Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
27 - 198
مسئلہ۶۷:  ۲۲ شوال ۱۳۱۴جب قرضہ کے ادا کی شکل نہ ہُوئی تو شوہر نے والدہ کو رقعہ لکھ دیا اور وُہ زیور ان سے واپس لے کر فروخت کر ڈالا اور روپیہ تجارت میں لگایا ،بیچنا مجھے منظور نہ تھا مگر مجبور ی تھی کہ روز گار نہ تھا، شوہر کی بیکاری تھی، قرضہ ابھی ادا نہ ہُوا اور وُہ تجارت بھی نقصان ہوکر چھٹ گئی ، مالکِ تجارت شوہر ہی سمجھے جاتے تھے، اس کی آمد گھر میں سب بال بچّوں کے خرچ میں صرف ہوتی تھی، تجارت چھٹنے کے بعد جو روپیہ بچا وہ سب گھر کے خرچوں میں صرف ہوا، کبھی یہ  ذکر درمیان نہ آیا کہ میرے زیور کا روپیہ ہے کیونکہ معاملہ  ایک سمجھا جاتا تھا اب وُہ روپیہ بھی نہیں اور نہ شوہر کا روز گار ٹھیک ہے اور قرضہ بدستور ہے، بینواتوجروا۔
الجواب :اگر زیور تمھاری اجازت سے بیچ کر شوہر نے اپنی تجارت میں لگایا اگر چہ وُہ اجازت اسی مجبوری سے تھی کہ شوہر کی بیکاری ہے تو اس کی قیمت شوہر پر قرض رہی، اور اگر بے تمھاری اجازت کے بطور خود بیچ ڈالا اگر چہ تم نے سکوت کیا تو حکم غصب میں تھا بہر حال سال بسال اُس کی زکوۃ تم پر واجب ہوتی رہی اور واجب ہُوا کرگی جب تک نصاب باقی ہے مگر اس زکوٰۃ کا دینا تُم پر واجب نہ ہوگا ، جب تک شوہر اس میں سے بقدر گیارہ روپے سوا تین آنہ کچھ کوڑیاں کم کے تمھیں ادا نہ کرے یعنی لہ ؎ ۳/۲-۲/۵ پائی جس وقت اس قدر اس میں سے تمھارے قبضہ میں آئے گا اُس وقت اس مقداار کا چالیسوں حصّہ دینا واجب ہوگا اور اگر کچھ قبضہ میں نہ آئے گا تو اس زکوٰۃ کا اد اکرنا تو واجب نہ ہوگا،
قال الشامی فی مسئلۃالمغصوب قال والظاھر علی القول بالوجوب ان حکم الدین القوی اھ  ای فتجب عند قبض اربعین درھما۔۱؎
علّامہ شامی نے مسئلہ مغصوب میں فرمایا کہ ظاہر وجوب کا قول ہی ہے کیونکہ یہی دین قوی کا حکم ہے اھ یعنی چالیس درہم کے قبض پر ایک درہم لازم۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب وجوب الزٰکوۃ فی دین المر صد    مصطفی البابی مصر         ۲ /۳۹)
ہاں اگر تم نے وہ زیور انھیں دے ہی دیا تھا اس کی قیمت کبھی لینے کا خیال نہ تھا تو تم پر اس کی زکوٰۃ واجب ہی نہیں کہ ایسی حالت میں تمھیں استحقاقِ واپسی نہ رہا جبکہ کسی قرینہ سے شوہرکو مالک کر دینا سمجھا گیا ہو، واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ۶۸ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص کا روپیہ اگر قرض میں پھیلا ہوتو اس کی زکوٰۃ اس کے ذمّہ فرض ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب  :جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوٰۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہو ااُس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۹:  ۸ شوال ۱۳۱۴ھ  (۱)شوہر میرا قرضدار ہے اور میرے پاس زیور ہے زکوٰۃ کے لائق ، اور میرا شوہر کا معاملہ ایک ہے، اور میرے پاس جو کچھ روپیہ ہوا تو شوہر کے قبضہ میں دے دیا یہ سمجھ کر کہ میرا اور اُن کا معاملہ واحد ہے بلکہ شوہر کو معلوم بھی بعد کو ہوا، اب میرا نہ شوہر پر تقاضا ہے نہ یہ گفتگو ہُوئی کہ میں نے معاف کردیا بلکہ اپنا اُن کا معاملہ ایک سمجھ کر قرضہ میں دے دیا،اب جو زیور ہے وہ قرضہ سے بہت کم ہے لیکن زکوٰۃ کے لائق ہے اس صورت میں زکوٰۃ دینا فرض ہے یا نہیں؟اور خرچ بال بچّوں کا بہت ہے آمد بہت کم ہے،اگر زکوٰۃ فرض ہوتو کچھ ایسی صورت بتائے کہ جس میں زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے اور خرچ کو تکلیف نہ ہو۔ (۲)جو روپیہ میری والدہ کے پاس سے مجھ کو ملا تھا میں نے شوہر کے قرضہ میں دے دیا یا گھر میں بال بچّوں کے خرچ میں صرف ہُوا زکوٰۃ کا حال معلوم نہ تھا مجھ پر فرض ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب (۱)عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاکے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر اﷲعزّوجل کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں، جب تمھارے پاس زیور زکوٰۃ کے قابل ہے اور قرض تم پر نہیں شوہر پر ہے تو تم پر زکوٰۃ ضرور واجب ہے اور ہر سال تمام پر زیور کے سوا جو روپیہ یا اور زکوٰۃ کی کوئی چیز تمھاری اپنی ملک میں تھی اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہُوئی، جو روپے تم نے بغیر شوہر کے کہے بطور خود ان کے قرضہ میں دے دیا وہ تمھار ااحسان سمجھاجائے گا اس کا مطالبہ شوہرسے نہیں ہوسکتا بال بچّوں کا خرچ باپ کے ذمّہ ہے تمھارے ذمّہ نہیں ،زکوٰۃ دینے سے خرچ کی تکلیف نہ سمجھوں بلکہ اس کا نہ دینا ہی تکلیف کا باعث ہوتا ہے نحوست اور بے برکتی لاتا ہے اور زکوٰۃ دینے سے مال بڑھتا ہے اﷲتعالےٰ بر کت وفراغت دیتا ہے، قرآن مجید میں اﷲکا وعدہ ہے، اﷲتعالےٰ سچّا اور اس کا وعدہ سچّا،والسّلام۔
 (۲)اگر روپیہ تم نے شوہر کو دیا کہ اس سے اپنا قرض ادا کرلو اور اُسے دے ڈالنا مقصود نہ تھا تو وہ روپیہ تمھارا شوہر پر قرض ہے۔  ف
ی العقود الدریۃ عن لسان الحکام دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لو قال اصرفھا الٰی حوائجک۔۱؎
عقودالدریہ میں لسان الحکام سے ہے کہ اگر کسی کو یہ کہتے ہُوئے دراہم دئے گئے کہ تم انھیں خرچ کرو اب اس نے خرچ کرلیے تو یہ قرض ہے جیسا کہ کہا ہو کہ تُو اسے اپنی ضروریات میں خرچ کرے(ت)
 ( ۱؎ العقود الدریۃ         کتاب الھبۃ         حاجی عبدالغفار وپسران تاجر ان کتب ارگ بزار قندھار افغانستان ۲ /۹۱)
اس صورت میں تو وہی حکم ہے کہ اس کی زکوٰۃ تم پر سال بسال واجب جب تک نصاب باقی رہے، مگر یہ زکوٰۃ دینا اسی وقت لازم ہوگا جب شوہر سے بقدرلہ ؎ ۳/کے وصول پاؤ گی، اُس وقت اس زکوٰۃ میں سے ساڑھے چار آنے دینے واجب ہوں گے کچھ کوڑیاں کم یعنی ۴/ ۵-۱۹/۲۵پائی، اور اگر شوہر کو دے ڈالا یا بطورخود شوہر کی 

درخواست کے اُن کے قرضہ دے دیا تو یہ روپیہ اور نیز وُہ جو بچّوں کے خرچ میں صرف ہُوا اُن میں یہ دیکھا جائے گا کہ زکوٰۃ کا سال تمام ہونے سے پہلے یہ روپیہ دے ڈالا اورصَرف ہوگیا جب تو کچھ نہیں ، اور اگر بعد زکوٰۃ واجب ہونے کے دے دیا اور اُٹھ گیا تو جب تک باقی تھا اتنی مدّت کی زکوٰۃ واجب رہے جب سے دے ڈالا خرچ ہوگیا زکوٰۃ لازم نہ ہوئی۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱ :۲۱صفر ۱۳۳۲ھ :عورت پر مہر کی زکوٰۃ کون سی صورت سے واجب ہوگی مثلاً مہر غیر معجل ہے یا کہ معجل اور غیر معجل دونوں میں عورت نے معاف کردیا یا کہ معجل اور غیر معجل دونو ں شوہر نے ادا نہ کیا،عورت پر جب بھی کیا زکوٰۃ واجب ؟بینواتوجروا۔
الجواب :معجل مہر سے جب بقدر خمس نصاب ہو اُس وقت عورت پر زکوٰۃ واجب الادا ہوگی اور پہلے دیتی رہے تو بہتر ہے اور یہ مہر جو عام طور پر بلا تعیّنِ وقت باندھا جاتاہے جس کا مطالبہ عورت قبلِ موت و طلاق نہیں کر سکتی اس پر زکوٰۃ کی صلاحیّت بعد وصول ہوگی۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
Flag Counter