Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
35 - 198
یہ شرعی حیلے نہیں تو اور کیا ہیں، باب حیل واسع ہے، اگر کلام کو وسعت دی جائے تطویل لازم آئے۔ اہلِ انصاف کواسی قدر بس ہے، پھر جب اﷲ و رسول اجازت دیں تعلمیں فرمائیں تو ابو یوسف پر کیا الزام آسکتا ہے،ہاں ہمارے امام اعظم و امام محمد رضی اﷲتعالیٰ عنہم نے یہ خیال فرمایا کہ کہیں اس کی تجویز عوام کے لیے مقصد شنیع کا دروازہ کھولے ، لہذا ممانعت فرمادی، اور ائمہ فتویٰ نے اسی منع ہی پر فتوٰی دیا، امام بخاری بھی اگر امام محمد کا ساتھ دیں اور یہ قول امام ابی یوسف پسند نہ کریں تو امام ابی یوسف کی شانِ جلیل کو کیا نقصان، وُہ کون سا مجتہد ہے جس کے بعض اقوال دوسروں کو مرضی نہ ہوئے ، یہ رَد وقبول تو زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے بلا نکیر رائج و معمول ہے، نہ بخاری کے اقوال مذکورہ میں کوئی کلمہ سخت نفرت کا ہے،اُن سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ یہ قول انھیں مختار نہیں، اور ہو بھی تو ان کی نفرت امامِ مجتہد کو کیا ضرر دے سکتی ہے خصوصاًائمہ حنفیہ لاسیما امام الائمہ امام اعظم رضی اﷲتعالےٰ عنہ وعنہم کہ امام بخاری کے امام و متبوع سیّد نا امام شافعی رضی اﷲتعالےٰ عنہ جن کی نسبت شہادت دیتے ہیں کہ تمام مجتہدین امام ابو حنیفہ کے بال بچّے ہیں ،حفظِ حدیث ونقدِ رجال و تنقیحِ صحت و ضعفِ روایات میں امام بخاری کا اپنے زمانے میں پایہ رفیع والا،صاحبِ رتبہ بالا ،مقبولِ معاصرین ومقتدائے متاخرین ہونا مسلّم۔ کتبِ حدیث میں  ان کی کتاب بیشک نہایت چیدہ و انتخاب جس کے تعالیق و متابعات و شواہد کو چھوڑ کر اصولِ مسانید پر نظر کیجئے تو ان میں گنجائش کلام تقریباً شاید ایسی ہی ملے جیسے مسائل ثانیہ امام اعظم میں ،اور یہ بھی بحمداﷲحنفیہ وشاگردان ابو حنیفہ وشاگردانِ شاگرد ابو حنیفہ مثل امام عبد اﷲبن المبارک و امام یحیٰی بن سعید قطان وامافضیل بن عیاض وامام مستعربن کرام وامام وکیع الجراح وامام لیث بن سعد وامام معلی بن منصور رازی وامام یحیٰی بن معین وغیرہم ائمہ دین رحمۃاﷲعلیہم اجمعین کا فیض تھا کہ امام بخاری نے اُن کے شاگردوں سے علم حاصل کیا اوراُن کے قدم پر قدم رکھا اور خود امام بخاری کے استاذ اجل امام احمد بن حنبل، امام شافعی کے شاگردہیں ،وہ امام محمد کے،وہ امام ابویوسف کے ،وہ امام ابو حنیفہ کے،رضی اﷲتعالیٰ عنہم اجمعین، مگر یہ کارِ اہم ایسا نہ تھا کہ امام بخاری اس میں ہمہ تن مستغرق ہوکر دوسرے کا ر اجل و اعظم یعنی فقاہت و اجتہاد کی بھی فرصت پاتے، اﷲ عزو جل نے انھیں خدمت الفاظ کریمہ کے لیے بنا یا تھا،خدمتِ معانی ائمہ مجتہدین خصوصاً امام الائمہ ابوحنیفہ کا حصّہ تھا۔ محدّث و مجتہد کی نسبت عطّا ر و طبیب کی مثل ہے، عطّاردواشناس ہے اُس کی دُکان عمدہ عمدہ دواؤں سے مالامال ہے مگر تشخیصِ مرض و معرفتِ علاج و فریقِ استعمال طبیب کاکام ہے، عطار کامل اگرطبیب حادق کے مدارکِ عالیہ تک نہ پہنچے معذور ہے خصو صاً ملک اطبائے حذّاق امام ائمہ آفاق جو ثریا سے علم لے آیا، جس کی دقتِ مقاصد کو اکابر ائمہ نے نہ پایا، بھلا امام بخاری تو نہ تابعین سے ہیں نہ تبع تابعین سے، امام اعظم کے پانچویں درجے میں جاکر شاگرد ہیں، خود حضرت امام اجل سلیمٰن اعمش کہ اجلہ تابعین و امام ائمہ محدثین سے ہیں حضرت سیّد نا انس بن مالک انصاری رضی اﷲتعالیٰ عنہ خادمِ رسول اﷲصلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالیٰ کے استاد، ان سے کچھ مسائل کسی نے پُوچھے اس وقت امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے امام اعمش نے ہمارے امام سے فتوٰی لیا، ہمارے امام نے سب مسائل کا فوراً جواب دیا، اعمش نے کہا یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے؟فرمایا ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ سے سُنیں اور وُہ احادیث مع اسانید پڑھ کر بتادیں، امام اعمش نے کہا:
حسبک ماحد ثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ، ماعلمت انک تعمل بھذہ الاحادیث،یا معشرالفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھا الرجل بکلاالطرفین۔۱؎
یعنی بس کیجئے میں نے جو حدیثیں سَو دن میں بیان کِیں آپ نے گھڑی بھر میں مجھے سنا دیں، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ احادیث میں یہ کام کرتے ہیں اے مجتہد!تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار۔ اور اے ابوحنیفہ!تم نے دونوں کنارے گھیر لیے۔
  (۱؎ الخیرات الحسان الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث    ایم ایچ سعید کمپنی کراچی      ص ۱۴۴)
یہ روایت امام ابنِ حجر مکّی شافعی وغیرہ ائمہ شافعیہ وغیرہم نے اپنی تصانیف خیرات الحسان وغیرہا میں بیان فرمائی، یہ تو یہ خود ان سے بدرجہا اجل واعظم ان کے استاذاکرم و اقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانسو صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم کو پایا حضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوہریرہ و انس بن مالک و عبد اﷲ بن عمر و عبد اﷲبن عباس و عبداﷲبن زبیر و عمران بن حصین و جریر بن عبداﷲ ومغیرہ بن شعبہ و عدی بن حاتم و امام حسن و امام حسین وغیرہم بکثرت اصحابِ کرام رسول اﷲصلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالیٰ کے استاذ جن کا پایہ رفیع، حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس۲۰ سال گزرے ہیں کسی محدّث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس محدث سے زائد نہ ہو۔ ایسے مقام والا مقام با آں جلالتِ شان فرماتے ہیں:
انالسنابا لفقھاء ولکنا سمعنا الحدیث فروینا للفقھاء من اذا علم عمل۔ ۱؎ نقلہ الزین فی تذکرۃ الحفاظ۔
ہم لوگ فقیہ و مجتہد نہیں ہم نے تو حدیثیں سُن کر فقیہوں کے آگے روایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہوکر کارروائی کرینگے۔ (اسے شیخ زین نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ تذکرۃ الحفّاظ ترجمہ ۷۷ الشعبی علامتہ التابعین   دائرۃالمعارف النظامیہ حیدر آباد دکن    ۱ /۷۹)
کاش امامِ اجل سیّد نا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری اگر فرصت پاتے اور زیادہ نہیں دس بارہ برس امام حفص کبیر بخاری وغیرہ ائمہ حنفیہ رحمہم اﷲتعالےٰ سے فقہ حاصل فرماتے تو امام ابو حنیفہ کے اقوال شریفہ کی جلالتِ شان و عظمتِ مکان سے آگاہ ہوجاتے، امام ابو جعفر طحاوی حنفی کی طرح ائمہ محدثین و ائمہ فقہاء دونوں کے شمار میں یکساں آتے مگر تقسیمِ ازل جو حصّہ دے ؎
  ہر کسے را بہر کارے ساختند                میل او اندر دلش انداختند
 (جس کو کسی کام کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے اس کام کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں )

اور انصافاً یہ تمنّا بھی عبث ہے، امام بخاری ایسے ہوتے تو امام بخاری ہی نہ ہوتے، ان ظاہر بینوں کے یہاں وُہ بھی ائمہ حنفیہ کی طرح معتوب و معیوب قرار پاتے
فالی اﷲالمشتکی وعلیہ التکان
 (اﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں ہی درخواست ہے اور اسی پر بھروساہے۔ت)
بالجملہ ہم اہلِ حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضور پُر نور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو حضور پُر نور امیر المومنین مولی المسلمین سید نا ومولٰنا علی المرتضیٰ کرم اﷲتعالیٰ وجہہ الاسنی سے کہ فرقِ مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کارِ فجّار، جو معاویہ کی حمایت میں عیاذباﷲاسد اﷲ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ نا صبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحا بیت و نسبت بارگاہِ حضرت رسالت بُھلادے وہ شیعی زیدی، یہی روشِ آداب بحمد اﷲتعالےٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے،یہی نسبت ہمارے نزدیک امام ابن الجوزی کو حضور سیّد نا غوثِ اعظم اور مولانا علی قاری کو حضرت خاتمِ ولایت محمد یہ شیخِ اکبر سے ہے، نہ ہم بخاری و ابن جوزی و علی قاری کے اعتراضوں سے شان رفیع امامِ اعظم و غوثِ اعظم و شیخ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہم پر کچھ اثر سمجھیں نہ ان حضرات سے کہ بوجہ خطا فی الفہم معترض ہوئے الجھیں، ہم جانتے ہیں کہ ان کا منشاءِ اعتراض بھی نفسانیت نہ تھا بلکہ ان اکابر محبوبان خدا کے مدارک عالیہ تک درس ادراک نہ پہنچنا لاجرم اعتراض باطل اور معترض معذور، اور معترض علیہم کی شان ارفع و اقدس،
والحمد ﷲرب العالمین والصّلٰوۃ والسلام علیٰ سید المرسلین محمد واٰلہٖ وصحبہٖ واولیا ئہٖ وعلمائہٖ واھلہٖ وحزبہٖ اجمعین،اٰمین، واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۸۰ :از مرزا پور بنگلہ نابالغ         مرسلہ شجاعت حسین بیگ صاحب بریلوی

بنظر اشرف عالم المعی فاضل لوذعی مجدّد مائۃ حاضرہ جناب مفتی صاحب  زاد اﷲ فیوضہ، بعد سلام مسنون گزارش ہے مُجھ پر عرصہ قرض تھا، یکم رمضان ۱۳۳۸ھ کو اپنی دکان بیع کرکے قرضہ دے دیا، بے حدو  بے شمار شکر ہے کہ اُس نے مجھے اُس بارِ عظیم سے اپنے فضل و کرم سے سبکدوش فرمایا، بعد ادائے کل قرضہ دوہزار دوسو پچانوے زائد علی الاحتیاج باقی رہے، دُوسری ماہِ مبارک کو با متثالِ رب عزوجل قبل گزرنے حولانِ حول کے ؎ روپے علیحدہ کردئے ؎ باقی رہے اُن ؎ ؎ روپے کی زکوٰۃ بحکم شریعتِ مطہرہ ؎ ہُوئے بقیہ ؎ میں ایک کا اضافہ کرکے ؎ بہ نیت زکوٰۃ علیحدہ کردئے، یہ طریقہ بحکمِ شریعتِ مطہرہ صحیح ہوا یا نہیں؟ ۲۳ رمضان تک میں بریلی رہا جب تک زرِ زکوٰۃ طلباء و فقراء کو دیتا رہا ؎ باقی تھے کہ مجھے بضرورت ۲۴ کو مرزا پور آنا پڑا، اب یہاں یہ بقیہ اہل حاجت کو دیا جائے تو خلافِ حکمِ شرعی تو نہ ہوگا؟ میرے ایک سالے ہیں جو کٹرہ میران پور ضلع تلہر میں منسوب ہیں قلیل آمدنی ہے اور کثیر اولاد ہیں اگر اُن کو کچھ بھیجا جائے تو صلہ رحم بھی ہوگا مگر یہ ارشاد ہو کہ جس قدر ان کو بذریعہ ڈاک روانہ کیا جائے، مثلاً پانچ روپے بھیجے اور ڈاک کی فیس ایک آنہ یا دو آنے ہُوئی تو یہ پیسے انھیں ص؂ سے دئے جائیں یا علیحدہ اپنے پاس سے۔
الجواب :وعلیکم السلام ورحمۃاﷲ و برکاتہ، جس دن تاریخ وقت پر آدمی صاحبِ نصاب ہُوا جب تک نصاب رہے وہی دن تاریخ وقت جب آئے گا اُسی منٹ حولانِ حول ہوگا اس بیچ میں جو اوررو پیہ ملے گااُسے بھی اسی سال میں شامل کرلیا جائے گا اور اسی حولان کو اُس کا حولان مانا جائے گا اگر چہ اسے ملے ہوئے ابھی ایک ہی منٹ ہُوا، حولانِ حول کے بعد ادائے زکوٰۃ میں اصلاًتا خیر جائز نہیں، جتنی دیر لگائے گا گنہ گار ہوگا، ہاں پیشگی دینے میں اختیار ہے کہ بتدریج دیتا رہے سال تمام پر حساب کرے اس وقت جو واجب نکلے اگر پُورا دے چکا بہتر، اور کم ہوگیاہے تو باقی فوراً اب دے، اور زیادہ پہنچ گیا تو اُسے آئندہ سال میں مُجرا لے۔ آپ پر حولانِ حول جس دن تاریخ وقت پر ہوتا ہے اُسے اس بیچ میں جو یہ روپے ملے سب زکوٰۃ میں شامل کیے جائیں گے وہ چھپن بھی جو بہ نیت زکوٰۃ علیحدہ رکھے، اور ان سب کو ملا کر ۱/۴۰لیں گے، ہاں اسے پہلے نصاب نہ ہوتا تو جس وقت یہ روپے ملے اُسی وقت سے شروع سال لیتے اور اس وقت آپ نے ؎ ادا کیے یا بیش و کم کا اعتبار نہ ہوتا سال تمام پرد یکھیے کہ کیا باقی ہے اتنے کی زکوٰۃ کا مطالبہ ہوتا  وہ مطالبہ ؎ نکلتا یا بیش و کم، بقیہ زکوٰۃ وہاں کے مساکین کو دیجئے حرج نہیں سالے سے اگر نسبی رشتہ نہیں تو رحم میں شامل نہیں، دوسرے شہر کو وُہ زکوٰۃ بھیج سکتے ہیں جو ابھی واجب الادا نہ ہُوئی، حولانِ حول نہ ہوا ، اس کے بعد نہیں، جتنا روپیہ زکوٰۃ گیر ندہ کو ملے گا اتنا زکوٰۃ میں محسوب ہوگا، بھیجنے کی اُجرت وغیرہ اس پر جو خرچ ہو شامل نہ کی جائے گی۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۸۱ تا ۸۲:(۱)اگر زمیندار زمین بٹائی پر جتوائے یا کاشتکار دیگر کاشت کار سے کاشت کرائے اور نصف پیداوار کے مستحق ہوں تو دونوں پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟(۲)فصل ربیع میں جس کھیت کو پانی نہ دیا اس کا دسواں حصّہ، پانی دئے ہوئے کا بیسواں اور فصل خریف میں دسواں کیوں کہ بارش کے پانی سے پیدائش ہے، یُونہی صحیح ہے؟
الجواب : (۱)صاحبین کامذہب یہ ہے کہ عشرصرف کاشتکار پر ہے اس پر فتوٰی دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان ملکوں میں جہاں اُجرت میں نقدی ٹھہری ہوتی ہے وہاں اسی پر فتوٰ ی ہونا چاہئے اور بٹائی مین حسبِ قولِ امام فقط زمیندار پر ہے۔ (۲)جسے بارش یانہر یا تالاب کا پانی دیا گیا اُس میں دسواں حصّہ ہے ،اورجسے چرسے یا ڈھکلی سے پانی دیا گیا اس میں بیسواں حصّہ اور جسے مول کا پانی دیا گیا اس میں بھی بیسواں حصّہ چاہئے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۸۳: از سر نیاں ضلع بریلی     مرسلہ امیر علی صاحب قادری         ۲رجب ۱۳۳۱ھ 

زید دریافت کرتا ہے کہ کاشت کار نے زکٰوۃ کی پیداوار میں سے  دسواں حصہ بلا پانی دیا ہوا اور بیسواں حصہ پانی دئے ہوئے  میں سے  دیا اگر کا شت کا ر کے بعد سال تمام کے اسی پیداوار میں سے جس کی زکٰوۃ دسواں یا بیسواں حصہ دے چکا تھا ،بچ رہے تو زکٰوۃ چالیسواں حصہ دینا ہوگا کہ نہیں؟
الجواب :کھیت کی پیداوار پر زکوٰۃ نہیں، وہی عشر ہے ، اس کے سوا سال تمام پر اور کوئی زکوٰۃ نہیں آتی، زکوٰۃ صرف تین۳ مالوں پرہے:سونا چاندی یا وہ مال جو تجارت کی نیّت سے خریدا یا جنگل میں چرتے ہُو ئےجانور۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۸۴ :از درؤ ضلع نینی تال ڈاکخانہ کچھار مرسلہ عبدالعزیز خاں     ۶ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

زمین نہر ی عشری ہے یا خراجی؟ اور جو روپے کہ انگریز زمینداروں سے بطورِ قسط ہیں وُہ محسوب زکوٰۃ عشر یا خراج؟بینواتوجروا۔
الجواب :زمین بہت صورتوں میں عشری ہوتی ہے بہت میں خراجی، بعض میں نہ عشری نہ خراجی، جن کی تفصیل کتبِ فقہ باب العشر و الخروج میں مذکورہند وستان کہ ایک ملک وسیع ہے اس کی مختلف زمینوں میں غالباً وُہ سب یا اکثر صور متحقق، تو اس کی زمین کو نہ مطلقاً عشری کہہ سکتے ہیں نہ مطلقاً خراجی، عشر و خراج جو محاصل شرعیہ کے اقسام ہیں جن کے لیے شرع مطہر نے اصول و ضوابط و مواقع و مقادیر کی تقدیر فرمائی، انگریز اپنی قسطیں لینے میں اُس اصول کے پا بند نہیں بلکہ اُن کا قانون مالگزاری جُدا ہے کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ت)
Flag Counter