Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
26 - 198
مسئلہ۶۵ : ازبدایوں خانہ اسسٹنٹ کمشنر ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ : 

ایک شخص کے پاس مال زکوٰۃ کے قابل ہے، اُس نے سال گزشتہ کے بعد یکمشت روپیہ مسلمان محتاج کو دیا لیکن اس نے زکوٰۃ کی نیت بر وقت دینے کے نہ کی، نہ اس کے دل میں خیال آیا کہ زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، بعد کو خیال آیا ہو تو یہ دیاہوا  روپیہ زکوٰۃ میں داخل ہُوا یا نہیں ؟بینوا توجروا
الجواب :

اگر یہ مال محتاج کو دیا خالص بہ نیتِ زکوٰۃ الگ رکھا تھا یعنی اس نیت سے جُدا کرکے رکھ چھوڑا کہ اسے زکوٰۃ میں دیں گے تو جس وقت اس میں سے محتاج کو دیا گیا زکوٰۃ ادا ہوگئی اگر چہ دیتے وقت زکوٰۃ کا خیال نہ آیا اور ایسا نہ تھا وُہ مال جب تک محتاج کے پاس موجود ہے اب اس میں زکوٰۃ کی نیّت کرلے صحیح ہوجائے گی، اور اگر اس کے پاس نہ رہا تو اب نہیں کرسکتا، یہ مال خیرات نفل میں گیا زکوٰۃ جُدا ادا کرے۔
درمختار میں ہے:
شرط صحۃ ادا ئھانیۃ مقارنۃ للاداء ولوکانت المقارنۃ حکماکما لودفع بلانیۃ ثم نوی والمال قائم فی یداالفقیر اومقارنۃ بعزل ما وجب کلہ او بعضہ ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء اھ ۱؎ملخصا وا ﷲتعالیٰ اعلم۔
صحت ادائیگی زکوٰۃ کے لیے ادا کے وقت نیت کا متصل ہونا ضروری ہے خواہ اتصال حکمی ہو، مثلاًکسی نے بلا نیت زکوٰۃ ادا کردی اور ابھی مال فقیر کے قبضہ میں ہو تو نیت کرلی یا کل یا بعض مال برائے زکوٰۃ جدا کرتے وقت نیت کرلی جائے ،باقی جدا کرنے سے ذمہ داری پُوری نہیں ہوتی بلکہ فقراء تک پہنچانے سے ہوگی اھ تلخیصاًواﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 (۱؎درمختار         کتاب الزکوٰۃ         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۳۰)
مسئلہ ۶۶ :از مونگیر محلہ بٹون بازار مرسلہ شیخ امداد علی صاحب ۲۱صفر ۱۳۱۳ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ قرض و دین میں لوگوں پر پھیلا ہو اور زر وصولی ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ اگر واجب ہوگی تو فی الحال یا بعد وصول ، اور کتنے وصول پر واجب ہوگی اوراس پر سال تمام کب سے لیا جائے گا؟بینواتوجروا
الجواب:دین تین۳ قسم ہے:

اول :قوی یعنی قرض ،جس عرف میں دست گرد ان کہتے ہیں اور تجارتی مال کا ثمن یا کرایہ ، مثلاً اُس نے بہ نیت تجارت کچھ مال خریدا وہ قرضوں کسی کے ہاتھ بیچا تو یہ دین جو خریدا پر آیا دینِ قوی ہے، یا کوئی مکان یا دکان یا زمین بہ نیتِ تجارت خریدی تھی اب اسے کسی کے ہاتھ سکونت یا نشست یا زراعت کے لیے کرایہ پر دیا، یہ کرایہ اگر اس پر دین ہوگا تو دینِ قوی ہوگا۔
دوم : متوسط کہ کسی مال غیر تجارتی کا بدل ہو، مثلاًگھر غلّہ یا اثاث البیت، یا سواری کا گھوڑا کسی کے ہاتھ بیچا، یونہی اگر کسی پر کوئی دین اپنے مورث کے ترکہ میں ملا تو مذہبِ قوی پر وُہ بھی دین متوسط ہے۔
سوم: ضعیف کہ کسی مال کا بدل نہ ہو، جیسے عورت کا مہر کہ منافع بضع کا عوض ہے، یا وُہ دین جو بذریعہ وصیّت اسے پہنچا یا بسبب خلع عورت پر لازم آیا ، یا مکان زمین کہ بہ نیّت تجارت نہ خریدی تھی اُن کا کرایہ چڑھا قسم سوم کے دین پر، جب تک دین رہے اصلاًزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ،ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارِزکوٰۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہُوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی ،اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہُوا اگر بقدرِنصاب ہے اُسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں اور دوقسم سابق میں تجارت دین ہی سال بسال زکوٰۃ واجب ہوتی رہے گی مگر  اس ادا کرنا اُسی وقت لازم ہوگا جبکہ اُس کے قبضہ میں دین قوی سے بقدر خمس نصاب یامتوسط سے بقدر کامل نصاب آئیگا یہاں کے روپے میں نصاب کامل ؎ روپیہ ہے اور اس کا خمس لہ ؎ ۲۳-۲/۵پائی ، پھر اگر دین کئی سال کے بعد وصول ہو تو ہر سال متقدم کی زکوٰۃ جو اس کے ذمہ دین ہوتی رہی وُہ پچھلے سال کے حساب میں اسی وصو لی رقم پر ڈالی جائے گی، مثلاًعمروپر زیدکے تین سودرہم شرعی دین قوی تھے، پانچ برس بعد چالیس درہم سے کم وصول ہوئے تو کچھ نہیں اور چالیس ہُوئے تو صرف ایک درہم دینا آئے گا اگر چہ پانچ برس کی زکوٰۃ واجب ہے کہ سال اوّل کی بابت ان چالیس درہم سے ایک درہم دینا آیا یا اب انتالیس رہ گئے کہ خمس نصاب سے کم ہے لہذا باقی برسوں کی بابت ابھی کچھ نہیں، اور اگر تین سودرہم دین متوسط تھے تو جب تک دوسو وصول نہ ہوں کچھ واجب الادا نہیں اور دوسو درہم اگر پانچ برس بعد وصول ہُوئے تو اکیس درہم دینے ہوں گے ، سال اول کے پانچ درہم، اب سال دوم میں ما ؎ رہ گئے تو ؎ کہ خمس سے کم تھے عفو ہو کر ما ؎ درہم 'سال سوم میں ما لہ ؎ رہے اب بھی چاردرہم، چہارم میں ما معہ، پنجم میں ما لعہ ، ان پر بھی چار چار 'کل لہ ؎ درہم واجب الادا ہُوئے، یونہی جب دین قوی سے خمس نصاب اور متوسط سے پُورا نصاب ہوتا جائے گا اسی حساب سے اتنے کی زکوٰۃ سنین گزشتہ کی زکوٰۃ واجب الادا ہوتی جائے گی، اگر کل وصول ہوگا کل کی ، پھر دین ہونے کی تاریخ سے سال اول حالت میں مانا جائے گا جبکہ اس سے پہلے اس کی کسی جنس کے نصاب کا سال رواں نہ تھا ورنہ جودین وسط سال میں اس کا یا فتنی ہُوا وہ اسی مال موجود میں ملا کر اس کے سال سے حساب رہے گا مثلاًیکم محرم کو دوسو درم کا مالک ہوا، یکم رجب کو اس کا کوئی دین قوی یا متوسط کسی پر لازم آیا تو اس دین کا سال بھی یکم محرم سے لیں گے نہ کہ یکم رجب سے،تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الدیون عند الامام ثلثۃ قوی، متوسط ضعیف،فتجب زکوٰتھما اذا تم نصابا (بنفسہ اوبماعندہ ممایتم بہ)وحال الحول(ای ولو قبل قبضہ فی القوی و المتوسط)لکن لافوراً بل عند قبض اربعین درھما من القوی کقرض وبدل مال تجارت فکلما قبض اربعین درھما یلزمہ درھم و عند قبض مائتین من بدل مال لغیرتجارۃوھو المتوسط کثمن سائمۃ وعبید خدمۃ ویعتبر مامضی من الحول قبل القبض فی الاصح ومثلہ مالوورث دینا علی رجل وعند قبض مائتین مع حولان الحول بعدہ من ضعیف و ھو بدل غیر مال کمھرو بدل خلع الا اذا کان عندہ مایضم الی الدین الضعیف (الاولی ان یقول ما یضم الدین الضعیف الیہ و الحا صل انہ اذا قبض منہ شیأ وعندہ نصاب یضم المقبوض الی النصاب و یزکیہ بحولہ ولا یشترط لہ حول بعد القبض)۱؎اھ ملخصاً۔
امام صاحب کے نزدیک دیون کی تین اقسام ہیں:قوی ، متوسط، ضعیف ۔دیون پر زکوٰۃ ہوتی ہے بشرطیکہ وہ خودیا مالک کے پاس موجودہ مال سے مل کر نصاب کو پہنچیں اور ان پر سال گزرا ہوا اگر چہ قوی اور متوسط قبضہ سے پہلے ہو لیکن فوراًنہیں بلکہ قوی میں چالیس دراہم کے قبضہ پر ایک درہم ہوگا جیسا کہ قرض اوربدلِ مالِ تجارت میں ہوتا ہے تو جب بھی چالیس درہم پر قابض ہوگا ایک درہم لازم ہوگا، غیر تجارت کے بدلے میں جو دین ہوتا ہے اسے متوسط کہا جاتا ہے اس میں سے دوسودراہم کے قبضہ کے بعد زکوٰۃ ہوگی مثلاًسائمہ کے قیمت، خدمت والے غلاموں کے قیمت، اصح قول کے مطابق قبضہ سے قبل گزشتہ سالوں کا بھی اعتبار کیا جائیگا،اسی کی مثل وُہ صورت ہے جب کوئی دین میں کسی کا وارث بنا، اور ضعیف میں دوسوکے قبضہ کے وقت زکوٰۃ ہوگی بشرطیکہ اسکے بعد سال گزرے اور دین ضعیف غیر مال کا بدل ہوتا ہے مثلاً مہر، بدل خلع، مگر ایسی صورت میں جب دین ضعیف کے ساتھ مالک کے پاس موجود مال ہوتوملایا جائے(بہتریہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دین ضعیف کو اس مال کے ساتھ ملایا جائے، حاصل یہ ہے کہ اس میں سے جب کسی شئی پر قبضہ ہوا حالانکہ مالک کے پاس نصاب بھی تھا تو اب مقبوض کو نصاب سے ملا کر سال کی زکوٰۃ دی جائے اس میں قبضہ کے بعد سال کا گزرنا شرط نہیں)اھ تلخیصاً،
(۱؂درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال    مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۳۶    )

(ردالمحتار       کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃالمال  مصطفی البابی مصر        ۲ /۳۸تا ۴۰)
مزید امن ردالمحتار اقول والاولی فی رسم الضعیف مالیس بدل یشتمل مالیس بدلااصلا کالدین الموصی بہ فی ردالمحتار عن المحیط اما الدین الموصٰی بہ فلا یکون نصاباًقبل القبض لان الموصی لہ ملکہ ابتداء من غیر عوض ولا قائم مقام الموصی فی الملک فصار کما لو ملکہ بھبۃ اھ۲؎ھذا۔
اضافی عبارت ردالمحتار کی ہے، اقول' ضعیف کی تعریف یُوں کرنا بہتر ہے کہ جو مال کا بدل نہ ہوتا اسے بھی شامل ہوجائے جو اصلاًبدل ہی نہیں مثلاًوہ دین جس کی وصیّت کی گئی ہو۔ ردالمحتار میں محیط سے ہے وُہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو وہ قبض سے پہلے نصاب نہیں بن سکتا کیونکہ موصی لہ بغیر عوض کے ابتداءً مالک بن رہا ہے اور یہ ملکیت میں وصیت کرنے والے کا قائم مقام بھی نہیں یہ ایسے ہوگا جیسے وہ ہبہ کا مالک بنا ہواھ۔
 (۲؂ردالمحتار        باب زکوٰۃ المال            دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر        ۲ /۳۹)
وفی الخانیۃ والفتح والبحر واللفظ لقاضی خان اذا اٰجر دارہ اوعبدہ بمائتی درھم لاتجب الزکوٰۃ مالم یحل الحول بعد القبض فی قول ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فان کانت الدار والعبد للتجارۃ وقبض اربعین درھما بعد الحول کان علیہ درھم بحکم الحول الماضی قبل القبض لان اجرۃ دارالتجارۃ وعبدالتجارۃ بنزلۃثمن مال التجارۃ فی الصحیح من الروایۃ اھ ۱؎
خانیہ،فتح اور بحر میں ہے،اور الفاظ قاضی خاں کے ہیں جب کسی نے دار یا غلام دوسو دراہم کے عوض اجرت پر دیاتوامام ابو حنیفہ ر ضی ا ﷲ تعالٰی  عنہ کے قول کے مطابق قبضہ کے بعد سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، اگر دار اور غلام تجارت کے لیے تھے اور سال کے بعد چالیس دراہم پر قبضہ ہوا تو اب ایک درہم لازم اس سال کی وجہ سے ہوا جو قبضہ سے پہلے گزرا ہے کیونکہ صحیح روایت مطابق دارتجارت اور عبد تجارت کی اجرت مال تجارت کے ثمن کی مثل ہوتی ہے اھ
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں         فصل فی مال التجارۃ   نولکشور لکھنؤ        ۱ /۱۹- ۱۱۸)
قلت : فتقدم علی روایۃ انھا من الضعیف اوالوسیط وان مشی علی الاخری فی المحیط وکذلک کون الموروث من المتوسط ھو الرجیح وان جزم فی الھندیۃ عن الزاھدی انہ من الضعیف، فقد مرضھا فی الخانیۃ واخر وھٰکذااشار الٰی تضعیفہ فی الفتح والبحر وفی ردالمحتار عن المنتقی رجل لہ ثلثمائۃ ردھم دین حال علیھا ثلثۃ احوال فقبض مائتین عند ابی حنیفۃ یزکی للسنۃ الاولی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ اربعۃ اربعۃ من مائۃ وستین ولا شئی ولیہ فی الفضل لانہ دون الاربعین اھ۲؎
قلت  :  پہلے ایک روایت میں گزرا ہے کہ یہ دین ضعیف یامتوسط سے ہے اگر چہ محیط میں دوسری روایت کو اختیار کیا ہے، اسی طرح مال موروثہ بھی متوسط میں سے ہے اور یہی راجح ہے، اگر چہ ہندیہ میں زاہدی سے اس کے ضعیف ہونے پر جزم کیا ہے ، خانیہ میں اسے کمزور قرار دیا ہے ۔ اسی طرح فتح اور بحر میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے ۔ ردالمحتار میں منتقی سے ہے کہ کسی شخص کا تین سودراہم دین تھا اور اس پر تین سال گزرے تو اس کا دوسو پر قبضہ ہُوا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک پہلے سال پانچ ، دوسرے و تیسرے میں ایک سوساٹھ میں سے، چارچار درہم زکوٰۃ دے، فضل میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ چالیس سے کم ہیں اھ ۔
 (۲؎ردالمحتار    باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر    ۲ /۳۸)
وفی الھندیۃ عن شرح المبسوط للامام السرخی ان الدین مصروف الی المال الذی فی یدہ االخ۳؎
ہندیہ میں امام سرخسی کی شرح مبسوط سے ہے کہ دین اس مال کی طرف لوٹے گا جس پر قبضہ ہو الخ
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ         کتاب الزکوٰۃ        نورانی کتب خانہ پشاور         ۱ /۱۷۳)
وفی ردالمحتار اذا کانت لالف ،من دین  قوی کبدل عروض تجارۃ فان ابتداء الحول ھو حول الاصل الا من حین البیع ولا من حین القبض فاذا قبض منہ نصاباًاواربعین درھما زکاہ عما مضی بانیا علی حول الاصل فلو ملک عرضا للتجارۃ ثم بعد نصف الحول با عہ ثم بعد حول و نصف قبض ثمنہ فقد تم علیہ حولا ن فیزکیھما وقت القبض بلا خلاف اھ ۱؎
ردالمحتار میں ہے کہ جب دین قوی مثلاً بدل سامان تجارت ، ہزار دراہم ہوں تو سال کی ابتداء حولِ اصل سے ہوگی نہ کہ وقتِ بیع سے اور نہ وقتِ قبضہ سے ، تو جب اس نے دین سے نصاب یا چالیس درہم پر قبضہ کیاتو اس سال کا اعتبار کرتے ہُوئے گزشتہ عرصہ کی زکوٰۃ دے اگر کوئی شخص تجارت کے لیے سامان کا مالک ہُوا پھر اس نے نصف سال کے بعد سامان بیچ ڈالا اور ڈیڑھ سال کے بعد اس کے ثمن پر قبضہ کیا تو اب اس پر دو سال گزرچکے ہیں تواب بلااختلاف وقت قبض سے اس کی زکوٰۃ دی جائے گی اھ
 (۱؎ ردالمحتار         باب وجوب الزٰکوۃ فی دین المر صد     مصطفی البابی مصر ۲ /۳۹)
اقول: وانما خص الکلام بالقوی لان اصلہ من اموال الزکوٰۃ بخلاف المتوسط فلا حول لاصلہ فلو لم یکن لہ قبلہ نصاب من جنسہ لا یبتدأ الحول الامن حین البیع لانہ بہ صار مال الزکوٰۃ کما نقلہ ھٰھنا عن المحیط ولیس یرید ان فی الوسیط لا یبتدأ الامن وقت البیع وان وجد قبلہ نصاب یجانسہ تحت حولان الحول فانہ خلاف مسئلۃ المستفاد والمتفق علیھا عند علما ئنا المصرح بھا فی جمیع کتب المذھب متونا وشر وحا و فتاوٰی فافھم وتثبت۔ وﷲتعالٰی اعلم۔
اقول: دین کے ساتھ کلام مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کااصل اموال زکٰوۃ سے ہوتا ہے بخلاف دین متوسط کہ  وہاں اس کے اصل پر سال شرط نہیں ہے  اب اگر اس کی جنس سے پہلے نصاب نہ تھا تو اب سال کی ابتداء بیع کے وقت سے ہی ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے وہ مالِ زکوٰۃ بنا ہے جیسا کہ اس مقام پر محیط سے منقول ہُوا ہے اور یہ مراد نہیں کہ متوسط میں وقتِ بیع سے پہلے ابتداء نہیں ہوسکتی اگر چہ سال پہلے اس کی جنس سے نصاب ہوکیونکہ یہ مسئلہ مستفاد اور اس متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ہے جس پر ہمارے علماء نے تمام کتب کے متون،شروحات اور فتاوٰی میں تصریح کی ہے، پس اسے اچھی طرح سمجھ لو اور اس پر قائم رہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
Flag Counter