| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ۴۹: ۵ جمادی الاُولیٰ ۱۳۱۹ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی رخصت جمادی الاولیٰ ۱۳۱۵ھ میں ہُوئی اور اُس وقت وُہ جہیز کی مالک ہُوئی، اس سے پہلے مالک نہ تھی، اس وقت اس کی مِلک میں زیور طلائی لہ ۰۹مہؔ تولے تھااور زیور نقرئی ما ؎ روپیہ بھر، اس قدر اخیر عُمر تک اس کے پاس رہا، تین سال دس ماہ تئیس دن کے بعد ربیع الآخر شریف ۱۳۱۹ھ میں ہندہ نے انتقال کیا، اُس وقت اُس کے پاس چار عدد طلائی اور تھے، ایک سات۷تولہ گیارہ۱۱ماشہ کا جس کی دس ماہ پیش از مرگ مالک ہُوئی،دوسرادو۲تولے کا کہ موت سے ڈیڑھ سال پہلے مِلا تھا، تیسرا چار۴تولے کا دو۲سال پہلے،چوتھاپانچ تولے کا تین سال پہلے ،اس صورت میں ہندہ پر زکوٰۃ کس قدر ہُوئی؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : ہندہ پر تین سال زکوٰۃ واجب ہُوئی کہ چوتھے سال میں ایک ماہ سات۷ روز باقی تھے کہ اس نے وفات پائی مال کہ وقتِ رخصت ملا اُس پر تینوں برسوں کی زکوٰۃ ہے، یُوں ہی چوتھاعدد پانچ تولے کا جب مرگ سے تین سال پہلے مِلا تو رخصت کے ۱۰ماہ۲۳دن بعد، بالجملہ پہلے سالِ تمام سے پہلے پایا تووُہ بھی مالِ اوّل میں شامل ہُوا اور تینوں سال کی زکوٰۃ اس پر آ ئی ، اور یہیں سے واضح ہوا کہ تیسرے عدد پر دو۲ سال اخیر کی زکوٰۃ ہے اور دوسرے پر ایک ہی برس کی،اور پہلے پر اصلاًنہیں تو سونے میں حاصل ملک ہندہ باعتبار ہر سہ سال یہ ہوا سالِ اوّل (۰۹/ما)ؔ دوم( ۰۹ما)ؔسوم للعہ(۰۹ما )ؔصورت مسئولہ میں جبکہ ہندہ اسی قدر مال کی مالک تھی اور زکوٰۃ تینوں سال نہ دی تو ہر پہلی زکوٰۃکا دین سال کے مال سے مجرا ہوتا رہاواجب سال اول طلائی ۱۱ماشہ ۷ سرخ نقرہ تین روپیہ بھر اور تین ماشے تین سرخ،مال سال دوم سے استثناء کیا تو سال دوم طلا لعہ( ؔ۱۰مہ )۲ سرخ رہا ،واجب ۱۱ ماشہ ۷ سرخ ۵-۱/۵چاول، اور نقرہ ما عصہ (۷ مہ۷سرخ)ؔؔرہا، واجب تین روپے بھر ۲مہ۲ ۲ سرخ ۲ ۴-۳/۵چاول، سال سوم طلا واجب دو سال ایک تولہ ۱۱ ماشے ۱سرخ ۵-۱/۵چاول ، نقرہ واجب دو۲ سال سے روپے بھر ۵ ماشہ ۶سرخ ۴-۳/۵چاول منہا کرکے،باقی طلا للعہ( ۱۰مہ) ۲سرخ۲-۴/۵چاول ،واجب ایک تولہ دو سرخ ۴۷/۱۰۰چاول نقرہ ما عصہ ؎روپیہ بھر ۵ ماشہ تین سرخ ۳-۲/۵،واجب ۳روپیہ بھر ایک ماشہ ۴ سرخ ۲-۱۳۷/۲۰۰چاول جمیع واجب سہ سالہ طلا ۲تولے ۱۱ ماشے ۳ سرخ ۵-۴۷/۱۰۰چاول یعنی دو۲ تولے ۱۱ ماشے ۳ رتی ۵ چاول کے سَو حصّوں سے سڑسٹھ۶۷ حصّے،نقرہ لعہ تولہ ۷ ماشہ ۲ سرخ ۷-۵۷/۲۰۰ یعنی نَو روپیہ بھر او ر۷ ماشے ۲ رتی ۷ چاول اور چاول کے دو۲ حصّوں سے ستاون۵۷ حصّے، یہ سب مذہبِ صاحبین پر ہے اور مذہبِِ امام پر کچھ کمی خفیف ہوجائے گی، سائل اس پر راضی نہ ہواور تخفیف ہی چاہے تو یہ ضرور ہے کہ تینوں برس ہر سال تمام کے صحیح تاریخ پر سونے اور چاندی کا صحیح نرخِ بازار دریافت کرکے بتائیے نیز یہ کہ کس کس عدد کے قیمت بوجہ صنعت اپنے وزن سے کس کس قدر زائد ہے بے اس کے حساب نا ممکن ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۰: از بنگالہ ضلع سلہٹ پر گنہ بیجواڑہ موضع ناران گولہ ۱۳۲۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی ایک سو روپے کی زکٰوۃ دے کر مدفون کیا پھر دوسرے سال میں زکٰوۃ دینا ضروری ہے یا نہیں ؟بینوابحوالہ کتاب توجروا یوم الحساب۔فقط
الجواب :ہر برس ضرور ہے جب تک کل مالِ زکوٰۃ جو اُس کی ملک ہے حقیقۃًیا حکماًنصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی انگریزی چھپن ۵۶ روپے سے کم نہ ہوجائے،حقیقۃًکم ہوجانا یہ کہ زکوٰۃ وغیرہ میں صَرف کرتے کرتے خواہ کسی اور طور سے گھٹ جائے اورحکماًیہ کہ ہربرس زکوٰۃ واجب ہوتی رہی اور ادا نہ کی کہ ہر سال زکوٰۃ کا دین اس پر چڑھتا رہا یہاں تک کہ مالِ زکوٰۃ قدر نصاب نہ رہا مثلاًصرف یہی سو روپے ، مگر اس کے پاس مالِ زکوٰۃ تھا اور یہی رہا اور مال زیادہ نہ ہوا تو اب پہلے سال تمام پر بر بنائے مذہب صاحبین ڈھائی روپے واجب ہوئے مگر اس نے ادا نہ کی، دوسرے سال تمام پر زکوٰۃ صرف ۹۷ روپے ۸ آنے رہی کہ ۲ روپے ۸ آنے دین زکوٰۃ سال گزشتہ میں مشغول ہیں اس سال ۲ روپے ۷ آنے واجب ہوئے، تیسرے سال تمام پر دو۲ سال گزشتہ کا دین زکوٰۃ ۴ روپے ۱۵ آنے مستثنٰی ہوکر فقط پچانوے روپے ایک آنہ پر زکوٰۃ آئی کہ ۲ روپیہ چھ آنے اور ایک پیسے کی چاندی کا دسواں حصّہ ہُوا، وعلٰی ھذاالقیاس جب گھٹتے گھٹتے ۵۶ روپے سے کم رہ جائے تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔
فی الدرالمختار سبب افتراضھا ملک نصاب حولی فارغ من دین لہ مطالب من جہۃ العباد کزکوٰۃ وخراج اھ ۱؎ ملخصاً
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ کی فرصت کا سبب ایسے نصاب کا مالک ہونا ہے جس پر سال گزرا ہو اور وہ ایسے دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہو مثلاًزکوٰۃ، خراج وغیرہ اھ تلخیصا۔
(۱؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۹)
وفی الہندیۃ رجل لہ الف درھم لامال لہ غیرھا استا جربھا دارا عشرسنین لکل سنۃ مائۃ فدفع الالف ولم یسکنھا حتی مضت السنون والدارفی ید الاٰجریزکی الاٰجر فی السنۃ الاولیٰ عن تسع مائۃ وفی الثانیۃ عن ثمان مائۃ الا زکوٰۃ السنۃالاولٰی ثم یسقط لکل سنۃ زکوٰۃ مائۃ اخرٰی وما وجب علیہ با لسنین الماضیۃ الخ۲؎ واﷲتعالیٰ اعلم ۔
ہندیہ میں ہے ایک آدمی کے پاس ہزار دراہم ہیں اس کے علاوہ کوئی مال نہیں،اس نے ان کے عوض دس سال تک گھر کرایہ پر لے لیا کہ ہر سال کے عوض ایک صد درہم ادا کرے گا،اس نے ہزار درہم دے دئے مگر اس گھر میں وہ کسی سال تک رہائش پذیر نہ ہُوا اور گھر آجر کے پاس ہی رہا،تو آجر پہلے سال نَو سو کی، دوسرے سال آٹھ سوکی ، مگر گزشتہ سال زکوٰۃ کی مقدار نکال کر، پھر ہر سال ایک سو اور وُہ جو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی مقدار ہو، سالانہ ساقط ہوتی جائے گی، واﷲتعالیٰ اعلم (ت)
( ۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی الفروض نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۸۲-۱۸۱)
مسئلہ ۵۱: ۶شعبان المعظم ۱۳۲۱ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے جس مالِ تجارت پر ایک مرتبہ زکوٰۃ ادا کردی پھر دوسرے سال اس پر زکوٰۃ دینا نہ چاہیے بلکہ اس کے نفع پر زکوٰۃ دینا چاہئے۔ بینوا توجروا
الجواب :مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دین ،زکوٰۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی زید کا بیان محض غلط ہے ،تشہد بہ الکتب قاطبۃ۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۲تا ۵۴: مسؤلہ محمد صبور سوداگرمیزکرسی بریلی متصل کڑہ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:(۱)ایک شخص نے اپنی تجارت کے آغاز کے وقت یہ قرار دیا کہ جو منافع ہوگا اس کاسولھواں حصّہ اﷲتعالیٰ نام صَرف کرے گا، قبل معلوم ہونے منافع کے اُس نے ہر موقع کا رِخیر میں صَرف کرنا شروع کیا، وقت کرنے حساب کے، منافع کی تعداد کا سولھواں حصّہ کم نکلا اُس صرف سے جو وُہ کارِخیر میں صَرف کر چکا، یہ فاضل روپیہ بمدِزکوٰۃ داخل ہوسکتا ہے یانہیں ؟
(۲)ایک شخص حق الحنث کے ساتھ ایک تجارت میں شریک ہے، قبل حاصل ہونے منافع کے اس تجارت سے بتدریج اپنے صرف کے واسطے لیتا رہا، وقت معلوم ہونے منافع کے وہ قرضدار تجارت کا تھا، جو منافع اس کے نامزد ہُوا وُہ قرضہ میں داخل کیا، اس حالت میں اس منافع کی زکوٰۃ اس کے ذمّہ عائد ہے یا نہیں ؟
(۳)ایک شخص وقت شروع کرنے تجارت کے دیگر شخص سے جو اُس کی تجارت میں شرکت روپے کے ساتھ دینا چاہتا تھا ظاہر کیا کہ میں وقت چٹھہ کے (معلوم کرنا منافع کا) پہلے زکوٰۃ نکال دیتاہُوں بعدہ،منافع تقسیم کیا جاتا ہے، اُس دیگر شخص نے اس بات کو پسند کیا اور روپیہ کے ساتھ منافع میں برابر کا شریک ہوا، اس بات کے ظاہرکرنے سے کیااس کے ذمّہ اس کے روپیہ کی بھی زکوٰۃ عائد ہوگی یا صرف منافع کی رقم رہی جو طرفین کے حصّہ سے خرچ میں داخل ہوتی ہے۔ بیّنوا توجّروا
الجواب : (۱)جبکہ بہ نیّت زکوٰۃ وُہ دینا نہ تھا تو جو زائد دیا گیا زکوٰۃ میں محسوب نہیں ہو سکتا ، ہاں آئندہ سال کے اُس سولھویں حصّہ میں مجرا ہوسکتا ہے جو اس نے اﷲعزّوجل کے لیے دینا ٹھہرا رکھا ہے، مثلاً اس وقت دس روپیہ زیادہ پہنچے اور آئندہ سا ل منافع کا سولھواں حصّہ سو روپے ہو تو اُسے اختیار ہے کہ یہ دس ۱۰اس میں محسوب کرکے نوّے روپے دے۔ (۲)نہیں ۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم (۳)دوسرے کی زکوٰۃ اس کے ذمّہ عائد نہیں ہو سکتی، ایک پر اُس کے حصّہ کی زکوٰۃ لازم ہے، اور زکوٰۃ صرف منافع مالِ تجارت پر نہیں ہوتی، جس طرح مکان زمین دکان کے صرف منافع پر ہوتی ہے یہاں ایسا نہیں بلکہ کُل مالِ تجارت پر لازم ہوتی ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم