Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
33 - 198
امام الائمہ سراج الامہ حضرت سیّد نا امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا مذہب بھی یہی مذہبِ امام محمد ہے کہ ایسا فعل ممنوع و بد ہے۔غمزالعیون میں تاتارخانیہ سے ہے:
کان ممنوع مکروھا عند الامام و محمد۔۴؎
یہ( حیلہ ) امام اعظم اور امام محمد دونوں کے نزدیک مکروہ ہے۔(ت)
 (۴؎ غمز عیون البصائر        الفن الخامس من الاشباہ والنظائر وہوفن الحیل    ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی        ۲ /۲۹۲)
تو امام کے طرف وُہ نسبت تصویب کہ انہوں نے فرمایا (ابو یوسف نے درست فرمایا)خود مذہبِ امام کے صریح خلاف ہے ۔ 

ثالثاً: بلکہ خزانۃالمفتین میں فتاوٰی کبرٰی سے ہے:
الحیلۃ فی ابطال الشفعۃ بعد ثبوتھا یکرہ لانہ ابطال لحق واجب واما قبل الثبوت فلا باس بہ وھو المختار والحیلۃ فی منع وجوب الزکوٰۃ تکرہ بالاجماع۔۱؎
ثبوت کے بعد ابطال شفعہ کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حق واجب کو باطل کرنا ہے لیکن ثبوت سے پہلے حیلہ میں کوئی حرج نہیں اوریہی مختار ہے اور وجوب زکوٰۃ میں رکاوٹ کے لیے حیلہ کرنا بالاجماع مکروہ ہے۔(ت)
( ۱؎ خزانۃ المفتین)
یہاں سے ثابت کہ ہمارے تمام ائمہ کا اس کے عدمِ جواز پر اجماع ہے، حضرت امام ابو یوسف بھی مکروہ رکھتے ہیں ممنوع و ناجائز جانتے ہیں کہ مطلق کراہت کراہتِ تحریم کے لیے ہے خصوصاً نقل اجماع کہ یہاں ہمارے سب ائمہ کا مذہب متحد بتارہی ہے اور شک نہیں کہ مذہبِ امام اعظم و امام محمد اس حیلہ کا ناجائز ہوناہے، غمزالعیون کے لفظ سُن چُکے کہ صاف عدمِ جواز کی تصریح ہے اقول اگر بتظافر نقولِ خلاف ،بغرض توفیق اس روایت اجماع میں کراہت کو معنی اعم پر حمل کریں،
فربما تجئی کذا کقولھم فی الصلٰوۃ کرہ کذاوکذاوارادوابہ المکروھات من القسمین۔
تو کبھی یوں بھی آتا ہے جیسا کہ فقہاء کا نماز کے باب میں کہنا کہ فلاں فلاں چیز مکروہ ہے اور مکروہات کی دونوں قسموں کو مراد لیتے ہیں(ت) تو حاصل یہ ہوگا کہ اس حیلہ کے مکروہ و نا پسند ہونے پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے، خلاف اس میں ہے کہ امام ابو یوسف مکروہِ تنزیہی فرماتے ہیں اور امام اعظم و امام محمد مکروہِ تحریمی۔ اور فقیر نے بچشمِ خود امام ابی یوسف رضی اﷲ عنہ کی متواتر کتاب مستطاب الخراج میں یہ عبارت شریفہ مطالعہ کی (مطبع میری بولاق مصر صفحہ۴۵):
قال ابو یوسف رحمہ اﷲلا یحل لرجل یؤمن باﷲوالیوم الاٰخر منع الصدقۃ و لااخرا جھا من ملکہ الی ملک جماعۃ غیرہ لیفرقھا بذٰلٰک فتبطل الصدقۃ عنھا بان یصیر لکل واحد منھم من الابل والبقر والغنم مالا یجب فیہ الصدقۃ ولایحتال فی ابطال الصدقۃ بوجہ ولا سبب بلغنا عن ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ انہ قال مامانع الزکوٰۃ بمسلم ومن لم یؤدھا فلا صلوٰۃ لہ۔۱؎
یعنی امام ابُو یُوسف فرماتے ہیں کسی شخص کو جو اﷲو قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ زکوٰۃ نہ دے یا اپنی ملک سے دوسروں کی ملک میں دے دے جس سے ملک متفرق ہوجائے اور زکوٰۃ لازم نہ آئے کہ اب ہر ایک کے پاس نصاب سے کم ہے اور کسی طرح کسی صورت ابطالِ زکوٰۃ کا حیلہ نہ کرے، ہم کو ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے حدیث پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا زکوٰۃ نہ دینے والامسلمان نہیں رہتا، اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز مردود ہے۔
 (۱؎کتاب الخراج         باب فی الزیادۃ والنقصان الخ        مطبعہ بولاق مصر         ص ۸۶)
فتاوٰی کبرٰی و خزانۃالمفتین کی نقلِ اجماع عبارتِ اطلاق کی تائید کررہی ہے اور اس کا اطلاق اُس اجماع کی، امام ابویوسف نے یہ کتاب مستطاب خلیفہ ہارون کے لیے تصنیف فرمائی ہے جبکہ امام خلافت ہارونی میں قاضی القضاۃ و قاضی الشرق والغرب تھے اُس میں کمال اعلانِ حق کے ساتھ خلیفہ کو وُہ ہدایات فرمائی ہیں جو ایک اعلیٰ درجے کے امام ربّانی کے شایان ِشان تھیں کہ اﷲکے معاملے میں سُلطان و خلیفہ کسی کا خوف و لحاظ نہ کرے اور خلیفہ رحمہ اﷲتعالےٰ نے ان ہدایات کو اسی طرح سنا ہے جو ایک خدا پرست سلطان و امیر المومنین کے لائق ہے کہ نصائحِ ائمہ و علماء اگر چہ بظاہر تلخ ہوں گوشِ قبول سے سُنے اور اُن کے حجور فروتنی کرے،یہ زمانہ امام کا آخر زمانہ تھا، حاضرین مجلس مبارک سیّد نا امام اعظم یا اُس کے بعد کا قریب زمانہ جس میں خلافیاتِ ائمہ ثلٰثہ منقول ہُوئی ہیں، اس سے متقدم تھا، تواس تقدیر پر نقل اجماع کوظاہر سے پھیرنے کی حاجت نہیں، تطبیق یُوں ہوگی کہ امام ابی یوسف رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے اس قول سے رجوع فرمایا اور اُن کا آخر قول یہی ٹھہرا جو ان کے استاذ اعظم امام الائمہ اورشاگرد اکبر امام محمد کا ہے رضی اﷲتعالےٰ عنہم اجمعین، او ر ایک امام دین جب ایک قول سے رجوع فرمائے تو اب وہ اس کا قول نہ رہا ، نہ اس پر طعن روا، نہ سیّد نا عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما پر طعن کیا کہ وُہ ابتدا ء میں جوازِ متعہ مدتوں قائل رہے ہیں یہاں تک کہ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے اپنے زمانہ خلافت میں اُن سے فرمایا کہ اپنے ہی اُوپر آز مادیکھئے، اگر متعہ کروتو میں سنگسار کروں، آخر زمانہ میں اس سے رجوع کیا اور فرمایا: اﷲعزوجل نے زوجہ و کنیز شرعی بس ان دو کو حلال فرمایا ہے
فکل فرج سواھما حرام ۲؎
ان دو۲ کے سوا جو فرج ہے حرام ہے ،رواہ الترمذی (اسے ترمذی نے روایت کیا۔ت)
(۲؎ جامع الترمذی   ابواب النکاح باب ماجاء فی نکاح المتعۃ  امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۱۳۴)
زید بن ارقم رضی اﷲتعالیٰ عنہ پر طعن کیا جائے کہ وُہ پہلے سُود کی بعض صُورتیں حلال بتا تے ہیں یہاں تک امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ زید کو خبر دے دو کہ اگر وہ اس قول سے باز نہ آئے تو انہوں نے جو حج و جہاد رسول اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب کِیا اﷲتعالےٰ اسے باطل فرمادے گا۔۳؎ رواہ الدارقطنی (اسے دار قطنی نے روایت کیا۔ت)
 ( ۳؎ سنن الدار قطنی         کتاب البیوع     حدیث ۲۱۱        نشرالسنۃ ملتان        ۳ /۵۲)
رابعاً: یہ حکایت کسی سند مستند سے ثابت نہیں ،اور  بے سند مذکور ہونا طعن کے لیے کیا نفع دے سکتا ہےوہ بھی ایسی کتاب میں خصوصاً جس میں تو وُہ حدیثیں خود رسول اﷲصلے تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ایسی منسوب ہیں جن کی نسبت ائمہ حدیث نے جزم کیا کہ باطل و موضوع و مکذوب ہیں۔
ولکل فن رجال و لکل رجال مجال ویا بی اﷲ العصمۃ الا لکلامہ و لکلام رسولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم۔
ہر فن کے ماہرین ہیں اور تمام ماہرین میں خطا کا امکان ہے۔ اﷲتعالےٰ نے عصمت صرف اپنے کلام اور اپنے رسول صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے کلام ہی کو عطا فرمائی ہے۔(ت)
مجتہد کے اجتہاد میں کسی فعل کا جوازآنا اور بات اور خود اس کا مرتکب ہونا اور بات، یہ اساطین دین الٰہی بار باعوام کے لے رخصت بتاتے اور خود عزیمت پر عمل کرتے۔ سیّدنا امام اعظم امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ مالک الازمہ رضی اﷲتعالےٰ عنہ فرماتے ہیں:
لا احرم النبیذالشدید دیانۃ ولا اشربہ مروء ۃ۔
میں نبیذ کو دیانۃً حرام نہیں کہتا لیکن مروتاً اسے پیتا نہیں ہُوں۔(ت)اُن کے شاگرد کے شاگرد محمد بن مقاتل رازی کہتے ہیں:
لواعطیت الدنیا بحذافیرھا ماشربت المسکریعنی نبیذالتمروالزبیب ولو اعطیت الدّنیا بحذافیرھا ماافتیت بانہ حرام،۱؎ذکرہ الامام البخاری فی الخلاصۃ۔
اگر تمام دنیا مجھے دے دی جائے تو میں نشہ آور چیز یعنی تمر اور زبیب کا نبیذ نہ پیوں گا، اور اگر مجھے تمام دنیا عطا کردی جائے تو میں اس کے حرام ہونے کا فتوٰی نہیں دے سکتا، امام بخاری نے خلاصہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔(ت)
 (۱؎خلاصۃ الفتاوٰی         کتاب الاشربہ         مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ         ۴ /۲۰۵)
خامساً:امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ الشریف احیاء العلوم شریف فرماتے ہیں :
فان قیل ھل یجوز لعن یزید لانہ قاتل الحسین واٰمربہ قلنا ھذالم یثبت اصلا فلا یجوز ان یقال انہ قتل او امربہ مالم یثبت فضلا عن اللعنۃ لانہ لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا وقتل ابو لؤلؤ عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ فان ذلک ثبت متواتر افلا یجوز ان یرمی مسلم بفسق وکفر من غیر تحقیق۔۱؎
اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ وُہ امام حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہ کاقاتل ہے یا اس نے آپ کے قتل کا حکم دیا ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ اصلاًثابت نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے تو اسےقاتل یا اس کا آمر نہ کہا جائے چہ جائیکہ اس پر لعنت کی جائے کیونکہ بغیر تحقیق کسی مسلمان کی طرف کبیرہ گناہ کی نسبت کرنا جائز نہیں، ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو ابنِ ملجم اور حضرت عمر رضی اﷲتعالےٰ عنہ کو ابو لؤلؤ نے شہید کیا کیونکہ یہ تواتر سے ثابت ہے تو بغیر تحقیق کسی مسلمان کی طرف فسق یا کفر کی نسبت کرنا ہر گز جائز نہیں۔(ت)
(۱؎ احیا ء العلوم             الافۃالثامنۃ اللعن         مکتبہ و مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرۃ         ۳ /۱۲۵)
اقول:  یہ فعل امام ابو یوسف رحمہ اﷲتعالیٰ سے حکایت کیا جاتا ہے آیا خطاء اجتہادی ہے یا اس کی قابلیت نہیں رکھتا بلکہ معاذاﷲعمداًفریضۃ اﷲسے معاندت ہے، بر تقدیر اوّل اس سے طعن کے کیا معنی مجتہد اپنی خطا پر ثواب پاتا ہے اگر چہ صواب کا ثواب دونا ہے۔ اوراگر عیاذاًبا ﷲشق ثانی فرض کی جائے فرض خود سے معاندت قطعاً کبیرہ ہے خصوصاً وہ بھی بر سبیل عادت جو (کردیا کرتے تھے)کا مفاد ہے خصوصا اس زعم کے ساتھ کہ آخرت میں اس کا ضرر ہر گناہ سے زائد ہے تو معاذاﷲاکبر الکبائر ہوا پھر کیونکر حلال ہوگیا کہ ایسے سخت کبیرہ شدید نہ کبیرہ بلکہ اکبر الکبائر کو ایک مسلمان نہ صرف مسلمان بلکہ امام المسلمین کی طرف بلا تواتر نہ فقط بے تواتر بلکہ محض بلا سند صرف حُکِیَ کی بنا پر نسبت کردیا جائے۔ سبحان اﷲ!یزید پلید کی طرف تو یہ نسبت ناجائز و حرام ہو کہ اس نے امام مظلوم سیدنا حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو شہیدکرایا اس لیے کہ اس کا حکم دینا اس خبیث سے متواتر نہیں اور سیدنا امام ابو یوسف رحمۃ اﷲعلیہ کی طرف ایسی شدید عظیم بات نسبت کرنا حلال ٹھہرے حالانکہ تواتر چھوڑکرا صلاً کوئی ٹوٹی  پھوٹی سند بھی نہیں۔
فقد تمت الحجۃ بالحجۃ علی الحجۃ و طہربہ ذیل امام المحجۃ وﷲالحجۃ البالغۃ ولکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ ولکل عالم ھفوۃ ولقد صدق امام دارالھجرۃ عالم المدینۃ سیّدنا الامام مالک بن انس رحمۃ اﷲتعالیٰ اذیقول کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الاصاحب ھذاالقبر صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم الا ان الذین فی قلو بھم ز یغ فیتبعون ھفوات بدرت مھما ندرت یبتغون الفتنۃ فی الدین وایذاء قلوب المسلمین واﷲالمستعان علی الطاغین والمردۃ الباغین ولا حول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
اب حجت پر حجت کے ساتھ حجت تام ہوگئی اورامام المحجۃ کا دامن پاک ہوگیا اور کامل حجت اﷲتعالیٰ کے لیے ہی ہے ہر شہسوار کو گرنا اور ہر تلوار کُند ہونا ہے اور ہرعالم کو لغزش کا سامنا ہے_____ امام دار الہجرت عالمِ مدینہ سیّد نا امام مالک بن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے سچ فرمایا کہ ہر ایک کا قول ماخوذ بھی ہوسکتا ہے اور مردود بھی ماسوائے اس قبر کے مکین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے _________بلاشبہ وہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان ہفوات کی اتباع کرتے ہین جیسے بھی وُہ ظاہر ہوں اور اس سے دین میں فتنہ برپا کرکے مسلمانوں کے دلوں کو ایذا دیتے ہیں، ان سرکشوں اور مردود باغیوں کے خلاف اﷲتعالیٰ مدد فرمانے والاہے۔(ت)
Flag Counter