Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
39 - 198
قلت: ومن یظلم لا یظلم
 (میں کہتا ہوں ظلم کے بدلے ظلم نہ کیا جائے گا۔ت)

زمین اگر بٹائی پر دی جائے یعنی مزارع سے پیداوار کا حصّہ مثلا نصف یا ثلث غلہ قرار دیا جائے تو مالک زمین پر بقدر حصہ کا  عشر آئیگا مزارعت بالمناصفہ کی صورت میں سو۱۰۰ من غلہ پیدا ہوا تو زمیندار پانچ من عشر میں دے، اور اگراجارہ میں دی گئی جسے لوگ نقشی کہتے ہیں مثلاًسو۱۰۰ روپیہ بیگھہ پر اٹھائی تو سیّدنا امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے نزدیک کل عشر مالکِ زمین پر ہے اور صاحبین رحمہااﷲتعالیٰ کے نزدیک کل مزارع پر ہے زمیندار سے کچھ مطالبہ نہیں ۔ امام قاضی خاں نے قولِ اوّل کے اظہر ہونے کا ارشارہ کیا،
وعلیہ اقتصرالامام الخصاف وبہ جزم فی منظومۃ النسفی والا سعاف واعتمدہ المتاخرون کالخیر الرملی واسمٰعیل الحائک وحامد آفندی وغیر ھم رحمھم اﷲتعالیٰ۔
امام خصاف نے اسی پر اکتفاء کیا ہے اور منظومہ نسفی اور اسعاف میں اسی پر جزم کیا ہے اور متاخرین مثلاً خیر رملی، اسمٰعیل حائک، حامدآفندی وغیرہم رحمہم اﷲتعالیٰ نے اسی پر اعتماد کیا ہے(ت)

مگر حاوی قدسی میں قول دوم پر فتوٰی اور وُہ بھی لفظ ناخذ(ہم اسی کو لیں گے ۔ت)کہ آکد الفاظ فتوٰی سے ہے وہ تصحیح التزامی تھی اور یہ صریح ہے،
فی الدرالمختار العشر علی الموجر کخراج موظف وقالا علی المستاجر کمستعیر مسلم وفی الحاوی وبقولھما ناخذ و فی المزارعۃ ان کان البذرمن رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ۱؎
درمختار میں ہے کہ عشر کرایہ پر دینے والے پر ہے جیسا کہ مقرر خراج، صاحبین کے نزدیک عشرکرایہ دار پر ہے جیسے کہ مسلمان عاریۃًکوئی چیز لے۔ حاوی میں صاحبین کا قول لیتے ہیں اور مزارعت میں اگر بیج زمین کے مالک کا ہے تو اس پر عشر ہے اور اگر عامل کا ہے تو حصّہ کے مطابق دونوں پر ہوگا،
 (۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار        باب العشر             مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۴۰-۱۳۹)
فی ردالمحتار تحت قولہ وفی المزارعۃ الخ ما ذکرہ الشارح ھو قولھما اقتصر علیہ لما علمت ان الفتوی علی قولھما بصحۃ المزارعۃ لکن ما ذکر من التفصیل یخالفہ مافی البحر والمجتبیٰ والمعراج والسراج والحقائق والظہیریۃ وغیرہا من ان العشرعلی رب الارض عندہ وعلیھا عند ھما من غیر ذکر ھذاالتفصیل وھو الظاہر لما فی البدائع من ان المزارعۃ جائزۃ عند ھما والعشر یجب فی الخارج والخارج بینھما فیجب العشر علیھما الخ۔ ۲؎
ردالمحتار میں ماتن کے قول'' وفی المزارعۃ الخ''کے تحت یہ شارح نے جو کہا یہ صاحبین کا قول ہے،اور اس پر اکتفاء کی وجہ آپ جان چکے کہ صحتِ مزارعت کے بارے میں صاحبین کے قول پر فتوٰی ہے لیکن جو تفصیل میں بیان ہُوا وہ اس کے مخالف ہے، جوبحر، مجتبٰی، معراج،سراج، حقائق، ظہریہ وغیرہ میں ہے کہ امام صاحب کے نزدیک عشر مالک زمین پر ہے اور صاحبین کے نزدیک دونوں پر ہے مگر تفصیل کا ذکر نہیں، اور عشر پیداوار میں واجب ہے اور پیداوار دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی لہذا عشر دونوں پر    ہوگا الخ(ت)
(۲؎ ردالمحتار  باب العشر            مصطفی البابی مصر         ۲ /۲۱)
بالجملہ : قول دوم بھی ضعیف نہیں اور ہمارے بلادمیں وہی ارفق بالناس ہے یہاں اجرتیں بلحاظ عشر ہرگز مقرر نہیں ہوتیں، اگر پیداوار کا عشر اُجرت سے دلائیں تو غالباًکچھ نہ بچے بلکہ بہت جگہ عشر ہی میں گھر سے دینا پڑے باقی مصارف دیہی و مالگزاری انگریز جُدارہےـ اور اگر اس پر مجبور کیجئے کہ اب وہ اجرتیں مقرر کر لیجئے کہ عشر و مالگزاری و جملہ مصارف دے کر تمھارے لیے بقدر کفالت بچے تو یہ ہرگز میسر نہیں، مزار عین اس پر کیوں راضی ہونے لگے ۔
وفی نزع الناس عن عاداتھم حرج والحرج مدفوع بالنص
لا یکلف اﷲنفسا الاما اتاھا سیجعل اﷲ بعد عسریسرا ً۳؎
لوگوں کو ان کی عادت سے روکنا حرج ہے اور حرج کا مد فوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ ارشاد باری ہے اﷲتعالےٰ ہر نفس کو اتنی تکلیف دیتا ہے جتنا اسے عطا فرمایا عنقریب اﷲتعالیٰ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا،
 (۳؎ القرآن ۶۵/۷)
وھذا کما ذکر العلامۃالشامی رحمہ اﷲتعالیٰ فی اوقاف بلادہ انہ لا تفی الاجرۃ ولا اضعافھا بالعشر او خراج المقاسمۃ قال فلا ینبغی العدول عن الا فتاء بقولھمافی ذلک لانھم فی زماننا یقدرون اجرۃ المثل بناء علی ان الاجرۃ سالمۃلجھۃ الوقف ولا شئی علیہ من عشرو غیرہ امالو اعتبر دفع العشر من جہۃ الوقف وان المستاجرلیس وعلیہ سوی الجرۃ فان اجرۃ المثل تزید اضعافا کثیرۃ کما لا یخفی فان امکن اخذ الجرۃ کاملۃ یفتی بقول الامام والا فبقولھما لما یلزم علیہ من الضرر الواضح الذی لا یقول بہ احد واﷲتعالیٰ اعلم اھ۔ ۱؎
یہ اسی طرح ہے جو علامہ شامی رحمہ اﷲتعالیٰ نے اپنے شہرں کے ان اوقاف کے بارے میں ذکر کیا ہے جن میں نہ اجرت نہ اس کے ساتھ عشر کا اضافہ اورنہ ہی غلّے کی تقسیم پوری ملتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں صاحبین کے قول پر فتوی دینے سے اعراض منا سب نہیں کیونکہ ہمارے دَور میں لوگ اجرت مثلی مقرر کرتے ہیں اس بناء پر کہ وقف کے لئے اجرت مثلی مقرر کرنے میں  نقصان سے سلامتی ہے اور اس پر کوئی عشروغیرہ نہیں اور اگر وقف کی جانب سے عشر دینے کا اعتبار کیا جائے اور مستاجر پر سوائے اجرت کے کچھ نہ ہو تو اجرت مثلی کئی گنا بڑھ جاتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں، تو اگر کا ملا اجرت لینا ممکن ہوتو امام صاحب کے قول پر فتوٰی ہوگا ور نہ صاحبین کے قول پر، تاکہ اس سے وہ واضح نقصان لازم آئے جس کا قول کسی نے بھی نہیں کیا واﷲتعالیٰ اعلم اھ(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب العشر    مصطفٰی البابی مصر   ۲ /۶۰ )
رہی وُہ زمین جس کی نسبت خراجی ہونا ثابت ہوجائے مثلاً تحقیق ہو کہ ابتدائے زمانہ سلطنت اسلام سقی اﷲتعالیٰ عہد ہا میں ابتداءً یہ زمین کسی کافر ذمی کی تھی کہ اس نے باذنِ سلطان احیاء کی، سلطان نے اسے عطا کی، اُس سے مسلمان نے خریدی یا مسلمان نے خراجی زمین کے قرب میں احیاء کی اس کا وظیفہ ضرور خراج ہے اور بلاشبہ خراج شرعی سے مالگزاری انگریزی کا کوئی تعلق نہیں، نہ حساب ادا میں وہ مجرا دی جائے
وھذا ظاہر جلی لا خفاء بہ
 (اور یہ ظاہر روشن ہے اس میں کوئی خفا نہیں۔ت) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ جب یہاں نہ سلطنتِ اسلام نہ لشکرِ اسلام تو خراجِ شرعی بھی واجب رہا یا نہیں، اور رہا تو کسے اورکیا اور کتنا دیا جائے۔
اقول وبا ﷲالتوفیق   :   یہ تو کتب میں مصرح ہے کہ مطالبہ خراج مشروط بہ تسلط ہے، جب بلاد پر جتنے دنوں سلطنت شرعیہ کا تسلط نہ رہے بعد تسلّط بھی اُن ایام کے خراج کا مطالبہ نہیں انہوں نے اتنے دنوں کسی اور قوم کو خراج دیا یا اُسے بھی نہ دیا ہوکہ خراج لینا حمایت فرمانے کے ساتھ ہے جب اُتنے دنوں سلطنتِ دینیہ ان کی حمایت سے جُدا رہی اس مدت کا خراج نہیں لے سکتی۔ کنز میں ہے :
لواخذ العشر والخراج والزکوٰۃ بغاۃ لم یوخذ اخری۔ ۱؎
اگر باغی عشر، خراج اور زکوٰۃ وصول کرلیں تو دوبارہ نہ لیا جائے گا۔ (ت)
 (۱؎ کنز الدقائق         فصل فی الغنم             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص ۵۹)
  ہدایہ،بحر وغیرہما میں ہے :
لان  الامام لم یحمھم والجبایۃ بالحمایۃ۔ ۲؎
کیونکہ حاکم نے ان کی حمایت نہیں کی اور خراج تو حمایت کی بنا پر ہوتا ہے (ت)
 (۲؎ بحر الرائق  فصل فی الغنم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۲۳)
تبیین و بحرو غنیہ ذوی الاحکام میں ہے:
اشتراط اخذھم الخراج ونحوہ وقع اتفاقا حتی لولم یاخذ وا منہ سنین وھو عند ھم لم یو خذ منہ شئی ایضا لما ذکرنا۔ ۳؎
خراج وغیرہ لینے کی شرط لگانے کا ذکر اتفاقاًہوا ہے حتی کہ اگر کئی سال ان سے وصولی نہ کی حالانکہ ذمی ان کے پاس تھا تواب سابقہ سے بھی کوئی شئے نہ لی جائیگی جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے(ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق         فصل فی صدقۃ الغنم         مطبعہ کبرٰی بولاق مصر         ۲ /۲۷۴)
ردالمحتار میں ہے:
ویظھر لی ان اھل الحرب لو غلبو ا علی بلدۃ من بلا دنا کذلک للتعلیلھم اصل المسئلۃ بان الامام لم یحمھم والجبایۃ بالحمایۃ وفی البحر وغیرہ لو اسلم الحربی فی دارالحرب واقام فیھا سنین ثم خرج الینا لم یا خذ منہ الامام الزکوٰۃ لعدم الحمایۃ الخ۴؎
مجھ پر یہ ظاہر ہُوا ہے کہ اگر اہلِ حرب ہمارے کسی شہر پرغالب آجائیں تو حکم یہی ہوگا کیونکہ یہاں دلیل و علّت وہی ہے کہ حاکم نے ان کی حمایت نہیں کی اور خراج حمایت کی وجہ سے ہوتا ہے، اور بحر وغیرہ میں ہے اگر حربی نے دارالحرب میں اسلام قبول کرلیا اور وُہ وہاں ہی کئی سال تک مقیم رہا پھرہمارے ہاں آیا تو حاکم عدمِ حمایت کی وجہ سے اس سے کچھ وصول نہیں کرسکتا الخ(ت)
(۴؎ردالمحتار     باب زکوٰۃ الغنم    مصطفی البابی مصر ۲ /۲۶)
Flag Counter