مسئلہ ۸۵ :از لودھیانہ محلہ گرچو منگلی مرسلہ شیخ محمد مقبول صاحب تاجر ۲۱جمادی الاولیٰ ۱۳۱۶ھ
ماقول الفقھاء الحنفیۃ فی ان اراضی الھندیۃ التی فی ایدی المسلمین خراجیۃ ام عشریۃ۔ بینواتوجروا۔
فقہاء احناف کا ہندوستان کی اس زمین کے بارے میں کیا موقف ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہے، کیا وہ خراجی ہیں یا عشری؟بینواتوجروا۔(ت)
الجواب : الارض کثیرا ماتکون عشریۃ کما فتح (۱)وقسم بیننا، وما اسلم(۲) اھلہ طوعا قبل ان تظفر بھم و عشریۃ اشتراھا ذمی من مسلم فاخذ ھا مسلم بشفعۃ(۳)اوردت علی البائع لفساد البیع (۴)اوبخیار (۵)اورویۃ(۶) مطلقا او عیب (۷)با لقضاء وما احیاہ(۸) مسلم بقرب العشریا ت او لتسا وی القرب(۹) الیھا والی الخراجیات علی قول ابی یوسف المفتی بہ وسقاہ بماء عشری وحدہ اومع خراجی علی قول الطرفین و کالاحیاء جعلہ(۱۰و۱۱) دارہ بستانا اومزرعۃ،
زمین بہت سی صورتوں میں عشری ہوتی ہے (جیسا کہ ان صورتوں میں ہے)مثلاً(۱)زمین مفتوحہ اور مسلمانوں میں تقسیم شدہ ہے (۲)وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے غلبہ سے پہلے پہلے خوشی سے اسلام قبول کرلیا ______ (۳)زمین عشری تھی اسے کسی ذمّی نے مسلمان سے خرید لیا پھر کسی مسلمان نے بذریعہ شفعہ حاصل کرلی(۴)یا فساد بیع کی وجہ سے (۵)یا خیار شرط (۶)یا خیار رؤیت ہر حال میں (۷)یا عیب کی صورت میں قاضی کی قضا سے وُہ زمین بیچنے والے مسلمان کی طرف واپس لوٹ آئی ہے (۸)جو مسلمان نے آباد کی ہو عشری زمین کےقریب (۹) یا اس زمین کا قرب خراجی اور عشری زمین کے مساوی ہے امام ابو یوسف کے مفتی بہ قول کے مطابق ، اور اسے صرف عشری پانی یا عشری اور خراجی دونوں پانی سیراب کرتے ہوں طرفین کے قول کے مطابق (۱۰،۱۱) اور دار کی زمین کو باغ یا زرعی بنانا ، آباد بنانے کی طرح ہے
کثیر اماتکون خراجیۃ کما فتح(۱) ومنّ علی اھلھا او نقل الیہ (۲)کفار اُخر وما فتح صلحا(۳) و عشریۃ(۴) اشترا ھا ذمّی من مسلم و خراجیۃ(۵) اشتراھا مسلم وما احیاہ (۶)ذمی باذن الامام او رضخ لہ(۷) مطلقا او مسلم(۸) بقرب الخراجیات، او سقاہ بماء خراجی صرفا علی القولین ومثلہ(۹) مسئلۃالدارفی المسلم والذمی جمیعا،
اور بہت سی صورتوں میں زمین خراجی ہوتی ہے(۱)زمین فتح کرلی گئی مگر اس کے باشندوں کو ہی بطورِ حسن سلوک واپس کردی گئی(۲)ایسی زمین کی طرف دوسرے کفار کی منتقلی کی گئی ہو (۳)وُہ زمین بطور صلح فتح کی گئی ہو(۴)زمین عشری تھی مگر کسی ذمّی نے مسلمان سے خرید لی۔(۵)ایسی زمین خراجی جسے کسی مسلمان نے خرید لیا۔ (۶)ایسی زمین جسے اذنِ امام سے کسی ذمی نے آباد کیا ۔(۷)جو زمین ذمّی کو بطور عطیہ دے دی گئی(۸)کسی مسلمان نے اس زمین کو خراجی زمین کے قریب آبا د کیا یا اسے دونوں قولوں کے مطابق محض خراجی پانی سے سیراب کیا(۹)اسی کی مثل مسئلہ دار ہے مسلمان اور ذمی کے حق میں کہ ذمی کیلئے خراجی ہے
وقد تکون لا عشریۃ ولا خراجیۃ کما فتحنا ہ وابقیناہ لنا الیٰ یوم القیمۃ اومات ملا کھا واٰلت لبیت المال علی نزاع فی ھذا قال فی ردالمحتار عن الدرالمنتقی شرح الملتقی، ھذانوع ثالث یعنی لا عشریۃ ولا خراجیۃ من الاراضی تسمی ارض المملکۃ واراضی الحوز و ھو ما مات اربابہ بلا وارث واٰل لبیت المال او فتح عنوۃ ابقی للمسلمین الی یوم القیامۃ وحکمہ علی مافی التاتارخانیۃ انہ یجوز للامام دفعہ للزارع باحد طریقین اما باقامتھم مقام الملاک فی الزراعۃ واعطاء الخراج واما با جارتھا بقدرالخراج فیکون الماخوذ فی حق الامام خراجا وفی حق الاکرۃ اجرۃ لا غیر لا عشر ولاخراج اھ ۱؎با ختصار.
بعض اوقات زمین نہ شرعی ہوتی ہے اور نہ ہی خراجی، مثلاًہم نے زمین فتح کی اورتا قیامت اسے مسلمانوں کے لیے وقف رکھا یا اس زمین کے مالک فوت ہوگئے اور وُہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئی، اس میں نزاع ہے۔ ردالمحتار میں درالمنتقی شرح الملتقی سے ہے کہ یہ زمین کی تیسری نوع ہے یعنی نہ وُہ عشری ہے اور نہ وُہ خراجی زمینوں میں سے ہے، ایسی زمینوں کو ارض مملکت اور اراضی حوز کہا جاتا ہے، اور یہ ایسی زمینیں ہیں جن کے مالک بلا وارث فوت ہوجائیں اور وہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئے یا وہ زمین بطور غلبہ مفتوحہ ہو اور وُہ تا قیامت مسلمانوں کیلئے باقی رکھ دی ہو، تاتارخانیہ کے مطابق اس کا حکم یہ ہے کہ حاکمِ وقت اسے دو۲طریقوں میں سے کسی ایک کے مطابق زراعت کیلئے دے سکتا ہے یا زراعت اور خراج دینے میں مالکوں کے قائم مقام بنادے یا بقدرخراج اجارہ پردے دے اب اس زمین سے حاصل شدہ حاکم کے حق میں خراج اور کرایہ پر لینے والوں پر سوائے اجرت کے کچھ نہ ہوگا، تو ان پر نہ عشر ہے نہ خراج اھ اختصارا۔
(۱؎ ردالمحتار باب العشرو الخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۰)
و قال فی الدرالمختار المشتراۃ من بیت المال اذاوقفھا مشتریھا فلا عشر ولاخراج،شرنبلالیۃ معزیا للبحر،وکذالولم یوقفھا کما ذکرتہ فی شرح الملتقی اھ ۲؎
درمختار میں ہے کہ بیت المال سے خریدی ہُوئی زمین کو جب مشتری وقف کرتا ہے تو اب اس پر نہ عشر ہے اور نہ خراج، شرنبلالیہ بحوالہ بحراور اسی طرح اس وقت حکم ہے جب وقف نہ کرے جیسا کہ میں نے شرح المنتقی میں ذکر کیا ہے۔
(۲؎ درمختار باب العشرو الخراج والجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۴۸)
قال الشامی لم یذکرفی البحر، العشر وانما قال بعد ما حقق ان الخراج ارتفع عن اراضی مصر لعود ھا الی بیت المال بموت ملا کہا فاذااشتراھا انسان من الامام، ملکھا ولا خراج علیھا لان الامام قد اخذالبدل للمسلمین و تمامہ فی التحفۃ المرضیۃ اھ نعم ذکر العشرفی تلک الرسالۃ فقال انہ لایجب ایضا لانہ لم یر فیہ نقلا ۔
شامی کہتے ہیں کہ بحرمیں عشر کا ذکر نہیں، انہوں نے اس کی تحقیق کے بعد کہا کہ اراضی مصر کے مالک فوت ہونے اور ان کے بیت المال کی طرف لوٹنے کی وجہ سے خراج ختم ہوگیا، تو اب کوئی انسان امام سے ایسی زمین خریدتا ہے تو وہ مالک بن جائیگا اور خراج نہیں ہوگا کیونکہ امام نے اس کا بدل مسلمانوں کے لیے حاصل کر لیا ہے ، اس کی تفصیل تحفہ مرضیہ میں ہے اھ ہاں اس رسالہ میں عشر کا ذکر ہے کہ عشر بھی واجب نہیں کیونکہ اس میں نقل نہیں پائی گئی۔
قلت ولا یخفی مافیہ لانھم قد صرحوابان فرضیۃ العشرثابتۃ بالکتاب والسنۃ والاجماع والمعقول وبانہ یجب فیمالیس بعشری ولا خراجی کالمفاوز والجبال وبان الملک غیر شرط فیہ بل الشرط ملک الخارج ولان العشر یجب فی الخراج لا فی الارض فکان ملک الارض و عدمہ سواء کما فی البد ائع ولا یلزم من سقوط الخراج سقوط العشر علی انہ قد ینازع فی سقوط الخراج حیث کانت من ارض الخراج او سقیت بمائہ الخ۱؎ ملتقطا
میں کہتا ہوُں یہ محلِ نظر ہے کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ فرضیتِ عشر کتاب اﷲ، سنّت، اجماع اور قیاس سے ثابت ہے، اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ عشر اس زمین میں واجب ہے جو نہ عشری ہو اور نہ خراجی ، مثلاًجنگل او ر پہاڑ کی زمین، اور یہ بھی تصریح ہے کہ ملکیت اس پر شرط نہیں بلکہ زمین سے حاصل ہوئی چیز کی ملکیت شرط ہے اور اس لیے بھی کہ عشر حاصل شدہ میں لازم ہوتا ہے نہ کہ زمین میں، لہذا زمین کی ملکیت اور عدمِ ملکیت برابر ہے البدائع، سقوط خراج سے سقوط عشر لازم نہیں آتا، علاوہ ا زیں سقوطِ خراج میں بھی اختلاف ہے جبکہ وہ زمین خراجی ہو یا خراجی پانی سے سیراب ہو الخ اختصاراً۔
(۱؎ ردالمحتار باب العشرو الخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۷۹)
وبواقی المسائل معروضۃ فی الدرروغیرہ من الاسفار الغروارض الھند علی سعتھا لا یبعد ان یوجد فیھا تلک الصور کلھا اوجلھا فالمصیر الی التبین فای ارض ثبتت فیھا صورۃ اجری علیہا حکمھا من کونھا خراجیۃ او عشریۃ او لا ولا سبیل الی الجزم بحکم واحد من دون تحقیق وما یتوھم من ان القاسم بن محمد الثقفی افتتحھاعنوۃ سنۃ ثلث وتسعین ۲؎ کما فی الفتح والبنایۃ ولم یعلم قسمتھا بین المسلمین فوجب کیف وان قاسمالم یفتح منھاالا شیأنزر ایسیر ا من احدی نواحیھا مما یلی ملتان والافتتاح عنوۃ لاتستلزم الخراجیۃ کما علمت
باقی مسائل درمختار اور دیگر کتب میں معروف ہیں ۔ ہندوستان کی زمین نہایت وسیع ہے اس میں مذکورہ تمام صورتوں یا اکثر کا پایا جانا بعید نہیں لہذا یہ حکم لگانے کے لیے کہ یہ عشری ہے یا خراجی، یا نہ عشری ہے نہ خراجی۔ زمین کا تعیّن ضروری ہے کہ کون سی زمین کا معاملہ درپیش ہے ، تحقیق کے بغیر یقینی طور پر ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ا ور جو یہ وہم کیا گیا ہے کہ قاسم بن محمد الثقفی نے ۹۳ھ کو ہندوستان کی زمین بطورِ غلبہ حاصل کی تھی۔جیسا کہ فتح اور بنایہ میں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا خراجی ہو نا ضروری ہے، یہ وہم نہ کافی ہے اور نہ قوی، اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ قاسم نے بہت تھوڑا سا حصّہ فتح کیا تھا جو ہندوستان کے ایک گوشہ ملتان کے ساتھ متصل تھا ، اور بطور غلبہ حصول زمین اس کے خراجی ہونے کو مستلزم نہیں جیسا کہ آپ نے جان لیا ہے
(۲؎ فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰)
و کمالم یعلم قسمتھا بیننا کذٰلک لم یثبت المن بھا علی اھلہا فکیف یحکم با یجاب الخراج علی المسلمین مع عدم ثبوت موجبہ، الایمکن ان تکون الارض مما ابقی للمسلمین بل لعلہ الظاہرمن صنیع السلاطین فاذن لا تکون فی اصل الوضع عشریۃ ولا خراجیۃ وما کان منھا با یدی الناس یتملکونھا ویتوارثونھا، یحکم بانھا مملوکۃ لھم و یحمل علی ان منھا ما کان مواتاً فاحییت و منھا ما انتقل الیھم بوجہ صحیح من بیت المال وبعد ھذا لا تکون خراجیۃ قطعا لانھا لم تکن فی بدء امرھا منھا ولا یوضع الخراج علی مسلم بدأ تکون عشریۃ علی ما حققہ فی ردالمحتار وفارغۃ الوظیفتین فی الصورۃ الثانیۃ علی مافی التحفۃ المرضیۃ وغنیۃ ذوی الاحکام والدرالمختار،قال ابن عابدین عدم ملک الزراع غیر معلوم لنا الا فی القری و المزارع الموقوفۃ او المعلوم کونھا لبیت المال اما غیرھا فنراھم یتوارثو نھا جیلابعد جیل وفی الخیریۃ اذا ادعی واضع الید الذی تلقاھاشراء أوارثااو غیرھا من اسباب الملک انھا ملکہ فالقول لہ اوعلی من یخاصمہ فی الملک البرھان اھ۔ وقد قالوا ان وضع الید والتصرف من اقوی ما یستدل بہ علی الملک ولذا تصح الشھادۃ بانہ ملکہ ۔
تو جس طرح مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنا معلوم نہیں اسی طرح ان باشندوں کو بطور حسنِ سلوک دینا بھی تو ثابت نہیں، تو عدمِ ثبوت مقتضی کے باوجود مسلمانوں پر وجوب اخراج کا حکم کیسے لگایا جاسکتاہے البتہ ایسا ممکن بلکہ مسلمان سلاطین سے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے یہ زمین مسلمانوں کے لیے رکھی ہو تو اب اصل مصرف کے اعتبار سے نہ یہ عشری ہے اور نہ خراجی، اور جو زمین مسلمانوں کے قبضہ میں ہو وہی اس کے مالک ووارث ہوں تو وہاں اس زمین کو انہی کی مملوکہ کہا جائے گا اور یہی سمجھا جائے گا ان میں سے کچھ زمین ٖغیر آباد تھی اسے مسلمانوں نے آباد کرلیا اور کچھ انکی طرف بیت المال سے بطریق صحیح آئی، اس کے بعد تو وہ قطعاًخراجی نہ ہوگی کیونکہ ابتداءً وُہ خراجی نہیں ہوسکتی اورنہ ہی کسی مسلمان پر ابتداءً خراج لازم ہو سکتاہے اوروہ عشری ہوگی جیسا کہ اس کی تفصیل ردالمحتار میں ہے، اور وہ دوسری صورت میں دونوں وظیفوں(عشرو خراج)سے فارغ ہوگی جیساکہ تحفہ مرضیہ، غنیہ ذوی الاحکام اور درمختار میں ہے: ابن عابدین کہتے ہیں کہ ہمیں قرٰی اور وقف شدہ کھیتوں کے علاوہ عدم ملک زراع کا علم نہیں یا ہمیں معلوم ہے کہ یہ زمین بیت المال کی ہے،اس کے علاوہ زمین کے مسلمان ہر دور میں وارث بنتے اور خرید و فروخت کرتے چلے آرہے ہیں، خیر یہ میں ہے کہ قبضہ کرنے والا جب کوئی دعوٰی کرے کہ یہ زمین مجھے شراءً یا وراثۃًیا دیگر کسی سبب ملک کے ذریعے حاصل ہُوئی ہے تو وہ اس کی ملک ہوگی اور اسی کا قول معتبر ہوگا یا جو اس کے ساتھ ملکیت میں مخا صمت کرے اس پر دلیل کا لانا ہوگا اھ اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ قبضہ اور تصرف،ملکیت پر قوی دلیل بنتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے مالک ہونے پر شہادت دینا صحیح ہوتا ہے۔