اور یہ بھی تصریح ہے کہ مصرف خراج لشکر اسلام ہے فقراء کا اس میں کچھ حق نہیں،
فی العنایۃ تحت مسئلۃ شراء ذمّی،عشریۃ من مسلم، فی توجیہ روایۃ عن محمد حق الفقراء تعلق بہ فھو کتعلق حق المقاتلۃ بالاراضی الخراجیۃ ثم قال فی توجیہ اخری، ما یصرف الی الفقراء ھو ماکان للہ تعالٰی بطریق العبادۃ و مال الکافر لیس کذلک فیصرف فی مصارف الخراج۱؎
عنایہ میں اس مسئلہ ''ذمی نے کسی مسلمان سے عشری زمین خریدی'' کے تحت امام محمد رحمہ اﷲ سے مروی روایت کی توجیہ میں ہے کہ فقراء کا اس کے ساتھ حق متعلق ہے، پس یہ اسی حق کی طرح ہے جس طرح خراجی زمینوں کے ساتھ حق مقاتلہ کا تعلق ہوتا ہے پھر دوسری توجیہ کرتے ہُوئے کہا کہ جو کچھ فقراء پر خرچ کیا جاتا ہے وہ اﷲتعالیٰ کے لیے بطور عبادت ہوتا ہے اور مالِ کافر میں یہ بات نہیں ہوتی لہذا اسے مصارف خراج میں ہی خرچ کیا جائے گا
(۱؎العنایۃ مع فتح القدیر باب العشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۶)
وفی الدرالمحتار عن ابن الشحنۃ فی نظم بیوت المال ع وثالثھا خراج مع عشور الی ان قال: فمصرف الاولین اتی بنص وثالثھا حواہ مقاتلونا اھ ۲؎
اور درمختار میں ابن شحنہ سے بیوت المال کی نظم میں ہے:اور تیسری قسم خراج مع عشر ہے۔ آگے چل کر کہا: پہلی دونوں کے مصارف ہمارے نص میں موجود ہیں اور تیسری کا مصرف ہمارے مقاتلہ(لشکرِ اسلام) ہوتے ہیں۔ اھ
(۲؎ درمختار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۰)
وفی الفتح والعنایۃ وغیرھما قبیل باب الجزیۃ، مصرف العشر الفقراء و مصرف الخراج المقاتلۃاھ ۳؎ وقد اعترض فی الفتح فی المسألۃ المارۃ علی جعل العشریۃ بشراء الذمّی خراجیۃ، بان التغییر ابطال لحق الفقراء بعد تعلقہ فلا یجوز الخ۔ ۴؎
اور فتح اور عنایہ میں باب الجزیہ سے تھوڑا پہلے ہے کہ عشر کا مصرف فقراء اور خراج کا مصرف مقاتلہ کرنیوالے (لشکرِ اسلام) ہوتے ہیں اھ فتح میں گزشتہ مسئلہ کہ عشری زمین کا ذمّی کے خریدنے سے خراجی ہونے پر اعتراض کیا ہے کہ زمین کے ساتھ فقراء کا حق متعلق ہونے کے بعد تغیّر ان کے حق کو باطل کردیتا ہے جو جائز نہیں الخ(ت)
(۳ فتح القدیر باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۶)
(۴؎ فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷)
اورشک نہیں کہ جب مصرف نہ باقی ہو، مطالبہ کس کے لیے ہو ولہذا ہمارے امام کے نزدیک عاشر تاجر سے خربوزے، کھیرے،ککڑی وغیرہا جلد بگڑ جائے والی پیداوار کا عشر نہ لے گا جبکہ فقراء موجود نہیں کہ مصرف ہی نہیں اور وُہ اشیاء رکھنے سے بگڑ جائیں گی، تو مطالبہ عبث ہے۔
فی الفتح قبیل باب المعادن، من مربرطاب اشتراھا للتجارۃ کا لبطیخ والقثاء و نحوہ لم یعشرہ عند ابی حنیفۃ فانھا تفسد بالا ستبقاء و لیس عند العامل فقراء فی البر لید فع لھم فاذا بقیت لیجد ھم فسدت فیفوت المقصود اھ ۱؎ مختصراً۔
فتح میں باب المعادن سے تھوڑا پہلے ہے، کہ جو شخص سبزیوں کے کھیت کے پاس سے گزرا اس نے تجارت کے لیے انھیں خریدا مثلاً خربوزہ اور کھیرا وغیرہ، تو اب امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس پر عشر نہ ہوگا کیونکہ وہ باقی رکھنے سے خراب ہوجاتی ہیں، اور عامل کے پاس جنگل میں فقراء نہیں ہوتے جنہیں وُہ عشر دے دے، اور اگر انھیں فقراء کے پانے کے لیے باقی رکھتا ہے تو وہ خراب ہوجاتے ہیں تو اس سے مقصود فوت ہوجاتا اھ اختصاراً(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب فیمن یمر علی العاشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۷۸ )
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی کہ کل خراج کا وجوب ہی لشکرِ اسلام کے حق کے لیے اور ان کی حمایت کا معاوضہ ہے ۔ فتح القدیر ، کتاب السیر ، باب العشر میں ہے:
الخراج جزاء المقاتلۃ علی حمایتھم فما سقی بما احموہ وجب فیہ اھ۔ ۲؎
خراج لشکرِ اسلام کی حمایت کا معاوضہ ہے، جو زمین ان کی حمایت سے سیراب ہوگی اس میں خراج واجب ہوگا اھ(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۱)
خراج، مقاتلہ کے نقصان کو پُورا کونے کے لیے ہوتاہے لہذا خراج انہی زمینوں کے ساتھ مخصوص ہوگا جو لشکر کی حمایت کے تحت سیراب ہوں گی( آگے چل کر کہا)شمس الائمہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)
(۳العنایہ مع فتح القدیر باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰)
اُسی کے اواخر باب زکوٰۃ الزروع میں ہے:
الخراج یجب حقاللمقاتلۃ فیختص وجوبہ بما حمتہ القاتلۃ۔ ۱؎
خراج حق مقاتلہ کے طور پر لازم ہوتا ہے لہذا یہ اسی کے ساتھ مخصوص رہے گا جو مقاتلہ کے تحت ہوگا۔(ت)
( ۱؎ العنایہ مع فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷)
یہ کلمات بظاہر سقوطِ خراج کی طرف ناظر مگر نظردقیق حاکم، کہ نفس وجوب ثابت و قائم، مطالبہ سلطنت و وجوب دیانت میں فرق بعید ہے، بہت چیزیں ہیں کہ سلطان کو اُن کا مطالبہ نہیں پہنچا اور شرعاً واجب ہے
کزکوٰۃ الاموال الباطنۃ کما فی الدر وغیرہ عامۃ الاسفار وقد قال الشامی عن البحر وغیرہ فی مسئلۃ اسلام الحربی فی دارالحرب بعد العبارۃ المذکوۃ ونفتیہ بادائھا ان کان عالما بوجو بھا والّا فلا زکوٰۃ علیہ لان الخطاب لم یبلغہ وھو شرط الوجوب اھ ۲؎
جیسے اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ جیسا کہ در اور دیگر کتب میں ہے، شامی نے بحر وغیرہ کے حوالے سے دارالحرب میں کسی حربی کے اسلام لانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہُوئے عبارت مذکورہ کے بعد کہا، کہ اگر وُہ حربی مسلمان وجوب زکوٰۃ کا علم رکھتا ہے ہم اسکی ادائیگی کا فتوٰی دینگے ورنہ اس پر زکوٰۃ ہی نہیں کیونکہ اسے ایسا حکم ہی نہیں پہنچا جو وجوب کے لیے شرط ہے اھ(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ۲ /۲۶)
ولہذا صورت مذکورہ عدم تسلط میں تصریح فرمائی کہ متغلبین اگر زکوٰۃ و عشر لے کر ان کے مصارف میں سبب نہ کریں تو اربابِ اموال پر اُن کا دوبارہ دینا واجب ہے اور خراج میں جو اعادے کی حاجت نہیں اس کا سبب یہ کہ وہ متغلبین خود بھی ایک اسلامی لشکر کی حیثیت سے اُس کے مصرف ہیں تو خراج اپنے محل کو پہنچ گیا
فی الدرالمختار، اخذ البغاۃ والسلاطین الجائرۃ زکوٰۃ الاموال الظاھرۃ کا لسوائم والعشر و الخراج لا اعادۃ علی اربابھا،ان صرف الما خوذ فی محلہ الاٰتی ذکرہ والا یصرف فیہ فعلیہم فیما بینھم وبین اﷲتعالیٰ اعادۃ غیرالخراج لانھم مصارفہ۔ ۳؎
درمختار میں ہے اگر باغیوں اور ظالم حکمرانوں نے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرلی مثلاً چارپایوں کی زکوٰۃ، یا عشرہ خراج وصول کرلیا تو اب مالکوں سے دوبارہ نہیں لیا جائیگا(بشرطیکہ ان کی جگہ خرچ کیا گیا جن کا ذکر آرہا ہے) اور اگر وہاں خرچ نہیں کیا تو مالکوں پربطور دیانت عشرہ زکوٰۃ کا اعادہ لازم ہے خراج کا نہیں کیونکہ باغی لشکر خود خراج کا مصرف ہیں۔ (ت)
(۳؎درمختار باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۳۴)
درمنتقی پھر طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
اماالخراج فلا یفتون با عادتہ لانھم مصارفہ اذا ھل البغی یقاتلون اھل الحرب و الخراج حق المقاتلۃ۔ ۱؎
خراج دوبارہ لینے کا فتوٰی نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ اس کا مصرف ہیں کیونکہ اہلِ بغاوت نے اہلِ حرب کے ساتھ مقاتلہ کیا اور خراج مقاتلہ کا حق ہے(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب زکوٰۃ الغنم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۰۴)
ہدایہ و بحر و غیرہما میں ہے:
افتوابان یعید وھا دون الخراج لانھم مصارف الخرج لکونھم مقاتلۃ والزکوٰۃ مصرفھا الفقراء ولا یصرفونھا الیھم۔ ۲؎
علماء نے فتوٰی دیا ہے کہ خراج کے علاوہ کا اعادہ ہوگا کیونکہ اہلِ بغاوت خراج کا مصرف ہیں اس لیے کہ یہ مقاتل ہیں اور زکوٰۃ کا مصرف فقراء ہیں لہذا ان پر خرچ نہیں کی جاسکتی ۔(ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الزکوٰۃ فصل فی مالا صدقہ فیہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۷۳)
تو ثابت ہُوا کہ تسلّط و حمایت شرط مطالبہ سلطانی ہے نہ شرط نفس وجوب اور اس تعلیل نے کہ اعادہ خراج اس وجہ سے نہیں کہ وُہ خود بھی مصرف ہیں واضح کردیا کہ اگر وُہ مصرف نہ ہوں جیسے نا مسلم قومیں تو خراج کا اعادہ بھی ضرور ہے مصرف خراج صرف لشکر اسلام نہیں بلکہ تمام مصالح عامہ مسلمین ہیں جن میں تعمیر مساجد و وظیفہ امام ومؤذن و بنائے پل و سرا و تنخواہ مدرسین علم دین و خبر گیری طلبہ علوم دین و خدمت علمائے اہلِ حق حامیانِ دین مشغولین درس و وعظ و افتا وغیرہا امور دین سب داخل ہیں۔
فی ردالمحتار تحت قول ابن الشحنۃ المار انہ یصرف فی مصالحنا کسد الثغور و بناء القناطیر والجسور و کفایۃ العلماء و القضاء والعال ورزق المقاتلۃ و ذرا ریھم اھ ای ذراری الجمیع۔۳؎
ردالمحتار میں ابن شحنہ کے گزشتہ قول جو ہدایہ اور اکثر کتب معتبرہ میں ہے،کے تحت یہ ہے، خراج ہمارے مصالح پر خرج کیا جاسکتا ہے مثلاً دفاعی بند، پُل، راستے، علماء، قضاء، علماء کی خدمت، مقاتلہ کرنے والے اور ان کی اولاد، یعنی مذکورہ تمام لوگوں کی اولاد پر خرچ کیا جاسکتا ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب العشر مصطفی البابی مصر ۲ /۶۳)
درمختار میں ہے:
مصرف الجزیۃ والخراج مصالحنا کسد ثغورنا و بناء قنطرۃ و جسر کفایۃ العلماء والمعلمین، تجنیس، وبہ یدخل طلبۃ العلمم، فتح ،و القضاۃ والعمال ککتبۃ قضاۃ وشہود قسمۃ ورقباء سواحل ورزق المقاتلۃ وذراریھم ای ذراری من ذکر، مسکین(ملخصاً)۱؎
جزیہ اور خراج کامصرف ہمارے رفا ہی کام ہیں مثلاً دفاعی معاملات، جیسے دارالاسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرنا،سڑکوں اور پُلوں کا بنانا، علماء اور اساتذہ کو بطورِ کفالت دینا، تجنیس۔ اس میں طالبعلم بھی داخل ہیں، فتح۔ قضاۃ اور عمال، جیسے قاضیون کے کاتب، ورثاء اور شرکاء کے درمیان تقسیم کے گواہ اور سواحلِ دریا کے نگہبان یعنی عشر لینے والے کذافی الطحطاوی۔ مجاہدین کی روزی اور ان سب کی ذریّت کی، یعنی جن کا ذکر اُوپر ہوا ان سب کی اولاد کی روزی۔ کذافی شرح مسکین۔(ملخصاً)(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۴)
خراج مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہوگا۔ مسلمان قضاۃ، عمال ، علماء کی ضروریات کو اس سے پُورا کیا جائے گا کیونکہ یہ بیت المال کا مال ہے اور بیت المال مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہوتاہے، اور یہ لوگ مسلمانوں کی خدمت کررہے ہوتے ہیں۔ (ت)
(۲ ؎ الہدایۃ فصل و نصارٰی بنی تغلب الخ المکتبہ العربیہ کراچی ۲ /۵۷۹)
فتح میں ہے:
زاد فی تجنیس، المعلمین والمتعلمین وبھذا تدخل طلبۃ العلم اھ ۳؎الکل مختصرا۔
تجنیس المعلمین والمتعلمین میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے ساتھ طالب علم اس میں داخل ہوگئے اھ تمام عبارتوں میں اختصار ہے۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر فصل و نصارٰی بنی تغلب الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۳۰۷)