Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
28 - 198
رسالہ

اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ (۱۳۰۹)



(زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
مسئلہ ۷۲: از پیلی بھیت  مرسلہ عبدالرزاق خاں  ذیقعدہ الحرام ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہے مگر روپیہ مصرفِ خیر میں صرف کرتا ہے یعنی ہر روز فقراء کو زرِ نقد و غلّہ تقسم کرتا ہے، اور ایک مسجدبنوائی ہے،اورایک گاؤں اس روپیہ سے خرید کر واسطے خیرات کے ہبہ کر دیا ہے اور تاحیات خود زرتوفیر اس کا صرف کرتا رہے مصرف خیر میں۔ اب ایک اور شخص یہ کہتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے، اس روپیہ سے کسی قسم کی خیرات جائز نہیں ہے ہرروز کی خیرات اور بنانا مسجد کا اور گاؤں کا ہبہ کرنا سب اکارت ہے۔ فلہذا فتوٰی طلب کیا جاتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے اس روپیہ کو مصرفِ خیر میں صَرف کرنا جیسا کہ بالامذکور ہے درست ہے یا نہیں؟اور اگر درست نہیں تو اس موضع کو ہبہ سے واپس لے کر دوبارہ اس قصد سے ہبہ کرے کہ اس موضع کی توفیر ہو جو ہر سال وصول ہوا کرے گی بالعوض اس زرِ زکوٰۃ کے جو اس کے ذمّہ زمانہ ماضیہ کی دین ہے،صرف ہُوا کرے۔ بینوا توجروا

المکلّف : عبدالرزاق خاں ولد نتھوخاں کھنڈ ساری ساکن پیلی بھیت محلہ اشرف خاں
الجواب : زکوٰۃ اعظم فروضِ دین واہم ارکانِ اسلام سے ہے ولہذاقرآن عظیم میں بتیس ۳۲جگہ نماز کے ساتھ اس کاذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس فرضِ اہم کی طرف بُلایا، صاف فرمادیا کہ زنہار نہ سمجھنا کہ زکوٰۃ دی تو مال میں سے اتنا کم ہوگیا، بلکہ اس سے مال بڑھتا ہے۔
یمحق اﷲالربٰو ویربی الصدقات۔۱؎
اﷲہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ت)
 ( ۱؎ القرآن ۲ /۲۷۶)
بعض درختوں میں کچھ اجزائے فاسدہ اس قسم کے پیدا ہوجاتے ہیں کہ پیڑ کی اُٹھان کو روک دیتے ہیں، احمق نادان انھیں نہ تراشے گا کہ میرے پیڑ سے اتنا کم ہوجائے گا، پر عاقل ہوشمند تو جانتا ہے کہ ان کے چھاٹنے سے یہ نونہا ل لہلہا کر درخت بنے گا ورنہ یُوں ہی مرجھا کر رہ جائے گا، یہی حساب زکوتی مال کا ہے۔ حدیث میں حضورپُر نور سیّد عالم صلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماخالطت الصدقۃ او مال الزکوٰۃ مالا  الا افسدتہ۔ ۲؎ رواہ البزار والبیھقی عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنھا۔
زکوٰۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کردے گا۔ اسے بزار اور بیہقی نے ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کیا ۔
 (۲؎ شعب الایمان للبیہقی حدیث ۳۵۲۲ فصل الاستعفاف عن المسئلۃ دارالکتب العلمیہ بیروت      ۳ /۲۷۳)
دوسری حدیث میں ہے حضورِوالا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماتلف مال فی بر ولا بحر الّا بحبس الزکوٰۃ۔ ۳؎ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ عن امیرالمومنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
خشکی و تری میں جو مال تلف ہوا ہے وُہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہواہے۔ اسے طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ سے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔
 (۳؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط     باب فرض الزکوٰۃ         دارالکتاب العربی بیروت     ۳ /۶۳)
تیسری حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ادی زکوٰۃ مالہ فقد اذھب اﷲشرہ ۴؂ ۔ اخرجہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ والطبرانی فی الاوسط والحاکم فی المستدرک عن جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بیشک اﷲتعالیٰ نے اس مال کاشر اس سے دُور کردیا۔ اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں، طبرانی نے معجم اوسط میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالےٰ عنہما سے روایت کیاہے۔
 (۴؎ صحیح ابن خزیمۃ         حدیث ۲۲۵۸        المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۳)
چوتھی حدیث میں ہے حضورِعلیٰ صلٰوۃواﷲوسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
حصّنوااموالکم بالزکوٰۃ وداووا مرضاکم بالصدقۃ۱؎رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ عن الحسن والطبرانی والبیھقی وغیرھما من جماعۃمن الصحابۃ رضی اﷲتعالیٰ عنھم۔
اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کرلو زکوٰۃ دے کر، اور اپنے بیماروں کا علاج کرو خیرات سے۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں امام حسن بصری سے اور طبرانی و بیہقی اور دیگر محدثین نے صحابہ کی ایک جماعت سے نقل کیا  ہے رضی اﷲتعالیٰ عنہم۔
 (۱؎ کتاب المرسیل         باب الصائم یصیب اھلہ (۲۰)         مکتبہ علمیہ لاہور    ص ۶۲)
اے عزیز !ایک بے عقل گنوارکو دیکھ کہ تخمِ گندم اگر پاس نہیں ہوتا بہزار دقت قرض دام سے حاصل کرتا اور اسے زمین میں ڈال دیتاہے، اس وقت تو وُہ اپنے ہاتھوں سے خاک میں ملا دیا مگر امید لگی ہے کہ خداچاہے تو یہ کھونا بہت کُچھ پانا ہوجائے گا۔ تجھے اس گنوار کے برابربھی عقل نہیں ، یا جس قدر ظاہری اسباب پر بھروسہ ہے اپنے مالک جل وعلا کے ارشاد پر اتنا اطمینان بھی نہیں کہ اپنے مال بڑھانے اور ایک ایک دانہ ایک ایک پیڑ بنانے کو زکوٰۃ کا بیج نہیں ڈالتا۔ وُہ فرماتا ہے : زکوٰۃ دو تمھارا مال بڑھے گا۔ اگر دل میں اس فرمان پر یقین نہیں جب تو کُھلا کفر ہے، ورنہ تجھ سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنے یقینی نفع دین و دنیا کی ایسی بھاری تجارت چھوڑ کر دونوں جہانوں کا زیاں مول لیتا ہے۔ 

حدیث۱  میں ہے رسول اﷲصلے اﷲتعالےٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان تمام اسلامکم ان تؤدوازکوٰۃ اموالکم۔ ۲؎ رواہ البزار عن علقمۃ۔
تمھارے اسلام کا پُورا ہونا یہ ہے کہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ اسے بزار نے حضرت علقمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
 (۲؎ کشف الاستارعن زوائدالبزار    باب وجوب الزکوٰۃ             مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۴۱۶)
حدیث۲:حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرتے ہیں :
من کان یؤمن باﷲورسولہ فلیؤد زکوٰۃ مالہ۔ ۱؎رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
جو اﷲاور اﷲکے رسول پر ایمان لاتا ہواسے لازم ہے کہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۳۵۶۱ عن عبداﷲابن عمر         مکتبہ فیصلیہ بیروت         ۱۲ /۴۲۴)
حدیث ۳ : حضورپُر نور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جس کے پاس سونا یا چاندی ہواور اس کی زکوٰۃ نہ دے قیامت کے دن اس زروسیم کی تختیاں بنا کر جہنم کی آگ میں تپائیں گے ،پھر ان سے اس شخص کی پیشانی اور کروٹ اور پیٹھ پر داغ دیں گے، جب وُہ تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی پھر انھیں تپا کر داغیں گے قیامت کے دن کہ پچاس ہزار برس کا ہے، یونہی کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ تمام مخلوق کا حساب ہوچکے۔ ۲؎
اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ
 (بخاری و مسلم نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ صحیح مسلم         باب اثم مانع الزکوٰۃ             قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۳۱۸)
مولیٰ تعالیٰ فرماتاہے:
والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اﷲفبشرھم بعذاب الیمoیوم یحمٰی علیھا فی نار جھنم فتکوٰی بھا جبا ھھم وجنوبھم وظھورھم ھذا ماکنزتم لانفسکم فذوقواماکنتم تکنزونo۳؎
اور جو لوگ جوڑتے ہیں سونا چاندی اور اسے خدا کی راہ میں نہیں اٹھاتے یعنی زکوٰۃ ادانہیں کرتے انھیں بشارت دے دُکھ کی مار کی، جس دن تپا یا جائے گا وہ سونا چاندی جہنم کی آگ سے، پس داغی جائیں گی اس سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں، یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔
 (۳؎ القرآن ۹ /۳۴)
پھر اس داغ دینے کو بھی نہ سمجھے کہ کوئی چہکا لگادیا جائے گا یا پیشانی و پشت و پہلو کی چربی نکل کر بس ہوگی بلکہ اس کا حال بھی حدیث سے سُن لیجئے: 

حدیث۴: سیّد نا ابُو ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا : ان کے سر ، پستان پر وُہ جہنم کا گرم پتّھر رکھیں گے کہ سینہ توڑ کر شانہ سے نکل جائے گا اور شانہ کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینہ سے نکلے گا۔ ۴؎
 (۴؎ صحیح بخاری         کتاب الزکوٰۃ  باب ما ادی زکوٰتہ فلیس بکنز    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۸۹)
اخرجہ الشیخان عن الاحنف بن قیس
 (اسے امام بخاری و مسلم نے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲتعالےٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)اور فرمایا: میں نے حضورنبی کریم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گُدّی توڑکر پیشانی سے۔۱؎ رواہ مسلم (اسے امام مسلم نے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح مسلم         باب اثم مانع الزکوٰۃ         نور محمد اصح المطابع کراچی            ۱ /۳۲۱)
اور اس کے ساتھ اور بھی ایک کیفیت سن رکھئے :

حدیث۵:حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا : کوئی روپیہ دوسرے روپے پر نہ رکھا جائے نہ کوئی اشرفی دوسری اشرفی سے چُھوجائے گی بلکہ زکوٰۃ دینے والے کاجسم اتنا بڑھا دیا جائے گا کہ لاکھوں کروڑوں جوڑے ہوں تو ہرروپیہ جُدا داغ دے گا۔ ۲؎
رواہ الطبرانی فی الکبیر
 (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر باب فرض الزکوٰۃ دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۶۵)
Flag Counter