مسئلہ ۷۳: از شہر ملوک پور مرسلہ جناب سیّدمحمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور ۳۰ رمضان المبارک ۱۳۲۹ھ زکوٰۃ کس ماہ میں دینا اولیٰ ہے یا یہ کہ زیور اور روپیہ تو جب پورا سال گزر جائے؟
الجواب :جب سال تمام ہو فوراً فوراً پُوراادا کرے، ہاں اوّلیّت چاہے تو سال تمام ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرے، اس کے لیے بہتر ماہِ مبارک رمضان ہے جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستّر فرضون کے برابر۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۷۴ :از بنارس مسجد بی بی راجی متصل شفا خانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۱۳۱۲ھ
ماقو لکم ایھا العلماء
(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے)دریں مسئلہ کہ زید پیشہ طبابت کرتا ہے اور کُچھ گولیاں اس کے پاس ہیں کہ بحساب فی روپیہ ۴گولیاں علی العموم بیماروں کو دیتا ہے لیکن لاگت اصل چار گولیوں کے چار پیسے ہے، جب مطب میں کوئی غریب مصرفِ زکوٰۃ آجاتا ہے تو ۴گولی مذکور الصدر جس کی قیمت اصلی ۴ پیسے ہے دے کر ایک روپیہ ادائے زکوٰۃ میں شمار کرتا ہے ،اس صورت میں بموجب اس کے خیال کے ایک روپیہ زکوٰۃ میں سے ادا ہوگا یا ایک آنہ جو لاگتِ اصلی ہے؟بینواتو جروا۔
الجواب : ہر چند شخص کو اختیار ہے کہ اپنے پیشہ کی چیز برضائے مشتری ہزار روپے کے بیچے جبکہ اس میں کذب و فریب و مغالطہ نہ ہو ، مگر زکوٰۃ وغیرہا صدقاتِ واجبہ میں جہاں واجب شئی کی جگہ اس کی غیر کوئی چیز دی جائے تو صرف بلحاظِ قیمت جانبین ہی دی جاسکتی ہے،
فی التبیین لوادی من خلاف جنسہ تعتبر القیمۃ با لا جماع اھ۱؎
تبیین میں ہے کہ اگرشئی کے غیر جنس سے زکوٰۃ ادا کرنا ہوتو بالاتفاق قیمت کا اعتبار ہوگا اھ
(۱تبیین الحقائق باب زکٰوۃ المال مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۲۷۸ )
وفی التتار خانیۃ عن التحفۃ،الواجب فی الا بل الا نوثۃحتی لا یجوز الذکور الا بطریق القیمۃ اھ ۲؎
اور تاتاخانیہ میں تحفہ سے ہے کہ اونٹوں میں اگر مؤنث لازم ہے تو اب مذکر سے ادائیگی جائز نہیں مگر بطورِ قیمت اھ
وفی محیط الامام السرخسی فی صدقۃ الفطر ان دقیق الحنطۃ والشعیر و سو یقھما مثلھما و الخبز لا یجوز الا با عتبار القیمۃوھوالاصح اھ ۳؎ الکل فی الھندیۃ۔
امام سرخسی کی محیط کے صدقۃ الفطر میں ہے کہ گندم وجَو کاآٹا اور ان کے ستّو ایک دوسرے کی مثل ہیں لیکن روٹی نہیں دی جاسکتی، ہاں قیمت کے اعتبارسے،اور یہی اصح قول ہے اھ، مکمل تفصیل ہندیہ میں ملا حظہ کیجئے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰ ی ہندیۃ محیط السرخسی الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۱)
اورقیمت وُہ کہ نرخ بازار سے جوحیثیت شئی کی ہو، نہ وہ کہ بائع اور مشتری میں اُن کی تراضی سے قرارپائے کہ وہ ثمن ہے،
فی ردالمحتار الفرق بین الثمن والقیمۃ ان الثمن ما تراضی علیہ المتعاقد ان سواء زاد علی القیمۃ او نقص والقیمۃ ما قوم بہ الشئی بمنزلۃ المیعاد من غیر زیادہ ولا نقصان۔۱؎
ردالمحتار میں ہے کہ ثمن اور قیمت میں فرق ہے، جس پر متعاقدان راضی ہوجائیں وہ ثمن ہوں گے خواہ قیمت شئی سے زائد ہو یا کم، بغیر کسی کمی و زیادتی کے شئی کے معیاری عوض کا نام قیمت ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب خیار الشرط مصطفی البابی مصر ۴ /۵۷)
تو اُن گولیو ں کی بہ لحاظ نرخ بازار جسقدر مالیّت ہواسی قدر زکوٰۃ میں مجرا ہوں گے اُس سے زائد دینِ الہٰی رہا کہ فوراًواجب الادا ہے، ہاں اگر زیادہ محسوب کرنا چاہے تو اس کی سبیل یہ نہیں بلکہ یُوں ہے کہ مصرف زکوٰۃ کو گولیاں ہبۃًنہ دے اس کے ہاتھ بیع کرلے، اب بیع میں اختیار ہے جوثمن چاہے اس کی رضا مندی سے ٹھہرالے اگر چہ شئی کی حیثیت سے کتناہی زائد ہو بشرطیکہ مشتری عاقل بالغ ہو،اور اسے سمجھا دے کہ اگر اگر تیرے پاس قیمت نہیں تو اس کا اندیشہ نہ کر میں خود اپنے پاس سے تجھے دے کر سبکدوش کر دوں گا، اب مثلاً۴گولیاں ایک روپیہ کو اس کے ہاتھ بیچے وُہ خریدے اس کاا یک روپیہ اس پر دین ہوگیا پھر ایک روپیہ بہ نیت زکوٰۃ اسے دے کر قبضہ کر ادے پھر اپنے آتے میں روپیہ اس سے واپس لے، اگر وہ عذر کرے تو جبراًلے سکتا ہے کہ اتنی میں وُہ اس کامدیون ہے، یوں اسے ۴ گولیاں مفت ملیں گی اور اس کی زکوٰۃ سے ایک روپیہ ادا ہوجائےگا،
فی الدرالمختارحیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوٰتہ ثم یا خذھا من دینہ ولوامتنع المدیون مدیدہ واخذ ھا لکونہ ظفر بجنس حقہ، ۲؎واﷲتعالیٰ اعلم ۔
درمختار میں ہے کہ حیلہ جوازیہ ہے کہ آدمی اپنے مقروض فقیر کو زکوٰۃ دے پھر اس سے قرضہ وصول کرے، اگر مقروض نہ دے تو چھین لے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس پر قادر ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ مبطع مجتبائی دہلی ۱ /۱۳۰)
مسئلہ ۷۵تا۷۷: از بمبیئ نمبر۹ ہوٹل آئسکریم مسئولہ شیخ امام علی صاحب رضوی ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایک شخص نے کچھ زمین کسی زمیندار سے ٹھیکہ میں لی اس کے پاس دس ہزار روپیہ جمع کیا، میعاد ٹھیکہ مقرر نہیں، یہ طے ہوا کہ جس وقت روپیہ واپس کریں گے زمین ٹھیکہ سے نکال لیں گے اور اس شخص نے زمین سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دی، اس روپیہ کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے اور کس طریقہ سے اس کی زکوٰۃ دی جائے؟
(۲)اگر ایک شخص کے پاس دس بیگھہ زمین کاشتکاری کی ہے اور وُہ پانچ بیگھہ زمین میں بارش سے غلّہ اگاتا ہے اور پائچ بیگھہ زمین کوکُنویں یا دریائی پانی سے سینچ کر غلّہ پیدا کرتا ہے اور غلّہ صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ جو خاندان کے لیے کافی ہوتا ہے بچت نہیں،اس صورت میں اس کے عشر اور زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
(۳)اگر کسی نے ایک دُکان میں دس۱۰ ہزار روپیہ کا سامان یعنی میز کرسی اور برتن وغیرہ خرید کر گاہکوں کے استعمال کے لیے لگادیا اور دُکان میں فروخت کی اشیاء روزانہ یا دوسرے تیسرے دن لاکر فروخت کرتا ہے تو اس دس ہزار روپیہ کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے،اور روزانہ جو آمدنی ہوتی ہے اس کو اپنے خرچ میں لاتا ہے؟
الجواب :(۱)یہ کوئی صورت ٹھیکہ کی نہیں، ٹھیکہ میں نفع کے مقابل روپیہ ہوتا ہے نہ یہ کہ نفع لیا جائے اور واپسی زمین پر روپیہ واپس ہوجائے، یہ صورت قرض کی ہے اور زمین رہن اور اس سے نفع لینا جائز نہیں او ر اس کی زکوٰۃ اس روپے والے پرواجب،اگر چہ واجب الادا اس وقت ہوگی جب وُہ قرض بقدر نصاب یا خمس نصاب اُس کو وصول ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم
(۲)زکوٰۃ تو نہ غلّہ پر ہے نہ زمین پر،اگر سونا یا چاندی تمام حاجاتِ اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب ہو اور سال گزرے تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور عشر بہر حال واجب ہے،مینہ کی پیداوار پر دسواں حصّہ اور پانی دی ہوئی پر بیسواں ۔واﷲتعالیٰ اعلم۔
(۳) جس دن وُہ مالکِ نصاب ہُوا تھا جب اُس پر سال پُورا گزرے گا اُس وقت جتنا سونا چاندی یا تجارت کا مال میز کرسی وغیرہ جو کچھ بھی ہو بقدرنصاب اس کے پاس تمام حاجات اصلیہ سے فارغ موجود ہوگا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی، روزمرہ کے خرچ میں جو خرچ ہوگیا ہوگیا۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۷۸: از کانپور محلہ فیل خانہ کہنہ مسئولہ سیّد محمد آصف صاحب ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
حضور کے فتاوٰی جلد اول مطبوعہ کے حاشیہ پریہ عبارت ہے کہ :'' جس کے عزیز محتاج ہوں اسے منع ہے کہ انھیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے، حدیث میں فرمایا: ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگااور اﷲتعالیٰ روزِ قیامت اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا۔'' عزیز سے کون کون شخص مراد ہیں؟
الجواب :عزیزوں میں ذورحم محرم مقدم ہیں پھر باقی ذورحم، ان سے پھیر کر اجنبی کو صدقہ نہ دے پھیرنے کے معنی کا صدق چاہئے، مثلاًگداگروں کو جو ایک آدھ پیسہ یا روٹی کا ٹکڑا جاتا ہے کہ اپنے اعزّا کو نہیں دے دسکتا، اور دے تو وہ نہ لیں گے، وُہ ان سے پھیر کردینا نہ ہُوا۔ واﷲتعالیٰ اعلم