Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
32 - 198
رسالہ

رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف (۱۸ ۱۳ھ)

(حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
مسئلہ۷۹: از گونڈہ ملک اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبداﷲصاحب مدرس مذکور ۱۶ جمادی الآخر ۱۳۱۸ھ

کتاب غفرالمبین مؤلّفہ محی الدین غیر مقلد میں لکھا ہے کہ جناب قاضی ابو یوسف صاحب آخرِ سال پر اپنا مال اپنی بی بی کے نام ہبہ کر دیاکرتے تھے اور اس کا مال اپنے نام ہبہ کرالیا کرتے تھے تاکہ زکوٰۃ ساقط ہوجائے، یہ بات کسی نے امام ابو حنیفہ صاحب سے نقل کی انہوں نے فرمایا کہ یہ اُن کے فقہ کی جہت سے ہے اور درست فرمایا،چنانچہ اس امرکو ایک عالم مقلّد نے بھی تصدیق کیا بلکہ یہ کہا اس معاملے کو امام بخاری صاحب نے بھی درجِ کتاب کیا ہے اور بہت نفرت کے ساتھ لکھا ہے اس کی تشرح و توضیح مدلّل ارشاد فرمائی جائے۔
الجواب

بسم اﷲالرحمٰن الرّحیم

اللھم لک الحمد صل وسلم علی سیّد انبیائک واٰلہ وصحبہ وسائر اصفیائک اسألک حبّک وحبّ احبائک وحسن الادب مع جمیع اولیائک و اعوذبک من غضبک و سخطک و سوء بلائک۔
اے اﷲتیرے ہی لیے حمد ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے سربراہ پر صلوٰ ۃ وسلام، ان کی آل و اصحاب اور باقی تمام اصفیاء پر بھی۔ اے اﷲ! میں آپ سے آپ کی محبت، آپ کے محبوبوں کی محبت اور آپ کے تمام دوستوں کے ساتھ حُسنِ ادب کا سوال کرتاہُوں، اور آپ کے غضب، ناراضگی اور گرفت سے پناہ مانگتا ہُوں(ت)
اوّلاً:صحیح بخار ی شریف میں اوّل تا آخر کہیں اس حکایت کا پتا نہیں کہ امام ابویوسف اس کے عامل تھے امام اعظم مصدّق ہوئے، امام بخاری نے صرف اس قدر لکھا کہ بعض علماء کے نزدیک اگر کوئی شخص سال تمام سے پہلے مال کو ہلاک کردے یا دے ڈالے یا بیچ کر بدل لے کہ زکوٰۃ واجب نہ ہونے پائے تو اس پر کچھ واجب نہ ہوگا، اور ہلاک کرکے مرجائے تو اس کے مال سے کچھ نہ لیا جائے گا، اور سال تمام سے پہلے اگر زکوٰۃ ادا کردے تو جائز و روا۔ اُن کی عبارت یہ ہے:
وقال بعض الناس فی عشرین ومائۃ بعیر حقتان فان اھلکھا متعمدااووھبہا او احتال فیہا فرارا من الزکوٰۃ فلا شئی علیہ۔ ۱؎
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ایک سو بیس۱۲۰ اونٹوں میں دو۲حقہ ہیں اور اگر انھیں عمداًہلاک کردیا یا انھیں کسی کو ہبہ کردیا یا زکوٰۃسے بھاگنے کے لیے کوئی حیلہ کرلیا تو اب مالک پر زکوٰۃ نہیں ہوگی(ت)
 ( ۱؎ صحیح البخاری کتاب الحیل         باب فی الزکوٰۃ والّا یفرق الخ              قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲ /۱۰۲۹)
پھر کہا:
وقال بعض الناس فی رجل لہ ابل فخاف ان تجب علیہ الصدقۃ فباعھا بابل مثلہا او بغنم او ببقر او بد راھم فرارا من الصدقۃ بیوم واحتیالا فلا شئی علیہ وھو یقول ان زکی ابلہ قبل ان یحول الحول بیوم او بسنۃ جازت عنہ۔ ۲؎
بعض لوگوں نے اس شخص کے بارے میں کہا جس کے پاس اونٹ ہوں وُہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس پر صدقہ لازم نہ ہوجائےپس وُہ زکوٰۃ سے فرار اور حیلہ کرتے ہوئے ایک دن پہلے اس کی مثل اونٹوں سے بیچ دیتا ہے یا بکری یا گائے یا دراہم کے عوض بیچ دیتا ہے تو اب اس پر کوئی شئے لازم نہیں، اور وُہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مالک نے اپنے اونٹ کی زکوٰۃ سال گزرنے سے ایک دن یا سال پہلے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہوجائیں گی۔ (ت)
( ۲؎ صحیح البخاری کتاب الحیل         باب فی الزکوٰۃ والّا یفرق الخ              قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲ /۱۰۲۹)
پھر کہا:
وقال بعض الناس اذا بلغت الابل عشرین ففیھا اربع شیاہ فان وھبھا قبل الحول او باعھا فرارا اواحتیالا  لاسقاط الزکوٰۃ فلاشئی علیہ وکذٰلک ان اتلفھا فمات فلاشئی فی مالہ۔۱؎
بعض لوگوں نے کہا جب اُونٹ بیس ۲۰ ہوجائیں تو اسمیں چار بکریاں لازم ہوں گی، اب اگر اسقاطِ زکوٰۃ کیلئے حیلہ کرتے ہُوئے سال گزرنے سے پہلے ان اونٹوں کو ہبہ کردیا تو اب کوئی شئی لازم نہ ہوگی، اسی طرح اگر مالک نے ہلاک کردیا اور مالک فوت ہوگیا تو اس کے مال میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب الحیل         باب فی الزکوٰۃ والّایفرق بین مجتمع الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲ /۱۰۲۹)
اس میں نہ اُس حکایت کا کہیں نشان، نہ امام اعظم خواہ امام ابویوسف کا نام، ایک مسئلہ میں بعض علماء کا صرف مذہب نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا کرے تو اس پر کُچھ واجب نہ ہوگا۔
ثانیاً: ہمارے کتب مذہب نے اس مسئلہ میں امام ابویُوسف اور امام محمد رحہما اﷲتعالیٰ کا اختلاف نقل کیا اورصرف لکھ دیا کہ فتوٰی امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں۔ تنویر الابصار و درمختار ودرر وغرروجوہرہ وغیرہا میں ہے:
واللفظ للاولین(تکرہ الحیلۃ لاسقاط الشفعۃ بعد ثبوتھا وفاقا)کقولہ للشفیع اشترہ منی ذکرہ البزازی(واماالحیلۃ لدفع ثبوتھا ابتدأفعند ابی یوسف لاتکرہ وعند محمد تکرہ، ویفتی بقول ابی یوسف فی الشفعۃ)قیدہ فی السراجیۃ بما اذکان الجار غیر محتاج الیہ واستحسنۃمحشی الاشباہ (وبضدہ)وھوالکراھۃ (فی الزکوٰۃ)والحج واٰیۃ السجدۃ جوھرۃ۔ ۲؎
پہلی دونوں کتب کی عبارت یہ ہے(ثبوتِ شفعہ کے بعد اسقاط کے لیے حیلہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے)مثلاًشفیع کے لیے یہ کہنا کہ وُہ چیز آپ مجھ سے خریدلیں ۔ اسے بزازی نے ذکر کیا(لیکن ابتدا عدمِ ثبوت کے لیے حیلہ کرنا امام ابویوسف کے نزدیک مکروہ نہیں ۔اورامام محمد کے ہاں مکروہ ہے ۔ شفعہ میں امام ابویوسف کے قول پر فتوٰی ہے)سراجیہ میں اس قید کا اضافہ ہے کہ بشرطیکہ پڑوسی اس کے محتاج نہ ہو محشیِ اشباہ نے اسے پسند کیا ہے اور زکوٰۃ، حج اور آیتِ سجدہ میں (اس کی ضد)بھی کراہت پر فتویٰ ہے۔ جوہرہ(ت)
 (۲؎ درمختار        کتاب الشفعۃ    کتاب مایبطلہا            مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۲۱۶)
ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے ہے:
ھذا تفصیل حسن ۳؎
 (یہ تفصیل خوبصورت ہے۔ت)
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الشفعۃ    کتاب مایبطلہا   مصطفی البابی مصر        ۵ /۱۷۳)
غمزالعیون میں ہے:
الزکوٰۃ علی عدم جوازالحیلۃ لاسقاط الزکوٰۃ وھو قول محمد رحمہ اﷲتعالیٰ وھو المعتمد۔ ۱؎
فتویٰ حیلہ اسقاطِ زکوٰۃ کے عدمِ جواز پر ہے اور یہی امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ کا قول ہے، اور اسی پر اعتماد ہے(ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر         الفن الخامس من الاشباہ والنظائر الخ        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۹۲)
مجمع الانہرمیں شرح الکنز للعنیی سے ہے:
المختار عندی ان لا تکرہ فی الشفعۃ دون الزکوٰۃ۔ ۲؎
میرے نزدیک مختاریہ ہے کہ شفعہ میں حیلہ مکروہ نہیں لیکن زکوٰۃ میں مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر         فصل وتبطل الشفعۃ بتسلیم الکل اوبعض        داراحیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۴۸۶)
وقایہ و اصلاح وایضاح میں ہے:
واللفظ لھذین لا یکرہ حیلۃ اسقاط الشفعۃ الزکوٰۃ عند ابی یوسف خلافا لمحمد و یفتی فی الاول بقول الاول وفی الثانی بقول الثانی۔۳؎
ان دونوں کی عبارت یہ ہے: اسقاط شفعہ زکوٰۃ کے لیے حیلہ امام ابو یوسف کے نزدیک مکروہ نہیں لیکن امام محمد کو اس میں اختلاف ہے پہلے (شفعہ) میں پہلے امام (ابو یوسف) کے قول پر اور دوسرے (زکوٰۃ) میں دوسرے امام (محمد ) کے قول پر فتوٰی ہے۔(ت)
 ( ۳؎ شرح الوقایۃ         کتاب الشفعۃ باب ماھی فیہ الخ         مطبع یوسفی لکھنؤ            ۴ /۷۰)
Flag Counter