Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
25 - 198
مسئلہ ۵۵: ازمحلہ چاہ بائی مسؤلہ حافظ محمد صادق مختار عام منشی رحیم دادخاں صاحب تحصیلدار ۲۵شعبان ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مالک ہے جائداد زمینداری وغیرہ کا اور ا س کی آمدنی مختلف اوقات میں وصول ہوتی رہتی ہے اور مالگزاری و نیز دیگر اخراجات میں خرچ ہوتی رہتی ہے اور ایسی صورت میں حساب سالانہ انگریزی ماہِ کتوبر سے شروع ہوتا ہے اور ماہِ ستمبر میں ختم کیا جاتا ہے لہذاجو رقم بعد اخراجات کے آخر سال پر باقی رہتی ہے اس پر زکوٰۃ کب واجب ہوگی؟کس وقت اس کو ادا کرنا چاہئے ؟بینواتوجروا
الجواب :ستمبر اکتوبر کا اعتبار حرام ہے ،نہ اس کے اوقاتِ آمدنی پر لحاظ، بلکہ سب میں پہلی جس عربی مہینے کی جس تاریخ جس گھنٹے منٹ پر وہ۵۶ روپیہ کا مالک ہُوا اور ختمِ سال تک یعنی وہی عربی مہینہ وہی تاریخ وہی گھنٹہ منٹ دوسرے سال آنے تک اُس کے پاس نصاب باقی رہا وہی مہینہ تاریخ منٹ اس کے لیے زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۶: از شہر بریلی اسٹیشن ریلوے سٹی آر، کے،آر نعمت حسین دراپور ۱۵ربیع الآخر۱۳۳۳ھ 

کیا فرماتے ہیں علائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدعرصہ تخمیناًبیس سال سے ریلوے کمپنی کے یہاں ملازم ہے اور ریلوے اپنے قاعدے کے موافق بشمول دیگر ملازمان کے زید کی تنخواہ ماہواری سے ایک آنہ چار ۴            پائی فی روپیہ بطورضمانت مجراکر لیتی ہے اور بعد چھ۶ماہ کے اُس روپے کو کسی دوسری تجارت وغیرہ میں لگا دیتی ہے، درصورت نفع و نقصان کے رسدی کمی بیشی کرکے پھر ششماہی پر رسید دے دیتی ہے ، ابتدا میں ایک روپیہ دو۲ آنہ مجرا ہوتا تھا جُوں جُوں تنخواہ میں ترقی ہوتی گئی اُس میں بھی اضافہ ہوتا گیا، چنانچہ اب مبلغ تین روپے ماہوار مجرا کیا جاتا ہے اور اب اصل تعداد مبلغ پانچسو کی ہوگئی ہے اور کُل تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگئی ہے،جس وقت زید ملازمت سے علیحدہ ہوگا اُس وقت اُس کو اور اُس کے ورثا کو وصول ہوگا بشرطیکہ میعاد ملازمت اچھے طریقہ پر ختم ہوجائے اور کوئی قصور وغیرہ واقع نہ ہو،مگر پانچسو روپے جو اصلی ہے اُس میں کسی طرح اندیشہ نہیں ہے سوا اس کے کہ درمیان ملازمت کے روپے کا وصول ہونا نا ممکن ہے جب تک ملازمت سے مستعفی نہ ہو ، ازرُوئے شریعت اُس روپے پر زکوٰۃ دینا فرض ہے یانہیں ؟اگر ہے تو کس وقت سے دی جائے گی؟اصلی تعداد پردی جائے گی یا کُل روپے پر ؟اور نصاب ِ زکوٰۃ کس قدر اور اس پر مقدارِزکوٰۃ کیا ہے؟بینواتوجروا
الجواب :جب سے وُہ اصلی روپیہ خود یا مع اور زکوٰتی مال کے جوزیدکے پاس ہے، قدر نصاب یعنی ۵۶روپے تک پہنچا اور حوائجِ اصلیہ سے بچ کر اُس پر سال گزرا اُس وقت سے اُس پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور سال بسال جدیدہ زکوٰۃ واجب ہوتی رہی، ہاں اگلے سال کی جتنی زکوٰۃ واجب ہُوئی ہے اس سال جمع میں سے اُتنا کم کرلیں گے کہ اُتنا اس پراﷲ عزّوجلّ کادین ہے باقی مع جدید مقدار سال حال پر زکوٰۃ آئے گی ، تیسرے سال کی جمع میں سے دو۲برس گزشتہ کی زکٰوۃ واجب شدہ مجرا کریں گے اور سال  حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر پر زکٰوۃ آئے گی چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوٰۃ مذکورمجرا کریں گے اور سال حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر زکوٰۃ آئے گی، چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوٰۃ مذکور مجرا اور امسال کا اضافہ شامل ہوگا، اخیر تک یونہی کرینگے، تجارت میں وُہ روپیہ اگر اس کی اجازت سے لگایا جاتا ہے تو اس کا منافع شامل ہوگا اس طور پرزکوٰۃ سال بہ سال واجب ہوا کرے گی، مگر اس روپیہ کی زکوٰۃادا کرنا اس وقت لازم ہوگا جب وُہ وصول ہوگا ، اور جو اضافہ کمپنی سُود کے طریقے پر کرتی ہے اُس پر کبھی زکوٰۃ نہ ہوگی ، نہ وہ اس کی مِلک ہے نہ اُسے سُود کی نیت سے کسی طرح جائز ہے، ہاں بعد ختم اگر کمپنی بطور خود اس کو وُہ اضافہ دے اور کمپنی میں کوئی مسلمان شریک نہ ہو تو یہ اُس اضافہ کو اس نیت سے لے سکتا ہے کہ ایک غیر مسلم جماعت ایک مال بخوشی دیتی ہے، یُوں مال مباح سمجھ کرلے سکتا ہے سُود کی نیت نہ ہو، واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۷: از کوسی کلاں ضلع متھرا         مرسلہ اﷲمہر        ۲۱رمضان المبارک ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ اس میں کہ زکوٰۃ اعلان سے دینا بہتر ہے یا خفیہ طور سے ؟ بینواتوجروا
الجواب :زکوٰۃ اعلان کے ساتھ دینا بہتر ہے اور خفیہ دینا بھی بے تکلّف روا ہے، اور اگر کوئی صاحبِ عزّت حاجتمند ہوکہ اعلانیہ نہ لے گا یا اس میں سبکی سمجھے گا تو اُسے خُفیہ بھی دینا بہتر ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۸: از سیّد پور ڈاک خانہ وزیرگنج ضلع بدایوں مرسلہ آغازعلی خاں ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ



تجارت کے سرمایہ اصلی پر یعنی اس کی لاگت پر زکوٰۃ دینا واجب ہے یا منافع پر ؟
الجواب: تجارت کی نہ لاگت پر زکوٰۃ ہے نہ صرف منافع پر، بلکہ سال تمام کے وقت جو زر منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤسے ہے اُس پر زکوٰۃ ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۹: مسئولہ حافظ محمودحسین صاحب ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ : زید نے بکر کو کچھ دیا اور کہا اس کو مساکین کوجہاں مناسب سمجھو دے دیجیو ، اگر زید خود اس کا مصرف ہو اپنے اوپر اس کو صرف کر سکتا ہے یا نہیں ؟بینو اتوجروا
الجواب :جس کے مالک نے اُسے اذنِ مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھو، دو، تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ یہ اس کا مصرف ہو۔ ہاں اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے اُسے اپنے نفس پر صَرف کرنا جائز نہ ہوتا مگر اپنی یا اولاد کودے دینا جب بھی جائز ہوتا اگر وُہ مصرف تھے۔ درمختار میں ہے:
للوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الااذاقال ربھا ضعھا حیث شئت۔ ۱؎ واﷲتعالیٰ اعلم۔
وکیل کو جائز ہے کہ اپنے نابالغ فقیربچّے اور اپنی بیوی مستحق کو زکوٰۃ دے دے جبکہ خود نہیں لے سکتا،ہاں اگر مال والے نے یہ کہا ہو کہ جہاں مناسب سمجھو خرچ کرو، تو اپنے لیے بھی جائز ہے، واﷲتعالیٰ اعلم۔(ت)
( ۱؎ درمختار   کتاب الزکوٰۃ         مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۳۰)
مسئلہ۶۰تا ۶۲: از اندورسیاگنج مرسلہ طاہرمحمد عبدالغنی صاحب ۱۱ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ 



کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں :(۱)اگر چند اشخاص دولتمند کئی ہزار روپے زکوٰۃ کا جمع کرکے چند معتبر لوگوں کے سپرد اس غرض سے کریں کہ وہ روپیہ حقدارانِ زکوٰۃ حسبِ ضرورت ان کے دیاجائے۔ 

(۲)وُہ لوگ جن کی سپرد گی میں مالِ زکوٰۃ دیا گیاہے وہ اس مال کو بڑھانے کی غرض سے تجارت میں لگا سکتے ہیں یا نہیں، یا کسی تاجر کی شرکت میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ (۳)ایک ایسا شخص کہ جس کے نزدیک اپنا ذاتی مکان ہے اور اس مکان کی سالانہ آمدنی سوروپے تھی مگر بوجہ عیالدار ہونے کے اُس کا خرچ تین سو روپے سالانہ ہے تو ایسے شخص کو زکوٰۃ کے مال سے امداد دینا جائز ہے یا نہیں ؟بینواتوجروا
الجواب (۱ و ۲) ان لوگوں پر فرض ہے کہ وُہ روپیہ مستحقینِ زکوٰۃ پر تقسیم کردیں اُس سے تجارت کرنا ان کو حرام ہے جب تک اذنِ جملہ مالکان نہ ہو، اور مالکوں کو بھی جائز نہیں کہ اگر اُن پر زکوٰۃ کا پورا سال ہوچکا ہوتو زکوٰۃ روکیں اور تجارت کے منافع حاصل ہونے پر ملتوی کریں۔ سال تمام پر زکوٰۃ فوراًفوراً ادا کرنا واجب ہے، ہاں جس نے پیشگی دیا ہُوا بھی سال تمام اُس پر نہ آیا ہو وہ سال تمام آنے تک ٹھہرے سکتا ہے، پھر اگر یُوں کرے کہ مثلاًہزارروپے سال آئندہ کی زکوٰۃ کی نیت سے تجارت میں لگادئے کہ ان سے جو نفع ہو وہ بھی مع ان ہزار کے فقراء کودے گا تو یہ نہایت محبوب عمل ہے ،
وفیہ حدیث من زرع شعیراجرۃ الاجیر وحصل منہ اموالا فلما جا ء الاجیر سلم کلھا الیہ ففرج اﷲبہ منہ وھم اصحاب الرقیم رضی اﷲتعالیٰ عنھم۔ ۲؎
اس بارے میں وُہ حدیث ہے کہ جس نے مزدور کی اُجرت جَو کو بویا اور اس سے جواموال حاصل ہوئے جب مزدور آیا تو وُہ تمام اموال اسے دے دئے، تو اﷲتعالیٰ نے انھیں (رضی اﷲتعالیٰ عنہم ) کو راستہ دیا جب وہ غار میں پھنس گئے تھے اور وُہ اصحاب کہف ہیں (ت)
 ( ۲؎ صحیح مسلم    باب قصہ اصحاب الغارالثلٰثہ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی      ۲ /۳۵۳)
مگر یہ ضرور ہے کہ اگر تجارت میں نقصان ہو تو نقصان فقراء پر نہیں ڈال سکتا، اُن کو سال تمام پر پورے ہزار دینے لازم ہوں گے۔ (۳)ہاں اُسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں اگر چہ اُس کی حاجت سکونت کا مکان ہزار روپے کا ہویا کرائے پر چلالے کہ مکان سے ہزار روپے سالانہ آتا ہواور اُس کا ضروری مصارف و نفقہ اہل و عیالل سے اتنا نہ بچتا ہو کہ وُہ اپنی حاجت اصلیہ سے فارغ ۵۶ روپے کا مالک ہو۔ عالمگیریہ میں ہے:
لوکان لہ حوانیت او دارغلۃ تساوی ثلاثۃ الاف درھم وغلتہا لا تکفی لقوتہ وقوت عیالہ یجوز صرف الزکوٰۃ الیہ فی قول محمد رحمہ اﷲتعالٰی ولو کان لہ ضیعۃ تساوی ثلٰثۃالاف ولا تخرج مایکفی لہ ولعیالہ اختلفوا فیہ قال محمد بن مقاتل یجوز لہ اخذالزکوٰۃ ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔۱؎واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کسی شخص کی دُکانیں اور کرایہ کی جگہ ہے جو تین ہزار دراہم کے مساوی ہیں لیکن کرایہ اس کےاور اس کے عیال کے لیے کافی نہیں تو امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک اس پر زکوٰۃ خرچ کرنا جائز ہے،اور اگر اس کی زمین ہے جو تین ہزار کے مساوی ہے لیکن اس سے اتنی پیداوار نہیں ہوتی جو اُس کے اور اس کے اہل وعیال کے لیے کافی ہو تو اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے محمد بن مقاتل کہتے ہیں کہ اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ اسی طرح فتاوٰی قاضی خاں میں ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی ہندیۃ         الباب السابع فی المصارف ، نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۱۸۹)
مسئلہ ۶۳تا ۶۴ :مرسلہ محمد قاسم صاحب از مقام گونڈل علاقہ کا ٹھیارواڑ ۴ ذیقعدہ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے علمائے دین و شرع متین ذیل کے مسئلوں میں : (۱)ایک شخص نے چالیس یا پچاس ہزار کے مکانات اپنی حاجات سے زیادہ صرف کرایہ وصول کرنے کی غرض سے خرید کیے، آیا اس صُورت میں حاجت سے زیادہ مکانات میں ان کی قیمت کے اوپر زکوٰۃ فرض ہے یا جو کرایہ آتا  ہے اس کے اوپر ہے ؟ (۲)جو صاحب مکان کی زینت کے لیے تانبے ، پیتل، چینی وغیرہ کے برتن خرید کرکے مکان کو سجاتا ہے اورکبھی وہ برتن استعمال میں بھی آتے ہیں اور کبھی نہیں بھی آتے ہیں، اس صورت میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب(۱)مکانات پر زکوٰۃ نہیں اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگااس پر زکوٰۃ آئے گی اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو ۔ (۲)برتن وغیرہ اسبابِ خانہ داری میں زکوٰۃ نہیں اگرچہ لاکھوں روپے کے ہوں ، زکوٰۃ صرف تین۳ چیزوں پر ہے:سونا ، چاندی کیسے ہی ہوں، پہننے کے ہوں یا برتنے کے ، سکّہ ہو یا ورق۔ دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور۔ تیسرے تجارت کا مال۔ باقی کسی چیز پر نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
Flag Counter