| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۸۶ :از بہار شریف مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی عبداﷲصاحب طالب علم ۱۲ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ وُہ سب زمین ہندوستان کی جس کی مالگزاری زمیندار نقد دیتے ہیں آیا عشری ہے یا خراجی، اگر عشری ہے تو بعد منہائی مالگزاری کے واجب ہے یا بلا منہائی، اور یہ بھی کہ اس صورت میں کہ زمیندار سب اپنی رعایا کے ساتھ زمین کو بندوبست کرتے ہیں اس صورت میں عشر کس پر واجب ہے زمیندار پر یا رعایاپر؟ اور بصورت خراجی ہونے کے وُہ مال گزاری جو نقد دیتے ہیں وہی خراج تصور کیا جائیگا اور کوئی دوسرا، اور جب دوسرا ہوگا تو مالگزاری منہادے کر خراج شرعی دینا ہوگا یا بغیر منہا، اور کس قدر اور کس حساب سے دینا ہوگا، اور بصورت عدم عشری و عدم خراجی ہونے کے ہم زمینداروں کوکیا کرنا چاہیئے جو مواخذہ سے بری ہوں۔ بینو اتو جروا۔
الجواب بسم اﷲالرحمٰن الرحیم والصلٰوۃ والسلام علی رسول اﷲ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی زمینیں خراجی نہ سمجھی جائیں گی جب تک کسی خاص زمین کی نسبت خراجی ہونا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو۔ کما حققناہ بتوفیق اﷲتعالیٰ فی فتاوٰ نا بمالا یتجاوز الحق عنہ (جیسا کہ ہم نے اﷲتعالیٰ کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے جس سے حق متجاوز نہیں۔ت)بلکہ وہ عشری ہیں یا نہ عشری نہ خراجی، اور دونوں صورتوں میں ان کا وظیفہ عشرہے۔
اماعلی الاول فظاہر واماعلی الثانی فکما حققہ فی ردالمحتار خلافا لما فی التحفہ المرضیۃ ثم الشرنبلالیۃ ثم الدرالمختار وما حققہ واضح نفیس،والدر ،انماعزاہ للشرنبلالی والشرنبلالی لصاحب التحفۃ عن العلامۃ صاحب البحر ،فالیہ دار فیہ الامر ، وھو رحمہ اﷲتعالیٰ وما فی التحفۃ لم یستند فیہ النقل انما اعتمد علی عدم رؤیتہ نقلا بلزوم العشرفیہ وانت تعلم ان عدم الرویۃ لیست رؤیۃ العدم ولا عدم النقل نقل العدم والنصوص مطلقۃ، والعشریجب فیما لیس بعشر ولا خراجی کالمفاوز والجبال ۔
پہلی صورت میں تومعاملہ واضح ہے اور دوسری صورت میں بھی عشر ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل ہے البتہ تحفہ مرضیہ پھر شرنبلالیہ پھر درمختار کا اس میں اختلاف ہے اور صاحب درمختار کی تحقیق نہایت نفیس ہے، در نے شرنبلالی اور شرنبلالی نے صاحبِ تحفہ سے اور وہاں علامہ صاحبِ بحر کی طرف منسوب ہے، اور معاملہ کی بنیاد یہاں یہی ہے اور مذکور شیخ رحمہ اﷲتعالیٰ نے اور جو کچھ تحفہ میں ہے اس کے نقل پر کوئی دلیل نہیں، اس پر اعتماد صرف اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ ایسی زمین میں عشر کے لازم ہونے پر کوئی روایت ہماری نظر سے نہیں گزری اور آپ جانتے ہیں کہ عدمِ رؤیتِ، رؤیتِ عدم نہیں ہوتی۔ عدمِ نقل ، نقلِ عدم نہیں۔ حالانکہ نصوص مطلق ہیں، اور جو زمین نہ عشری ہو اور نہ خراجی وہاں عشر لازم ہوتاہے جیسا کہ جنگل اور پہاڑ ۔
اقول: ومعنی کون مافتحناہ فا بقیناہ لنا الی یوم القیامۃ من دون ان نعطیھا ملا کھا او کفارا اخرین اونقسمھا بین الغانمین وکذا مامات ملا کہا فالت لبیت المال، ان العشر والخراج انما یوجب حقا للمسلمین وھذہ قدکانت اوصارت لھم فلا وجہ لان یوجب شئی لھم علیھم ففراغ الوظیفۃ لعدم من یوظف علیہ کارض خربۃ لم تزرع اصلا اما اذا وجد نا من نوجب علیہ فلا معنی للفراغ وقد نص المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر "اواخر باب زکوٰۃ الزروع" فی تعلیل قول الامام رضی اﷲتعالیٰ عنہ، ان الذمی اذااشتری عشریۃ من مسلم تصیرخراجیۃ ،۱؎ مانصہ
اقول :اس عبارت کہ ''ہم نے زمین کی فتح کی اور اسے تا قیامت اپنے لیے رکھا '' کامعنی یہ ہے کہ اسے مالکوں کو واپس نہ دیا یا دیگر کفار کو نہ دی یا بطورِ غنیمت اسے لشکر یوں میں تقسیم نہ کیا اسی طرح وہ زمین جس کا مالک فوت ہوگیا اور وُہ بیت المال کی ہوگئی کیونکہ عشر اور خراج مسلمانوں کے حق کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ یہ مذکورہ زمیں یا تو ہے ہی مسلمانوں کی یا ان کی طرف لوٹ آئے گی ، لہذا مسلمانوں کے لیے ان پر کوئی شئی واجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں، یہاں عشر و خراج کانہ لازم ہونا اس لیے ہے کہ یہاں کوئی ایسا شخص ہی نہیں جس پر کچھ لازم کیا جائے جیسے کہ بنجر زمین جو بالکل ہی کاشت نہ کی گئی ہو اور اگر ہم یہاں ایسے شخص کو پالیں جس پر کوئی شئی لازم کریں تو فراغ کا کوئی معنیٰ نہ ہوگا۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں باب زکوٰۃ الزروع کے آخر میں امام صاحب رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے قول کی علت بیان کرتے تصریح کی ہے کہ ذمی نے جب عشری زمین کسی مسلمان سے خریدی تو وُہ خراجی ہوجائےگی۔
(۱؎ فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع الثمار مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۶)
وجہ قول ابی حنیفۃ انہ تعذرالعشرلان فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا عن وظیفۃ مقررۃ فیھا شرعااھ۲؎ مختصرا، فھذا بحمداﷲنص فیما عولنا علیہ وﷲالحمد ۔
امام ابو حنیفہ کے قول کی وجہ یہ بیان کی کہ یہاں عشر نہیں ہوسکتا کیونکہ عشر مین عبادت کا پہلو ہے اور زمین شرعی طور پر کسی مقرر وظیفہ سے خالی نہیں ہوسکتی اھ اختصاراًبحمداﷲ یہ ہمارے مختار پر تصریح ہے وﷲالحمد۔
( ۲؎ فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع الثمار مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷)
وبالجملۃ مالبیت المال فارغۃ مادامت لھا فاذاانتقلت لملک احد بوجہ صحیح کما ھوالمحمل فی الاراضی التی بایدی الناس یتوارثونھا ویتصرفون فیھا تصرف الملاک کما حققہ فی ردالمحتار وبیناہ فی فتاوٰ نافلا محید عن التوظیف الاتری ان الموات تکون لبیت المال وھی فارغۃ فاذاھی تحییٰ باذن الامام فتصیرذات وظیفۃ کذاھذا۔
الغرض بیت المال کی زمین جب تک بیت المال کی ہے وُہ ہر وظیفہ سے فارغ رہے گی حتی کہ وہ کسی طریق صحیح سے کسی کی ملکیت میں چلی جائے جیسا کہ معاملہ ان اراضی کا ہے جو لوگوں کے پاس بطور وراثت منتقل ہوتی ہیں اور ان میں وُہ مالکوں جیسا تصرف کرتے ہیں جیسا کہ رد المحتار میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے پس ان میں وظیفہ سے چھٹکارا نہیں، کیا تمھارے علم میں نہیں کہ جب بے آباد زمین بیت المال کی ملکیت ہو تو وہ وظیفہ سے فارغ ہوتی ہے تو جب وُہ حاکم کی اجازت سے وہ آباد ہوجائے تو وُہ زمین صاحبِ وظیفہ کی ہوجائیگی یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ (ت)
اور عشر پوری پیداوار کا لیا جائے گا۔
فی تنویر الابصار یجب العشر بلا رفع مؤن الزرع،۱؎فی الدرالمختارلتصریحھم بالعشر فی کل الخارج اھ ۲؎
(تنویرالابصار میں ہے کہ کھیتی کے تمام اخراجات نکالے بغیر عشر لازم ہے ۔ درمختار میں اس کی دلیل یہ دی ہے کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عشر تمام پیداوار پر ہے۔ت)
( ۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۹ ) (۲ درمختار شرح تنویر الابصار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۹)