سادساً:مجرد استقباح و استبعاد بے دلیل شرعی مسموع نہیں، نہ احکام زہد احکامِ شرع پر حاکم نماز میں قلّتِ خشوع کو اہلِ سلوک کیا کیا سخت و شنیع مذمتیں نہیں کرتے، ایسی نماز کو باطل و مہمل و فاسد و مختل سمجھتے ہیں۔ اور فقہاء کااجماع ہے کہ خشوع نہ رکنِ نماز ہے نہ فرض نہ شرط، مانحن فیہ کا محلِ اجتہاد نہ ہونا مخالف نے نہ بتایا نہ قیامت تک بتاسکتا ہے ، پھر اجتہاد مجتہد پر طعن کیا معنی رہا، فعل اگر بفرضِ غلط ایک آدھ باروقوع بسندِ معتمد ثابت بھی ہوجائے تو کرنے اور کیا کرنے میں زمین آسمان کابل ہے، نہ کان یفعل تکرار میں نص،
(جیسا کہ ہم نے اس بات کو اپنے رسالہً التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل''میں بیان کیاہے۔ت) واقعہ حال محتمل صدا حتمال ہوتا ہے عروض ضرورت یا امراہم یا کُچھ نہ سہی تو بیان جواز ہی کہ فعلاً قولاً سے اکمل واتم اور (یہ اُن کی فقہ سے ہے ) تصویب نہیں، اس کے معنی اس قدر کہ یہ اُنکا اجتہاد ہے جس کا حاصل صرف منع طعن ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد پرملام نہیں، جس طرح حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے عکرمہ کو جب اُنھوں نے امیر معاویہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی شکایت کی کہ وتر کی ایک رکعت پڑھی،جواب دیا دعہ ف فانہ فقیہ ۱؎انھیں کچھ نہ کہہ کہ وہ مجتہد ہیں رواہ البخاری(اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ت) .
ف: بخاری کے مقام مذکور پر دوحدیثیں منقول ہیں ایک کے الفاظ یہ ہیں
دعہ فانہ صحب رسول اﷲصلے اﷲعلیہ وسلم
اور دوسری کے الفاظ یوں
قال اصاب انہ فقیہ۔
اعلٰحضرت علیہ الرحمۃ نے دونوں حدیثوں کا اختیار نقل کیا ہے۔ نذیر احمد )
ہاں دربارہ تصویب وتصدیق یہ حکایت کُتب میں منقول ہے کہ امام زین الملّۃ والدّین ابوبکر خواب میں زیارتِ اقدسِ حضورسیّدِ عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہُوئے کسی شافعی المذہب نے امام ابویوسف کا یہ قول حضور کے سامنے عرض کیا، حضورِاقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ابویوسف کی تجویز حق ہے، یا فر مایا درست ہے۔ شرح نقایہ میں ہے:
وقد ایدہ ما صح عندنا ان افضل العلماء فی زمانہ واکمل العرفاء فی اوانہ زین الملۃ والدین ابوبکر التائبادی قدرأی فی المنام ان شافعی المذہب قال فی مجلس النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ان ابا یوسف جوزحیلۃ فی اسقاط الزکوٰۃ فقال صلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ان ماجوزہ ابویُوسف حق اوصدق۔ ۱؎
اس کی تائید وُہ واقعہ کرتا ہے جو ہمارے نزدیک صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ اپنے وقت کے افضل العلماء اکمل العرفاء ، زین الملّت والدّین ابوبکر التائبادی نے خواب میں دیکھا کہ شافعی المذہب شخص نے مجلسِ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم میں عرض کیا کہ ابو یوسف نے اسقاطِ زکوٰۃ میں حیلہ کو جائز رکھا ہے تو آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ابویوسف نے جو تجویز کیا ہے وہ حق یا درست ہے (ت)
( ۱؎شرح نقایہ)
سابعاً :بعد وجوب،منع کا حیلہ بالا جماع حرام قطعی ہے، یہاں کلام منع وجوب میں ہے یعنی وُہ تدبیرکرنی کہ ابتداً زکوٰۃ واجب ہی نہ ہو۔ اما م ابو یوسف فرماتے ہیں اس میں کون سے حکم کی نافرمانی ہوئی،اﷲعزوجلّ نے سال تمام ہونے پر زکوٰۃ فرض کی جو بعد وجوب ادانہ کرے بالاجماع عاصی ہے، یہ کہاں فرض کیا ہے کہ اپنے مال پر سال گزر بھی جانے دو ،جس طرح یہ فرض فرمایا ہے کہ جو زادوراحلہ و قدرت رکھتا ہو حج کرے یہ کب فرض کیا ہے کہ زادوراحلہ واستطاعت کے قابل مال جمع بھی کر، یونہی ہر گز واجب کیا مستحب بھی نہیں کہ قدر نصاب مال جوڑ کر سال بھر رکھ چھوڑو تاکہ زکوٰۃ واجب ہو، ائمہ دین کو تعلیم غل کی طرف منسوب کرنا بد گمانی ہے جو عوام مسلمین پر بھی جائز نہیں، اور حق یہ ہے کہ امامِ ممدوح کا یہ قول بھی اس لیے نہیں کہ لوگ اسے دستاویز بنا کر زکوٰۃ سے بچیں بلکہ وہ وقتِ ضرورت و حاجت پر محمول ہے، مثلاًکسی پر حج فرض ہوگیا تھا، مال چوری ہوگیا، مصارفِ حج ونفقۃ عیالی کے لیے ہزار درہم کی ضرورت ہے اس سے کم میں نہ ہوگا محنت و کوشش سے جمع کئے، آج قافلہ جائے کو ہے کل سالِ زکوٰۃ تمام ہوگا، اگر پچیس درہم نکل جائیں گے مصارف میں کمی پڑے گی، یہ ایسا حیلہ کرے کہ حجِ فرض سے محروم نہ رہے، یا کوئی شخص اپنے حال کو جانتا ہے کہ زکوٰۃ اُس سے ہرگز ہر گز قطعاًنہ دی جائے گی، اُس کا نفس ایسا غالب ہے کہ کسی طرح اس فرض کی ادا پر اصلاً قدرت نہ دے گا، یہ اس خیال سے ایسا کرے کہ بعد فرضیّت ترک ادا وارتکابِ گناہ سے بچوں تو
ازقبیل من ابتلی ببلتیین اختارا ھو نھما
(جو شخص دو مشکلات میں گِھر جائے ان میں سے آسان کو اختیار کرے۔ت)ہوگا۔ سراجیہ میں ہے:
اذا ارادان یحتال لامتناع وجوب الزکوٰۃ لما انہ خاف ان لا یؤدی فیقع فی المأثم فا لسبیل ان یھب النصاب قبل تمام الحول من یثق بہ ویسلمہ الیہ ثم یستوھبہ۔۱؎
جب کوئی امتناعِ وجوب زکوٰۃ کے لیے حیلہ کرتا ہے کہ وُہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو گناہگار ہوگا، تو اس کے لیے راستہ یہ ہے کہ سال گزرنے سے پہلے نصاب کسی باعتماد آدمی کے حوالے کردے پھر اس سے بطور ہبہ واپس لے لے۔ (ت)
دیکھو تصریح ہے کہ یہ حیلہ گناہ سے بچنے کے لیے، نہ کہ معاذاﷲگناہ میں پڑنے کے واسطے۔ حیلِ شرعیہ کا جواز خود قرآن واحادیثِ سیّد المرسلین صلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے، ایّوب علیہ الصلوٰۃ و السّلام نے قسم کھائی تھی کہ اپنی زوجہ مقدّسہ کو سو۱۰۰ کوڑے ماریں گے، رب العزت عز جلالہ نے فرمایا:
وخذ بیدک ضغثاً فاضرب بہ ولا تحنث۔ ۲؎
یعنی سَو قمچیوں کی ایک جھاڑو بنا کر اُس سے ایک دفعہ مارلو اور قسم جُھوٹی نہ کرو۔
(۲؎ القرآن ۳۸ /۴۴)
حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کمزور شخص پر حد لگانے میں اسی حیلہ جمیلہ پر عمل فرمایا ارشاد ہوا:
خذوالہ عثکالا فیہ مائۃ شمراخ ثم اضربوہ بہ ضربۃ واحدۃ۔۳؎رواہ احمد وابن ماجۃ وابو داؤد و بمعناہ البغوی فی شرح السنۃ الاولان عن ابی امامۃ بن سھل عن سعید بن سعد بن عبادۃ والثالث عن ابی امامۃ بن سھل عن بعض الصحابۃ من الانصار والرابع عن سعید بن سعد بن عبادۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ اتی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم برجل، الحدیث ،۴؎
شاخہائے خرما کا ایک گچّھا لے کر جس میں سوشاخیں ہوں اُس سے ایک بار مار دو(اسے امام احمد، ابن ماجہ،ِ ابوداؤد نے' اور معناً بغوی نے شرح السنۃ میں روایت کیا ہے، پہلے دونوں محدثین نے حضرت ابو امامہ بن سہل اور انہوں نے سعید بن سعد بن عبادہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اور تیسرے نے حضرت امامہ بن سہل سے ، انہوں نے ایک انصاری صحابی سے روایت کی ہے، اور چوتھے نے حضرت سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت کیا کہ نبی پاک صلی اﷲتعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمتِ ا قدس میں ایک شخص کو لایا گیا، الحدیث.
(۳؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث سعید بن سعد بن عبادہ رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۵ /۲۲۲)
(۴؎ شرح السنۃ باب حد المریض حدیث ۲۵۹۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱۰ /۳۰۳)
ھذا حدیث حسن الاسناد ورواہ الرؤیانی فی مسندہ فقال حدثنا محمد بن المثنی نا عثمٰن بن عمر نا فلیح عن سھل بن سعد ان ولیدۃ فی عھد رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ وسلم حملت من الزنا، فسئلت من احبلک؟ فقالت احبلنی المقعد، فسئل عن ذٰلک فاعترف فقال النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم انہ لضعیف عن الجلد فامربما ئۃعثکول فضربہ بھا ضربۃ واحدۃ اھ۱؎ ھٰکذا وقع فیمارأیت انما المعروف ابن سہل سعید بن سعد وفی اخری لابن ماجۃ عن ابن سہل عن سعد بن عبادۃ۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اسے رؤیانی نے اپنی سند یُوں روایت کیا کہ ہمیں محمد بن مثنیٰ نے انھیں عثمان بن عمر نے انھیں فلیح نے حضرت سہل بن سعد سے بیان کیا کہ ایک لڑکی حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں زنا سے حاملہ ہوگئی، پوچھا گیا یہ حمل کس کا ہے؟ اس نے کہا یہ اس لُولے کا ہے، پُوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ کمزور ہے سَو کوڑوں کی سزا نہیں جھیل سکتا ، لہذا آپ نے سَو شاخوں والے خُرما کی شاخ سے اسے ایک ضرب لگوائی اھ دیکھا تو میں نے، یہی ہے مگر معروف ابن سہل سعید بن سعد ہیں، اور ابن ماجہ کی دوسری روایت میں ابن سہل نے حضرت سعد بن عبادہ سے بیان کیا ہے۔ اﷲتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے(ت)
(۱؎ مسندالرؤیانی حدیث نمبر ۱۰۵۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ص/۱۳۸ )
( کنز العمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۱۳۵۰۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ /۴۲۶ )
خود صحیح بخاری شریف بلکہ صحیحین میں حضرت ابو سعید و حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے ہے رسول ا ﷲ صلے اﷲتعالےٰ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو خیبر پر عامل بنا کر بھیجا، وُہ عمدہ خرمے وہاں سے لائے، فرمایا: کیا خیبر کے سب خُرمے ایسے ہی ہیں؟نہیں یا رسول اﷲ! واﷲکہ ہم چھ سیر خُرموں کے بدلے یہ خرمے تین سیر ، اور نو سیر دے کر اس کے چھ سیر خریدتے ہیں۔ فرمایا:
لاتفعل بع الجمع بالدراھم ثم ابتع بالدراھم جینباً۔۲؎
ایسا نہ کرو بلکہ ناقص یا پچمیل خرمے پہلے روپوں کے عوض بیچو پھر ان روپوں سے یہ عمدہ خرمے خریدو۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب اذاارادبیع تمر بتمر خیر منہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۹۳)
اور ہر موزوں کے بارے میں یہی حکم فرمایا، نیز صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے۔ بلال رضی اﷲتعایٰ عنہ کہ برنی چھوہارے کے عمدہ قسم ہیں خدمتِ اقدسِ حضور سیّد عالم صلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر لائے ، فرمایا : یہ کہاں سے آئے ہیں؟ عرض کی : ہمارے پاس ناقص چھوہارے تھے اُن کے چھ سیردے کر یہ تین سیر لیے ، فرمایا: