ نہ کرو، ہاں والی صدقہ پر کرسکتے ہو کیونکہ اس پر اس میں سے خرچ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے اور صدقات وصول کرنے والے کے لیے۔ (ت)
( ۱؎ کتاب الخراج من ای وجہ تجری علی القضاۃ الخ مطبعۃ بولاق مصر ص۲۰۲)
اور اگر بالفرض خاص لشکرِ اسلام ہی اس کا مصرف ہوتا تو بحمد اﷲتعالٰی وہ بھی جابجا موجود، اور اوپر معلوم ہوچکاکہ خاص یہاں ہونا ان بلاو کی حمایت کا، شرط مطالبہ ہے نہ شرط وجوب، اور اشیائے سریعۃ الفساد پر خراج کی قیاس نہیں ہوسکتا، پھر وہاں بھی صرف مطالبہ منتقی ہے نہ وجوب ، خود اسی مسئلہ میں تصریح ہے کہ عاشر اگر چہ اس سے عشر نہ لے گا مگرتاجر کو اس کے ادا کاحکم کرے گا۔
فی ردالمحتار عن الشربنلالیۃ صورۃ المسألۃ'ان یشتری بنصاب، قرب مضی الحول علیہ، شیأمن ھذھ الخضراوات للتجارۃ فتم علیہ الحول، فعندہ لا یاخذ الزکوٰۃ لکن یا مرالمالک بائھا بنفسہ الخ۔۱؎
ردالمحتار میں شرنبلالیہ سے ہے صورتِ مسئولہ یُوں ہے کہ سال ختم ہونے کے قریب اگر کسی نے تجارت کے لیے نصاب کے عوض سبزیات خریدیں اور اس پر سال مکمل ہوا تو امام صاحب کے نزدیک اس سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی لیکن مالک سے کہا جائیگا کہ خود ادا کردے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب العاشر مصطفی البابی مصر ۲ /۴۷)
ایجاب خراج میں لشکرِ اسلام کا حق اور اس کی حمایت پر تقرر معاوضہ ضرور منظورِ نظرِ شرع ہے مگر اس سے وجود حمایت کا شرط وجوب ہونا لازم نہیں، تصریحات ائمہ سے واضح ہو لیا کہ خراج صرف انہی کے لیے مقرر نہ ہُوا بلکہ جمیع مصالح عامّہ اہلِ اسلام اس میں متساویۃ الاقدام، ہاں جہاں حمایت ہو ان کا بھی حق ضرور ہے اور جہاں اُن کا حق ہو وہی معاوضہ منظور ہے، بالجملہ ادھر سے کلیہ ہے یعنی
حیثما وجدت الحمایۃ وجبت الجبایۃ
( جہاں حمایت ہوگی وہاں خراج لازم ہوگا۔ت) اُدھر سے نہیں کہ
حیث ما وجبت الجبایۃ وجدت الحمایۃ
(جہاں خراج ہوگا وہاں حمایت ہوگی۔ت) تاکہ اس کا عکس نقیض کیجئے کلما لم توجد الحمایۃ لم توجب الجبایۃ (جب حمایت نہ ہوگی تو خراج لازم نہ ہوگا۔ت) فتح القدیر کی عبارت مذکور کا منشاء اسی قدر ہے البتہ عبارتِ عنایہ میں لفظ یختص موہم واقع ہوا ہے اور وُہ قطعاً زائد بے حاجت محض بلکہ خلافِ مقصود ہے ،
وذلک لان محمد ارحمہ اﷲصرح فی الزیادات ان المسلم لا یبتدأبتوظیف الخراج۲؎
یہ اس لیے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ نے زیادات میں تصریح کی ہے کہ مسلمان پر ابتداءً خراج نہیں آسکتا ،
(۲؎ فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۸)
ثم وقع بینھم الخلاف فیما اذا احیا مسلم مواتا فقال ابویوسف تعتبر بحیزھا ای بما یقرب منھا فان کانت من حیز ارض الخراج فخراجیۃ اوارض العشر فعشریۃ لان القرب من اسباب الترجیح وقال محمد ان کان صفتھا انھا یصل الیھا ماء الانھار فخراجیۃ او ماء عین ونحوہ فعشریۃ کل ذلک فی الفتح ۳؎
پھر ان ائمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب کسی مسلمان نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، امام ابو یوسف نے فرمایا اس کے قُرب کا اعتبار کیا جائیگا،اگر خراجی کے قریب ہے تو خراجی، اگر عشری کے قریب ہے تو عشری، کیونکہ قرب اسبابِ ترجیح میں سے ہے۔ امام محمد نے فرمایا اگر اسے نہری پانی سیراب کرتا ہو تو خراجی، اور اگر چشمہ وغیرہ کا پانی ہوتو عشری۔ یہ تمام تفصیل فتح میں ہے ۔
(۳؎ فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰)
وقد لزم من ھذا توظیف الخراج علی المسلم بدأ اذا سقاھا بماء الخراج علی ماظن (عہ۱ ) وھو خلاف نص الزیادات فا جیب (عہ۲ ) بتقیید مافی الزیادات بما اذالم یکن منہ صنیع یستد عی ذٰلک وھوالسقی بماء الخراج اما اذا وجد ذٰلک فھو دلالۃ التزامہ الخراج رضاہ بہ لان الخراج جزاء المقاتلۃ علی حما یتھم فما سقی بما حموہ وجب فیہ ۱؎ھذاما فی الھدایۃ والفتح،
بعض کے گمان کے مطابق اس سے مسلمان پر ابتدائی طور پر خراج کا تقرر لازم آتا ہے جبکہ وُہ زمین خراجی پانی سے سیراب ہورہی ہو، حالانکہ یہ زیادات کی تصریح کے خلاف ہے، اس کا جوب یہ دیا گیا ہے کہ زیادات کی عبارت میں اس قید کا اعتبار ہے کہ بشرطیکہ اس مسلمان سے کوئی ایسا عمل نہ پایا جاتا ہو جوخراج کا تقاضا کرتا ہو اور وہ عمل خراجی پانی سے سیرابی ہے، اور اگر ایسا ہے تو بطور التزام اس کا خراج پر راضی ہونا ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ خراج تو حمایت پر مقاتلہ کا معاوضہ ہے اور جو حمایتی (خراجی) پانی سے سیراب ہوگی اس خراج واجب ہوگا۔ یہ ہدایہ اور فتح میں تھا۔
(۱؎فتح القدیر، باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۱)
(عہ۱ )ظنہ جماعۃ منھم الشیخ حسام الدین السغناقی فی النھایۃ ولیس کما ظنوا بل انما ھو انتقال ما تقرر فیہ الخراج بوظیفۃ الیہ وھو الماء فان فیہ وظیفۃ الخراج فاذا سقی بہ انتقل ھو بوظیفۃ الی ارض المسلم کما لواشتری خراجیۃ وھذا لان المقاتلۃ ھم الذین حموا ھذاالماء تثبت حقھم فیہ وحقھم ھوالخراج فاذا اسقی بہ مسلم اخذ منہ حقہم کما ان ثبوت حقھم فی الارض اعنی خراجہا لحمایتھم ایا ھا یوجب مثل ذٰلک افادہ فی الفتح من باب زکوٰۃ الزروع ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
(عہ۱ )یہ گمان ایک جماعت نے کیا ہے جن میں سے شیخ حسام الدین سغناقی ہیں جنھوں نے نہایہ میں اظہار کیا ہے، جبکہ معاملہ وُہ نہیں جو انہوں نے گمان کیا ہے بلکہ یہ مسلمان کی طرف وظیفہ خراج والی چیز کا انتقال ہے۔ اور وُہ پانی ہے کیونکہ اس میں خراج والا وظیفہ ہے۔ تو جب اس سے زمین سیراب ہوگی تو اس کا وظیفہ بھی مسلمان کی زمین پر لاگو ہوگا جیسا کہ کوئی خراجی زمین خریدے تو اس پر خراج آتا ہے یہ اس لیے کہ مقاتلہ وُہ لوگ ہیں جو اس پانی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اس لیے اس پانی میں ان کا حق ثابت ہوگا جبکہ وُہ خراج ہے تو جب کوئی مسلمان اس پانی کو استعمال کرے گا تو اس سے پانی کا حق لیا جائیگا جس طرح خراجی زمینوں میں تحفظ فراہم کرنے پر مقاتلہ کا حق واجب ہوتا ہے، اس کا افادہ فتح کے باب زکوٰۃ الزروع سے حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(عہ۲ ) المجیب الامام شمس الائمۃ السرخسی کما فی الفتح ۱۲منہ غفرلہ (م)
(عہ۱ ) جواب دینے والے شمس الائمہ سرخسی ہیں جیساکہ فتح میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
ولاحاجۃ فیہ الیٰ تخصیص الخراج بماحموہ اصلا بحیث لم یوجد لم یجب انما الحاجۃ الیٰ استتباع حمایتھم ایجاب الخراج بحیث اذا وجدت وجب لان المقصود اثبات الوجوب لاجل ثبوت الحمایۃ فتکون الحمایۃ ملزومۃ والخراج لا زمالیستدل بوضع المقدم علی وضع التالی واللازم لایجب تساویہ اما اذا قلنا بان الخراج یختص بالحمایۃ کان المعنی ھو انتقاء ہ بانتقاء ھا فیکون اللازم ھو الحمایۃ فلا یصح الاستدلال بوجودہ علی وجوب الخراج لان وضع التالی لاینتج وضع المقدم فظہران حدیث الخصوص لا یوافق المقصود فاذن التقریر الصحیح مااشار الیہ فی الھدایۃ وبینہ فی الفتح وانعم ایضاحہ فی زکوٰتہ الزروع کما نقلنا نصہ اٰنفافی المنھیۃ۔
یہاں خراج کو اس چیز کے ساتھ مقیّد کرنے کی اصلاًضرورت نہیں کہ یہ وہاں ہوتاہے جہاں حمایت ہو، اور جہاں حمایت نہ ہوگی وہاں خراج کا وجوب نہ ہوگا۔ یہ ضرورت تو ان کی حمایت کی وجہ سے ایجابِ خراج کے لیے ہے یعنی جہاں حمایت ہوگی وہاں خراج کا وجوب ہوگا کیونکہ مقصود ثبوت حمایت کی خاطر وجوبِ خراج کا اثبات ہے تو اب حمایت ملزوم اور خراج لازم قرار پائے گا تا کہ وضع مقدم سے وضع تالی پر استدلال کیا جاسکے اور لازم کے لیے(ملزوم کے )مساوی ہونا ضروری نہیں ہوتا لیکن جب ہم یہ کہیں گے کہ خراج حمایت کے ساتھ مخصوص ہے،تو اب معنیٰ ہوگا کہ خراج کی نفی سے حمایت کی نفی ہوتو اب اس صورت حمایت کا لازم ہونا لازم آجائے گا تو اب وجود لازم (حمایت) سے وجوب خراج پر استدلال درست نہ ہوگا کیونکہ وضع تالی سے وضع مقدم پر منتج نہیں ہوتی۔ تو اب ظاہر ہوگیا کہ مخصوص کرنے والی بات مقصود کے موافق نہیں، اب تقریر صحیح وہی ہے جس کی طرف ہدایہ میں اشارہ ہے اور فتح میں بیان ہوئی اور اس کی وضاحت زکوٰۃ الزروع میں کی، جیسا کہ ہم نے ابھی منہیہ میں اس کی عبارت بصور نص نقل کی ہے(ت)