Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
29 - 198
اے عزیز!کیا خدا و رسول کے فرمان کو یونہی ہنسی ٹھٹھاسمجھتا ہے یا پچاس ہزار برس کی مدّت میں یہ جانکاہ مصیبتیں جھیلنی سہل جانتا ہے، ذرا یہیں کی آگ میں ایک آدھ روپیہ گرم کرکے بدن پر رکھ دیکھ ، پھر کہاں یہ خفیف گرمی کہاں وہ قہر آگ، کہاں یہ ایک ہی روپیہ کہاں وُہ ساری عمر کا جوڑا ہوامال، کہاں یہ منٹ بھر دیر کہاں وہ ہزار دن برس کی آفت، کہاں یہ ہلکا ساچہکا کہاں وُہ ہڈیاں توڑکر پار ہونے والا غضب ۔ اﷲتعالٰی مسلمان کو ہدایت بخشے ، آمین !

حدیث۶:مصطفٰی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جوشخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے گا وہ مال روزِ قیامت گنجے اژدہے کی شکل بنے گا اور اس کے گلے میں طوق ہو کر پڑےگا۔ پھر سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے کتاب اﷲ سے اس کی تصدیق پڑھی کہ رب عزوجل فرماتا ہے:
سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ۔۳؎ ۴؎
جس چیز میں بخل کررہے ہیں قریب ہے کہ طوق بنا کر ان کے گلے میں ڈالی جائے قیامت کے دن۔
 (۳؎ القرآن ۳ /۱۸۰،)

(۴؎ سنن النسائی باب التغلیظ فی حبس الزکوٰۃ     مکتبہ سلفیہ لاہور            ۱ /۲۷۲)
رواہ ابن ماجۃ والنسائی وابن خزیمۃعن ان مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔
اسے ابن ماجہ، نسائی اور ابن خزیمہ نے حضرت عبداﷲابن مسعودرضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
حدیث۷: فرماتے ہیں حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم  : وُہ اژدہا منہ کھول کر اس کے پیچھے دوڑے گا،یہ بھاگے گا، اس سے فرمایا جائے گا :لے اپنا وُہ خزانہ کہ چھپا کر رکھا تھا کہ میں اس سے غنی ہُوں ۔ جب دیکھے گاکہ اس اژدہا سے کہیں مفر نہیں، ناچاراپنا ہاتھ اس کے مُنہ میں دے دے گا ،وہ ایسا چبائے گا جیسے نراونٹ چباتا ہے۔۱؎
رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ
(اسے مسلم نے حضرت جابر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۱؎ صحیح مسلم         باب اثم مانع الزکوٰۃ         نور محمد اصح المطابع کراچی             ۱ /۳۲۱)
حدیث۸: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم:جب وُہ اژدہا اس پر دوڑے گا یہ پُوچھے گا تُو کون ہے؟ کہے گا میں تیرا وُہ  بے زکٰوتی مال ہوں جو چھوڑ مرا تھا جب یہ دیکھے گا کہ وُہ پیچھا کیے ہی جارہا ہے ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا وہ چبائے گا، پھر اس کا سارابدن چباڈالے گا۔ ۲؎
اخرجہ البزار والطبرانی وابنا اخزیمۃ وحبان عن ثوبان رضی اﷲتعالیٰ عنہ
(اسے بزار، طبرانی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت ثوبان رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیمن منع الزکوٰۃ         مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۱/ ۴۱۸)

(المعجم الکبیر مروی از ثوبان رضی اﷲتعالیٰ عنہ حدیث ۱۴۰۸        مکتبہ فیصلیہ بیروت         ۲ /۹۱)
حدیث۹ :فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم : وُہ اژدہا اُس کا منہ اپنے پھن میں لے کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں میں تیرا  خزانہ ہُوں۔ ۳؎
رواہ البخاری والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (اسے بخاری اورنسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ صحیح البخاری   باب اثم مانع الزکوٰۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی            ۱ /۱۸۸)
حدیث۱۰:فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم: فقیر ہرگز ننگے بُھوکے ہونے کی تکلیف نہ اُٹھائیں گے مگر اغنیاء کے ہاتھوں، سُن لو ایسے تونگروں سے اﷲتعالیٰ سخت حساب لے گا اور انھیں درد ناک عذاب دے گا۔ ۴؎
رواہ الطبرانی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲتعالیٰ وجھہ
 (اسے طبرانی نے امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۴؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط     باب فرض الزکوٰۃ     دارالکتاب العربی بیروت           ۳ /۶۲ )
حدیث۱۱: عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : زکوٰۃ نہ دینے والا ملعون ہے زبانِ پاک محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم پر ۔۵؎
رواہ ابن خزیمۃ واحمد وابو یعلیٰ وابن حبان
 (اسے ابن خزیمہ ، احمد ، ابو یعلیٰ اور ابن حبان نے روایت کیا ۔ت)
 (۵؂ صحیح ابن خزیمہ باب ذ لعن لادی الصدقۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۹ )

(کنز العمال بحوالہ ن  عن ابن مسعود حدیث ۹۷۵۰ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۴ /۱۰۴)
حدیث۱۲: مولاعلی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ فرماتے ہیں: رسول اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے سُود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس پر گواہی کرنے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے، زکوٰۃ نہ دینے والے ان سب کو قیامت کے دن ملعون بتایا۔ ۱؎
رواہ الاصبہانی
 (اسے اصبہا نی نے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ ھب عن علی     حدیث ۹۷۸۳      مؤسسۃالرسالہ بیروت    ۴ /۱۰۴)
حدیث ۱۳: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم :قیامت کے دن تونگروں کے لیے محتاجوں کے ہاتھ سے خرابی ہے۔ محتاج عرض کرینگے اے رب ہمارے !انہوں نے ہمارے وُہ حقوق جو تُو نے ہمارے لیے ان پر فرض کیے تھے ظلماً نہ دئے اﷲعز وجل فرمائے گا : مجھے قسم ہے اپنے عزّت کی و جلال کی کہ تمھیں اپنا قُرب عطا کروں گا اور انھیں دُور رکھوں گا ۔ ۲؎
رواہ الطبرانی وابو الشیخ عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (اسے طبرانی اور ابو شیخ نے حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الاوسط باب فرض الزکوٰۃ  دارا لکتاب العربی بیروت        ۳ /۶۲ )
حدیث۱۴: کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے غرقی لنگوٹیوں کی طرح کچھ چیتھڑے تھے اور جہنّم کی گرم آگ پتّھر اور تھوہر اور سخت کڑوی جلتی بدبو گھانس چو پایوں کی طرح چرتے پھرتے تھے ۔ جبریل امین علیہ الصّلٰوۃ والسلام سے پُوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی: یہ زکوٰۃ نہ دینے والے ہیں اﷲتعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اﷲتعالٰی بندوں پر ظلم نہیں فرماتا۔ ۳؎
رواہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (اسے بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۳؎کشف الاستار عن زوائد البزار باب منہ فی الاسراء حدیث ۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱ /۳۸)
حدیث ۱۵: دو عورتیں خدمتِ والا میں سونے کے کنگن پہنے ہُوئیں حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی زکوٰۃ دوگی؟ عرض کی ؟ نہ ۔فرمایا : کیا چاہتی ہو کہ اﷲتعالٰی تمھیں آگ کے کنگن پہنائے؟عرض کی: نہ ۔فرمایا: زکوٰۃ دو ۔ ۴؎
رواہ الترمذی والدارقطنی واحمد وابوداؤد والنسائی عن عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما
 (اسے ترمذی، دار قطنی، احمد، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۴؎جامع الترمذی باب ماجاء فی زکوٰۃ الحلی         آفتاب عالم پریس لاہور             ۱ /۸۱)
حدیث۱۶: ایک بی بی چاندی کے چھلّے پہنے تھیں ، فرمایا :ان کی زکوٰۃ دوگی ؟ انہوں نے کچھ انکار سا کیا۔  

فرمایا: تویہ ہی جہنّم میں لے جانے کو بہت ہیں۔ ۱؎
رواہ ابو داود والدار قطنی عن ام المؤمنین رضی اﷲتعالیٰ عنہا
 (اسے ابو داؤد اور دار قطنی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۱؎سنن ابی داؤد         باب الکنز ما ھو و زکوٰۃ الحلی         آفتاب عالم پریس لاہور            ۱ /۲۱۸)
حدیث۱۷: کہ حضور ِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: زکوٰۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا ۔۲؎
رواہ الطبرانی عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (اسے طبرانی نے حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الصغیر     باب فرض الزکوٰۃ         دار الکتاب العربی بیروت             ۳ /۶۴)
حدیث۱۸: فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے، ان میں ایک وُہ تونگر کہ اپنے مال میں عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا۔۳؎
رواہ ابن خزیمہ وابن حبان فی صحیحھما عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (اسے ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابُو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ صحیح ابن خزیمہ باب لذکر اذ خال مانع الزکوٰۃ الخ  المکتب الاسلامی بیروت  ۴ /۸)
غر ض زکوٰۃ نہ دینے کی جانکاہ آفتیں وُہ نہیں جن کی تاب آسکے، نہ دینے والے کو ہزار سال ان سخت عذابوں میں گرفتاری کی امید رکھنا چا ہئے کہ ضعیف البنیان انسان کی کیا جان، اگر پہاڑوں پر ڈالی جائیں سُرمہ ہوکر خاک میں مل جائیں، پھر اس سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنا مال جُھوٹے سچے نام کی خیرات میں صرف کرے اور اﷲعزوجل کا فرض او راس بادشاہ قہار کا  وُہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے، شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے،نادان سمجھتا ہی نہیں، نیک کام کررہا ہوں، اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کے قبول کی امید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجئے اور بالائی بیکار تحفے بھیجئے وُہ قابلِ قبول ہوں گے خصوصاً اس شہنشاہ  غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز ؟ یوں یقین نہ آئے تو دنیا کے جُھوٹے حاکموں ہی کو آزمالے، کوئی زمین دار مال گزاری توبند  کر لے اور تحفے میں ڈالیاں بھیجا کرے، دیکھو تو سرکاری مجرم ٹھہرتا ہے یا اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں !ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے،فرض کیجئے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری کارس بندھا ہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وُہ رس تو ہرگز نہ دیں مگر تحفے میں آم خربوزے بھیجیں، کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا یا آتے ہوئے اس کی نادہندگی پر جو آزار انھیں پہنچا سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے باز  آئے گا۔ سبحان اﷲ! جب ایک کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملک الملوک احکم الحاکمین جل وعلا کے قرض کا کیا پُوچھنا! لاجرم محمد بن المبارک بن الصباح اپنے جزءِ املا اور عثمان بن ابی شیبہ اپنی سنن اور ابو نعیم حلیۃ الاولیاء اور ھنّا د فوائد اور ابن جریر تہذیب الآثار میں عبد الرحمٰن بن سابط و زید و زبید پسرانِ حارث و مجاہد سے راوی:
لما حضرابابکرن الموتُ دعا عمر فقال اتق اﷲیا عمر واعلم ان لہ عملا بالنھار لا یقبلہ باللیل و عملا باللیل لا یقبلہ بالنھار واعلم انہ لایقبل نافلۃ حتی تؤدی الفریضۃ ۱؎الحدیث۔
یعنی جب خلیفہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سیّد ناصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالےٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے عمر !اﷲسے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے، اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا  جب تک فرض ادا نہ کرلیا جائے الحدیث
 (۱؎ حلیۃ الاولیاء، ذکرالمہاجرین نمبر۱ ابوبکر الصدیق             دارلکتاب العربی بیروت         ۱ /۳۶)
ذکرہ العلامۃ ابراھیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی فی الباب الثالث عشر من کتاب'' القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب'' وفی الباب التاسع عشر من کتاب ''التحقیق فی فضل الصدیق'' وھو اول کتب کتابہ '' الاکتفا فی فضل الابعۃ الخلفاء'' ورواہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ اﷲتعالیٰ فی الجامع الکبیر فقال عن عبدالرحمٰن بن سابط و زید و زبید بن الحارث و مجاہد قالو الما حضر الخ ۲؎
 (اسے علامہ ابراہیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی نے القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب کے باب نمبر ۱۳ میں اور کتاب التحقیق فی فضل الصدیق کے باب نمبر۱۹میں ذکر کیا ہے،یہ ؛پہلی کتاب ہے، جو انہوں نے خود لکھی ہے جس کا نام ''الا کتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء'' ہے'اسے امام جلیل جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲتعالیٰ نے جامع الکبیر میں عبد الرحمٰن بن سابط اور زید و زبید بن الحارث اور مجاہد سے روایت کیا کہ جب نزع کا وقت آیا۔ت)
 (۲؎ المسا نید والمراسیل من الجامع الکبیرحدیث ۱۸۹ مسند ابوبکر الصدیق        دارالفکر بیروت ۱۳ /۵۳)
Flag Counter