| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
وفی رسالۃ الخراج لابی یوسف لیس للامام ان یخرج شیأ من ید احد الا بحق ثابت معروف اھ والائمۃ اذاقالوافی الکنائس المبنیۃ للکفر انھا کانت فی بریۃ فاتصلت بھا عمارۃ المصر فا ولی ان یقولو اببقاء تلک الاراضی بید من ھی تحت ایدیھم با حتمال انھا کانت مواتا فاحییت او انھا انتقلت الیھم بوجہ صحیح اھ ۱؎ ملتقطا الیٰ اٰخرما اطال واطاب واوضح الصواب ،
امام ابو یوسف کی کتاب الخراج میں ہے کہ کسی حاکم کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ کسی کے قبضہ سے کوئی شئے خارج کرے ماسوائے اس صورت کے جب دوسرے کا حق ثابت و معروف ہو،اھ،اور ائمہ نے ان گرجو ں کے بارے میں تصریح کی ہے جو کفار کی خاطر بنائے گئے وُہ ایسے بیابان میں تھے جو شہر کی عمارتوں سے متصل ہے تو یہاں اولیٰ یہی کہنا ہے کہ زمین انہی کی ملکیت میں باقی رہے گی جن کے وہ قبضہ میں ہے کیونکہ ممکن وُہ زمین غیر آبادہو اور ان لوگوں نے اسے آبا د کیا یا وہ ان لوگوں کی طرف بطریق صحیح منتقل ہُوئی ہو اھ یہ ان کی طویل، خوبصورت اور صواب کو واضح کرنے والی عبارت کا خلاصہ ہے ،
(۱؎ ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۰)
ا ما ما قال فی اٰخرہ و الحاصل فی الاراضی الشامیۃ والمصریۃونحوھا ان ما علم منھا کونہ لبیت المال بوجہ شرعی فحکمہ ما ذکرہ الشارح عن الفتح (ای سقط الخراج وماخوذ اجرۃ)ومالم یعلم فھوملک لاربابہ والماخوذ منہ خراج لااجرۃ لانہ خراجی فی اصل الوضع اھ ۱؎
اورا س کے آخر میں یہ جو کہا کہ شام، مصر اور ان کی طرح دیگر علاقوں کی اراضی کے بارے میں اگر یہ علم ہو کہ بطریق شرعی بیت المال کو حاصل ہُوئی ہیں تو ان کا حکم وہی ہے جس کا ذکر شارح نے فتح سے کیا (یعنی خراج ساقط ہوجائے گا اور جوحاصل کیا جائے گا وُہ اجرت ہوگی )اور جن زمینوں کا علم نہیں وہ ان کے مالکوں کی ہی ہوں گی اور اس سے خراج وصولہ کیا جائے گا نہ کہ اُجرت، کیونکہ اصلاًیہ زمین خراجی ہے اھ
(۱؎ ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۲)
فقدابان ان الوجہ کونھا خراجیۃ فی بد ء الامرلما قدم فی ھذاالبیان مستندا للامام الثانی ان ارض العراق والشام ومصر عنویۃ خراجیۃترکت لاھلھا الذین قھر واعلیہا اھ۲؎
تو اب واضح کیا کہ ابتداءً ان کے خراجی ہونے کی وجہ وہی ہے جس کو پہلے بیان کیا جو امام ثانی کی دلیل ہے کہ عراق ، شام اور مصر کی زمینیں بطورِ غلبہ حاصل ہوئی ہیں اور خراجی ہیں کیونکہ انھیں اس کے ان سابقہ باشندوں کو دے دیا گیا جن سے بطور غلبہ حاصل کی گئی تھی ا ھ
(۲؎ ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۱)
وقال قبلہ قال ابویوسف فی کتاب الخراج ان ترکھا الامام فی ایدی اھلھا الذین قھرواعلیہا فھو حسن فان المسلمین افتتحوا ارض العراق والشام ومصر ولم یقسمواشیأ من ذلک بل وضع عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ علیھا الخراج ولیس فیھا خمس اھ۳؎
اوراس سے پہلے لکھا کہ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا اگرحاکم نے انھیں لوگوں کے پاس زمین رہنے دی جن سے بطور غلبہ حاصل کی تھی تو یہ بہت اچھا کیا کیونکہ مسلمانوں نے عراق، شام اور مصر کی زمینیں حاصل کیں تو انھیں تقسیم نہ کیا بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے ان زمینوں پر خراج لگایا اور ان میں خمس نہ رکھا گیا اھ
(۳؎ ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۷۹)
فھذا ماقال انہ خراجی فی اصل الوضع اماما نحن فیہ اذلم یثبت ذٰلک لا یمکن جعلھاخراجیۃ بالاحتمال وایجابہ علی المسلمین الذین لیسو امن اھلہ بتصریح ذوی الکمال ھذا ماظہرلی واﷲتعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال ثم رأیت فی الفتاوی العزیزیۃ، نقل عن رسالۃ مولٰناالشیخ الجلیل جلال التھانیسری قدس سرہ السری ما نصہ بالعجمیۃ زمین ہندوستان درابتدائے فتح مانند سواد عراق کہ در عہد حضرت فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ مفتوح شدہ بود موقوف بر ملک بیت المال است وزمینداراں را بیش از تولیت و داروغگی تر ددو فراہم آوردن مزارعین واعانت وزراعت وحفظ دخلے نیست چنانچہ لفظ زمیندار نیز اشعارے بآں می کند و تغیر و تبدل زمینداری عزل و نصب زمینداران و اخراج بعضے از آنہاواقرار بعضے وعطائے آراضی بافغاناں و بلوچاں و سادات وقدوائیاں بصیغہ زمینداری دلالت صریحہ بریں می کند پس دریں صورت جمیع اراضی ہندوستان مملوک بیت المال گشت و بعقد مزار عت علی النصف اواقل منہ دردست زمینداران ۱؎
یہ وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ اصل کے اعتبار سے خراجی ہیں مگر وہ جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں جب تک ثابت نہ ہو ان کا احتمال کی بنیاد پر خراجی قرار دینا اور مسلمانوں پر ایسی چیز کا وجوب جس کے وہ بقول صاحبِ کمال کے اہل نہیں، ممکن نہیں، یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے اور حقیقتِ حال سے اﷲتعالٰی زیادہ واقف وآگاہ ہے ،پھر میں نے فتاوٰی عزیزیہ میں دیکھا کہ انہوں نے مولانا شیخ جلال الدین تھانیسری قد س سرہ السری کے رسالہ سے نقل کیا جو فارسی الفاظ میں یُوں ہے: ہندوستان کی زمین ابتداءً اسی طرح فتح ہوئی جس طرح عراق کی زمین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے دور میں فتح ہُوئی تھی، یہ بیت المال کی ملکیت میں بطور وقف رہے گی اور زمینداروں کا اس سے زیادہ دخل نہیں کہ وہ ان زمینوں کے متولی، منتظم، مزارعین مہیا کرنے اور بیت المال کے لیے تعاون وزراعت اور نگرانی کرنیوالے ہیں، جیسا کہ لفظ زمیندار بھی اس کی طرف اشارہ کررہا ہے، زمینداری میں تغیر و تبدل، اور انھیں معزول و مقرر کرنا، ان میں سے بعض کا رکھنا اور بعض کا نکالنا، افغانیوں، بلوچوں،سادات اور قدوائیوں کو لفظ زمینداری کے ساتھ بعض زمینوں کا دینا بھی اسی پر تصریح ہے لہذا اس صورت میں ہندوستان کی تمام زمین بیت المال کی ملکیت ہے، نصف یا اس سے اقل پر مزارعت کے عقد کے ذریعے زمیندار کے قبضہ میں ہوگی۔
(۱؎ فتاوٰ ی عزیزی مسئلہ اراضی عطائے سلطانی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۳)
فھذا صریح فیما استظھرنا ہ من ان الفاتحین لم یقسموھا ملکا للمسلمین و الحکم فیہ ما بیناہ وذکر رحمہ اﷲتعالیٰ فی سوادالعراق فمختارالائمۃ الشافعیۃ کما بینہ فی ردالمحتار اما عند نا فممنون بھا علی اھلھا ولا یضرناالکلام فی التمثیل فعلی ھذا مابایدی المسلمین من الاراضی لا تجعل الا عشریۃ مالم یثبت فی شئی منھا کو نھا خراجیۃ بوجہ شرعی واﷲسبحانہ وتعالیٰ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ تمام اس پر تصریح ہے جیسے ہم نے اختیار کیا کہ فاتحین نے جن زمینوں کو نہ تقسیم کیا نہ وہاں کے باشندوں کو دیں بلکہ انھیں مسلمانوں کی ملکیت میں رکھا تو ان کا وہی حکم ہے جو ہم نے بیان کر دیا ہے ، اور مذکور شیخ رحمہ اﷲتعالیٰ نے عراق کی زمین کے بارے میں جو کہا تو یہ ائمہ شوافع کا مختار ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہوا ہے اور ہمارے نزدیک تو وہ زمین وہاں کے باشندوں کو بطور احسان دے دی گئی تھی البتّہ بطور مثال لاناہمیں نقصان دہ نہیں تو اب اس ضابطہ پر جو زمین مسلمانوں کے قبضہ میں ہوگی وہ عشری ہی ہوگی مگر اس صورت میں جب اس کے خراجی ہونے پر کوئی وجہ شرعی موجود ہو واﷲسبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ واتم احکم (ت)